(Publish from Houston Texas USA)
(میاں افتخار احمد)
اکیسویں صدی کی عظیم طاقتوں کے درمیان ممکنہ تصادم اب محض سفارتی بیانات یا عسکری مشقوں تک محدود نہیں رہا بلکہ عسکری منصوبہ بندی کے انتہائی سنجیدہ اور عملی مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ خصوصاً امریکہ اور چین کے درمیان تائیوان، جنوبی بحیرہ چین اور مغربی بحرالکاہل کے تناظر میں جو کشیدگی بڑھ رہی ہے وہ عالمی طاقتوں کے توازن کو براہ راست متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اسی تناظر میں 4 فروری 2026 کو مچل انسٹیٹیوٹ فار ایئروسپیس اسٹڈیز کی جانب سے شائع ہونے والی رپورٹ غیر معمولی اہمیت اختیار کر جاتی ہے۔ جسے امریکی فضائیہ کی سابق پائلٹ اور دفاعی تجزیہ کار ہیذر پینی اور ریٹائرڈ امریکی فضائیہ کے کرنل مارک اے گنزنگر نے تحریر کیا۔ اور بعد ازاں ایئر فورس میگزین سمیت دیگر معتبر دفاعی ذرائع نے شائع کیا۔ اس رپورٹ کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ اگر امریکی فضائیہ اپنی موجودہ منصوبہ بندی، خاص طور پر B-21 Raider اسٹیلتھ بمبار اور F-47 NGAD سکسٹھ جنریشن فائٹر کی محدود تعداد، پر ہی انحصار کرتی رہی تو وہ چین جیسے ہم پلہ بلکہ بعض شعبوں میں عددی برتری رکھنے والے اسٹریٹجک حریف کے خلاف طویل، شدید اور مسلسل فضائی جنگی دباؤ برقرار رکھنے کی صلاحیت سے محروم ہو سکتی ہے۔رپورٹ اس مفروضے کو سختی سے چیلنج کرتی ہے کہ جدید ٹیکنالوجی، اسٹیلتھ صلاحیت اور ایڈوانسڈ سینسرز محض اپنی موجودگی سے جنگ کا پانسہ پلٹ سکتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق مستقبل کی بڑی جنگیں، خاص طور پر چین جیسے ملک کے خلاف، محض چند علامتی یا ابتدائی فضائی حملوں سے نہیں جیتی جاتیں بلکہ ان کے لیے مسلسل، ہائی وولیوم، ہمہ وقت دباؤ پر مبنی فضائی مہمات درکار ہوتی ہیں۔ جن میں دشمن کے فضائی دفاعی نظام، میزائل لانچ سائٹس، کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، لاجسٹک حب، ایئر بیسز اور نیول انفراسٹرکچر کو مہینوں تک دبائے رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ اور یہی وہ مرحلہ ہے جہاں محض جدید مگر محدود تعداد میں موجود پلیٹ فارمز ناکافی ثابت ہوتے ہیں۔
B-21 Raider کو امریکی فضائیہ مستقبل کے اسٹریٹجک بمبار کے طور پر پیش کر رہی ہے۔ جس کا بنیادی مقصد انتہائی مضبوط فضائی دفاعی ماحول میں گہرے حملے کرنا، دشمن کی حساس تنصیبات کو نشانہ بنانا اور A2/AD جیسے دفاعی نیٹ ورکس کو توڑنا ہے۔ بلاشبہ B-21 اپنی کم ریڈار سگنیچر، جدید سینسر فیوژن اور طویل رینج کے باعث ایک غیر معمولی پلیٹ فارم ہے۔ مگر رپورٹ واضح کرتی ہے کہ اگر اس کی تعداد تقریباً 100 یا اس کے آس پاس محدود رہی تو یہ بمبار محض ابتدائی یا محدود اسٹرائیکس کے لیے تو مؤثر ہو سکتا ہے مگر چین جیسے ملک کے خلاف طویل فضائی مہم کے لیے ناکافی ہوگا۔ کیونکہ چین کا دفاعی نظام ایک یا دو حملوں سے مفلوج ہونے والا نہیں بلکہ اسے مسلسل دباؤ کی ضرورت ہوگی۔ جس کے لیے بیک وقت کئی محاذوں پر درجنوں بمباروں کی دستیابی ناگزیر ہے۔اسی طرح F-47 NGAD پروگرام کو امریکی فضائیہ کی آئندہ فضائی برتری کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ محض ایک فائٹر طیارہ نہیں بلکہ ایک مکمل نیٹ ورکڈ وارفیئر سسٹم ہے جس میں انسان بردار فائٹر، خودکار ڈرونز، ایڈوانسڈ الیکٹرانک وارفیئر، لانگ رینج ایئر ٹو ایئر اور ایئر ٹو گراؤنڈ میزائلز، اور مصنوعی ذہانت پر مبنی فیصلہ سازی شامل ہوگی۔ مگر رپورٹ کے مطابق اگر F-47 کی تعداد محدود رکھی گئی تو یہ جدید صلاحیتیں بھی چین کے عددی اور دفاعی دباؤ کے سامنے مستقل فضائی برتری قائم رکھنے میں ناکام ہو سکتی ہیں۔ کیونکہ چین نہ صرف J-20 جیسے اسٹیلتھ فائٹر پہلے ہی فیلڈ کر چکا ہے بلکہ چھٹی جنریشن کے اپنے منصوبوں پر بھی تیزی سے کام کر رہا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ مستقبل کی جنگ محض کوالٹی نہیں بلکہ کوانٹیٹی کا بھی امتحان ہوگی۔
چین کا اصل اسٹریٹجک ہتھیار اس کا A2/AD یعنی Anti-Access Area Denial دفاعی نیٹ ورک ہے۔ جو کئی تہوں پر مشتمل ایک جامع نظام ہے۔ اس نظام میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک اور کروز میزائل، جدید فضائی دفاعی نظام، ساحلی اور اندرونی رڈار نیٹ ورکس، سیٹلائٹ نگرانی، سائبر اور الیکٹرانک وارفیئر صلاحیتیں شامل ہیں۔ DF-21 اور DF-26 جیسے میزائل امریکی اور اتحادی فضائی اڈوں، بحری بیڑوں اور لاجسٹک لائنز کے لیے براہ راست خطرہ تصور کیے جاتے ہیں۔ جبکہ HQ سیریز کے فضائی دفاعی سسٹمز چین کی فضائی حدود میں داخلے کو نہایت مہنگا اور خطرناک بنا دیتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اگر امریکی فضائیہ ان دفاعی تہوں کو مستقل بنیادوں پر دبانے میں ناکام رہی تو چین اپنے اہم عسکری اثاثوں کو محفوظ رکھنے میں کامیاب ہو سکتا ہے۔ جسے رپورٹ میں آپریشنل سینکچری کہا گیا ہے۔ اور یہی سینکچری کسی بھی جنگ کا رخ بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔یہ رپورٹ دراصل امریکی عسکری سوچ میں ایک بنیادی خامی کی نشاندہی کرتی ہے۔ اور وہ یہ کہ گزشتہ دو دہائیوں میں امریکہ نے زیادہ تر محدود، مختصر اور ٹیکنالوجی پر انحصار کرنے والی جنگیں لڑی ہیں۔ جبکہ چین کے خلاف ممکنہ جنگ ایک بالکل مختلف نوعیت کی ہوگی۔ جہاں جغرافیہ، فاصلے، میزائلوں کی بارش، فضائی اڈوں کی کمزوری اور مسلسل دباؤ فیصلہ کن کردار ادا کریں گے۔ اسی لیے رپورٹ سفارش کرتی ہے کہ B-21 بمبار کی تعداد کم از کم 200 تک اور F-47 فائٹرز کی تعداد تقریباً 300 تک بڑھائی جائے تاکہ امریکی فضائیہ نہ صرف ابتدائی برتری حاصل کر سکے بلکہ اسے طویل عرصے تک برقرار بھی رکھ سکے۔اگر ان انتباہات کو نظرانداز کیا گیا تو 2030 کی دہائی میں امریکہ کو ایک ایسے چین کا سامنا ہو سکتا ہے۔ جو نہ صرف عددی بلکہ دفاعی، جغرافیائی اور آپریشنل لحاظ سے بھی مضبوط پوزیشن میں ہوگا۔ اور ایسی صورت میں امریکی فضائی طاقت کی محدود تعداد محض علامتی مزاحمت بن کر رہ جانے کا خدشہ پیدا ہو جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ اس رپورٹ نے واشنگٹن میں دفاعی بجٹ، ترجیحات اور مستقبل کی جنگی حکمت عملی پر ایک نئی اور سنجیدہ بحث کو جنم دیا ہے۔
چین اور امریکہ کے درمیان ممکنہ جنگ کے تناظر میں سب سے بنیادی اور فیصلہ کن عنصر چین کا وہ میزائل اور سینسر نیٹ ورک ہے جسے گزشتہ دو دہائیوں میں انتہائی منظم اور منصوبہ بند انداز میں تیار کیا گیا ہے۔ امریکی عسکری تجزیہ کاروں کے مطابق چین نے روایتی فضائی برتری کے تصور کو چیلنج کرتے ہوئے جنگ کا مرکز فضا سے ہٹا کر میزائل اور لانگ رینج اسٹرائیک صلاحیتوں کی طرف منتقل کر دیا ہے۔ DF-21 اور DF-26 جیسے بیلسٹک میزائل نہ صرف امریکی بحری بیڑوں بلکہ جاپان۔ گوام اور دیگر مقامات پر موجود امریکی فضائی اڈوں کو براہ راست نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس صورتحال میں امریکی فضائیہ کو سب سے بڑا چیلنج یہ درپیش ہے کہ اگر جنگ کے ابتدائی مرحلے میں ہی اس کے فضائی اڈے غیر فعال ہو گئے تو B-21 اور F-47 جیسے جدید طیارے بھی عملی طور پر زمین پر ہی محدود ہو کر رہ جائیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ مچل انسٹیٹیوٹ کی رپورٹ فضائی پلیٹ فارمز کے ساتھ ساتھ لانچ بیسز۔ لاجسٹک لائنز اور ایندھن کے نظام کو بھی جنگ کا کمزور پہلو قرار دیتی ہے۔چین کا A2/AD نظام محض میزائلوں تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک مکمل ملٹی ڈومین نیٹ ورک ہے۔ جس میں زمینی رڈار۔ سمندری نگرانی۔ خلائی سیٹلائٹس۔ سائبر وارفیئر اور الیکٹرانک جیمنگ ایک دوسرے کے ساتھ مربوط ہیں۔ اس نظام کا مقصد دشمن کو چین کے قریبی علاقوں میں داخل ہونے سے روکنا نہیں بلکہ داخل ہونے کے بعد زندہ رہنے کی لاگت کو ناقابل قبول حد تک بڑھا دینا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہی وہ حکمت عملی ہے جو چین کو یہ موقع فراہم کر سکتی ہے کہ وہ امریکی فضائی طاقت کو محدود کر کے اپنے حساس فوجی اور صنعتی مراکز کو محفوظ رکھ سکے۔ اگر امریکی فضائیہ اس نیٹ ورک کو مسلسل دبانے میں ناکام رہی تو چین کو وہ آپریشنل آزادی حاصل ہو سکتی ہے جسے عسکری اصطلاح میں سینکچری کہا جاتا ہے۔ اور یہی سینکچری کسی بھی طویل جنگ میں فیصلہ کن حیثیت رکھتی ہے۔
تائیوان کے گرد ممکنہ جنگی منظرنامے میں یہ خطرہ مزید شدید ہو جاتا ہے۔ کیونکہ جغرافیائی اعتبار سے چین کو قربت کا فائدہ حاصل ہے جبکہ امریکہ کو ہزاروں کلومیٹر دور سے اپنی قوت منتقل کرنی ہوتی ہے۔ اس فاصلے کے باعث نہ صرف رسد اور ایندھن کے مسائل پیدا ہوتے ہیں بلکہ طیاروں کی دستیابی۔ مرمت اور دوبارہ لانچ کی رفتار بھی متاثر ہوتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اگر امریکہ کے پاس محدود تعداد میں B-21 اور F-47 طیارے ہوں گے تو وہ ایک وقت میں صرف چند محاذوں پر کارروائی کر سکے گا۔ جبکہ چین بیک وقت فضائی۔ بحری اور میزائل دباؤ کے ذریعے امریکی قوت کو منتشر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہی عدم توازن اس رپورٹ کے بنیادی خدشات میں شامل ہے۔امریکی فضائیہ کی ایک اور کمزوری جس کی نشاندہی رپورٹ میں کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ گزشتہ دو دہائیوں کی جنگی منصوبہ بندی زیادہ تر کمزور یا تکنیکی طور پر پسماندہ حریفوں کے خلاف رہی ہے۔ افغانستان۔ عراق اور دیگر علاقوں میں امریکی فضائی برتری تقریباً غیر متنازع رہی۔ مگر چین کے خلاف جنگ ایک بالکل مختلف نوعیت کی ہوگی۔ جہاں دشمن نہ صرف جدید ٹیکنالوجی رکھتا ہے بلکہ عددی قوت۔ جغرافیائی برتری اور دفاعی گہرائی بھی اس کے ساتھ ہوگی۔ اس صورتحال میں محدود تعداد میں جدید طیاروں پر انحصار ایک خطرناک خوش فہمی ثابت ہو سکتا ہے۔
