writer 0

وقت کے دو کناروں پر کھڑی نسل — ہم جنریشن ایکس

(Publish from Houston Texas USA)

(میاں افتخار احمد)

یادوں کی خوشبو سے ڈیجیٹل روشنی تک — چالیس سے پچاس برس کی نسل کا سفر

“ہم وہ نسل ہیں جس کے ہاتھ میں وقت کے دونوں کنارے ہیں — ایک پر ماضی کی خوشبو بسی ہے، دوسرے پر حال کی تیز روشنی۔ ہم نہ پچھلا دور بھول پائے ہیں، نہ نئے زمانے سے نظریں چرا پائے ہیں”۔ ہم وہ نسل ہیں جنہیں وقت نے دو کناروں کے درمیان لا کھڑا کیا ہے، جہاں ایک طرف یادوں کی نرم خوشبو ہے اور دوسری طرف نئی دنیا کی تیز روشنی۔ ہم وہ لوگ ہیں جو ماضی کے رنگوں سے بھی مانوس ہیں اور حال کے تیز بدلتے مناظر سے بھی۔ چالیس سے پچاس سال کی یہ عمر دراصل دو زمانوں کا سنگم ہے، ایک ایسا پل جہاں پیچھے مڑ کر دیکھیں تو بچپن کی معصومیت اور جوانی کی شوخی نظر آتی ہے، آگے دیکھیں تو نئے دور کی برق رفتاری، مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل شور اور بدلتے معیارِ زندگی کا ہجوم۔ ہم نے وہ وقت دیکھا جب خط کا انتظار دلوں کی دھڑکنوں کو تیز کر دیتا تھا اور ہم نے یہ زمانہ بھی جیا جب ایک واٹس ایپ میسج میں اظہارِ محبت اور جدائی کا فیصلہ لکھ دیا جاتا ہے۔ ہم وہ لوگ ہیں جو انسپکٹر جمشید کے کردار سے انصاف کا سبق سیکھتے تھے، علی عمران کی شوخیوں پر مسکراتے تھے، امبر ناگ ماریا کے فسانوں میں کھو جاتے تھے، دیوتا کے نادر شاہ عابد کے ساتھ روح کی گہرائیوں تک کے سفر کرتے تھے، نک ویلوٹ کی چوریوں پر حیران اور عمرو عیار کی زنبیل کے جادو پر ایمان رکھتے تھے۔ وہ زمانہ جب سب رنگ ڈائجسٹ، کرن، شکریہ، اور سسپنس ڈائجسٹ ہاتھ سے ہاتھ گھومتے تھے، جب ڈائجسٹ پڑھنے والی خواتین اپنے تخیلاتی جہاں میں اتنی گم ہو جاتیں کہ گھر کی گھنٹی بجنے پر بھی چونک جاتیں۔ ہم وہ لوگ ہیں جنہوں نے کتابوں کی خوشبو سے محبت کی، جن کے لیے لائبریری عبادت گاہ تھی، اور قلم کی سیاہی خوابوں کا رنگ۔ ہم نے ٹیپ ریکارڈر کے بٹنوں سے دنیا بدلی دیکھی، جب ایک نازیہ حسن کا گیت “ڈسکو دیوانے” دلوں میں بجلیاں گرا دیتا تھا، جب زوہیب حسن کے “آنچا ہوا” پر جوانی مسکراتی تھی، جب جنید جمشید کے “دل دل پاکستان” نے محبت کا مفہوم بدل دیا۔ ہم نے مرینہ خان اور راحت کاظمی کو دھوپ کنارے اور تنہائیاں میں محبت کی علامت کے طور پر دیکھا، نیلَم گھر کے طارق عزیز کی آواز کو اپنے بچپن کی شاموں میں گونجتا سنا، اور عینک والا جن کے نِکُو جادوگر سے لے کر زکوٹا جن تک، سب ہمارے دوست تھے۔ ہم نے شیزان کی دو روپے والی بوتل کو عیش سمجھا، ٹھنڈی ہوا میں لچکدار غبارے خریدے، رنگین چوڑیاں پہنی، اور اتوار کے دن ناشتہ کر کے اخبار کے بچوں کے صفحے میں اپنی تحریر شائع ہونے کا انتظار کیا۔ وہ وقت جب دوستی کا مطلب محفل، ملاقات اور آنکھوں کا اعتماد تھا، جب ایک دوست کا دروازہ کھٹکھٹانے میں جو خوشی ملتی تھی وہ آج ہزار میسجوں میں بھی نہیں ملتی۔ ہم نے نوکیا 3310 کے Snake گیم سے آغاز کیا اور اب ہاتھوں میں اسمارٹ فونز کے ذریعے دنیا سمیٹ رکھی ہے۔ ہم نے ڈائل اپ انٹرنیٹ کے شور کے ساتھ آن لائن جانا سیکھا، جب “کنکشن ایستابلش” ہونا خوشی کی خبر ہوتا تھا، جب ایک ای میل لکھنا کسی کارنامے سے کم نہ تھا، جب سی ڈی برن کرنا سائنسی مہارت سمجھا جاتا تھا۔ ہم نے وہ وقت دیکھا جب بجلی جانے پر موم بتیوں کی روشنی میں کہانیاں سنائی جاتیں، اور وہ بھی جب بجلی آ جانے پر یوٹیوب کھلنے کی رفتار دل کی دھڑکن سے تیز ہو گئی۔ ہم نے پی ٹی وی کی سیاہ و سفید دنیا سے رنگین خوابوں تک کا سفر کیا، جب دھوپ کنارے، تنہائیاں، آغوش، آنچ، فہمیدہ کی کہانی، اور سمیعہ ممتاز کے ڈرامے جذبات کے آئینے تھے۔ ہم نے نیلم گھر کے تحفے کے خواب دیکھے، اور “کہیں دیپ جلے کہیں دل” سن کر دل کے دیپ جلائے۔ ہم نے اپنے والدین کے ریڈیو پر نغمے سنے، امی کی سلائی مشین کی آواز کے ساتھ بیتے لمحے جمع کیے، اور نانا کے ہاتھ میں اخبار کی سرسراہٹ میں صبحوں کی پہچان پائی۔ پھر آہستہ آہستہ ہم نے خود کو ایک نئے زمانے کے دہانے پر پایا، جہاں سب کچھ تیز ہے، مصنوعی ہے، مگر کسی نہ کسی زاویے سے خوبصورت بھی۔ ہم نے کمپیوٹر کا پہلا “Start” بٹن دبایا، انٹرنیٹ کیفے میں پہلی بار Yahoo میل چیک کی، اور MSN Messenger پر پہلی “Hi” لکھتے وقت دل کی دھڑکن سنائی دیتی تھی۔ اب یہی نسل اپنے بچوں کے ساتھ Netflix پر نئے شوز دیکھتی ہے، Spotify پر گانے سنتی ہے، TikTok کے شور میں کبھی لطف اندوز ہوتی ہے تو کبھی ہچکچاتی ہے، مگر وقت کے بہاؤ سے باہر نہیں نکلتی۔

