(Publish from Houston Texas USA)
(میاں افتخار احمد)
چوتھی اپریل کا المیہ: بھٹو، بے نظیر اور زرداری کے فیصلوں نے پیپلز پارٹی کو صوبائی قید میں ڈال دیا
04 اپریل کی وہ صبح جب پاکستان کا خواب ٹکڑوں میں بٹ گیا: 4 اپریل کی سرد صبح لاڑکانہ کے اس چھوٹے سے قبرستان میں پھولوں کی خوشبو اور آنسوؤں کی تیز لہر لے کر آتی ہے۔ یہ کوئی عام صبح نہیں ہوتی۔ یہ اس خنجر کی چمک ہوتی ہے جو40 سال پہلے پاکستان کی سیاست کے مرکز میں اترا تھا۔ جب ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی گئی تو بہت کم لوگوں نے سوچا تھا کہ یہ صرف ایک شخص کی موت نہیں بلکہ ایک پارٹی کے جسم سے چاروں بازو کٹنے کا پہلا نشان تھا۔ اس صبح جب کارکن گڑھی خدا بخش پر جمع ہوتے ہیں تو وہ دراصل اس قمیض کو سمیٹنے آتے ہیں جسے چاروں صوبوں نے ایک ایک دھاگہ کر کے پھاڑ دیا۔ میری یہ تحریر اس تاریک سفر کی روداد ہے جہاں ایک قومی پارٹی آہستہ آہستہ صوبائی قید میں جکڑتی گئی اور جہاں ہر قائد نے اس قمیض پر ایک نیا پیوند ضرور لگایا مگر ہر پیوند کے ساتھ قمیض کا ایک اور کونے پھٹتا چلا گیا۔ چوتھی اپریل 1979 کو جب بھٹو پھانسی کے تختے پر چڑھے تو ان کی آنکھوں میں پورے پاکستان کا نقشہ تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ ان کی پارٹی سندھ سے لے کر خیبر تک اور پنجاب سے لے کر بلوچستان تک پھیلے۔ مگر آج جب کوئی 04 اپریل کے جلوسوں کو دیکھتا ہے تو اسے ایک حیرت ہوتی ہے کہ یہ تمام جلوس صرف سندھ کی سرزمین تک محدود کیوں ہیں؟ کیوں پنجاب کی سرزمین پر یہ سرخ جھنڈے اجنبی لگتے ہیں؟ کیوں پشاور کی گلیوں میں پیپلز پارٹی کا نام سن کر لوگ چونک جاتے ہیں؟ کیوں کوئٹہ میں پیپلز پارٹی کے دفاتر بند پڑے ہیں؟ یہ وہ سوالات ہیں جو 04 اپریل کی ہر تقریب میں بے آواز ہو کر رہ جاتے ہیں۔ بھٹو نے اپنی پارٹی کو ایک نظریہ دیا تھا، روٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ دیا تھا، مگر وہ یہ بھول گئے کہ یہ نعرہ تبھی کامیاب ہوتا ہے جب اس کے پیچھے ایک مضبوط تنظیم ہو۔ اور جب وہ خود ہی اپنے ہاتھوں سے اس تنظیم کی جڑیں کاٹنے لگیں تو پھر انجام صرف تباہی ہوتا ہے۔04 اپریل کی صرف ایک تاریخ نہیں ہے، یہ اس المیے کی سالگرہ ہے جہاں ایک عظیم لیڈر نے اپنی پارٹی کو ایک ایسا زخم دے دیا جو آج تک نہیں بھرا۔ اور جب ہم آج اس زخم کو دیکھتے ہیں تو ہمیں وہ پانچ ہزار صنعتیں یاد آتی ہیں جو بھٹو نے قومیائی تھیں ۔ وہ لاہور کے صنعتکار یاد آتے ہیں جنہوں نے قسم کھائی تھی کہ وہ بھٹو کی پارٹی کو پنجاب میں کبھی پنپنے نہیں دیں گے، اور وہ گوجرانوالہ کے کپڑے کے کارخانے یاد آتے ہیں جن کی قومیانے کی آج تک کوئی معافی نہیں ملی۔ 