رپورٹ اس نکتے پر بھی زور دیتی ہے کہ اگر امریکہ نے B-21 اور F-47 کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ نہ کیا تو اسے اتحادیوں پر زیادہ انحصار کرنا پڑے گا۔ مگر اتحادیوں کی اپنی سیاسی۔ عسکری اور جغرافیائی حدود ہیں۔ جاپان۔ آسٹریلیا اور دیگر ممالک امریکہ کا ساتھ تو دے سکتے ہیں مگر جنگ کا بنیادی بوجھ پھر بھی امریکی فضائیہ پر ہی آئے گا۔ اور اگر وہ خود عددی لحاظ سے کمزور ہوئی تو مجموعی اتحاد بھی کمزور دکھائی دے گا۔ یہی وجہ ہے کہ رپورٹ دفاعی بجٹ میں تبدیلی۔ پیداوار کی رفتار میں اضافہ اور طویل مدتی منصوبہ بندی پر زور دیتی ہے۔چین کی جانب سے میزائلوں۔ فضائی دفاع اور سینسر نیٹ ورک میں مسلسل سرمایہ کاری اس بات کا اشارہ ہے کہ بیجنگ مستقبل کی جنگ کو مختصر جھڑپ نہیں بلکہ طویل اور اعصابی جنگ کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ اس تناظر میں مچل انسٹیٹیوٹ کی رپورٹ امریکی پالیسی سازوں کو خبردار کرتی ہے کہ اگر انہوں نے وقت پر عددی برتری کے مسئلے کو حل نہ کیا تو 2030 کی دہائی میں امریکہ کو ایک ایسے اسٹریٹجک ماحول کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جہاں فضائی برتری کوئی فطری حقیقت نہیں بلکہ ایک مہنگی اور مشکل کامیابی ہوگی۔چین کے خلاف ممکنہ جنگ محض طیاروں کی جدیدیت کا امتحان نہیں بلکہ پوری عسکری سوچ۔ پیداوار۔ لاجسٹکس اور طویل مدتی دباؤ برداشت کرنے کی صلاحیت کا امتحان ہوگی۔ اور اگر امریکی فضائیہ نے اس حقیقت کو بروقت تسلیم نہ کیا تو B-21 اور F-47 جیسے جدید مگر محدود پلیٹ فارمز ایک وسیع اور سخت جنگ میں ناکافی ثابت ہو سکتے ہیں۔
چین کے ساتھ ممکنہ جنگ۔ امریکی دفاعی بجٹ۔ کانگریس کی سیاست اور فضائی طاقت کی ترجیحات کا بحران۔
چین کے خلاف ممکنہ جنگ کے تناظر میں مچل انسٹیٹیوٹ کی رپورٹ صرف عسکری یا تکنیکی انتباہ نہیں بلکہ درحقیقت امریکی سیاسی و ادارہ جاتی نظام پر ایک سخت سوالیہ نشان بھی ہے۔ کیونکہ رپورٹ اس حقیقت کی نشاندہی کرتی ہے کہ امریکی فضائیہ کی عددی کمزوری محض عسکری منصوبہ بندی کی ناکامی نہیں بلکہ دفاعی بجٹ۔ کانگریس کی سیاست اور اسٹریٹجک ترجیحات کے باہمی تصادم کا نتیجہ ہے۔ امریکہ گزشتہ کئی برسوں سے دفاعی بجٹ میں اضافہ تو کر رہا ہے مگر اس اضافے کی سمت اور ترجیحات ایسی نہیں رہیں جو چین جیسے ہم پلہ حریف کے تقاضوں سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہوں۔ بجٹ کا ایک بڑا حصہ اب بھی پرانے پلیٹ فارمز کو برقرار رکھنے۔ عالمی ذمہ داریوں کو نبھانے اور سیاسی طور پر مقبول منصوبوں پر خرچ ہو رہا ہے۔ جبکہ مستقبل کی فیصلہ کن جنگ کے لیے درکار بڑے پیمانے کی پیداوار اور عددی قوت کو ثانوی حیثیت حاصل رہی ہے۔رپورٹ اس نکتے پر خاص طور پر زور دیتی ہے کہ B-21 اور F-47 جیسے پروگرام اپنی نوعیت میں غیر معمولی ضرور ہیں مگر ان کی رفتار۔ پیداوار اور مجموعی تعداد کانگریس کی منظوری۔ بجٹ کٹوتیوں اور سیاسی مفاہمتوں کی نذر ہو چکی ہے۔ ہر نیا دفاعی بجٹ کسی نہ کسی مرحلے پر تاخیر۔ کمی یا دوبارہ جائزے کا شکار ہوتا ہے۔ جس کے نتیجے میں امریکی فضائیہ کو کم تعداد میں زیادہ ذمہ داریاں سونپ دی جاتی ہیں۔ اس کے برعکس چین میں عسکری منصوبہ بندی ایک طویل المدتی اور نسبتاً غیر سیاسی عمل کے تحت کی جاتی ہے۔ جہاں دفاعی صنعت۔ فوج اور سیاسی قیادت ایک ہی سمت میں کام کرتی نظر آتی ہے۔ یہی فرق مستقبل کی جنگ میں فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔
کانگریس کے اندر دفاعی اخراجات پر بحث اکثر داخلی سیاست۔ ریاستی مفادات اور روزگار سے جڑی ہوتی ہے۔ جس کے باعث بڑے پیمانے پر پیداوار کے بجائے محدود مگر مہنگے پروگرام ترجیح پاتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہی سوچ اس خطرناک مفروضے کو جنم دیتی ہے کہ چند انتہائی جدید طیارے ہزاروں میل دور ایک بڑے اور منظم دشمن کو مستقل طور پر دباؤ میں رکھ سکتے ہیں۔ حالانکہ تاریخ اس کے برعکس گواہی دیتی ہے۔ دوسری عالمی جنگ سے لے کر سرد جنگ تک۔ عددی قوت اور پیداوار کی صلاحیت ہمیشہ فیصلہ کن رہی ہے۔ اور چین نے اسی سبق کو اپنی عسکری حکمت عملی کی بنیاد بنایا ہے۔رپورٹ یہ بھی واضح کرتی ہے کہ اگر امریکہ نے اپنی دفاعی ترجیحات میں بنیادی تبدیلی نہ کی تو وہ ایک ایسے اسٹریٹجک خلا کا شکار ہو سکتا ہے جس میں ٹیکنالوجی تو اعلیٰ ہوگی مگر میدان میں موجود پلیٹ فارمز کی تعداد دشمن کے مقابلے میں کم ہوگی۔ ایسی صورتحال میں ہر نقصان ناقابل تلافی ہو سکتا ہے۔ کیونکہ محدود تعداد میں موجود B-21 یا F-47 طیاروں کا ضائع ہونا نہ صرف عسکری بلکہ نفسیاتی اور سیاسی دھچکا بھی ثابت ہوگا۔ جبکہ چین اپنی عددی برتری کے باعث نقصان برداشت کرنے کی زیادہ صلاحیت رکھتا ہے۔اس تناظر میں رپورٹ امریکی فضائیہ کی اس سوچ پر بھی سوال اٹھاتی ہے کہ اتحادیوں کے ساتھ مل کر یہ عددی کمی پوری کی جا سکتی ہے۔ اگرچہ جاپان۔ آسٹریلیا اور دیگر ممالک کی شراکت اہم ہے مگر ان کی فضائی طاقت بھی اپنی حدود رکھتی ہے۔ اور کسی بڑے تصادم میں فیصلہ کن بوجھ پھر بھی امریکی فضائیہ پر ہی آئے گا۔ اگر مرکزی قوت کمزور ہوئی تو اتحادی اتحاد بھی غیر مؤثر ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رپورٹ اتحادیوں کے انحصار کو حل نہیں بلکہ ایک اضافی عنصر قرار دیتی ہے۔
چین کے برعکس امریکہ کو بیک وقت کئی محاذوں پر اپنی عسکری ذمہ داریاں نبھانی پڑتی ہیں۔ یورپ میں روس۔ مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام اور بحرالکاہل میں چین۔ اس کثیر الجہتی دباؤ کے باعث دفاعی بجٹ کا بڑا حصہ بکھر جاتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہی بکھراؤ امریکی فضائی طاقت کی سب سے بڑی کمزوری بنتا جا رہا ہے۔ کیونکہ چین اپنی پوری توجہ ایک ہی اسٹریٹجک تھیٹر پر مرکوز رکھ سکتا ہے۔ اور اسی فوکس کے ذریعے وہ عددی اور دفاعی برتری حاصل کر رہا ہے۔چین کے خلاف ممکنہ جنگ میں امریکی فضائی طاقت کا بحران محض طیاروں کی کمی کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک گہرا اسٹریٹجک اور سیاسی بحران ہے۔ جس کا حل صرف ٹیکنالوجی میں نہیں بلکہ سوچ۔ ترجیحات اور بجٹ کے ڈھانچے میں بنیادی تبدیلی کے بغیر ممکن نہیں۔ اگر امریکہ نے اس حقیقت کو تسلیم نہ کیا تو B-21 اور F-47 جیسے جدید مگر محدود پلیٹ فارمز ایک ایسے نظام کا حصہ بن جائیں گے جو مستقبل کی بڑی جنگ کے تقاضوں کو پورا کرنے سے قاصر ہوگا۔
چین اور امریکہ کے درمیان ممکنہ جنگ کے تناظر میں مچل انسٹیٹیوٹ کی رپورٹ جس پہلو کو سب سے زیادہ تشویشناک قرار دیتی ہے وہ محض طیاروں۔ میزائلوں یا سینسرز کا فرق نہیں بلکہ دونوں ممالک کی عسکری صنعتی صلاحیت اور طویل جنگ برداشت کرنے کی اہلیت کا فرق ہے۔ رپورٹ کے مطابق اکیسویں صدی کی بڑی جنگیں صرف ابتدائی برتری سے نہیں بلکہ اس بات سے جیتی جاتی ہیں کہ کون سا ملک مہینوں اور برسوں تک مسلسل پیداوار۔ مرمت۔ متبادل نظام اور رسد برقرار رکھ سکتا ہے۔ چین نے گزشتہ دو دہائیوں میں اپنی عسکری صنعت کو اسی فلسفے کے تحت منظم کیا ہے۔ جہاں ریاست۔ فوج اور صنعتی شعبہ ایک مربوط نظام کی صورت میں کام کرتے ہیں۔ دفاعی پیداوار کسی ایک کمپنی یا کانگریس کی منظوری کی محتاج نہیں بلکہ قومی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چین نہ صرف بڑی تعداد میں میزائل۔ ڈرونز اور بحری جہاز تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے بلکہ ان کی تیز رفتار مرمت اور دوبارہ تعیناتی کا ڈھانچہ بھی قائم کر چکا ہے۔اس کے برعکس امریکی عسکری صنعت ایک پیچیدہ۔ مہنگا اور حد درجہ ضابطہ جاتی نظام بن چکی ہے۔ جہاں ہر بڑے دفاعی منصوبے کو کانگریس۔ نجی کمپنیوں۔ بجٹ کمیٹیوں اور سیاسی مفادات کے طویل عمل سے گزرنا پڑتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہی سست رفتاری B-21 اور F-47 جیسے پروگراموں کی سب سے بڑی کمزوری ہے۔ کیونکہ اگر جنگ کے دوران کسی وجہ سے طیارے ضائع ہو جائیں یا ان کی مرمت طویل ہو جائے تو متبادل کی فراہمی فوری ممکن نہیں ہوتی۔ اس کے مقابلے میں چین کی دفاعی صنعت کم لاگت۔ زیادہ مقدار اور نسبتاً تیز رفتار پیداوار پر مرکوز ہے۔ جو طویل جنگ میں فیصلہ کن عنصر بن سکتی ہے۔
چین کی عسکری صنعت کی ایک اور نمایاں خصوصیت اس کا میزائل پر مبنی جنگی تصور ہے۔ جہاں مہنگے اور پیچیدہ پلیٹ فارمز کے بجائے بڑی تعداد میں نسبتاً کم لاگت میزائلوں۔ راکٹوں اور خودکار نظاموں پر انحصار کیا جاتا ہے۔ اس حکمت عملی کا مقصد دشمن کو اقتصادی اور آپریشنل طور پر تھکا دینا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اگر چین روزانہ درجنوں یا سیکڑوں میزائل داغنے کی صلاحیت رکھتا ہے جبکہ امریکہ کے پاس محدود تعداد میں مہنگے پلیٹ فارمز ہوں تو طویل مدت میں دباؤ کا پلڑا چین کے حق میں جا سکتا ہے۔ یہی وہ عدم توازن ہے جسے رپورٹ امریکی فضائی طاقت کے لیے ایک اسٹریٹجک خطرہ قرار دیتی ہے۔تائیوان کے گرد ممکنہ جنگی منظرنامے میں یہ صنعتی فرق مزید نمایاں ہو جاتا ہے۔ کیونکہ چین اپنے ساحل کے قریب رہتے ہوئے کم فاصلے۔ محفوظ لاجسٹکس اور اندرونی صنعتی سپورٹ کے ساتھ جنگ لڑ سکتا ہے۔ جبکہ امریکہ کو ہزاروں میل دور سے نہ صرف طیارے بلکہ پرزے۔ ایندھن۔ ہتھیار اور عملہ منتقل کرنا ہوگا۔ رپورٹ کے مطابق اگر یہ سپلائی لائنز چین کے میزائل یا سائبر حملوں کی زد میں آ گئیں تو امریکی فضائی طاقت کی آپریشنل رفتار شدید متاثر ہو سکتی ہے۔ اور محدود تعداد میں موجود B-21 اور F-47 طیارے زیادہ دیر تک مؤثر کردار ادا نہیں کر سکیں گے۔
رپورٹ اس پہلو پر بھی روشنی ڈالتی ہے کہ چین نے اپنی عسکری صنعت کو صرف پیداوار تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے جنگی ماحول میں بقا کے قابل بھی بنایا ہے۔ زیر زمین فیکٹریاں۔ منتشر پیداواری مراکز اور فوری مرمت کی سہولیات چین کو یہ صلاحیت دیتی ہیں کہ وہ شدید حملوں کے باوجود اپنی عسکری پیداوار جاری رکھ سکے۔ اس کے برعکس امریکی دفاعی صنعت زیادہ تر مخصوص۔ محدود اور معلوم مقامات پر مرکوز ہے۔ جو کسی بڑے تصادم میں آسان ہدف بن سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رپورٹ امریکی صنعتی ڈھانچے کو بھی A2/AD کے تناظر میں ایک کمزور کڑی قرار دیتی ہے۔چین کے خلاف ممکنہ جنگ محض جدید طیاروں یا بہتر سینسرز کی جنگ نہیں بلکہ صنعتی برداشت۔ پیداوار کی رفتار اور طویل المدتی دباؤ جھیلنے کی صلاحیت کا امتحان ہوگی۔ اگر امریکہ نے اپنی عسکری صنعت کو زیادہ لچکدار۔ تیز رفتار اور عددی پیداوار کے قابل نہ بنایا تو B-21 اور F-47 جیسے جدید مگر محدود پلیٹ فارمز ایک ایسے صنعتی ماحول میں کام کریں گے جو طویل جنگ کے تقاضوں کو پورا کرنے سے قاصر ہوگا۔ اور یہی وہ اسٹریٹجک خلا ہے جس کی طرف مچل انسٹیٹیوٹ کی رپورٹ نہایت واضح انداز میں اشارہ کرتی ہے۔
چین اور امریکہ کے درمیان جاری کشمکش کو اگر روایتی جنگی تیاریوں کے بجائے گہرے تجزیے کے ساتھ دیکھا جائے تو یہ محض ہتھیاروں۔ بحری بیڑوں یا فوجی اتحادوں کی دوڑ نہیں بلکہ ایک پیچیدہ نفسیاتی جنگ اور اسٹریٹجک ڈیٹرنس کا مکمل نظام ہے۔ جہاں اصل مقصد دشمن کو شکست دینا نہیں بلکہ اسے اس مقام تک پہنچنے ہی نہ دینا ہے جہاں جنگ ناگزیر ہو جائے۔ امریکہ اپنی عددی فوجی برتری۔ عالمی اڈوں کے جال۔ نیٹو اور بحرالکاہل کے اتحادیوں کے ذریعے یہ تاثر قائم رکھنا چاہتا ہے کہ وہ بیک وقت کئی محاذوں پر طاقت کا مظاہرہ کر سکتا ہے۔ جبکہ چین خاموشی کے ساتھ اپنی صنعتی صلاحیت۔ سپلائی چین کنٹرول۔ ٹیکنالوجیکل خودکفالت اور آبادی کے حجم کو ایک ایسے ڈیٹرنس میں بدل رہا ہے جو بغیر گولی چلائے جنگ کے نتائج متعین کر سکتا ہے۔
نفسیاتی جنگ کی سطح پر امریکہ آزادی۔ جمہوریت اور قواعد پر مبنی عالمی نظام کے بیانیے کو استعمال کر کے چین کو ایک خطرہ اور چیلنج کے طور پر پیش کرتا ہے تاکہ اتحادیوں کو ذہنی طور پر اپنے ساتھ باندھے رکھے۔ اس کے مقابلے میں چین خود کو استحکام۔ ترقی اور معاشی شراکت داری کی علامت بنا کر پیش کرتا ہے اور یہ باور کراتا ہے کہ امریکی بالادستی دراصل عالمی عدم استحکام کی جڑ ہے۔اسٹریٹجک ڈیٹرنس کے تناظر میں یہ سوال بنیادی حیثیت اختیار کر جاتا ہے کہ کیا عددی برتری اور صنعتی طاقت صرف جنگ جیتنے کے لیے ہوتی ہے یا وہ جنگ کو روکنے کا سب سے مؤثر ہتھیار بھی بن سکتی ہے۔ سرد جنگ کے تجربے سے یہ سبق ملتا ہے کہ جب دو طاقتیں ایک دوسرے کی تباہ کن صلاحیت سے مکمل طور پر آگاہ ہوں تو براہ راست تصادم کا امکان کم ہو جاتا ہے۔ چین اسی اصول کو نئی شکل دے رہا ہے جہاں اس کا میزائل پروگرام۔ ہائپرسونک ٹیکنالوجی۔ سائبر وار فیئر اور خلائی صلاحیتیں امریکہ کو یہ پیغام دیتی ہیں کہ کسی بھی محدود جنگ کا نتیجہ غیر محدود معاشی اور اسٹریٹجک نقصان ہو سکتا ہے۔
صنعتی طاقت اس نفسیاتی جنگ میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے کیونکہ جدید جنگ صرف میدان جنگ میں نہیں بلکہ فیکٹریوں۔ بندرگاہوں۔ سیمی کنڈکٹر پلانٹس اور توانائی کے نیٹ ورکس میں لڑی جاتی ہے۔ چین کی فیکٹریاں۔ نایاب دھاتوں پر کنٹرول اور عالمی تجارت میں گہرے انضمام نے اسے ایسی پوزیشن پر لا کھڑا کیا ہے جہاں اس کے خلاف جنگ چھیڑنا دراصل عالمی معیشت کے خلاف جنگ کے مترادف ہو سکتا ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں عددی برتری محض فوجی نہیں بلکہ معاشی۔ نفسیاتی اور سفارتی ڈیٹرنس میں تبدیل ہو جاتی ہے۔امریکہ اس حقیقت سے بخوبی واقف ہے اسی لیے وہ چین کو مکمل طور پر روکنے کے بجائے سست۔ محدود اور دباؤ میں رکھنے کی حکمت عملی پر عمل پیرا نظر آتا ہے۔ تائیوان۔ جنوبی بحیرہ چین اور ٹیکنالوجی کی پابندیاں اسی نفسیاتی جنگ کے اوزار ہیں۔ چین اور امریکہ کی کشمکش میں اصل کامیابی اس فریق کو ملے گی جو جنگ کے بغیر اپنی برتری منوا لے۔ کیونکہ اکیسویں صدی میں سب سے بڑی فتح وہی سمجھی جائے گی جو میدان جنگ کے بجائے دشمن کے ذہن میں حاصل کی جائے۔
