ڈیورنڈ لائن بندش کے خلاف چمن میں احتجاج 0

ڈیورنڈ لائن پشتون افغان قوم کا مشترکہ مسئلہ ہے۔ اصغر خان اچکزئی

(Publish from Houston Texas USA)

چمن( سید سردار محمد خوندئی بیوروچیف )

ڈیورنڈ لائن بندش سے چمن میں معاشی بحران، تجارت معطل اور عوام پریشان

چمن: عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اصغر خان اچکزئی نے کہا ہے کہ ڈیورنڈ لائن بندش صرف چند افراد کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ پورے پشتون افغان وطن اور لاکھوں عوام کا مشترکہ مسئلہ بن چکا ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار چمن میں ڈیورنڈ لائن سے متصل طویل تاریخی پرلت کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ ڈیورنڈ لائن بندش کے باعث نہ صرف آمد و رفت متاثر ہوئی ہے بلکہ تجارت مکمل طور پر معطل ہو کر رہ گئی ہے، جس سے ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں افراد بے روزگار ہو چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بدلتی ہوئی سیاسی اصطلاحات اور بیانیے عوام کو تقسیم کرنے کی کوشش ہیں، تاہم باشعور کارکنوں کو اپنے حقوق کے لیے جدوجہد جاری رکھنی چاہیے۔

جلسے کی صدارت پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات عیسیٰ روشان نے کی، جبکہ مختلف سیاسی و سماجی رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔ مقررین نے کہا کہ ڈیورنڈ لائن بندش نے چمن سمیت پورے خطے میں شدید معاشی بحران پیدا کر دیا ہے اور کاروباری سرگرمیاں مکمل طور پر ٹھپ ہو چکی ہیں۔

مقررین کے مطابق یہاں کے عوام کا بنیادی ذریعہ معاش سرحدی تجارت تھی، لیکن ڈیورنڈ لائن بندش کے باعث یہ سلسلہ رک گیا ہے جس کے نتیجے میں لاکھوں خاندان مالی مشکلات کا شکار ہو گئے ہیں۔ انہوں نے حکومت کی عدم توجہی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عوام کے جائز مطالبات کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس کا سب سے زیادہ نقصان عام شہریوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈیورنڈ لائن بندش جیسے اقدامات خطے میں عدم استحکام کو بڑھا رہے ہیں، لہٰذا دونوں ممالک کو سنجیدہ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

امن و امان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ قومی شاہراہوں پر بدامنی، لوٹ مار اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں خطرناک اضافہ ہو چکا ہے، جس کے باعث عوام خوف اور عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔

آخر میں مقررین نے مطالبہ کیا کہ ڈیورنڈ لائن بندش کو فوری ختم کیا جائے، سرحدی تجارت اور آمد و رفت کو بحال کیا جائے اور امن و امان کی بہتری کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کو درپیش مسائل کا حل ممکن ہو سکے۔

مزید معلومات کے لیے براہ کرم ہماری قومی خبریں دیکھیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں