(Publish from Houston Texas USA)
لاہور (محمد منصور ممتاز سے)
یکم مارچ سے 16 تا 18 سال کے نوجوانوں کو موٹر سائیکل کا لرنر ڈرائیونگ پرمٹ جاری ہوگا، ٹریفک حادثات میں کمی اور قانونی شعور بڑھانے کا اقدام
حکومتِ پنجاب نے 16 سے 18 سال عمر کے نوجوانوں کے لیے موٹر سائیکل چلانے کا لرنر ڈرائیونگ پرمٹ جاری کرنے کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے۔ نئے نظام کے تحت یکم مارچ سے صوبہ بھر میں اس فیصلے پر عملدرآمد شروع کر دیا جائے گا۔ ڈی آئی جی ٹریفک پنجاب وقاص نذیر کے مطابق اس اقدام کا بنیادی مقصد کم عمر موٹر سائیکل سواروں کو قانونی دائرے میں لانا اور ٹریفک حادثات کی شرح میں کمی لانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس فیصلے سے نوجوانوں کو باقاعدہ تربیت اور ذمہ داری کے ساتھ ڈرائیونگ کی طرف راغب کیا جائے گا۔
وقاص نذیر نے وضاحت کی کہ لرنر پرمٹ کے حصول کے لیے امیدوار کو سائن (نظری) ٹیسٹ پاس کرنا ہوگا، جبکہ والدین کی تحریری رضامندی لازمی قرار دی گئی ہے۔ اس مقصد کے لیے والدین کو ایک کنسنٹ فارم پر دستخط کرنا ہوں گے، جس میں وہ اپنے بچے کی ذمہ دارانہ ڈرائیونگ کی نگرانی کی یقین دہانی کرائیں گے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے خصوصی احکامات پر پرمٹ فیس انتہائی کم رکھتے ہوئے صرف 500 روپے مقرر کی گئی ہے، تاکہ زیادہ سے زیادہ نوجوان قانونی طریقہ کار کے تحت رجسٹر ہو سکیں۔
ڈی آئی جی ٹریفک کے مطابق یہ لرنر پرمٹ زیادہ سے زیادہ دو سال کے لیے مؤثر ہوگا۔ 18 سال کی عمر مکمل ہونے پر متعلقہ نوجوان کو باقاعدہ مستقل ڈرائیونگ لائسنس حاصل کرنا لازم ہوگا۔
والدین کا ردِعمل
لاہور کے رہائشی محمد عامر بٹ نے اس فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے بچوں کی ڈرائیونگ زیادہ محفوظ اور قانون کے مطابق ہو جائے گی۔ ان کا کہنا تھا،
اب ہم اطمینان کے ساتھ اپنے بچوں کو ذمہ داری کے تحت سڑک پر بھیج سکیں گے۔
17 سالہ طالبعلم حنظلہ بٹ نے بھی فیصلے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام نوجوانوں کے لیے بڑی سہولت ہے،
اب ہم قانونی طریقے سے موٹر سائیکل چلا سکیں گے اور جرمانوں یا دیگر قانونی پیچیدگیوں سے بھی بچ سکیں گے۔
حکومتِ پنجاب کے اس فیصلے کو سڑکوں پر نظم و ضبط کے قیام اور کم عمر ڈرائیورز کی باقاعدہ رجسٹریشن کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
مزید معلومات کے لیے براہ کرم ہماری قومی خبریں دیکھیں۔