اسلام آباد: سینیٹ میں منگل کے روز حکومت اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے درمیان سابق وزیراعظم اور پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کی اسپتال منتقلی کے معاملے پر شدید بحث ہوئی۔ پی ٹی آئی نے الزام عائد کیا کہ سپریم کورٹ کے حکم پر مکمل عمل نہیں کیا گیا، جبکہ حکومت نے مؤقف اختیار کیا کہ عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال کے بجائے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) منتقل کرنے کا فیصلہ سیکیورٹی خدشات کے باعث کیا گیا۔

پی ٹی آئی کے سینیٹر علی ظفر نے سینیٹ میں معاملہ اٹھاتے ہوئے عدلیہ کی بالادستی سے متعلق قرارداد پیش کرنے کی تحریک جمع کرائی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے عمران خان کو شفا اسپتال منتقل نہیں کیا، مطلوبہ میڈیکل بورڈ تشکیل نہیں دیا اور سپریم کورٹ کے حکم میں اپنی مرضی سے تبدیلی کی۔ علی ظفر نے کہا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ، لیکن کسی شخص کی صحت کے معاملے کو سیاسی اختلافات کی نذر نہیں کرنا چاہیے۔

وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے پی ٹی آئی کے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ عدالت نے کرنا ہے کہ سپریم کورٹ کے حکم پر عمل ہوا یا نہیں۔ انہوں نے علی ظفر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں خود کو عدالت مقرر نہیں کرنا چاہیے۔ رانا ثناء اللہ نے پی ٹی آئی پر عمران خان کی صحت کو سیاسی معاملہ بنانے کا الزام بھی عائد کیا۔

رانا ثناء اللہ کے مطابق عمران خان کو ابتدا میں شفا انٹرنیشنل اسپتال لے جایا گیا تھا، تاہم سیکیورٹی صورتحال کے باعث آخری وقت میں انہیں سرکاری اسپتال منتقل کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور انتظامیہ شفا اسپتال کے باہر موجود سیکیورٹی صورتحال سے متعلق شواہد سپریم کورٹ میں پیش کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی صحت کے حوالے سے کوئی غفلت نہیں ہوئی اور نہ ہی ہونے دی جائے گی۔

عمران خان کو طبی معائنے کے لیے پمز منتقل کیا گیا، جہاں معائنے کے بعد انہیں دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کردیا گیا۔ سپریم کورٹ نے 18 اگست کے حکم میں متعلقہ حکام کو سابق وزیراعظم کو طبی معائنے کے لیے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کی ہدایت کی تھی۔ بعد ازاں پی ٹی آئی نے سپریم کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائر کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ عمران خان کی اسپتال منتقلی سے متعلق عدالتی حکم پر مکمل عمل نہیں کیا گیا۔

دوسری جانب پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے راولپنڈی میں اڈیالہ روڈ کے ڈھوک گاہل چیک پوسٹ کے قریب صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے کا منصوبہ آخری وقت میں تبدیل کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جس شخص نے آخری لمحے میں منصوبہ تبدیل کیا، اس نے غلط کیا۔ گوہر خان نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی اہم پیش رفت کے قریب تھی لیکن آخری وقت پر فیصلے کی تبدیلی سے ان کی کوششوں کو نقصان پہنچا۔

بیرسٹر گوہر نے پمز میں بھی عمران خان کو مناسب علاج فراہم نہ کیے جانے پر مایوسی کا اظہار کیا اور کہا کہ اگر متعلقہ حکام چاہیں تو سپریم کورٹ کے حکم پر اب بھی عمل کیا جاسکتا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے پی ٹی آئی کو شفا اسپتال منتقلی سے متعلق کسی سیکیورٹی خدشے سے آگاہ نہیں کیا تھا، جبکہ پی ٹی آئی کو خود عمران خان کی سیکیورٹی کے حوالے سے خدشات ہیں۔

گوہر خان نے وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری کے بیان کا بھی حوالہ دیا، جنہوں نے کہا تھا کہ سیکیورٹی صورتحال کے باعث عمران خان کو پمز منتقل کیا گیا۔ پی ٹی آئی چیئرمین کے مطابق پارٹی کی کور اور سیاسی کمیٹی نے واضح ہدایات جاری کی تھیں کہ کوئی بھی شخص شفا اسپتال نہ جائے، جبکہ عمران خان کی بہن نے بھی تصدیق کی تھی کہ انہیں پمز منتقل کیا گیا ہے۔

بیرسٹر گوہر نے بتایا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے دائر توہین عدالت کی درخواست کو سپریم کورٹ میں نمبر الاٹ کردیا گیا ہے اور اس پر جلد سماعت کی درخواست بھی کی گئی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی نے عدالت کے کسی حکم کی خلاف ورزی نہیں کی اور درخواست کو سپریم کورٹ کے حکم پر عمل درآمد سے متعلق سول توہین عدالت کا معاملہ قرار دیا۔