(Publish from Houston Texas USA)
(محمد منصور ممتاز لاہور سے)
فارمیسی پریکٹس کے یکساں قومی معیارات ناگزیر ہیں؛سابق پریس سیکرٹری پاکستان فارماسسٹ ایسوسی ایشن پنجاب
پاکستان فارماسسٹ ایسوسی ایشن پنجاب کے سابق پریس سیکریٹری ڈاکٹر شبیر آر پی ایچ نے کہا ہے کہ فارمیسی ٹیکنیشنز یا دستیاب فارماسسٹ (کیٹیگری-بی) کے ذریعے میڈیکل اسٹور کھولنے یا اس کی نگرانی سے متعلق تشہیر سراسر غیر قانونی، گمراہ کن اور عوامی صحت کے لیے خطرناک ہے۔
انہوں نے یہ بات سندھ فارمیسی کونسل کی جانب سے 16 جنوری 2026 کو جاری کردہ باضابطہ نوٹیفیکیشن (شمارہ PCS-010/2026) کے حوالے سے کہی، جس میں واضح طور پر خبردار کیا گیا ہے کہ کیٹیگری-بی کے بارے میں ایسے کسی بھی دعوے کا قانون سے کوئی تعلق نہیں۔ نوٹیفیکیشن کے مطابق قانوناً صرف رجسٹرڈ کیٹیگری-اے فارماسسٹ ہی میڈیکل اسٹور یا فارمیسی چلانے اور اس کی نگرانی کے اہل اور مجاز ہیں۔
ڈاکٹر شبیر آر پی ایچ نے کہا کہ سندھ فارمیسی کونسل کی یہ وضاحت فارمیسی قوانین اور عالمی معیار کے عین مطابق ہے اور اس سے ملک بھر میں گمراہ کن تشہیر کے سدباب میں مدد ملے گی۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ پنجاب میں متعدد کیٹیگری-بی فارمیسی ٹیکنیشن ادارے رکشوں، دیواری چاکنگ، بینرز اور اخباری اشتہارات کے ذریعے یہ پیغام دے رہے ہیں کہ “کیٹیگری-بی حاصل کریں اور اپنا میڈیکل اسٹور کھولیں”، جو نوجوانوں اور عوام کو دانستہ طور پر گمراہ کرنے کے مترادف ہے۔
ڈاکٹر شبیر آر پی ایچ نے خبردار کیا کہ یہ غیر ذمہ دارانہ تشہیری مہم بالآخر شیڈول-جی ادویات، نشہ آور دواؤں، اینٹی بایوٹکس اور انجیکشنز کی غیر قانونی فروخت کا سبب بنتی ہے، حالانکہ پنجاب ڈرگ رولز 2007 کے تحت میڈیکل اسٹورز کو ایسی ادویات فروخت کرنے کی اجازت نہیں۔
ان کے مطابق ان غیر قانونی سرگرمیوں کے نتیجے میں عوامی صحت کو سنگین خطرات لاحق ہو چکے ہیں، جن میں اینٹی بایوٹک ریزسٹنس، منشیات کا پھیلاؤ اور غیر محفوظ انجیکشنز شامل ہیں۔
ڈاکٹر شبیر آر پی ایچ نے یہ حقیقت بھی تسلیم کی کہ میڈیکل اسٹورز اور فارماسسٹوں کی تعداد میں عدم توازن موجود ہے، کیونکہ بہت سے فارمیسی گریجویٹس بہتر مواقع کی تلاش میں ریٹیل فارمیسی کے شعبے میں آنے سے گریز کرتے ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ اس مسئلے کا حل فارمیسی ٹیکنیشن کو فارماسسٹ کا متبادل بنانا نہیں، بلکہ ریٹیل فارمیسی کو پرکشش بنانا، کلسٹر سپرویژن ماڈلز متعارف کرانا اور فارماسسٹ کی قیادت میں نظام کو فروغ دینا ہے۔
18ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر شبیر آر پی ایچ نے کہا کہ یہ صوبائی خودمختاری کی ایک مثبت مثال ہے، تاہم صحت کے شعبے کو سیاست سے بالاتر رکھنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے تمام صوبوں پر زور دیا کہ وہ باہمی مشاورت سے فارمیسی پریکٹس کے لیے یکساں کم از کم معیارات طے کریں تاکہ ایک مؤثر اور محفوظ قومی صحت کا نظام قائم ہو سکے۔
آخر میں ڈاکٹر شبیر آر پی ایچ نے کہا کہ صوبائی فارمیسی کونسلز، ریگولیٹرز اور پاکستان فارماسسٹ ایسوسی ایشن کو مل کر عوامی صحت کے تحفظ کے لیے عملی اور مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے۔
