حضور اکرم، رحمتِ عالم، خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی 63 سالہ حیاتِ طیبہ پوری انسانیت کے لیے نور، رحمت،

ہدایت اور مکمل ضابطۂ حیات ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا۔ آپ ﷺ کی زندگی کا ہر پہلو صداقت، امانت، عدل، رحم، محبت، شجاعت، صبر، عاجزی اور اللہ تعالیٰ کی کامل بندگی کا بے مثال نمونہ ہے۔ آپ ﷺ صرف مسلمانوں ہی کے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے سب سے عظیم محسن اور کامل رہنما ہیں۔
آپ ﷺ کی ولادت باسعادت عام الفیل میں مکہ مکرمہ میں ہوئی۔ آپ ﷺ کے والد حضرت عبداللہ آپ ﷺ کی پیدائش سے پہلے وفات پا چکے تھے جبکہ والدہ ماجدہ حضرت آمنہ تھیں۔ بچپن میں والدہ کے وصال کے بعد دادا حضرت عبدالمطلب اور پھر چچا حضرت ابو طالب نے آپ ﷺ کی کفالت اور پرورش کی۔ آپ ﷺ نے جوانی میں بکریاں چرائیں اور تجارت بھی کی۔ اپنی سچائی اور امانت داری کی وجہ سے اہلِ مکہ نے آپ ﷺ کو صادق اور امین کے عظیم القابات سے نوازا۔
25 سال کی عمر میں آپ ﷺ کا نکاح حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے ہوا، جو زندگی بھر آپ ﷺ کی وفادار اور مخلص رفیقہ رہیں۔ آپ ﷺ نے مظلوموں کی مدد کے لیے حلف الفضول میں بھی شرکت کی۔ نبوت سے قبل آپ ﷺ غارِ حرا میں عبادت اور غوروفکر میں مشغول رہتے تھے۔ 40 سال کی عمر میں حضرت جبرئیل علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی پہلی وحی لے کر تشریف لائے اور یوں آپ ﷺ پر نبوت کا عظیم فریضہ عائد ہوا۔
آپ ﷺ نے توحید، عدل، مساوات اور انسانیت کی فلاح کا پیغام دیا۔ مکہ کے کفار نے آپ ﷺ اور صحابہ کرامؓ پر بے شمار ظلم کیے، مگر آپ ﷺ نے صبر اور استقامت کا دامن نہ چھوڑا۔ شعب ابی طالب کا بائیکاٹ، طائف کی سنگ باری اور اپنے پیاروں کی جدائی کے باوجود آپ ﷺ نے دشمنوں کے لیے بھی ہدایت کی دعا فرمائی۔
آپ ﷺ کی ذاتِ اقدس معجزات کا عظیم سرچشمہ ہے۔ قرآنِ مجید آپ ﷺ کا سب سے بڑا اور دائمی معجزہ ہے۔ معراج کے عظیم سفر میں آپ ﷺ کو آسمانوں کی سیر کرائی گئی اور امت کو نماز کا تحفہ ملا۔ آپ ﷺ کی انگلیوں سے پانی جاری ہوا، تھوڑا کھانا آپ ﷺ کی برکت سے بہت سے لوگوں کے لیے کافی ہوا، چاند کے شق ہونے کا معجزہ ظاہر ہوا اور درختوں، پتھروں اور جانوروں نے بھی آپ ﷺ کی نبوت کی گواہی دی۔ یہ معجزات آپ ﷺ کی عظمت اور اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ شانِ نبوت کے روشن دلائل ہیں۔
مدینہ منورہ ہجرت کے بعد آپ ﷺ نے مسجد نبوی تعمیر کی، مہاجرین و انصار کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا اور میثاقِ مدینہ کے ذریعے ایک مثالی اسلامی معاشرہ قائم فرمایا۔ غزوۂ بدر، احد اور خندق میں آپ ﷺ نے عظیم سپہ سالار کی حیثیت سے قیادت فرمائی، جبکہ صلح حدیبیہ نے امن اور دعوتِ اسلام کے نئے راستے کھولے۔
فتح مکہ کے موقع پر آپ ﷺ کی شانِ رحمت اور عفو و درگزر اپنی انتہا پر نظر آتی ہے۔ برسوں تک ظلم کرنے والے دشمن آپ ﷺ کے سامنے بے بس کھڑے تھے، مگر آپ ﷺ نے انہیں معاف فرما دیا۔ سن 10 ہجری میں حجۃ الوداع کے موقع پر آپ ﷺ نے انسانی حقوق، عورتوں کے حقوق، مساوات، اخوت اور جان و مال کے احترام پر تاریخ ساز خطبہ ارشاد فرمایا۔
سن 11 ہجری میں آپ ﷺ اس دارِ فانی سے پردہ فرما گئے، مگر آپ ﷺ کی تعلیمات آج بھی زندہ اور قیامت تک آنے والی انسانیت کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ واقعی، نبی کریم ﷺ کی حیاتِ مبارکہ ایک کامل نمونۂ عمل ہے اور آپ ﷺ کی سیرت پر عمل ہی دنیا و آخرت کی حقیقی کامیابی کا راستہ ہے۔
اللّٰہم صل علیٰ محمد و علیٰ آل محمد و بارک