(Publish from Houston Texas USA)
(میاں افتخار احمد)
پاکستان کے نئے میزائل تجربات اس حقیقت کا اعلان ہیں کہ ملک کی دفاعی ترجیحات اب تیزی سے بدلتے ہوئے خطے کے تقاضوں کے عین مطابق ڈھل رہی ہیں اور نومبر 2025 میں پاکستان نیوی کی جانب سے کئے جانے والا تازہ P-282 Smash میزائل تجربہ انہی بدلتی ہوئی سیکیورٹی جہتوں کا واضح اظہار ہے یہ تجربہ صرف ایک تکنیکی کامیابی نہیں بلکہ ایک ایسے نئے دور کا آغاز ہے جس میں پاکستان اپنی بحری سرحدوں کی حفاظت کو جدید ترین ٹیکنالوجی کے ساتھ جوڑ رہا ہے P-282 Smash جدید Anti Ship Ballistic Missile ہونے کے ساتھ ساتھ ان خصوصیات کا حامل ہے جو دنیا کے چند ممالک کے پاس ہی موجود ہیں تین سو پچاس کلومیٹر تک سمندر اور خشکی دونوں پر اہداف کو ہدف بنانا، اس کی پرواز کے دوران راستہ تبدیل کرنے کی صلاحیت اور دشمن کے دفاعی نظام کو دھوکہ دینے والا فلائٹ پیٹرن اس میزائل کی اسٹریٹجک اہمیت کو کئی گنا بڑھاتا ہے یہ وہ ٹیکنالوجی ہے جو خطے میں بحری طاقت کے توازن کو نئے رخ پر ڈال سکتی ہے اس میزائل کا تجربہ اس وقت سامنے آیا جب پاکستان مسلسل نیول ڈیفنس کو مضبوط بنانے کے لئے جدید پروگراموں پر کام کر رہا ہے اور عالمی سٹریٹجک حالات ایک ایسے مضبوط بحری دفاع کا تقاضا کر رہے ہیں جو دشمن کی جارحیت کو سمندر میں ہی روک سکے اس کامیاب تجربے نے واضح کردیا ہے کہ پاکستان اب صرف زمینی میزائل پروگراموں پر نہیں بلکہ سمندری دفاع کو اپنی اسٹریٹجک ترجیحات کا نمایاں حصہ بنا چکا ہے Smash میزائل کی کامیابی کے ساتھ پاکستان کے دیگر میزائل پروگرام بھی ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں جن میں Ababeel II، Ghaznavi، Fatah II، Ra’ad II، Harbah NG اور Babur-1B جیسے جدید ترین سسٹمز شامل ہیں یہ تمام پروگرام اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان ڈیٹرنس برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ روایتی اور غیر روایتی دونوں دفاعی صلاحیتوں میں توازن پیدا کر رہا ہے Ababeel II کی MIRV ٹیکنالوجی، جس کے تحت ایک ہی میزائل کئی اہداف کو بیک وقت نشانہ بنا سکتا ہے، پاکستان کے اسٹریٹجک طاقت کے اس حصے کی نمائندگی کرتی ہے جو بھارت کے میزائل ڈیفنس سسٹمز کو غیر مؤثر بنانے میں خاص کردار ادا کرتا ہے یہ ٹیکنالوجی خطے میں ایک نیا توازن پیدا کرتی ہے کیونکہ MIRV کے ذریعے کسی بھی دفاعی نظام کے لئے تمام وار ہیڈز کو روک پانا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے دوسری جانب Fatah II اپنی اعلیٰ درستگی اور جدید seeker ٹیکنالوجی کے ساتھ پاکستان کی ٹیکٹیکل سطح کی قوت کو مستحکم کرتا ہے جو مختصر فاصلے پر انتہائی باریک اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے Ghaznavi کا رات کے اندھیرے میں کامیاب تجربہ، Harbah NG کی بحری دفاع میں اہم حیثیت اور Ra’ad II کی چھ سو کلومیٹر طویل کم بلندی والی پرواز صلاحیت یہ سب ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان اپنی فوجی طاقت کو دفاعی سطح سے ہٹ کر اس مقام تک لے جا رہا ہے جہاں تکنیکی برتری جنگی حکمت عملی کا بنیادی ستون بن چکی ہے Babur-1B کی نو سو کلومیٹر صلاحیت اور رڈار چکمہ دینے کی خاصیت اسے خطے کے کروز میزائلوں میں نمایاں مقام دیتی ہے یہ تمام میزائل پروگرام اس حقیقت کو اجاگر کرتے ہیں کہ پاکستان نے صرف دفاعی ردعمل نہیں بلکہ ایک منظم حکمت عملی کے تحت اپنی ٹیکنالوجی کو نئی سطحوں پر پہنچایا ہے خطے میں بھارت کی جانب سے دفاعی سازوسامان کی تیز رفتار خریداری، نئی ٹیکنالوجی تک رسائی اور اسٹریٹجک شراکت داریوں کے باعث جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن تبدیل ہو رہا تھا ایسے میں پاکستان کے لئے ضروری تھا کہ وہ ایسے سسٹمز تیار کرے جو نہ صرف بھارتی اقدامات کا جواب دے سکیں بلکہ خطے میں اسٹریٹجک برتری کو بھی برقرار رکھ سکیں P-282 Smash کا نومبر تجربہ اسی بڑے خاکے کی ایک اہم کڑی ہے یہ میزائل پاکستان کے Anti Access Area Denial سسٹم کو مستحکم بناتا ہے اور دشمن کی بحری افواج کو دور ہی سے روکنے کی صلاحیت فراہم کرتا ہے بحیرہ عرب کی اسٹریٹجک اہمیت، گوادر بندرگاہ، عالمی تجارت کی گزرگاہیں اور نیول اسٹرائیک گروپس کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کے باعث پاکستان کے لئے یہ ضروری ہو چکا تھا کہ وہ اپنی سمندری حدود کے دفاع کو اعلیٰ ترین سطح پر لے جائے Smash میزائل کا یہی کردار ہے کہ وہ دشمن کی بحری طاقت کو سمندر میں داخل ہونے سے پہلے ہی تباہ کرنے کی اہلیت رکھتا ہے دفاعی ماہرین کے مطابق پاکستان کے میزائل پروگراموں کی موجودہ رفتار اس بات کی دلیل ہے کہ ملک تکنیکی خودکفالت کی طرف مسلسل پیش قدمی کر رہا ہے جدید کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹمز، ہدف شناسی کی اعلیٰ صلاحیت، ریڈار چکمہ دینے والے فیچرز، اور انٹیگریٹڈ جنگی نظام پاکستان کے مجموعی دفاع کو ایک نئے دور میں داخل کر رہے ہیں نومبر 2025 کا Smash تجربہ بتاتا ہے کہ پاکستان محض دفاعی صلاحیت کو برقرار نہیں رکھ رہا بلکہ ایک ایسا جامع سیکیورٹی ماحول تشکیل دے رہا ہے جس میں ہر سطح پر جدید ٹیکنالوجی ایک ساتھ کام کرتی ہے اور مستقبل میں پاکستان نیوی کو ایک زیادہ طاقتور اور مؤثر فورس کے طور پر سامنے لاتی ہے یہ تجربہ پاکستان کے اس عزم کی بھی علامت ہے کہ ملکی سالمیت، بحری حدود کا تحفظ اور خطے میں امن کا قیام صرف الفاظ نہیں بلکہ عملی قوت، مستحکم ٹیکنالوجی اور غیر متزلزل دفاعی تیاریوں سے ممکن ہے اور پاکستان اس راستے پر پوری اعتماد کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔
