کراچی: سندھ ہائی کورٹ نے پیر کے روز میر رضا کے قتل کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن تشکیل دے دیا ہے۔
سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے جسٹس عمر سیال کو عدالتی کمیشن کا سربراہ مقرر کیا ہے۔ کمیشن میر رضا کے قتل کے حالات و واقعات، واقعے کے پس پردہ عوامل اور دیگر متعلقہ پہلوؤں کی تحقیقات کرے گا۔
یہ فیصلہ سندھ حکومت کی درخواست پر کیا گیا، جس کے بعد سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے کمیشن کی تشکیل اور اس کے سربراہ کی نامزدگی کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کیا۔
سندھ ہائی کورٹ ڈائریکٹوریٹ نے کمیشن کی تشکیل سے متعلق فیصلے سے سندھ محکمہ داخلہ کو بھی باضابطہ خط کے ذریعے آگاہ کر دیا ہے۔
اس سے قبل سندھ حکومت نے نوجوان کاروباری شخصیت میر رضا کے قتل کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن تشکیل دینے کی منظوری دی تھی۔
کمیشن کی تشکیل سے متعلق سمری سندھ کابینہ کے ارکان نے سرکولیشن کے ذریعے منظور کی تھی، جبکہ تحقیقات کے لیے ٹرمز آف ریفرنس (TORs) بھی منظور کیے گئے تھے۔
قتل کا مقدمہ فیروز آباد تھانے میں درج
میر رضا کے قتل کا اصل مقدمہ فیروز آباد پولیس اسٹیشن میں درج کیا گیا تھا۔
اب عدالتی کمیشن اس معاملے کی مزید تحقیقات کرے گا اور قتل کے حالات و واقعات کا جائزہ لے گا۔
کمیشن کے سربراہ جسٹس عمر سیال کی قیادت میں تحقیقات کے دوران متعلقہ فریقین اور دستیاب شواہد کا جائزہ لیے جانے کا امکان ہے۔
دوسری جانب مقتول میر رضا کے اہلخانہ نے عدالتی کمیشن کی تشکیل پر اعتراض کرتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر دی ہے۔
اہلخانہ نے اس سے قبل قتل کی تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (JIT) تشکیل دینے کا مطالبہ بھی کیا تھا۔
عدالت نے پیر کو درخواست کی سماعت کی اور تمام متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 31 اگست تک جواب جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔
میر رضا کے قتل کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن کی تشکیل کے ساتھ ہی معاملہ ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے، تاہم مقتول کے اہلخانہ کی جانب سے کمیشن پر اعتراض کے باعث قانونی کارروائی بھی جاری رہے گی۔
سندھ ہائی کورٹ اب فریقین کے جوابات اور مؤقف سننے کے بعد درخواست پر مزید کارروائی کرے گی۔


