(Publish from Houston Texas USA)
(میاں افتخار احمد)
فروری پانچ کو دنیا بھر میں یوم کشمیر منایا جاتا ہے یہ دن کشمیری عوام کے حق خودارادیت اور بھارتی قبضے کے خلاف مظالم کے خلاف اظہار یکجہتی کا دن ہے ۔یوم کشمیر نہ صرف پاکستانی عوام کے لیے قومی فریضہ ہے بلکہ عالمی انسانی حقوق کے تحفظ کا بھی اہم لمحہ ہے مقبوضہ کشمیر میں پاکستان نواز اور آزادی پسند کشمیری ہر دن انسانی حقوق کی پامالی، تشدد اور جبر کے مظاہرے کا سامنا کر رہے ہیں۔ رپورٹیں بشمول ہیومن رائٹس واچ اور ایمنیسٹی انٹرنیشنل کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں جبری گمشدگی، قتل، غیر قانونی گرفتاریوں، آزادی اظہار رائے کی پابندیوں اور عوام کی نقل و حرکت پر شدید پابندیاں عام ہیں ۔ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں آبادی کا تناسب بدلنے کے لیے اقدامات کیے ہیں جن میں مسلم اکثریتی علاقوں میں بے دخلی، زمین کی ضبطی اور نئے آبادکار منصوبے شامل ہیں یہ اقدامات کشمیری عوام کی ثقافت اور سماجی شناخت کو نقصان پہنچانے کے لیے ہیں یوم کشمیر کا مقصد عالمی توجہ حاصل کرنا اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کے حق خودارادیت کو تسلیم کروانا ہے۔پاکستان بھر میں ہر سال یوم کشمیر کے موقع پر ریلیاں، سیمینارز اور تعلیمی پروگرام منعقد کیے جاتے ہیں تاکہ نوجوان نسل کو کشمیری عوام کی قربانیوں اور جدوجہد سے روشناس کرایا جا سکے اسکول، کالج اور یونیورسٹیز میں لیکچرز اور مباحثے ہوتے ہیں تاکہ نوجوان کشمیری مسائل کی تاریخی اور موجودہ حقیقتوں کو سمجھیں میڈیا اس دن خصوصی پروگرامز، ڈاکومنٹریز اور انٹرویوز نشر کرتا ہے تاکہ کشمیری عوام کے حالات کو اجاگر کیا جا سکے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز بھی عالمی سطح پر کشمیری عوام کی آواز پہنچانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔کشمیر کے تاریخی پس منظر کو سمجھنا ضروری ہے 1947 میں برصغیر کی تقسیم کے بعد ریاست جموں و کشمیر کا معاملہ متنازعہ رہا کشمیری عوام کی اکثریت مسلم تھی مگر ریاست کا الحاق بھارت سے کیا گیا اقوام متحدہ نے کشمیری عوام کے حق خودارادیت کے لیے ریفرنڈم کروانے کا مطالبہ کیا مگر یہ آج تک عملی جامہ نہ پہن سکا بھارت اور پاکستان کے درمیان متعدد جنگیں ہوئیں اور انسانی حقوق کی پامالی مسلسل جاری رہی یوم کشمیر اس تاریخی اور موجودہ صورتحال پر عالمی برادری کی توجہ مرکوز کرنے کا ذریعہ ہے۔فوجی موجودگی کا کشمیری عوام پر براہ راست اثر بھی اہم ہے ۔مقبوضہ کشمیر میں پانچ لاکھ سے زائد بھارتی فوجی تعینات ہیں جس کی وجہ سے عام زندگی خوف اور پابندیوں میں محدود ہو گئی ہے ۔احتجاج کے دوران پیلٹ گنز کا استعمال، طاقت کے ناجائز استعمال اور نوجوانوں کے خلاف کارروائیاں معمول بن چکی ہیں نتیجتاً معذوری، زخم اور نفسیاتی صدمات عام ہیں خواتین کو ہراساں کیا جاتا ہے جنسی تشدد اور خاندانی نقصان کے واقعات بڑھ گئے ہیں بچوں کو تعلیمی مواقع سے محروم رکھا جاتا ہے کیونکہ سکول کالج اور یونیورسٹیز اکثر بند رہتے ہیں عالمی برادری سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ یہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی بین الاقوامی قوانین کے تحت قابل سزا ہے۔یوم کشمیر صرف سیاسی جدوجہد کا دن نہیں بلکہ کشمیری ثقافت اور سماجی شناخت کے تحفظ کا بھی دن ہے ۔بھارتی حکام نے کشمیری شناخت کو ختم کرنے کی کوششیں کیں مذہبی مقامات تاریخی یادگاریں اور ثقافتی مراکز متاثر ہوئے مگر کشمیری عوام نے اپنی زبان، ثقافت اور مذہبی آزادی کو برقرار رکھا آزادی کی جدوجہد صرف سیاسی نہیں بلکہ ثقافتی اور شناختی حقوق کے لیے بھی ہے۔سیاسی سطح پر یوم کشمیر پاکستان کے عالمی موقف کی عکاسی بھی کرتا ہے ۔ پاکستان نے مسلسل اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی فورمز پر مسئلہ کشمیر اٹھایا انسانی حقوق کی پامالی کی نشاندہی کی اور قراردادوں پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا پاکستان کی سفارتی کوششوں کا مقصد عالمی برادری کو یاد دلانا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے بغیر جنوبی ایشیا میں پائیدار امن ممکن نہیں کشمیری عوام کے حقوق کی ضمانت بین الاقوامی سطح پر ضروری ہے۔معاشی لحاظ سے بھی کشمیری عوام متاثر ہیں مسلسل عسکریت پسندی، پابندیوں اور ناکامیوں کی وجہ سے روزگار، تجارت اور مقامی صنعتیں متاثر ہوئی ہیں سیاحت جو کبھی معیشت کا اہم حصہ تھی شدید متاثر ہوئی ہے یوم کشمیر عالمی سطح پر یہ پیغام دیتا ہے کہ کشمیری عوام کا انسانی اور اقتصادی نقصان کئی نسلوں تک اثر انداز ہو رہا ہے۔جغرافیائی اور اسٹریٹجک تناظر میں کشمیر جنوبی ایشیا میں اہم ہے یہ خطہ پاکستان اور چین سے متصل ہے اور دریائے سندھ کے وسائل کا اہم حصہ ہے کشمیر تنازعہ نہ صرف دو ممالک بلکہ عالمی سلامتی، پانی کی تقسیم اور خطے کے استحکام کے لیے بھی اہم ہے یوم کشمیر اسٹریٹجک پہلوؤں پر روشنی ڈالتا ہے اور عالمی برادری کو امن کے قیام کے لیے مذاکرات اور بین الاقوامی قوانین پر عمل درآمد کی ضرورت یاد دلاتا ہے۔یوم کشمیر عالمی وکلاء، انسانی حقوق کے کارکنان، میڈیا اور سول سوسائٹی کے لیے بھی ایک پلیٹ فارم ہے یہ دن عالمی فورمز اور میڈیا پر کشمیری عوام کے جائز مطالبات اجاگر کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے اس دن ہر ریلی، سیمینار اور تقریر کشمیری عوام کی قربانیوں کا اعتراف اور ان کے حق خودارادیت کے لیے عالمی توجہ حاصل کرنے کی کوشش ہے یہ دن عملی اقدامات اور بین الاقوامی دباؤ کے لیے بھی اہم ہے۔نوجوانوں میں شعور پیدا کرنا بھی یوم کشمیر کا مقصد ہے نوجوان پاکستانی کشمیری تاریخ، قربانیوں اور مزاحمت کو سمجھ کر انسانی حقوق، بین الاقوامی قانون اور سفارت کاری کی اہمیت جانتے ہیں یہ دن سکھاتا ہے کہ ظلم کے خلاف کھڑا ہونا ہر انسان کی اخلاقی ذمہ داری ہے۔یوم کشمیر میں سول سوسائٹی کا کردار بھی اجاگر ہوتا ہے انسانی ہمدردی کی تنظیمیں امداد فراہم کرتی ہیں، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو دستاویزی شکل دیتی ہیں اور عالمی شعور اجاگر کرتی ہیں میڈیا اور تحقیقی ادارے درست معلومات پہنچاتے ہیں تاکہ کشمیری نریشن عالمی سطح پر مستند اور مؤثر رہے یہ دن صرف علامتی نہیں بلکہ مستقل مہم کا حصہ ہے تاکہ کشمیری عوام کے حقوق کی حمایت اور انصاف حاصل کیا جا سکے۔آخر میں یوم کشمیر صرف سالانہ مشاہدہ نہیں بلکہ پاکستان کی قومی ضمیر، عالمی انصاف کی تحریک اور کشمیری عوام کی مزاحمت کا مظہر ہے یہ دن تاریخی آگاہی، اخلاقی ذمہ داری، سیاسی و سفارتی کوششیں، معاشی اور اسٹریٹجک جائزہ اور عالمی تعاون کا مجموعہ ہے ۔یوم کشمیر یاد دلاتا ہے کہ آزادی، شناخت اور انسانی وقار غیر قابل معاوضہ حقوق ہیں مظلوم عوام کی قربانیاں تسلیم کی جائیں اور بین الاقوامی سطح پر مسلسل دباؤ برقرار رکھا جائے۔ پاکستان کے عوام کے لیے یہ دن یکجہتی، حب الوطنی اور اخلاقی ذمہ داری کی یاد دہانی ہے کشمیری عوام کی حمایت تعلیم، وکالت اور سفارت کاری کے ذریعے کی جانی چاہیے یوم کشمیر یہ پیغام دیتا ہے کہ ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا، قربانی دینا اور مظلوم کے ساتھ کھڑا ہونا ہر انسان کا اخلاقی اور انسانی فرض ہے۔ فروری پانچ ہر پاکستانی کے لیے یادگار ہے کیونکہ یہ دن ہمیں کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی، انسانی حقوق کے تحفظ اور عالمی سطح پر انصاف کے لیے مسلسل کام کرنے کی یاد دلاتا ہے اور یہ یقینی بناتا ہے کہ کشمیری عوام کی قربانیاں اور جدوجہد کبھی نظر انداز نہ ہوں۔
مزید پڑھنے کے لیے براہ کرم ہمارے مضامین دیکھیں۔