روایت اور جدت کے بیچ، یاد اور تجربے کے سنگم پر جینے والی نسل کی کہانی

ہم وہ نسل ہیں جو ایک ہاتھ سے ماضی کے لمس کو تھامے ہوئے ہے اور دوسرے ہاتھ سے مستقبل کی رفتار کو محسوس کر رہی ہے۔ ہمارے اندر پرانے زمانے کا سکون بھی ہے اور آج کے وقت کا اضطراب بھی۔ ہم ابھی تک چائے کے کپ کے ساتھ گفتگو کا لطف جانتے ہیں، ہم اب بھی دوستوں کے قہقہوں کو آوازوں سے پہچانتے ہیں، ہمیں اب بھی خوشبوؤں میں یادیں آتی ہیں، اور ہم ابھی تک اس یقین کے ساتھ جیتے ہیں کہ زندگی صرف اسکرین پر نہیں، دل میں بھی ہوتی ہے۔ ہم نے وقت کو گزرتے نہیں دیکھا، ہم نے وقت کو بدلتے دیکھا ہے۔ ہم نے چاک بورڈ سے پاور پوائنٹ تک کا فاصلہ طے کیا، قلم سے کی بورڈ تک، محبت کے خطوط سے ایموجیز تک، کاغذی تصویروں سے ڈیجیٹل یادوں تک۔ لیکن ہماری روح ابھی بھی اُس ماضی سے بندھی ہوئی ہے جہاں ایک سلام میں اخلاص تھا، ایک وعدے میں وزن تھا، اور ایک ملاقات میں محبت۔ اب ہمارے چہروں پر چند لکیریں ضرور ہیں مگر وہ زندگی کے نشان ہیں، شکست کے نہیں۔ ہم نے ماضی کے رنگوں سے روشنی حاصل کی اور حال کی چکاچوند میں اپنی پہچان قائم رکھی۔ ہم جانتے ہیں کہ ہم وہ نسل ہیں جو نہ پرانی ہوئی نہ نئی، بلکہ ایک پُل ہے — روایت اور جدت کے درمیان۔ ہم اپنے بچوں کو بتاتے ہیں کہ کبھی محبت کی کوئی ایپ نہیں تھی، کبھی دوستی کا کوئی فالو بٹن نہیں ہوتا تھا، کبھی “آن لائن” ہونے کا مطلب ایک دوسرے کے دلوں میں ہونا تھا۔ ہم وہ لوگ ہیں جو اب بھی پرانے گانوں میں سکون ڈھونڈتے ہیں اور نئے زمانے کے شور میں خود کو سنبھالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہم وہ لوگ ہیں جنہوں نے سادہ زندگی کے حسن کو بھی دیکھا اور ڈیجیٹل زندگی کے بوجھ کو بھی محسوس کیا۔ ہم جانتے ہیں کہ ماضی بھولا نہیں جا سکتا کیونکہ وہ ہماری بنیاد ہے، اور حال کو چھوڑا نہیں جا سکتا کیونکہ وہ ہماری پہچان ہے۔ ہم ہیں جنریشن ایکس — وہ نسل جو وقت کے دو کناروں پر کھڑی ہے مگر کسی ایک سے منہ موڑنے کو تیار نہیں۔ ہم وہ ہیں جو ریوائنڈ بھی کر سکتے ہیں اور لائیو بھی جا سکتے ہیں۔ ہم وہ ہیں جو سمجھتے ہیں کہ عمر کا تعلق سالوں سے نہیں، احساسات سے ہے۔ ہم وہ لوگ ہیں جو اب بھی نئی صبحوں کا انتظار کرتے ہیں، پرانی شاموں کو یاد رکھتے ہیں، اور یہ یقین رکھتے ہیں کہ جوانی محض جسم کی نہیں، دل کی حالت ہے۔ ہم نے وقت کو تھاما ہے، وقت نے ہمیں نہیں۔ اس لیے ہم زندہ ہیں، روشن ہیں، اور اپنی کہانی خود لکھ رہے ہیں۔ ہم وہ نسل ہیں جس کے پاس ماضی کی کہانیاں ہیں، حال کے تجربے ہیں، اور مستقبل کے خواب — اور یہ تینوں ہمیں مکمل بناتے ہیں۔ ہم جنریشن ایکس ہیں، اور ہمیں کسی کی “عمر رسیدگی” کی تعریف سے کوئی فرق نہیں پڑتا، کیونکہ ہم نے زندگی کو اس کی اصل شکل میں جیا ہے — بھرپور، باشعور، اور بے مثال۔

مزید پڑھنے کے لیے براہ کرم ہمارے مضامین دیکھیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں