(Publish from Houston Texas USA)
(امیر محمد خان)
کراچی کی گزشتہ سترہ سال سے اوپن ہارٹ سرجری چل رہی ہے، گڑھے، کھدی سڑ کیں، سندھ میں سترہ سالہ دور اقتدار کو منہ چڑاتی ہیں پرانی بوسیدہ عمارتیں جنکی نہ ہی کوئی پلاننگ ہے اور نہ ہی بلڈنگ کنڑول والو ں کی یہ توفیق کے پہلے تعمیر عماررتوں میں کوئی احتیاطی طریقہ کااستعمال ہوا ہے، کئی عمارت کو کوئی حصہ گرنے یا پوری عمارت گرنے سے کوئی قیمتی جان بچ سکے گی ایسا بد قسمتی سے کچھ نہیں۔ سالوں سے عمارتیں زمین بوس ہورہی ہیں، لوگ اپنے پیاروں کی جانوں سے ہاتھ دھورہے ہیں۔ لوگوں کی جانیں ضائع ہوتی ہیں کاروبار جل جاتے ہیں اسکے بعد سندھ بلڈنگ اتھارٹی میدان میں کودتی ہے، وزیر اعلی رپورٹ طلب کرتے ہیں، کوتاہیوں پر آنسو بہائے جاتے ہیں دس دن کا شور پر کسی اور عمارت میں آتش زنی کا واقع، عمارت گرنے کا سانحہ رونماء ہوتا ہے متعلقہ ادارے حکومتی خرچ پر عیاشی کرتے ہوئے رپورٹیں بناتے ہیں، مگر اسکا ہوتا کیا ہے، صرف صاحب اقتدار لوگوں کی جانب سے افسوس کا اظہار، کبھی نہ کوئی ذمہ دار کو سزا، نہ ہی کوتاہی کرنے والے سے سوال جواب حکومتی سطح پر اظہارِ افسوس، نوٹس اور امدادی اقدامات اپنی جگہ، مگر اصل سوال یہ ہے کہ ایسے سانحات بار بار کیوں جنم لیتے ہیں؟گل پلازہ کا حالیہ واقع جس کے متعلق کہا جارہا ہے کہ تاحال 26 جانوں کے ضائع ہونے کی رپورٹ ہے اور نہ جانے کتنے اس ملبے میں تاحال زندہ دفن ہیں شائد اللہ تعالی کسی کو زندگی دے دے۔ گل پلازہ کا واقعہ کسی ایک عمارت یا صرف کراچی تک محدود نہیں۔ لاہور، اسلام آباد، راولپنڈی، کوئٹہ اور ملتان جیسے بڑے شہروں میں بھی اس نوعیت کے واقعات بارہا پیش آ چکے ہیں۔ کہیں مارکیٹیں آگ کی لپیٹ میں آتی ہیں، کہیں فیکٹریاں جلتی ہیں اور کہیں رہائشی عمارتیں حادثات کا شکار ہو جاتی ہیں۔ ہر بار چند دن شور مچتا ہے، تحقیقات کے اعلانات ہوتے ہیں اور پھر معاملہ وقت کی گرد میں دب جاتا ہے۔ بنیادی مسئلہ وہی رہتا ہے: ناقص منصوبہ بندی، ایس او پیز کی کھلی خلاف ورزی، فائر سیفٹی انتظامات کی عدم موجودگی اور متعلقہ اداروں کی کمزور نگرانی۔عمارتوں کی تعمیر کے دوران حفاظتی اصولوں کو نظر انداز کرنا، فائر ایگزٹس کا فقدان، پانی اور فائر فائٹنگ نظام کی عدم دستیابی اور ذمہ دار اداروں کی غیر سنجیدگی ایسے عوامل ہیں جو کسی بھی لمحے بڑے سانحے کا سبب بن سکتے ہیں۔ گنجان آباد شہری علاقوں میں یہ خطرہ مزید بڑھ جاتا ہے، جہاں آگ پر بروقت قابو پانا مشکل اور جانی نقصان کا خدشہ کہیں زیادہ ہوتا ہے۔ یہ محض حادثات نہیں بلکہ ایک انتظامی ناکامی کی واضح علامت ہیں۔وزیر اعلی سندھ نے ایک مرتبہ کہہ دیا کہ اگر انکوائری میں تخریب کاری کے شواہد ملے تو اس پر ایکشن ہوگا، انکوائری میں اصل توجہ اپنی غلطیوں کو ٹھیک کرنے پر ہو گی، اگر ضرورت پڑی تو انکوائری کے لیے جوڈیشل کمیشن بھی بنائیں گے۔مسئلہ یہ ہے کہ تخریب کاری ہوتی کیا ہے میرے نزدیک معاملات کو حل نہ کرنا اپنی ذمہ داری پر توجہ نہ دینا جس بناء پر قیمتی جانیں ضائع ہوتی ہیں، کروڑوں کی املاک ایک علیحدہ مسئلہ ہے نہ جانے عمارتوں کے مکیں کتنے سالوں کی محنت سے سرمایہ جمع کرکے کاروبار شروع کرتے ہیں، فلیٹس خریدتے ہیں اور چشم ذن میں یا تو جان گواں بیٹھتے ہیں یا خالی ہاتھ ہوکر سڑک پا آبیٹھتے ہیں جسکا کسی حکومت کو ادراک نہیں کہ انکی زندگی بھر کی پونجی ان نااہل اور رشوت خور اداروں کی وجہ سے صفر ہوگئی ہے اسکا کون ذمہ دار ہے ؟؟ وزیر اعلی کا فرمان آگیا کہ گل پلازا میں دکانداروں کے نقصانات پورے کرنے کے لیے اقدامات کریں گے(شائد پہلے کبھی ایسا ہوا ہو جو اب ہو جائے گا ) انہوں نے یہ بھی فرمایہ کہ انہوں نے کہا کہ جب ایسے واقعات ہوتے ہیں
تو ہر کوئی اپنی ماہرانہ رائے دینا شروع کر دیتا ہے، ایسے واقعات کی صورت میں جس کا جو کام ہے اسے کرنے دیں، اس کے لیے رسائی مشکل نہ بنائیں۔وزیر اعلی صاحب مسئلہ جنم جب ہی لیتا ہے جب جسکی ذمہ داری ہے اس نے اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کی ہوتیں۔انہوں نے متعلقہ اداروں کی بے ایمانیاں چھپانے کیلئے نقصان سہنے والوں کودبی زبان سے یہ بھی کہہ دیا دکانداروں کی بھی ذمے داری ہوتی ہے، لیکن اس وقت یہ باتیں ٹھیک نہیں۔ ہم سب کو اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے، میں لوگوں کے سامنے جوابدہ ہوں۔یہ سراسر معاملات سے عدم دلچسپی کا اظہار ہے ْٓڑﷺگل پلازا میں جاں بحق افراد کے لواحقین کو ایک کروڑ روپے دینے کا اعلانمراد علی شاہ نے سانحہ گل پلازا میں جاں بحق افراد کے لواحقین کو ایک کروڑ روپے دینے کا اعلان کر داؑٓ ْْْْْٓٓٓٓٓﷺذٰٓڑ وزیر اعلی نے قارون کے خزانے کا منہ کھول دیا ہے انہوں نے کہا ہے کہ متاثرین کو ایک کروڑ روپیہ حکومت ادا کرے گی، (شائد اس سے مرنے والے زندہ ہوجائینگے ) وزیر اعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ 2024 میں 145 عمارتوں کا فائر آڈٹ ہوا تھا۔ فائر سیفٹی آڈٹ 2024 میں کیا تھا اس پر فوراً کام کریں، یہ بات درست ہے کہ کراچی کی کئی عمارتوں میں سیفٹی مسائل ہیں۔انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ ان مسائل کے باوجود بھی کیوں ان عمارتوں کے رہایشیوں کو اس سے آگاہ نہیں کیا گیا ان کا کہنا تھا کہ کئی جگہ غلطی صرف حکومت کی نہیں ہوتی، دکانداروں کی بھی ذمہ داری ہوتی ہے، دکاندار اس وقت تکلیف میں ہیں، ان کو مورد الزام ٹھہرانا نہیں چاہتا، جو ادارے خود کو احتساب سے بالاتر سمجھتے ہیں، وہ بھی اپنے گریبان میں جھانکیں۔انہوں نے کہا کہ صورت حال کا تقاضا ہے کہ انتشار پھیلانے سے گریز کیا جائے، میں کسی کا نام نہیں لوں گا کہ انہیں کیا کرنا چاہیے تھا، بس یہی کہوں گا کہ میری غلطی ہے، دنیا بھر میں ایسے واقعات ہوتے ہیں، ہمیں اپنی بہتری کے لیے کام کرنا ہے۔