04 اپریل کو جب بھٹو کے مزار پر پھول چڑھائے جاتے ہیں تو ان پھولوں کے نیچے ایک تلخ حقیقت چھپی ہوتی ہے کہ یہ وہی بھٹو ہیں جن کی پالیسیوں نے پارٹی کو صوبائی قید میں ڈالا۔ یہ طنز دیکھیے کہ جس دن بھٹو کی شہادت کو خراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے، اسی دن دراصل اس پارٹی کی آخری رسومات بھی ادا کی جاتی ہیں۔ کیونکہ جب تک کوئی پارٹی اپنے بانی کے تاریک پہلوؤں کو نظر انداز کرتی رہے گی، وہ کبھی اپنے زخموں سے باہر نہیں آ سکتی۔04 اپریل کی صرف ایک یادگاری تاریخ ہے، لیکن یہ تاریخ ہر سال ہمیں وہی سبق دہراتی ہے کہ ایک غلط معاشی فیصلہ، ایک غلط سیاسی حکمت عملی، اور ایک غلط تنظیمی ڈھانچہ کسی بھی پارٹی کو عرش سے فرش پر گرا سکتا ہے۔ آج جب پاکستان کے نقشے پر نظر دوڑائی جائے تو پیپلز پارٹی کا سرخ رنگ صرف سندھ کے ایک چھوٹے سے حصے میں دکھائی دیتا ہے۔ باقی سب جگہ یہ رنگ مٹ چکا ہے یا مٹنے کے قریب ہے۔ اور یہ وہ حقیقت ہے جسے 04 اپریل کی کوئی تقریب چھپا نہیں سکتی۔
ذوالفقار کا وہ زہریلا تحفہ جسے قومیانہ کہتے ہیں

بھٹو کا زہریلا تحفہ اور شہر کی بغاوت – جب لائلپور نے اپنے بت کو توڑ پھینکا :04 اپریل کو جب لوگ ذوالفقار کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں تو کوئی ان کی معاشی پالیسیوں کا ذکر نہیں کرتا۔ مگر تاریخ کا سب سے بڑا طنز یہ ہے کہ جس شخص کو آج شہید کہا جاتا ہے، اس کے ہاتھوں ہی پارٹی کی قمیض کا پہلا اور سب سے بڑا سوراخ ہوا۔ ستر کی دہائی میں جب بھٹو صاحب نے پنجاب کی بڑی صنعتوں کو قومیانے کا فیصلہ کیا تو انہوں نے سوچا تھا کہ وہ غریبوں کا حق واپس لا رہے ہیں۔ مگر لاہور اور گوجرانوالہ کے صنعتکار اس فیصلے کو کبھی نہیں بھولے۔ انہوں نے بھٹو کو تو پھانسی پر لٹکا دیا مگر ان کے انتقام کی آگ نے پیپلز پارٹی کے پنجاب میں موجود ہر درخت کو جلا کر راکھ کر دیا۔ یہ صرف معاشی فیصلہ نہیں تھا بلکہ یہ ایک سیاسی خودکشی تھی۔ بھٹو نے اپنے ہاتھوں سے پنجاب میں پارٹی کی جڑیں کاٹ کر انہیں نواز شریف کے حوالے کر دیا۔ اور پھر وہی پنجاب جہاں کبھی بھٹو کے استقبال میں لاکھوں نکلتے تھے، آج پیپلز پارٹی کے لیے اجنبی سرزمین بن چکا ہے۔ یہ وہ زہریلا تحفہ تھا جو بھٹو نے اپنی پارٹی کو دیا۔ ایک ایسا تحفہ جس کی مٹھاس سندھ تک محدود رہی اور جس کا زہر پنجاب میں نسلوں تک پھیلتا رہا۔ میں آپ کو تفصیل سے سمجھاتا ہوں کہ قومیانے کی پالیسی نے کیسے پیپلز پارٹی کی ریڑھ کی ہڈی توڑ دی تھی ۔ جب بھٹو صاحب نے 1972 میں پہلا قومیانہ کیا تو انہوں نے دس بڑی صنعتوں کو اپنی تحویل میں لیا، جن میں سٹیل، سیمنٹ، کھاد اور مشینی آلات کی صنعتیں شامل تھیں۔ یہ صنعتیں زیادہ تر پنجاب کے صنعتکاروں کی ملکیت تھیں۔ ان صنعتکاروں نے نہ صرف اپنا سرمایہ کھویا بلکہ اپنی محنت کی کمائی بھی۔ ان میں سے بیشتر نے قسم کھائی کہ وہ بھٹو کی پارٹی کو کبھی معاف نہیں کریں گے۔ اور جب ضیاء الحق نے مارشل لگایا تو انہوں نے بھٹو کے خلاف عدالتی کیس میں بھرپور مدد کی۔ لیکن اصل تباہی اس وقت ہوئی جب بھٹو نے 1973 میں دوسرا مرحلہ شروع کیا اور چھوٹی صنعتوں کو بھی قومیانا شروع کر دیا۔ اس میں آٹا چکیاں، آئل ملز، دھان کی ملز اور یہاں تک کہ بسوں کی مالکانہ حقوق بھی شامل تھے۔ اب پنجاب کا متوسط طبقہ بھی بھٹو کے خلاف ہو گیا۔ یہ وہی متوسط طبقہ تھا جو بعد میں مسلم لیگ ن کا مضبوط ترین ووٹ بینک بنا۔ قومیانے کی وجہ سے صنعتیں بیمار ہو گئیں۔ ان میں بدانتظامی، زیادہ ملازمین، اور جدید کاری کی کمی نے کارکردگی کو تباہ کر دیا۔ سرمایہ کاروں نے پاکستان سے باہر جانا شروع کر دیا۔ غیر ملکی سرمایہ کاری ختم ہو گئی۔ اور یہ سب کچھ اس وقت ہوا جب پاکستان پہلے ہی معاشی بحران کا شکار تھا۔ مگر بھٹو کی بدقسمتی یہ تھی کہ انہوں نے اپنی پارٹی کے کارکنوں کو بھی نظر انداز کر دیا۔ جو کارکن بھٹو کے نعرے پر یقین رکھتے تھے، وہ بھی جب دیکھتے کہ پارٹی میں فیصلے صرف ایک خاندان تک محدود ہیں تو ان کا جوش ٹھنڈا ہو گیا۔ 04 اپریل کو جب لوگ بھٹو کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں تو وہ بھول جاتے ہیں کہ وہی بھٹو تھے جنہوں نے پارٹی کو خاندانی جاگیر بنا دیا تھا۔ ان کے بعد آنے والے تمام قائدین نے یہی روایت جاری رکھی۔ بے نظیر نے بھی پارٹی کو خاندانی ورثہ سمجھا اور زرداری نے تو اسے ذاتی کاروبار بنا دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ پیپلز پارٹی میں نظریاتی کارکنوں کی جگہ خاندانی وفاداروں نے لے لی۔ اور جب پارٹی میں نظریہ ختم ہو جائے تو پھر وہ پارٹی صرف ایک خاندان کی نمائندگی کرتی ہے، عوام کی نہیں۔ قومیانے کی پالیسی نے پنجاب میں پیپلز پارٹی کو صرف ایک سیاسی قوت ہی نہیں بلکہ ایک معاشی قوت بھی کھو دی۔ اور جب کسی پارٹی کے پاس نہ پیسہ ہو، نہ عوامی حمایت، اور نہ تنظیم، تو پھر وہ صرف سندھ جیسے صوبے میں پناہ لے سکتی ہے جہاں کوئی مضبوط متبادل نہ ہو۔ چوتھی اپریل کی ہر تقریب میں یہی تلخ حقیقت چھپی ہوتی ہے کہ جس قائد کو شہید کیا گیا، اس کی پالیسیوں نے پارٹی کو قومی سطح سے صوبائی سطح پر لا کر کھڑا کر دیا۔ اور اب یہ پارٹی آخری سانس لے رہی ہے۔
بے نظیر کی وہ مسکراہٹ جس نے سندھ کی دیوار بنائی اور آصف کا وہ ہاتھ جس نے قمیض کو قبر میں دھکیل دی





04 اپریل کی تقریبات میں بے نظیر بھٹو کی تصویر بھی ہوتی ہے۔ وہ تصویر جس کی مسکراہٹ میں پوری پارٹی اپنا آئینہ دیکھتی ہے۔ مگر یہ وہی بے نظیر تھیں جنہوں نے اپنے والد کی معاشی پالیسی کو مسترد کر کے پرائیویٹائزیشن کا راستہ اپنایا۔ یہ وہی بے نظیر تھیں جو لاڑکانہ سے لے کر کراچی تک تو پہنچ گئیں مگر پشاور اور کوئٹہ کو بھول گئیں۔ ان کے دور میں پیپلز پارٹی نے پنجاب میں تو پہلے ہی سے سانس توڑ دی تھی، اب خیبر پختونخوا اور بلوچستان بھی آہستہ آہستہ اس پارٹی کی نظر سے اوجھل ہوتے چلے گئے۔ اور پھر آیا وہ لمحہ جب پارٹی کی باگ ڈور آصف علی زرداری کے ہاتھ میں آئی۔ زرداری صاحب نے مفاہمت کا نیا چلن ڈالا۔ انہوں نے اپوزیشن کو دوست بنایا، فوج سے سمجھوتے کیے، اور سیاست کو کاروبار بنا دیا۔ مگر اس مفاہمت کی قیمت یہ چکائی کہ پارٹی کا نظریاتی کردار ختم ہو گیا۔ زرداری صاحب نے جب کبھی پنجاب میں پارٹی کی تنظیم نو کی تو ایسے لوگوں کو عہدے دیے جن کا علاقے سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ گوجرانوالہ میں صدور بنائے گئے جنہوں نے کبھی ضلع کا نقشہ بھی نہیں دیکھا تھا۔ سیالکوٹ میں عہدے بانٹے گئے جیسے کوئی جائیداد تقسیم ہو رہی ہو۔ نتیجہ یہ ہوا کہ پیپلز پارٹی کا پنجاب میں وجود صرف کاغذات تک محدود ہو گیا۔ بلوچستان میں کچھ نشستیں تو ملیں مگر وہ بھی زرداری کی ذاتی مفاہمتوں کی وجہ سے، پارٹی کی کارکردگی کی وجہ سے نہیں۔ خیبر پختونخوا میں تو پارٹی ایسی معدوم ہو گئی جیسے کبھی تھی ہی نہیں۔ سندھ بچ گیا، مگر وہ بھی اس لیے کہ سندھ میں کوئی دوسرا متبادل نہیں تھا۔ ورنہ وہاں کی ناقص حکمرانی، کراچی کا نظر انداز کیا جانا، اور بالائی سندھ میں دوسری جماعتوں کا بڑھتا ہوا اثر بتا رہا تھا کہ یہ آخری گڑھ بھی زیادہ دن نہیں رہے گا۔ بے نظیر کے دور میں ایک اہم واقعہ پیش آیا جب انہوں نے 1988 میں آئی ایم ایف کے ساتھ پہلا سٹرکچرل ایڈجسٹمنٹ پروگرام منظور کیا۔ اس پروگرام نے قومیانے کی پالیسی کو ختم کر کے پرائیویٹائزیشن کا آغاز کیا۔ یہ ایک اچھا معاشی فیصلہ تھا، لیکن سیاسی طور پر اس نے پارٹی کے اندر ایک خلاء پیدا کر دیا۔ کیونکہ جب پارٹی نے اپنے بانی کی معاشی پالیسی کو مسترد کر دیا تو اس کا مطلب یہ تھا کہ پارٹی کا کوئی مستقل نظریہ نہیں ہے۔ بے نظیر نے پنجاب میں پارٹی کو بحال کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔ ان کا زیادہ تر وقت مخالفین سے ٹکراؤ اور پھر مفاہمت میں گزرا۔ اور جب وہ شہید ہو گئیں تو پارٹی میں قیادت کا ایک ایسا خلاء پیدا ہوا جسے پر کرنا ناممکن تھا۔ پھر زرداری نے اس خلاء کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کیا۔ انہوں نے پارٹی کو اپنا ذاتی کاروبار بنا لیا۔ جو کارکن بے نظیر کے ساتھ کھڑا تھا، اسے یا تو نکال دیا گیا یا اسے بے حد کمزور کر دیا گیا۔ زرداری نے مفاہمت کی سیاست کو اس حد تک آگے بڑھایا کہ پیپلز پارٹی اپوزیشن میں بھی حکومت کی طرح کام کرتی تھی۔ انہوں نے کبھی بھی پنجاب میں تنظیم سازی پر توجہ نہیں دی کیونکہ انہیں لگتا تھا کہ سندھ ہی کافی ہے۔ 04 اپریل کو جب زرداری بھٹو کے مزار پر حاضری دیتے ہیں تو وہ دراصل اس پارٹی کی آخری رسومات میں شرکت کر رہے ہوتے ہیں جسے انہوں نے خود اپنے ہاتھوں سے قبر میں اتارا۔ بے نظیر کی مسکراہٹ آج صرف تصویروں میں رہ گئی ہے، اور زرداری کا ہاتھ وہ ہاتھ ہے جس نے پارٹی کی قمیض کے آخری دھاگے بھی توڑ دیے۔ اب یہ قمیض صرف سندھ کی ہوا میں لہراتی ہے، اور وہ بھی بہت کمزور ہوتی جا رہی ہے۔
آخری سانس لیتا صوبہ – کیا سندھ بھی چھوڑ دے گا پیپلز پارٹی کا ہاتھ؟
04 اپریل کی شام جب لوگ اپنے گھر لوٹتے ہیں تو ان کے چہروں پر ماتم اور جوش دونوں ہوتے ہیں۔ مگر اس بار ماتم کچھ زیادہ ہے۔ کیونکہ 2024 کے الیکشن نے ایک تلخ حقیقت سب کے سامنے رکھ دی ہے۔ پنجاب میں صرف دس نشستیں، خیبر پختونخوا میں چار، بلوچستان میں گیارہ، اور سندھ میں چونکہ پوری طاقت ہے تو اکثریت تو مل ہی گئی۔ مگر یہ اکثریت بھی اب پہلے جیسی نہیں رہی۔ کراچی میں ایم کیو ایم اور جماعت اسلامی نے پیپلز پارٹی کو گھیرنا شروع کر دیا ہے۔ حیدرآباد میں اردو بولنے والوں کا غصہ پھٹ پڑتا ہے تو وہ بھٹو کے اس قومیانے کو یاد کرتے ہیں جس نے ان کے کارخانے چھینے تھے۔ بالائی سندھ میں جمعیت علمائے اسلام کے علمبردار پشتون علاقوں میں پیپلز پارٹی کے گڑھ کو کمزور کر رہے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ جب سندھ میں بھی یہ حال ہو گا تو پیپلز پارٹی کہاں جائے گی؟ کیا وہ دن دور ہے جب 04 اپریل کی یہ بھیڑ بھی کم ہو جائے گی؟ جب گڑھی خدا بخش میں پھولوں کی بجائے چپ سا رہ جائے گا؟ اگر سندھ کی موجودہ سیاسی صورت حال کا تفصیلی جائزہ لیتے ہیں تو سندھ میں پیپلز پارٹی کو تین بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔ پہلا چیلنج کراچی ہے، جو پاکستان کا سب سے بڑا شہر اور معاشی مرکز ہے۔ کراچی میں پیپلز پارٹی کا اثر و رسوخ بہت کم ہے۔ یہاں ایم کیو ایم، پاکستان تحریک انصاف، اور جماعت اسلامی نے مضبوط پکڑ بنا رکھی ہے۔ کراچی کے عوام پیپلز پارٹی کی ناقص حکمرانی سے تنگ آ چکے ہیں۔ صفائی کے نظام سے لے کر بجلی اور پانی کے بحران تک، ہر مسئلے میں پیپلز پارٹی ناکام رہی ہے۔ دوسرا چیلنج حیدرآباد اور دیگر شہری علاقے ہیں جہاں اردو بولنے والوں کی بڑی تعداد آباد ہے۔ یہ لوگ بھٹو کے قومیانے کو آج تک نہیں بھولے۔ ان کا کہنا ہے کہ بھٹو نے ان کے کارخانے چھین کر انہیں معاشی طور پر کمزور کر دیا۔ اور جب پیپلز پارٹی نے کبھی اس پر معافی نہیں مانگی تو ان کا غصہ اور بھی بڑھ گیا۔ تیسرا چیلنج بالائی سندھ کے پشتون علاقے ہیں جہاں جمعیت علمائے اسلام اور دیگر مذہبی جماعتیں تیزی سے ابھر رہی ہیں۔ یہاں پیپلز پارٹی کے روایتی ووٹ بینک کو شدید خطرہ ہے۔ ان تینوں چیلنجوں کے علاوہ ایک چوتھا چیلنج یہ بھی ہے کہ پیپلز پارٹی کے اندر ہی بے چینی بڑھ رہی ہے۔ کارکنوں کا کہنا ہے کہ پارٹی میں صرف خاندان کے لوگوں کو اہمیت دی جاتی ہے، جبکہ محنتی اور نظریاتی کارکنوں کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک پارٹی میں اندرونی جمہوریت نہیں آئے گی، تب تک یہ پارٹی مزید کمزور ہوتی جائے گی۔ تاریخ بتاتی ہے کہ جو پارٹیاں اپنے بانی کے خواب کو قومی سطح پر نہیں پہنچا پاتیں، وہ آہستہ آہستہ لوکل پارٹی بن جاتی ہیں۔ پیپلز پارٹی آج اس مقام پر کھڑی ہے جہاں سے واپسی ممکن ہے یا نہیں، یہ تو وقت بتائے گا۔

مگر اتنا طے ہے کہ 04 اپریل کی ہر تقریب اب ایک جنازے کی طرح ہے۔ ایک ایسے خواب کا جنازہ جو کبھی چاروں صوبوں میں سرخ جھنڈے لہراتا تھا اور آج صرف سندھ کی مٹی میں دم توڑ رہا ہے۔ قومیانے کی وہ زہریلی دوا، بے نظیر کی وہ بھول بھلیاں، اور زرداری کی وہ مفاہمتی سیاست – تینوں نے مل کر وہ قمیض اتنی پھاڑی کہ اب اسے سلانا ممکن نہیں رہا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا بلاول بھٹو اس قمیض کو نئی سلائی دے سکتے ہیں یا پھر 04 اپریل کی یہ کہانی محض ایک لوک کہانی بن کر رہ جائے گی۔ 04 اپریل کو جب اگلی بار موم بتیاں جلائی جائیں گی تو شاید وہ کسی نئی امید کے ساتھ جلائی جائیں، یا شاید پھر وہ اسی بجھتے چراغ کی آخری لو ہوں گی۔ تاریخ نے دیکھا ہے کہ جب کوئی پارٹی اپنے بانی کے فلسفے کو بھلا کر صرف مفاہمت کی سیاست کرتی ہے، تو اس کا انجام صوبائی قید کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ اور پیپلز پارٹی کا انجام آج سب کے سامنے ہے۔ ایک بار پھر چوتھی اپریل آئے گی، پھر لوگ نکلیں گے، پھر پھول چڑھیں گے، مگر اس بار شاید آنسوؤں میں ایک نیا سوال بھی ہوگا: کیا ہم نے اپنی پارٹی کو بچانے کے لیے واقعی وہ سب کیا جو کرنا چاہیے تھا؟ جواب شاید اس قمیض کے پھٹے ہوئے کپڑوں میں چھپا ہے جو اب صرف لاڑکانہ کے اس قبرستان تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ پیپلز پارٹی اپنے زخموں کا جائزہ لے، ورنہ آنے والی 04 اپریل میں صرف تاریخ کے صفحات میں اس کا ذکر ہوگا۔
مزید پڑھنے کے لیے براہ کرم ہمارے مضامین دیکھیں۔