سپورٹس 0

چمن بارڈر بندش کے خلاف سپورٹس سے وابستہ افراد کا احتجاجی مظاہرہ اور پریس کانفرنس کیا گیا

(Publish from Houston Texas USA)

چمن( سید سردار محمد خوندئی بیوروچیف)

سینکڑوں اسپورٹس سے وابستہ افراد کی ریلی، بارڈر فوری کھولنے اور روزگار کی بحالی کا مطالبہ


سموار کے روز سرحدی شہر چمن میں یہاں مختلف سپورٹس کلبوں اور سینکڑوں کھلاڑیوں نے چمن پاک افغان بارڈر بندش کے خلاف ایک احتجاجی مظاہرے کا انعقاد کیا مظاہرے میں شریک سپورٹس سے وابستہ افراد نے چمن شہر کے مختلف شاہراہوں سے گزرتا ہوا شدید نعرے بازی کی اور مطالبہ کیا گیا کہ چمن پاک افغان بارڈر کو آمد ورفت کیلئے فوری طور پر کھول دیا جائے چمن پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بابائے سپورٹس محمد علی مدلا نے کہا کہ بلوچستان کے ضلع چمن سپورٹس کی دنیا میں ایک نام ہے اور یہ کھلاڑی اکثریت کا تعلق غریب گھرانوں سے ہیں انکی روزگار کا واحد ذریعہ چمن پاک افغان بارڈر پر روزانہ کی بنیاد پر چھوٹے چھوٹے چیزیں لانے اور خریدنے میں تھا مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اب یہ کھیل کود سے وابستہ افراد بھی زندگی کے شدید مشکلات سے دوچار ہیں انہوں نے مزید کہا کہ سرحد پار ہزاروں افراد پاکستانی دستاویزات ہونے کے باوجود پھنسے ہوئے ہیں جو چار مہنوں سے اپنے گھر نہیں آئے ہیں اب تعلیمی ادارے بھی کھول گئے انکے پاس کچھ نہیں بیروزگاری سے ہمارے علاقے کے باعزت عوام زندگی سے تنگ آچکے ہیں ہم چیف آف آرمی سٹاف جنرل چیف آف ڈیفنس فورسز سید حافظ منیر۔صدر پاکستان وزیراعظم وزیر اعلی بلوچستان کور کمانڈر بلوچستان اور ضلعی انتظامیہ سے اپیل کرتے ہیں کہ چمن پاک افغان بارڈر فوری طور پر کھول دیا جائے تاکہ عوام میں پائی جانی والی بے چینی دور ہوجائے
چمن، جسے پاکستان میں “چھوٹا برازیل” بھی کہا جاتا ہے، فٹبال کے کھیل کی وجہ سے شہرت رکھتا ہے۔ تاہم سرحدی بندش کے باعث شہر میں معاشی سرگرمیاں شدید متاثر ہوئی ہیں۔ مقامی کھلاڑیوں کا کہنا ہے کہ علاقے میں روزگار کا واحد بڑا ذریعہ سرحدی تجارت اور آمدورفت ہے، اور باب دوستی گیٹ کی بندش سے ہزاروں خاندان متاثر ہو رہے ہیں۔
مظاہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ انسانی ہمدردی اور معاشی بنیادوں پر سرحدی گیٹ کو کھولا جائے تاکہ نوجوانوں کو روزگار کے مواقع میسر آسکیں اور وہ کھیلوں سمیت مثبت سرگرمیوں میں حصہ لیتے رہے اور یہ نوجوان کھلاڑی اپنی روزگار سے وابستہ رہے

مزید معلومات کے لیے براہ کرم ہماری قومی خبریں دیکھیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں