وقت کے فرعون کی ناک میں نکیل کے تناظر میں مسلم دنیا، معمر قذافی، عالمی سیاست، دفاعی طاقت اور مغربی حکمت عملی پر مبنی ایک تجزیاتی مضمون۔
عیدالفطر کے موقع پر میں اکثر کوشش کرتا ہوں کہ اس فرصت کے لمحات میں بھی کچھ پڑھ لوں اور مطالعہ کروں الحمدللہ میرے پاس کتابوں کے علاوہ اور کچھ نہیں اس عیدالفطر پر تین کتابوں کا مکمل مطالعہ نصیب ہوا جو مختلف سیاسی و عسکری تجزیہ کاروں اور تجربہ کار لیڈر شپ نے تحریر فرمایا ہے اس میں ایک پاکستانی نشیب و فراز سے واقف چوھدری شجاعت حسین صاحب کا ایک کتاب ہے
۔۔سچ تو یہ ہے۔۔ میں عجیب و غریب واقعات ذکر ہے میں نے بھی موجودہ صورتحال خلیجی ریاستوں اسرائیل ایران اور امریکہ جنگ کے تناظر میں یہ اقتباس قابل تحسین سمجھا کہ اس دور میں میں اگر ایک مضبوط توانا ریاستوں کے لئے معیشت اشد ضروری ہے مگر اس سے بھی بڑھ کر ایک مضبوط فوج اور دفاع بھی از حد ضروری ہے اگرچہ میں یہ نہیں مانتا کہ اسٹیبلشمنٹ اور ریاستی ادارے طاقت کا سرچشمہ ہو میں پاکستان کے آئین میں لکھا تمام اداروں کو اپنے ادارہ اختیار میں رہ کر کردار ادا کرنے کا حامی ہوں مگر یہ چوھدری شجاعت حسین صاحب کا یہ کتاب پڑھ کر دل میں خیال آیا کہ شاید نہیں بلکہ یقین کے حد تک مضبوط افواج اور دفاعی صلاحیت کتنا ضروری ہے وہ اپنے کتاب یہ سچ ہے میں تحریر کرتے ہیں کہ پاکستان کے ایٹمی دھماکوں کے بعد انہیں خصوصی طور پر لیبیا بھیجا گیا تاکہ انکو بھی اعتماد میں لیا جائے جب کرنل قذافی نے اپنے خیمے میں کھڑے ہوکر ہماری استقبال کیا، اور یہ دیکھ کر حیرانی ہوئی کہ 200 بلین ڈالر کی دولت کے مالک کے خیمے میں افریقہ کی سخت گرمی میں نہ گرمی کیلئے بندوبست تھا اور نہ پنکھا۔ چوہدری شجاعت رقمطراز ہیں کہ میں نے کرنل قذافی کو بتایا کہ لاہور میں ان کے گھر کے قریب ایک بہت بڑا سٹیڈیم انکے نام سے مشہور اور منسوب ہے جس کو قذافی سٹیڈیم کہلاتا ہے، اور اگر آپ پاکستان تشریف لائیں تو لاکھوں پاکستانی آپ کو دیکھنے اور سننے کے لیے امڈ آئیں گے۔ یہ وہ قذافی تھے جو خیمے میں سوتے تھے مگر دلوں پر راج کرتے تھے، جن کے نام کا سٹیڈیم پاکستان میں بھی تھا مگر مغرب کی نظر میں وہ ایک خطرہ تھے جسے بالآخر اپنے ہی ملک کی سڑک پر گھسیٹ کر قتل کردیا گیا۔ شہید معمر قذافی نے واقعی ملک اور امت مسلمہ کے خیرخواہ تھے مگر انکی تمام تر توجہ ملکی معیشت پر مرکوز تھا دفاعی نظام سے دور رہا یہ بھی سن لیں
لیبیا میں ہر شہری کو مفت بجلی، مفت تعلیم اور مفت علاج ملتا تھا، بغیر سود کے قرض دیا جاتا تھا، ہر نوشادی شدہ جوڑے کو گھر بنانے کے لیے پچاس ہزار ڈالر اور ہر نومولود کی ماں کو پانچ ہزار ڈالر مفت دیے جاتے تھے۔ گاڑی خریدنے پر پچاس فیصد سبسڈی، پٹرول محض چالیس روپے فی لیٹر، شراب اور جوئے پر مکمل پابندی عائدکردی گئی تھی، پچاس فیصد شرح خواندگی اور ایک سو پچاس ارب ڈالر سے زائد اثاثوں کے ساتھ لیبیا پر کوئی بیرونی قرض نہیں تھا۔ یہ وہی کرنل معمر قذافی تھے جنہیں مغربی میڈیا نے ڈکٹیٹر اور ظالم کہہ کر پیش کیا اور نیٹو کے بموں سے اُن کا ملک تباہ کردیا گیا، آج وہی لیبیا خانہ جنگی، غربت اور انتشار کا شکار ہے۔ سوال یہ ہے کہ جمہوریت کے نام پر جو آزادی لیبیا کو ملی، کیا وہ معمر کرنل قذافی کے اُس دور سے بہتر ہے جب عوام کو مفت گھر اور سستا پٹرول ملتا تھا ہر گز نہیں
کیا ابھی بھی مسلم ممالک کو سمجھ نہیں آرہی کہ مغرب کیوں چند مسلم ممالک کے خلاف کاروائیاں کر رہے ہیں ۔
چند مسلم ممالک کے سربراہان اور جرنیلوں کی تعریفوں کے پل کیوں باندھے جا رہے ہیں ۔
چند مسلم ممالک کو کیوں آپس میں لڑایا جارہا ہے ؟
مغرب کبھی بھی مسلم ممالک کو طاقتور نہیں بننے دیتے اب اس سے قطع نظر کہ نیٹو یورپ اور امریکہ حکام تک ڈونلڈ ٹرمپ سے بات کرنے کی جسارت نصیب نہیں لیکن گزشتہ روز پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اسی ٹرمپ سے فون پر گفتگو کی یہ الگ بات ہے کہ اب اگر یہ مذاکرات پاکستان کی ثالثی میں خبریں مل رہی ہیں اللہ کریں یہ مذاکرات کامیاب ہو مگر یہ پاکستان کے لئے بھی امتحان سے کم نہیں اور ایک بہت بڑا بوجھ ہے۔ متضاد اطلاعات میں یہ مذاکرات عرب دنیا اور ایران سمیت فوری طور پر نے ظاہری طور پر خیر مقدم کیا ہے۔۔۔ مزید اگلے کالم میں
مزید پڑھنے کے لیے براہ کرم ہمارے مضامین دیکھیں۔