تائیوان اس پوری اسٹریٹجک بساط پر وہ مرکزی مہرہ ہے جس کے گرد چین اور امریکہ کی تمام فوجی۔ سفارتی اور نفسیاتی چالیں گھومتی ہیں۔ یہ محض ایک جزیرہ نہیں بلکہ عالمی طاقت کے توازن۔ بحرالکاہل کی سکیورٹی اور اکیسویں صدی کی عالمی قیادت کا علامتی اور عملی مرکز بن چکا ہے۔ چین کے نزدیک تائیوان اس کی نامکمل خودمختاری کا مسئلہ ہے جبکہ امریکہ کے لیے یہ ایشیا میں اس کی کریڈیبل ڈیٹرنس اور اتحادیوں کے اعتماد کا امتحان ہے۔محدود جنگ کا تصور یہاں اس لیے ابھرتا ہے کہ دونوں طاقتیں مکمل جنگ کے تباہ کن نتائج سے آگاہ ہیں اس لیے وہ ایسے آپشنز پر غور کر رہی ہیں جہاں تصادم کنٹرول میں رہے مگر پیغام واضح ہو۔ چین کی حکمت عملی میں گرے زون آپریشنز۔ بحری ناکہ بندی۔ فضائی دباؤ اور سائبر حملے شامل ہیں تاکہ بغیر براہ راست حملے کے تائیوان کو نفسیاتی اور معاشی طور پر مفلوج کیا جا سکے۔ اس کے مقابلے میں امریکہ آزادیٔ نیویگیشن آپریشنز۔ اسلحہ فراہمی۔ مشترکہ مشقوں اور سفارتی حمایت کے ذریعے یہ تاثر دیتا ہے کہ تائیوان تنہا نہیں۔جاپان اس منظرنامے میں سب سے اہم علاقائی کھلاڑی کے طور پر ابھرتا ہے کیونکہ اس کے جزائر تائیوان کے قریب ہیں اور امریکی اڈے جاپانی سرزمین پر موجود ہیں۔ جاپان کی نئی دفاعی پالیسی۔ میزائل صلاحیتوں میں اضافہ اور اجتماعی دفاع کے بیانیے نے چین کو واضح پیغام دیا ہے کہ کسی بھی تائیوان بحران کا دائرہ صرف ایک جزیرے تک محدود نہیں رہے گا۔
آسٹریلیا اسٹریٹجک گہرائی اور لاجسٹک سپورٹ کا کردار ادا کرتا ہے۔ AUKUS معاہدہ۔ آبدوز ٹیکنالوجی اور انٹیلی جنس شیئرنگ اسے امریکہ کے ایک قابل اعتماد جنوبی ستون میں بدل چکی ہے۔ اگرچہ آسٹریلیا براہ راست جنگ میں کودنے سے گریز کرے گا لیکن اس کی بندرگاہیں۔ فضائی سہولیات اور سیاسی حمایت امریکی جنگی منصوبہ بندی کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہیں۔بھارت کا کردار زیادہ پیچیدہ اور محتاط ہے۔ وہ چین کے ساتھ سرحدی تنازعات اور اسٹریٹجک رقابت کے باوجود تائیوان پر براہ راست فوجی مداخلت سے بچے گا۔ تاہم بحرہند میں اپنی بحری سرگرمیوں۔ کواڈ اتحاد اور سفارتی توازن کے ذریعے چین پر بالواسطہ دباؤ ڈال سکتا ہے۔محدود جنگ کا سب سے بڑا خطرہ یہی ہے کہ کنٹرول شدہ تصادم کسی ایک غلط اندازے۔ حادثے یا داخلی سیاسی دباؤ کے باعث مکمل جنگ میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ اسی لیے چین اور امریکہ دونوں تائیوان کو فوری جنگ کے محرک کے طور پر نہیں بلکہ ڈیٹرنس کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔تائیوان محض جنگ کا میدان نہیں بلکہ ایک نفسیاتی۔ سفارتی اور اسٹریٹجک لیور ہے جس کے ذریعے عالمی طاقتیں ایک دوسرے کی حدود کو جانچ رہی ہیں۔ اور اصل کامیابی اس فریق کے حصے میں آئے گی جو اس فلیش پوائنٹ کو جنگ کے بغیر اپنے حق میں استعمال کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔
مزید پڑھنے کے لیے براہ کرم ہمارے مضامین دیکھیں۔
