0

فیلڈ مارشل عاصم منیر- طاقت، توازن اور تدبر، بدلتے عالمی نظام میں پاکستان کی نئی پہچان

(Publish from Houston Texas USA)

(میاں افتخار احمد)
بدلتا ہوا عالمی نظام اس وقت ایک ایسے دور میں داخل ہو چکا ہے جہاں طاقت کی روایتی تعریف، اتحادوں کی پرانی ساخت اور عالمی سیاست کے مانوس اصول تیزی سے غیر مؤثر ہوتے جا رہے ہیں، سرد جنگ کے بعد قائم ہونے والا عالمی توازن اب ایک غیر یقینی، کثیر قطبی اور شدید مسابقتی نظام میں ڈھل چکا ہے جس میں بڑی طاقتیں نہ صرف عسکری بلکہ معاشی، تکنیکی، سفارتی اور بیانیاتی محاذوں پر بھی ایک دوسرے کے مقابل صف آرا ہیں، ایسے ماحول میں مڈل پاورز یعنی درمیانی طاقتوں کے لیے عالمی سیاست نہایت پیچیدہ مگر فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو گئی ہے کیونکہ اب انہیں کسی ایک بلاک کے ساتھ مکمل وابستگی کے بجائے بیک وقت کئی طاقتوں کے ساتھ تعلقات استوار کر کے اپنی بقا، خودمختاری اور مفادات کا تحفظ کرنا ہوتا ہے، یہی وہ پس منظر ہے جس میں فیلڈ مارشل عاصم منیر ایک مؤثر اسٹریٹجک رہنما کے طور پر ابھر کر سامنے آئے ہیں اور عالمی میڈیا میں انہیں ایک ایسی شخصیت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو بدلتے عالمی نظام کی نزاکتوں کو نہ صرف سمجھتے ہیں بلکہ ان سے فائدہ اٹھانے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے یہ واضح پیغام دیا ہے کہ وہ اب محض ردعمل کی سیاست کرنے والی ریاست نہیں بلکہ ایک باخبر، متوازن اور فعال مڈل پاور کے طور پر عالمی سیاست میں اپنا کردار متعین کرنا چاہتا ہے، بدلتی عالمی سیاست نے مڈل پاورز کے لیے نئے مواقع ضرور پیدا کیے ہیں مگر ان مواقع کے ساتھ دباؤ، خطرات اور آزمائشیں بھی بڑھ گئی ہیں کیونکہ بڑی طاقتوں کے درمیان کشمکش میں غیر جانبدار رہنا یا توازن قائم رکھنا آسان نہیں رہا، اس کے باوجود پاکستان کی قیادت نے ایک محتاط مگر پراعتماد راستہ اختیار کیا ہے جس میں کثیر الجہتی خارجہ پالیسی کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر کو اسی کثیر الجہتی خارجہ پالیسی کا ماہر قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ ان کی سوچ میں قومی سلامتی محض عسکری دفاع تک محدود نہیں بلکہ اس میں سفارتکاری، معیشت، علاقائی استحکام اور عالمی تاثر سب شامل ہیں، یہی جامع نقطہ نظر جدید عالمی سیاست میں کسی بھی اسٹریٹجک رہنما کی پہچان بن چکا ہے، مڈل پاورز کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ کسی ایک طاقت کے کیمپ میں شامل ہوئے بغیر اپنی اہمیت برقرار رکھیں اور اسی مقصد کے لیے ملٹی الائنمنٹ یعنی بیک وقت کئی طاقتوں سے تعلقات کی حکمت عملی اختیار کی جاتی ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر کو درمیانی طاقتوں کے کامیاب ترین ملٹی الائنرز میں شمار کیا جانا اسی حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان نے اس مشکل حکمت عملی کو نہایت مہارت سے اپنایا ہے، پاکستان کی قیادت ایک طرف واشنگٹن کے ساتھ تعلقات کو مکمل طور پر منقطع ہونے سے بچاتے ہوئے تعاون کے دائرے تلاش کرتی رہی تو دوسری جانب بیجنگ کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری کو بھی پوری سنجیدگی سے برقرار رکھا، اسی کے ساتھ ریاض اور تہران جیسے ایک دوسرے کے حریف علاقائی مراکز کے ساتھ بیک وقت روابط رکھنا پاکستان کی متوازن سفارتکاری کی ایک واضح مثال ہے، یہ بیک وقت روابط کسی اتفاق یا وقتی ضرورت کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک سوچے سمجھے اسٹریٹجک وژن کا حصہ ہیں جس کا مقصد پاکستان کو علاقائی اور عالمی سیاست میں ایک پل یا توازن فراہم کرنے والی ریاست کے طور پر پیش کرنا ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں یہ سمجھ بوجھ ابھری ہے کہ آج کی دنیا میں سخت بیانات، جذباتی فیصلے اور غیر لچکدار مؤقف ریاستوں کو کمزور کرتے ہیں جبکہ نرم لہجہ، بروقت مکالمہ اور خاموش مگر مؤثر سفارتکاری طاقت میں اضافہ کرتی ہے، اسی سوچ کا مظاہرہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ تعلقات میں بھی دیکھنے میں آیا جہاں بر وقت خوش گفتاری اور نرم سفارتی رویہ مؤثر ثابت ہوا، ٹرمپ جیسے غیر روایتی اور غیر متوقع رہنما کے ساتھ معاملہ کرنا دنیا کی کئی ریاستوں کے لیے مشکل ثابت ہوا مگر پاکستان نے تصادم کے بجائے ہم آہنگی کا راستہ اختیار کیا جس سے یہ ظاہر ہوا کہ قیادت کو عالمی سیاست میں شخصیات کے مزاج اور انداز کو سمجھنے کی کتنی گہری بصیرت حاصل ہے، یہ انداز محض ایک فرد کے ساتھ تعلقات تک محدود نہیں بلکہ یہ اس وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہے جس میں پاکستان نے عالمی طاقتوں کے ساتھ بات چیت کے دروازے بند کرنے کے بجائے کھلے رکھے، بدلتے عالمی نظام میں جب چین اور امریکہ کی مسابقت شدت اختیار کر چکی ہے اور دنیا مختلف معاشی و عسکری بلاکس میں تقسیم ہوتی جا رہی ہے، پاکستان نے کسی ایک طرف جھکنے کے بجائے توازن کو ترجیح دی، یہی توازن مڈل پاورز کے لیے سب سے مشکل مگر سب سے ضروری راستہ ہوتا ہے، عالمی سطح پر یہ تاثر مضبوط ہوا ہے کہ پاکستان کی قیادت نے اس پیچیدہ دور میں جلد بازی یا جذباتی فیصلوں سے گریز کیا اور قومی مفاد کو بنیاد بنا کر فیصلے کیے، فیلڈ مارشل عاصم منیر کے اسٹریٹجک وژن میں یہ بات نمایاں ہے کہ اندرونی استحکام کے بغیر بیرونی کامیابی ممکن نہیں، اسی لیے قومی سلامتی کے تصور کو وسیع کرتے ہوئے معاشی بحالی، ادارہ جاتی نظم اور ریاستی ساکھ کو بھی اہمیت دی گئی، عالمی سیاست میں کسی بھی مڈل پاور کی بات اسی وقت سنی جاتی ہے جب وہ اندرونی طور پر منظم اور پراعتماد ہو، پاکستان نے اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے اپنے خارجہ بیانیے کو بھی زیادہ حقیقت پسندانہ اور کم جارحانہ بنایا، بدلتی عالمی سیاست نے جہاں مڈل پاورز کے لیے خطرات بڑھائے ہیں وہیں انہیں یہ موقع بھی دیا ہے کہ وہ بڑی طاقتوں کے درمیان ثالث، سہولت کار یا متوازن شراکت دار کا کردار ادا کریں، پاکستان اسی سمت میں آگے بڑھتا دکھائی دیتا ہے، واشنگٹن، بیجنگ، ریاض اور تہران کے درمیان بیک وقت روابط رکھنا اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان نے خود کو عالمی سیاست کے حاشیے پر رکھنے کے بجائے مرکزی دھارے میں متحرک رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت کو اس تناظر میں اس لیے بھی مؤثر سمجھا جا رہا ہے کہ انہوں نے عسکری طاقت کو جارحانہ اظہار کے بجائے سفارتی وزن بڑھانے کے لیے استعمال کرنے کی سوچ کو فروغ دیا، یہ سوچ جدید دنیا میں کامیاب ریاستوں کی پہچان بن چکی ہے جہاں طاقت کا اصل استعمال دباؤ ڈالنے کے بجائے مذاکرات کی میز پر اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے کیا جاتا ہے، مڈل پاورز کے لیے یہ دور اس لیے بھی مشکل ہے کہ ان کے پاس غلطیوں کی گنجائش بہت کم ہوتی ہے، ایک غلط قدم انہیں کسی ایک بلاک کا محتاج یا کسی دوسرے کا مخالف بنا سکتا ہے، پاکستان نے اس نازک حقیقت کو سمجھتے ہوئے قدم بہ قدم آگے بڑھنے کی حکمت عملی اپنائی، فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بطور اسٹریٹجک رہنما ابھرنا دراصل اسی تدریجی مگر واضح پالیسی کا نتیجہ ہے، عالمی میڈیا میں ان کا ذکر محض تعریف تک محدود نہیں بلکہ یہ اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کی اسٹریٹجک سمت کو اب سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے، مجموعی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ بدلتے عالمی نظام میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت اور پاکستان کی ملٹی الائنمنٹ پالیسی اس امر کی غماز ہے کہ اگر مڈل پاورز حقیقت پسندانہ سوچ، متوازن سفارتکاری اور طویل المدتی وژن کو اپنائیں تو وہ نہ صرف عالمی دباؤ کا مقابلہ کر سکتی ہیں بلکہ عالمی سیاست میں ایک باوقار اور مؤثر کردار بھی ادا کر سکتی ہیں، یہی وہ سمت ہے جو آنے والے برسوں میں پاکستان کے لیے چیلنج بھی بنے گی اور موقع بھی، مگر موجودہ حالات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان اس مشکل مگر اہم راستے پر اعتماد کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں