0

کوئٹہ میں اربوں روپے کی حلیم پلازہ آگ سے خاکستر ہو کر رہ گئی۔

(Publish from Houston Texas USA)

کوئٹہ(رپورٹ سید سردار محمد خوندئی )
صوبائی اور مرکزی حکومت کی تاحال سردمہری اس افسوسناک واقعہ نقصانات اٹھانے والے کی پریشانی دوگنی کردی اس گل پلازہ میں سینکڑوں دکانیں اور اس سے وابستہ لوگوں کی زندگی اجیرن بن چکی ہے یہ اپنے حال رزق کماتے اور ہزاروں بچوں کی نان نفقہ کیلئے کافی تھا مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ حکومت وقت کیوں اس طرف توجہ نہیں دیتی ہے تاکہ کم از کم انکی حوصلہ افزائی تو ہوسکتا مگر کون کریں چمن پاک افغان بارڈر تین سال سے بند اور تین مہنوں سے مکمل سیل کردیا گیا ہے اس ہزاروں بیروزگار افراد کیلئے متبادل کوئی ذرائع روزگار نظر نہیں آ رہا ہے اور گزشتہ روز بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے مین بازار میں واقع گل پلازہ کچھ ہی گھنٹوں میں خاکستر ہوا اب یہ بات یہاں پر ختم نہیں ہوتی جیسے دنیا جہاں کے ممالک ایسے واقعات پر اپنے عوام سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے مکمل تعاون کرتے ہیں مگر یہاں معاملہ برعکس ہے اس سے پہلے کراچی میں ایسا دردناک واقعہ رونما ہوا کم از کم سندھ حکومت نے تو تحقیقاتی کمیشن بنایا اور فوری امداد کا اعلان کیا حکومت بلوچستان سے بھی یہی مطالبہ اور اپیل ہے کہ اس وقت لوگوں کی زندگی عذاب بن چکی ہے اس پر توجہ دیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں