writer 0

عالمی بے حسی کا 2076واں دن: کشمیر، اقوام متحدہ اور طاقتوں کی خاموشی

(Publish from Houston Texas USA)

(امیر محمد خان)

عالمی بے حسی کا 2076 واں دن 22 جولائی 2019 ء کو سابق وزیر اعظم اڈیالا کی ملاقات دنیا کی بڑی طاقت کے سربراہ ڈونلڈ ٹرمپ سے بہت خوشگوار ملاقات ہوئی
سابق وزیر اعظم کی پاکستان آمد پر ہوائی اڈے پر ڈھول کی تھاپ پر جشن ہوا، بتایا گیا کہ کشمیر کے مسئلے پر چچا ٹرمپ نے کہا کہ وہ اس مسئلے کو حل کرینگے، ٹھیک دوہفتے بعد 15اگست 2019ء کو ہندوستان کی حکومت نے اپنے آئین کے آرٹیکل 370اور 35-aکو ختم کرتے ہوئے جموں وکشمیر کی ذیلی متنازع ریاست کی حیثیت ختم کرکے کشمیریوں کے زخموں پر نمک پاشی کی، جب سابق وزیر اعظم سیاست میٰں آمد کیلئے پر تول رہے تھے تو ان سے مقامی ہوٹل میں ملاقات ہوئی تھی صحافیوں سے انکی سیاست میٰں آمد کو جدہ کے صحافیونے خوش آئیند قراردیا تھا مختلف سوالات کے دوان ان سے پوچھا گیا کہ آپکی مسئلہ کشمیر پر کیا پالیسی ہوگی تو وہ نہائت ناگواری کا اظہار کرتے ہوئے گویا ہے ”کشمیر کو بھول جائیں، پاکستان کی بات کریں“تو اسکا ثبوت جب ملا جب سابق وزیر اعظم کی ملاقات ٹرمپ سے ہوئی اور اسکے دو ہفتے بعدہی 15اگست کو کشمیر پر بھارت نے اپنا ناجائز قبضہ مزید مضبوط کرنے کیلئے آرٹیکل 370نافذ کردیا۔کشمیر کی آج کی صورتحال گزشتہ سات دھائیوں دہائیوں پرانی تکلیفوں کی یاد تازہ کرتی ہے جو 1947ء سے پہلے بھی ہندوستانی چیرہ دستی کی غماز ہے۔ حقِ خود ارادیت کیلئے جدوجہد کرنیوالے کشمیریوں کیلئے یہ ایک تاریک لمحہ تھا۔ دنیا فقط محوِ نظارہ ہے جبکہ اقوامِ متحدہ کی قرادادیں محض کاغذ کا پرزہ بن کر رہ گئی ہیں جو اقوام کے اقتصادی مفادات کی نذر ہو چکی ہیں۔ حق ایک بار پھر قوت کے سامنے سرنگوں ہے، پاکستان اپنے اندرونی مسائل کی وجہ سے اس مخمصے میں مبتلا ہے کہ اپنے کشمیری بھائیوں کی آزادی کی جدوجہد میں انکا ساتھ کیسے دے بانی پاکستان قائد اعظم ؒ نے کشمیرکو پاکستان کی شہ رگ قراردیاتھا مگر 78سال سے ہمارے ملک کے سربراہوں نے اپنی معیشت کو مضبوط نہیں کیا، اور نہ ہی خارجہ پالیسی اس قابل رکھی کہ دنیا ہماری بات سن سکے مگر آج خارجہ امور میں ہم دنیا کیلئے اہم ہیں اور کوئی وجہ نہیں کہ اگر تواناء آواز اٹھائی جائے تو ہماری شنوائی نہ ہو، ملک پر مسلط حکمرانوں نے کشمیر کی آزادی کے بلند بانگ دعوو?ں اور وعدوں کے باوجود ہمیشہ قوم کو مایوس کیا۔ مودی حکومت نے 55ماہ قبل کشمیر کی آئینی حیثیت کو ختم کردیا اور اسی دن سے کشمیر میں تقریبا مکمل لاک ڈ اؤن ہے۔اب تک لاکھوں کشمیریوں کو آزادی کے مطالبے کی پاداش میں شہید کردیا گیا ہے۔ماؤں بہنوں بیٹیوں کی بیحرمتی کی گئی ہے۔ان 5 5ماہ میں 20ہزارسے زائد کشمیری نوجوانوں کو کشمیر میں قائم فوجی ٹارچر سیلوں سے بھارت کی جیلوں میں منتقل کیا جاچکا ہے اور کشمیر میں آبادی کے تناسب کو بدلنے کیلئے لاکھوں ہندوؤں کو،جن میں اکثریت شیوسینا،آرایس ایس اوربی جے پی کے مسلم دشمنی میں اندھے بدمعاشوں اور غنڈوں کی ہے،آباد کیا جارہا
ہے۔کشمیری زبان کی بجائے ہندی کو دفتروں میں رائج کردیا گیاہے۔ اس سب کے باوجود پاکستان خاموش ہے ہر سال 5فروری کو چھٹی کردینا، بیرون ملک سفارت خانوں، قونصل خانون کو مزید آرام پہنچانے کیلئے چھٹی کردیا، کشمیر کی آزادی، بھارتی مذمت پر بیان داغ دینا کشمیریوں کو کیا فائدہ پہنچا سکتا ہے ؟؟؟، کشمیر میں جاری مظالم پر اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے اداروں نے مجرمانہ خاموشی اختیار کررکھی ہے۔ 5اگست 2019کو کشمیر کو بھارت کا حصہ قراردینے کے بعد سے مودی نے نہ صرف کشمیر میں بلکہ پورے ہندوستان میں مسلمانوں کا جینا دوبھر کررکھا ہے۔ جبکہ کشمیر کی آزادی کیلئے آخری گولی اور آخری سانس تک لڑنے کا ا علان کرنے والوں نے اپنے دور
