پاکستان دنیا کے افق پر سرخرو
اس سے پہلے کہ میں اپنے کالم کی طرف آجاوں چمن پاک افغان بارڈر اور اورمچی میں طالبان اور پاکستان کی مذاکرات بغیر کسی اعلامیہ کے اختتام پذیر ہو گئے اگرچہ اس مذاکرات میں یہ بات آئی کہ دونوں جانب سے تجاوز پیش کئے گئے اور اس پر ثالث چین کے توسط سے مزید مذاکرات بھی ہونگے دونوں ممالک کے وفود اپنے ملک روانہ ہوگئے یہ وفود یہاں پر اس مذاکرات کے متعلق اپنے اعلی حکام کو آگاہ کریں گے۔
میں آج بھی اس بات پر قائم ہوں کہ ریاستیں تجارت اچھے سفارتی تعلقات سے آگے بڑھ سکتے ہیں جذبات نہیں ہوش کا وقت ہے دنیا بدل رہی ہے۔
دوسری بات چمن پاک افغان بارڈر کی طویل بندش نے یہاں پر ہزاروں افراد کو بیروزگار کر دیا اسکی بندوبست اور روزگار دینا بھی حکومت ہی کی ذمہ داری ہے اور وہاں پاک افغان بارڈر پر موجود پاکستان کے عوام کو باعزت طریقے سے اپنے ملک لانا اور اجازت دینا بھی حکومت کی ذمہ داری ہے اس چمن پاک افغان بارڈر کی بندش پر گزشتہ تین سال سے اپنے کالموں میں کئ بار ذکر کر چکا ہوں مزید بھی لکھوں گا۔
اب پاکستان ہمیشہ زندہ باد کی موضوع کی طرف آتے ہیں کہ وہ پاکستان جو کل تک ہمارے بعض ناقدین اور بھارت سمیت عالمی سامراجی ذہنیت اس کو ڈیفالٹ کرنے کی انتظار میں رہے مگر اسرائیل امریکہ اور ایران کی اس چھبیسویں دنوں کی جنگ میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے کے علاوہ انسانی ضیاع اور دیگر اربوں ڈالر کے نقصانات نے پوری دنیا کو لرزہ کر رکھ دیا جنگ میں میڈل ایسٹ کی نقصانات اس سے علاوہ ہے مختلف تجزیے اور تبصرے ہوئے کہ اس جنگ کا اختتام ایک تباہی کے سوا کچھ نہیں بچے گا۔
اگرچہ ایران نے امریکہ اسرائیل کا چھبیسویں دن مستقل مزاجی سے مقابلہ کیا اور اپنے تمام جنگی اور سیاسی لیڈر شپ سے محروم رہے مگر ہارنے کے لئے تیار نہیں تھے سعودی کا صبر تحمل کا مظاہرے نے اس خونی جنگ کو مسلم ممالک کو پاکستان کے کہنے پر بچا لیا۔
اس کے ساتھ کہ گزشتہ روز ایران نے سعودی پر مزائلوں سے خطرناک اور نقصاناتدہ حملہ کیا گیا مگر پاکستان نے اس حملے پرسخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ جاری آمن مذاکرات خدانخواستہ سبوتاژ کرسکتا ہے گزشتہ روز پاک فوج کے کور کمانڈرز کانفرنس میں بھی اس حملے پر سخت تشویش کا اظہار کیا۔
لیکن پاکستان کے وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل ڈیفنس فورسز کے چیف سید حافظ عاصم منیر نے گزشتہ رات تین بجے تک اس جنگ اور ڈونلڈ ٹرمپ کے 48 گھنٹوں کے بعد ایران کے تمام ہداف نشانہ بنانے کی اعلان پورا ہونے سے ایک گھنٹہ پہلے پاکستان اس جنگ کو دو ہفتے تک بند کرنے میں کامیاب ہوگئے اور آبنائے آرمز بھی کھول دیا گیا۔
یہ مذاکرات اب ان شاءاللہ 10 اپریل بروز جمعہ کو پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں منعقد ہونگے شیطانی قوتوں کا اب بھی یہاں مذاکرات میں رکاوٹ ڈالنے کا خدشہ ہر وقت موجود رہتا ہے مجھے اندازہ ہے کہ پاکستان کے ادارے سے سے غافل نہیں۔
ایک بات جو قابل ذکر ہے کہ پاکستان نے ایران پر یو ای اے کو ناراض کر دیا اب یہ ایران پر منحصر ہے کہ وہ آئندہ یہ احسان بھول کر پرانے روش اختیار کر ینگے جنگ بندی کے اعلان ہوتے ہی پورے ایران میں جشن کا سماں تھا اور ہر ایک کے ہاتھ میں پاکستان کی سبز ہلالی پرچم نظر آرہا تھا۔
بھارت میں مودی انتہا پسند پر شدید تنقید اور عوامی دباؤ کا شکار ہو گئے ہیں وہاں صف ماتم ہے یہ بات کہ ہمیں پاکستان کو تسلیم کرنا ہوگا یہ ہمارے ملک ہے اس ملک کے بغیر ہم کچھ نہیں اور اب تو اللہ رب العزت نے دنیا کے افق پر سرخرو کرکے بڑا مقام عطاء فرمایا ہے اسکی شکر ادا کرنا چاہیے۔
اس چھبیسویں دنوں میں پاکستانی کردار یوں ہے کہ
آئی ایم ایف سے قرض لیا گیا افغانستان اور عوام، دونوں کی منجی ٹھوکی۔ امریکا سے جپھی ڈالی۔ چین سے جنگ بندی کی بات کی۔ ایران کے ساتھ کھڑے ہوئے۔ سعودی عرب پر حملے کی مذمت کی اور مشترکہ دفاعی معاہدہ پانی شانی مار کر دوبارہ تازہ کیا۔ پڑوسی کی آتما رولتے ہوئے دنیا میں ایکسٹریم ازم کے ‘ایکسپورٹر’ ملک میں ‘اسلام آباد اکارڈ’ کا رولا ڈالا۔ آبنائے ہرمز، جہاں دنیا بھر کی سٹی گم ہے، وہاں پاکستانی جھنڈے کے زور پر جہاز گزارے۔ امارات کو تین ارب ڈالرز قرض واپس دینے کی یقین دہانی کرائی۔ ٹرمپ کو دو ہفتے کی مہلت دلوائی۔ اقوام متحدہ میں بحرین کی قرارداد پر ووٹ دینے سے بھی بچ بچا کرلیا۔ ٹرمپ جیسے سانڈ کو آخری لمحات میں تعویز کرکے ایرانی سول آبادی کو بہت بڑی بربادی سے بچایا۔ عالمی ثالث بنے۔ آبنائے ہرمز کھلوائی۔ دنیا بھر کو تیسری عالمی جنگ سے (دو ہفتے) کے لیے بال بال بچا لیا گیا۔
اسے کہتے ہیں پاکستان۔ جہاں بقا بھی معجزہ ہے اور معجزہ بھی معمول ہے۔ الحمد للہ۔ پاکستان ہمیشہ زندہ باد رہیگا ان شاءاللہ۔ مزید اگلے کالم میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