وزیر اعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ آگ بجھانے کی بات کریں، مزید آگ لگانے کی بات نہ کریں، میرا قائد حزب اختلاف سے کوئی مقابلہ نہیں، ان کا تو کام ہی یہی ہے، میں ان کو جوابدہ ضرور ہوں، اصل میں جعلی کون ہے یہ دنیا جانتی ہے۔ساتھ ہی ہمیشہ کی طرح تمام ادارے، عدالتیں، حکومتی عہدیدار سب نے وہ ہی فرسودی ریکارڈڈ بیانات،اگر ماضی میں کسی اور کی حکومت یا انتظامات کرنے والی بلدیہ کے زمانے میں ایسا ہی کوئی حادثہ ہوا ہے تو گل پلازہ کے سانحہ پر اپنے مجرمانہ غفلت پرپردہ ڈالتے ہوئے ماضی کے حادثات پر تنقید پر وقت ضائع کررہے ہیں اور بیانات پھر وہی ہیں ہمیشہ کی طرح کہ ”اب یہ ہوگا، اب یہ ہوگا، ادارے خیال رکھیں وغیرہ وغیرہ یعنی وہ بے معنی بیانات پھر کل بھول جانا اور اگلے حادثہ کے انتظار(خدانخواستہ)۔دراصل حفاظتی اصولوں کے معروف اصول جو ہر ملک اپنی املاک، اور انسانی جانوں کے نقصانات کو بچانے کیلئے اقدامات کرتا ہے جو ہمارے ہاں نہیں ہیں صرف بیان بازی ہے کراچی میں تقریباً 80٪ عمارتوں میں بنیادی فائر سیفٹی سسٹم (جیسے سپرنکلرز، فائر الارم، ایمرجنسی ایگزٹ) نہیں ہے۔فائر بریگیڈ کی کمی اور پرانی مشینری)شہر کے بڑے علاقے، صنعتی زون، اور رہائشی علاقے اکثر فائر ٹینڈرز کی کم دستیابی کی وجہ سے دیر سے پہنچتے ہیں۔بہت سی عمارتیں قانونی اجازت ناموں کے بغیر بن جاتی ہیں یا غیر معیاری مٹیریل سے تعمیر ہوتی ہیں، جس سے آگ پھیلنے کا خطرہ بڑھتا ہے۔صنعتی علاقے اکثر رہائشی علاقوں کے قریب ہوتے ہیں، جس سے چھوٹے واقعات بھی بڑے حادثات میں بدل جاتے ہیں۔پاکستان میں فائر سیفٹی کے قوانین موجود ہیں، جیسے:ہر عمارت میں فائر الارم اور ایمرجنسی ایگزٹ ہونا،فیکٹریوں اور شاپنگ مالز میں باقاعدہ فائر ڈرل کرنا،مگر یہ سب کاغذات اور فائیلوں میں عملی جامعہ کہیں نہیں، معائینے ہوتے ہیں مگر خطیر رقم کے عوض بقول ریاض ملک فائیلوں پر پہئے لگ جاتے ہیں عمارت غیر محفوظ ہوتی ہے مگر فائلیوں میں محفوظ ہوتی ہے آگ لگنے پر ابتدائی قابو پانے کے لیے فائر ایکسٹینگشر یا پانی کے ذخائر اکثر دستیاب نہیں ہوتے۔ذمہ داران کا یہ بھی کہنا درست ہے کہ اس کام اور انسانی جانوں کو تحفظ دینے کیلئے وسائل اور بجٹ مناسب نہیں، اگر جئے بھٖٹو والے کچھ نظر کرم کریں تو موجودہ فائر اسٹیشنز کی تعداد بڑھائی جائے، خاص طور پر صنعتی زونز اور گھنی آبادی والے علاقوں میں۔ہر اسٹیشن میں جدید فائر ٹینڈرز، ایمرجنسی گاڑیاں، اور اسپیشل آلات جیسے ہائی پریشر واٹر پمپ، ریسکیو کرینز وغیرہ رکھے جائیں۔ ہر نئی اور موجودہ عمارت میں فائر الارم، اسپرنکلرز، ایمرجنسی ایگزٹ اور فائر ایکسٹینگشر لازمی کیے جائیں۔ فائر سیفٹی اور ریسکیو کے لیے جو فنڈز مختص کیے جاتے ہیں، ان میں اکثر کرپشن یا غیر مؤثر استعمال کی رپورٹس سامنے آتی ہیں۔اس کے نتیجے میں نئے فائر اسٹیشنز یا جدید آلات نہیں آ پاتے۔
