(Publish from Houston Texas USA)
کوئٹہ(سید سردار محمد خوندئی، بیورو چیف)
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے چیف سیکرٹری شکیل قادر خان اور آئی جی پولیس بلوچستان طاہر محمود کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صوبے کے دور دراز اور کم آبادی والے علاقوں میں انٹرنیٹ ٹاورز کی تنصیب پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اس قسم کا انفراسٹرکچر غلط استعمال ہوا تو یہ سیکیورٹی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے اور شدت پسند عناصر اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے سوال اٹھایا کہ جن علاقوں میں شہری آبادی نہ ہونے کے برابر ہے وہاں تیز رفتار موبائل سروسز، حتیٰ کہ 4G انٹرنیٹ کی موجودگی حیران کن ہے۔ انہوں نے سنگان جیسے علاقوں کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ یہ جاننا ضروری ہے کہ ان تنصیبات کی منظوری کس نے دی اور ان کی نگرانی کا نظام کیا ہے، کیونکہ بغیر نگرانی انٹرنیٹ سہولیات ریاست اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف استعمال ہو سکتی ہیں۔
اسی موقع پر وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے صوبہ بھر میں ڈیجیٹل کنیکٹیوٹی بڑھانے کے لیے 3 ارب روپے کے فائبر آپٹک منصوبے کا اعلان کیا۔ اس منصوبے کے تحت بلوچستان کے اسکولوں، کالجوں، جامعات اور اسپتالوں میں فائبر آپٹک کیبل بچھائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کا مقصد عوام کو بہتر انٹرنیٹ سہولیات فراہم کرنا ہے، ساتھ ہی اس کے استعمال کی مؤثر نگرانی اور ضابطہ کاری بھی یقینی بنائی جائے گی۔
امن و امان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے خاران میں فرنٹیئر کور کی کامیاب کارروائی کو سراہا، جس میں بینک ڈکیتی کی کوشش کے دوران 12 دہشت گرد ہلاک کیے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ 15 سے 20 مسلح افراد نے مختلف بینکوں پر حملہ کرنے، اے ٹی ایم مشینوں کو نقصان پہنچانے اور رقم لوٹ کر فرار ہونے کی کوشش کی۔
وزیر اعلیٰ کے مطابق کارروائی کے دوران ایک شہری زخمی ہوا جسے کمبائنڈ ملٹری اسپتال میں علاج کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ چار دہشت گرد تین مختلف مقامات پر موقع پر ہی ہلاک کیے گئے، جبکہ دیگر کو سیکیورٹی فورسز کی مربوط کارروائی کے دوران نشانہ بنایا گیا۔ بعض حملہ آور ایک بینک سے تقریباً 34 لاکھ روپے لوٹنے میں کامیاب ہوئے تھے، تاہم انہیں مزید کارروائی سے پہلے ہی روک لیا گیا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ایسے واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ نظریاتی بنیادوں پر سرگرم شدت پسند عناصر اب مجرمانہ سرگرمیوں، جیسے بینک ڈکیتیوں، کی طرف بھی مائل ہو رہے ہیں۔
میر سرفراز بگٹی نے موجودہ سیکیورٹی چیلنجز کو 2021 میں کابل میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد پیدا ہونے والی علاقائی صورتحال سے بھی جوڑا۔ انہوں نے فوجی حکام کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ 2025 کے دوران پاکستان بھر میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے 75 ہزار سے زائد انٹیلی جنس بنیادوں پر آپریشنز کیے، جن کے نتیجے میں 2 ہزار 500 سے زائد دہشت گرد ہلاک کیے گئے۔
