(Publish from Houston Texas USA)
(میاں افتخار احمد)
میری نظرآج جب پہلی بار “خواب ،خوشبو، آئینے” کے صفحات تک پہنچی تو لفظوں کی خوشبو نے حیرت کی ایک نئی دنیا دکھا دی۔جسے فیصل آباد کی گلیوں میں میں نے ایک دبنگ اور نڈر آفیسر کے روپ میں جانا، آج اس کے قلم کی نرمی، اس کی سوچ کی مہک اور احساس کی گہرائی نے دل چھو لیا۔عظمت فردوس نے حرفوں کو صرف صفحوں پر نہیں لکھا،بلکہ خوابوں، خوشبوؤں اور آئینوں کی طرح دلوں میں اتارا ہے۔شاعری دل کی وہ صدا ہے جو کبھی خواب بن کر اترتی ہے، کبھی خوشبو بن کر پھیلتی ہے اور کبھی آئینے کی طرح انسان کی اصل پہچان دکھاتی ہے۔ محترمہ عظمت فردوس اسوہ کی کتاب “خواب، خوشبو، آئینے” بھی ایسی ہی ایک روحانی اور ادبی دنیا کا در کھولتی ہے جہاں لفظ فقط لکھے نہیں جاتے بلکہ دلوں میں اُترتے ہیں، روح کو چھوتے ہیں اور قاری کے اندر کی خاموش وادیوں میں ایک لطیف سرگم بکھیر دیتے ہیں۔ عظمت اسوہ نے اپنے شعور کو ایمان کی روشنی میں ڈبو کر، اپنی روح کو مرشد کی نگاہِ کرم میں رکھ کر، اور اپنے احساس کو عشقِ حقیقی کی ہوا میں رچ بس کر جس رنگ میں پیش کیا ہے، وہ بے مثال ہے اور اردو شاعری میں ایک خاص مقام رکھتا ہے۔ اس کتاب کی بنیاد میں عقیدت کا وہ چراغ جلتا ہے جس کی روشنی نہ سب کو نصیب ہوتی ہے نہ اس طرح دلوں کو بھگو سکتی ہے۔ ان کے اشعار میں جب مرشد کا ذکر آتا ہے تو لفظ روشنی کی مالا بن جاتے ہیں اور احساس ایک نورانی کیفیت اختیار کر لیتا ہے۔ وہ کہتی ہیں: “مجھ کو مرشد نے حق شناس کیا ، سیدھے رستے سے روشناس کیا، رسم دنیا سے دے کے آزادی، عشق واحد میرا لباس کیا”۔ ان اشعار میں صرف تعریف نہیں، صرف محبت نہیں، بلکہ ایک ایسے روحانی سفر کا آغاز ہے جس میں ایک طالبِ دل، ایک بندہ، ایک انسان اپنے مرشد کی رہنمائی میں بھٹکنے سے بچ جاتا ہے، اپنے اصل کو پہچان لیتا ہے اور دنیاوی رسومات کے جال سے نکل کر عشقِ واحد کی طرف قدم بڑھاتا ہے۔ یہی عشق وہ قوت ہے جو انسان کے لفظوں کو بھی مقدس بنا دیتا ہے اور اس کی نظر کو بھی ستھرائی عطا کرتا ہے۔ آگے بڑھتے ہوئے عظمت اسوہ جب عقیدت کی گہرائی میں ڈوبتی ہیں تو وہ اپنی ہر تحریر، ہر سوچ، ہر لفظ مرشد کے نام منسوب کر دیتی ہیں اور یوں عرض کرتی ہیں: “جو بھی لکھا ہے کفن و مستی میں، آپ کے نام اقتباس کیا”۔ یہ فقط شعر نہیں، یہ روح کی وہ عاجزی ہے جسے الفاظ کا سہارا دینا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ یہ اعلانِ محبت نہیں بلکہ اعلانِ فنا ہے کہ جو کچھ بھی لکھا، جو کچھ بھی سمجھا، جو کچھ بھی پایا وہ سب مرشد کی عطا ہے۔ پھر ایک مقام پر وہ اپنے آپ کو معمولی، حقیر اور بے حیثیت تصور کرتے ہوئے مرشد کی نوازش کا ایسا نقش کھینچتی ہیں جو پڑھنے والے کی آنکھوں کو بھی نم کر دیتا ہے: “ان کی نظر کرم ہے بس اسوہ، مجھ سی بندی کو اتنا خاص کیا”۔ اس شعر میں عاجزی کی ایسی خوشبو ہے جو انسان کو اس کی اصل یاد دلاتی ہے اور یہ سکھاتی ہے کہ بڑا وہی ہے جو خود کو کچھ بھی نہ سمجھے۔ یہی عاجزی عظمت اسوہ کی شاعری میں ایک سیلاب کی طرح بہتی ہے اور ان الفاظ کو پاکیزہ بناتی ہے جنہیں وہ صفحے پر اتارتی ہیں۔ ان کی کتاب میں خوابوں، خوشبوؤں اور آئینوں کا جو امتزاج ہے وہ اردو شاعری میں ایک نئی جہت کی طرح محسوس ہوتا ہے۔ خواب وہ امیدیں ہیں جو انسان کی روح میں روشنی بھرتے ہیں، خوشبو وہ احساس ہے جو دل میں مسلسل مہکتا رہتا ہے اور آئینے وہ حقیقتیں ہیں جن کا سامنا کرنا ہر دل کے بس کی بات نہیں۔ عظمت اسوہ نے ان تینوں کو یکجا کر کے ایک ایسا جہان تخلیق کیا ہے جو پڑھنے والے کو اپنے حصار میں لے لیتا ہے۔ وہ کہتی ہیں:” قریہ جاں میں ہے جو اترے خواب، خوشبو، آئینے، عمر تک آنکھوں نے دیکھے خواب، خوشبو، آئینے”۔ یہاں قریہ جاں ایک مکمل کائنات ہے، ایک روحانی بستی ہے جہاں خواب اترتے ہیں، جہاں خوشبو بسیرا کرتی ہے اور جہاں آئینے حقیقت کے عکس دکھاتے ہیں۔ ان کے اگلے اشعار میں فطرت، جذبات اور انسان کی اندرونی کیفیتوں کا ایسا امتزاج ملتا ہے جو قاری کو مسحور کر دیتا ہے: “پھول کلیاں رنگ شبنم رات آنکھیں خامشی، نقش کیا ہے دل پہ ابھرے خواب، خوشبو، آئینے”۔ یہ مصرعے صرف منظر کشی نہیں کرتے بلکہ منظر کو دل کے اندر منتقل کر دیتے ہیں۔ پھولوں کی خوشبو، شبنم کی نمی، رات کی خاموشی، اور دل پر ابھرتے نقوش—یہ سب کچھ مل کر ایک ایسا اثر پیدا کرتے ہیں جو دیر تک ذہن پر قائم رہتا ہے۔ اس کتاب میں درد کا پہلو بھی ایک خاص رنگ رکھتا ہے۔ شاعرہ نے دکھ کو اندھیری گلی نہیں بنایا بلکہ اسے نور کی ایک نرم سی لکیر بنا دیا ہے جو قاری کے دل میں سکون کی صورت اُترتی ہے۔ وہ لکھتی ہیں: “برف کوہساروں پہ پگھلی ہو گئی آنکھیں رواں، درد کے بادل وہ برسے خواب و خوشبو، آئینے”۔ یہ درد کا بیان نہیں، درد کی تطہیر ہے۔ اس شعر میں آنکھیں فقط نم نہیں ہوتیں بلکہ دل کو پاک کر دیتی ہیں۔ پھر عظمت اسوہ اپنے قاری کو دعوت دیتی ہیں کہ دل کی آنکھیں کھول کر دیکھو تو ہر طرف جلوے ہی جلوے ہیں: “دل کی آنکھیں کھول کر اسوہ زمانہ چھان لے، ہر طرف بکھرے ہیں جلوے خواب، خوشبو، آئینے” ۔ یہ شعر قاری کو رک کر سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ اگر زندگی کو دل کی آنکھ سے دیکھا جائے تو ہر طرف حسن بکھرا ہوا ہے۔ یہی اسوہ کا پیغام ہے: دیکھنے والا اگر دیکھنا چاہے تو اس کے پاس ہزار راستے ہیں، لاکھ جلوے ہیں اور بے شمار نشانیاں ہیں۔ “خواب، خوشبو، آئینے” ایسی کتاب ہے جو پڑھنے والے کو صرف لطف نہیں دیتی بلکہ اسے بدل دیتی ہے، اسے روشن کرتی ہے، اسے نرم کرتی ہے۔ یہ کتاب ادب بھی ہے، عبادت بھی؛ یہ شاعری بھی ہے، روشنی بھی؛ یہ احساس بھی ہے، روحانی لمس بھی۔ اس کتاب کا ہر شعر، ہر لفظ، ہر معنی قاری کی روح کو چھوتا ہے اور اسے ایک ایسے سفر پر لے جاتا ہے جہاں انسان خود کو بھی دیکھتا ہے اور اپنے رب کے نشانات کو بھی۔ یہ کتاب “عظمت فردوس اسوہ” کے نام کو صرف زندہ نہیں رکھے گی بلکہ اسے ادب کا وہ چراغ بنا دے گی جس کی روشنی آنے والی نسلیں بھی محسوس کریں گی۔ یہ کتاب وقت کے ساتھ مٹنے والی نہیں، یہ دلوں پر کندہ ہو جانے والی کتاب ہے، جو خواب بھی بکھیرتی ہے، خوشبو بھی پھیلاتی ہے اور آئینے بھی روشن کرتی ہے۔ یہ عظمت اسوہ کے روحانی اور ادبی قد کا ایسا ثبوت ہے جو تا قیامت باقی رہے گا۔یہ کتاب ایک تازہ ہوا کا جھونکا ہے جو روح کو چھو کر گزرتا ہے، اور لکھاری وہ چراغ ہے جس کی روشنی دلوں کی وادیوں میں دیر تک رہتی ہے۔دعا ہے کہ عظمت فردوس کا یہ تخلیقی سفر یوں ہی مہکتا رہے، اور رب تعالیٰ انہیں اور بھی خوبصورت کتابیں لکھنے کی توفیق عطا فرمائے—آمین۔
