کوئٹہ (سید سردار محمد خوندئی): بلوچستان ہائیکورٹ نے پاکستان میں میڈیکل اور ڈینٹل کی تعلیم جاری رکھنے کے خواہشمند افغان طلبہ کی تعلیم سے متعلق دائر درخواست مسترد کردی۔

عدالت کے ڈویژن بینچ، جس میں جسٹس محمد عامر نواز رانا اور جسٹس عبدالقیوم لہڑی شامل تھے، نے فیصلہ سناتے ہوئے غیر ملکی طلبہ سے متعلق حکومتی پالیسی میں عدالتی مداخلت کی استدعا کو ناقابل قبول قرار دیا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ غیر ملکی شہریوں کو پاکستان میں رہائش، تعلیم یا پیشہ ورانہ تربیت حاصل کرنے کا کوئی مطلق یا مستقل حق حاصل نہیں، بالخصوص اس صورت میں جب ایسی سہولت ریاستی پالیسی سے متصادم ہو۔

فیصلے میں کہا گیا کہ امیگریشن کنٹرول، غیر ملکی شہریوں کی وطن واپسی اور قومی سلامتی سے متعلق بنیادی انتظامی فیصلے حکومت کے انتظامی اختیار میں آتے ہیں۔ اسی بنیاد پر عدالت نے افغان شہریوں کے میڈیکل اداروں میں داخلے، تبادلے یا سہولت کاری سے متعلق ریاستی ہدایات میں مداخلت سے انکار کردیا۔

ججز نے اپنے ریمارکس میں قرار دیا کہ اگرچہ انسانی ہمدردی کے پہلو اہم ہیں، تاہم صرف ہمدردی کی بنیاد پر غیر شہریوں کے لیے مستقل رہائش یا تعلیمی داخلے کا قانونی حق پیدا نہیں ہوتا۔

ہائیکورٹ نے یہ بھی واضح کیا کہ غیر ملکی شہریوں کے ساتھ انسانی وقار، انصاف اور قانون کے مطابق سلوک کیا جانا چاہیے، تاہم عدلیہ خارجہ پالیسی اور اس سے متعلق حکومتی احکامات کو کالعدم قرار نہیں دے سکتی۔

آخر میں عدالت نے متاثرہ افغان طلبہ کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے تحفظات کے ازالے کے لیے افغانستان کے سفارت خانے سے رابطہ کریں۔