اقتدار میں ایک قدم بھی نہیں اٹھایا۔ حکومت کا فرض تھا اور ہے کہ پانچ اگست کے بھارتی اقدام کے بعد قومی قیادت کے ساتھ بیٹھ کر مسئلہ کشمیر پر مشترکہ لائحہ عمل بنائے اور اس پر عملدرآمدکیلئے اپنے تمام وسائل بروئے کار لائے۔ سربراہان اقوام متحدہر سال دھواں دار تقریر اقوام عالم کے سامنے کرتے ہیں جن کے کانوں میں جوں بھی نہیں رینگتی اب بھارت نے دیکھا ہے کہ پاکستانکی خارجہ پالیسی مضبوطی کی طرف رواں ہے سرحدوں پر اسکی جانب سے پاکستان پر حملوں کا ہماری مضبوط فوجی قیادت نے اسے ناک چنے چبوا دئے تو وہ پاکستان کے خلاف پراکسی وار شروع کربیٹھا ہے بلوچستان پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے جو معدنی وسائل، ساحلی پٹی اور تزویراتی محلِ وقوع کے اعتبار سے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ گوادر بندرگاہ اور چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) جیسے منصوبے بلوچستان کو خطے کی معاشی شہ رگ بنا سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان دشمن قوتیں بلوچستان کو عدم استحکام کا شکار رکھنا چاہتی ہیں۔ دہشت گردی کے ذریعے ترقیاتی منصوبوں کو نشانہ بنانا، غیر مقامی مزدوروں اور انجینئرز پر حملے کرنا اور مقامی آبادی میں خوف و ہراس پھیلانا ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ اس کا مقصد یہ تاثر دینا ہے کہ بلوچستان ایک غیر محفوظ خطہ ہے تاکہ بین الاقوامی سرمایہ کاری رک جائے اور پاکستان معاشی طور پر کمزور ہو۔دہشت گردی کی بیخ کنی کے لیے ریاست کی جانب سے کیے جانے والے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز ناگزیر ہیں۔ یہ آپریشنز کسی خاص قومیت یا صوبے کے خلاف نہیں بلکہ دہشت گردی کے ناسور کے خلاف ہیں۔ بدقسمتی سے کچھ حلقے، خواہ نادانستہ یا دانستہ طور پر، ان کارروائیوں کی مخالفت کر کے دہشت گردوں کے بیانیے کو تقویت دیتے ہیں۔ ایسے عناصر کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں۔ ریاستی عمل داری کو چیلنج کرنے اور سکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو مشکوک بنانے کا رویہ دراصل دشمن کے ایجنڈے کی تکمیل کے مترادف ہے۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اسّی ہزار سے زائد جانوں کی قربانی دی ہے اور معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا ہیبھارت پراسکی وار کے ذریعے پاکستان کو کشمیر کی حمائت سے باز رکھنا اور پاکستان کو کمزور کرنے کے درپے ہے پاکستانکی خارجہ پالیسی اور مضبوط عسکری قیادت اسے ہر محاز پر شکست دے رہی ہے اقوام متحدہ اور دنیا کے امن کے کرتا دھرتا بھارت کی تمام تر ریشہ دوانیوں پر چپ سادھے بیٹھی ہے اقوام متحدہ کی مو ثر نمائندہ عالمی ادارے کی حیثیت تب ہی تسلیم ہو پائے گی جب اس کے روبرو آنے والے اس کے رکن ممالک کے باہمی تنازعات کے حل کے لیے اس کی قراردادوں اور فیصلوں پر ان کی روح کے مطابق عمل درآمد ہو گا۔ اندریں حالات، اقوام متحدہ کے رکن ممالک بالخصوص بڑی طاقتوں کی قیادتوں کے لیے یہ لمحہ فکریہ ہے کہ وہ دنیا کے تنازعات حل کرانے کے لیے اب تک اقوام متحدہ کو کیوں فعال نہیں بنا پائے۔ علاقائی اور عالمی امن کی خاطر کشمیر، فلسطین، افغانستان اور اسلاموفوبیا کے حوالے سے اقوام متحدہ کی قراردادوں پر ان کی روح کے مطابق عمل درآمد اقوام متحدہ کے رکن ممالک کی ترجیح اول ہونی چاہیے۔ آج کے یومِ یکجہتی کشمیر منانے کا مقصد بھی اقوام متحدہ اور اس کے رکن بالخصوص بڑے ممالک کی توجہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم کی جانب مبذول کرانا ہے۔ اگر اقوام متحدہ کی درجن بھر
قراردادیں بھی دیرینہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے مو ثر ثابت نہیں ہو رہیں تو اس نمائندہ عالمی ادارے کی حیثیت چہ معنی دارد؟ کیا یہ عالمی ادارہ اتنا ہی بے بس ہو گیا ہے۔ مسئلہ کشمیر پر عالمی طاقتوں کی خاموشی اس کی بے حسی کی چغلی کھاتی ہے ۔

مزید پڑھنے کے لیے براہ کرم ہمارے مضامین دیکھیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں