(Publish from Houston Texas USA)
(رپورٹ :عاصم صدیقی واشنگٹن ڈی سی)
واشنگٹن ڈی سی میں پاکستانی سفارتخانے کی میزبانی میں بین المذاہب افطار ڈنر، سفیر رضوان سعید شیخ، امریکی حکام اور مختلف مذاہب کے رہنماؤں کی شرکت، صدر آصف علی زرداری کا خصوصی پیغام بھی پڑھ کر سنایا گیا
واشنگٹن، 26 فروری 2026: پاکستان کے سفارتخانے نے واشنگٹن ڈی سی میں سالانہ بین المذاہب افطار ڈنر کا اہتمام کیا، جس میں امریکی حکام، سفارتکاروں، مختلف مذاہب کے رہنماؤں، پاکستانی امریکن کمیونٹی اور میڈیا نمائندگان کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ تقریب کا مقصد مختلف مذاہب اور ثقافتوں کے درمیان امن، مکالمے اور باہمی احترام کو فروغ دینا تھا۔ تقریب میں صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کا پیغام بھی پڑھ کر سنایا گیا، جس میں عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بین المذاہب تعاون اور رواداری کی اہمیت پر زور دیا گیا۔ مختلف مذاہب کے رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے مذہبی ہم آہنگی، برداشت اور مشترکہ انسانی اقدار کو فروغ دینے کی ضرورت پر اتفاق کیا۔


امریکی محکمہ خارجہ کی پرنسپل ڈپٹی اسسٹنٹ سیکریٹری نکول شولک نے خطاب میں کہا کہ پاکستان اور امریکہ امن اور مذہبی آزادی کے فروغ میں شراکت دار ہیں۔ انہوں نے سیکیورٹی اور باہمی تعاون کو دونوں ممالک کے مشترکہ مفاد قرار دیا۔ اسی موقع پر مارک واکر نے کہا کہ مختلف عقائد کے افراد کا ایک چھت تلے جمع ہونا اتحاد اور باہمی احترام کی علامت ہے۔ پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے اپنے خطاب میں بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے 11 اگست 1947 کے خطاب کا حوالہ دیتے ہوئے مذہبی آزادی اور عبادت کے حق کو قومی نظریے کی بنیاد قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کی سطح پر مذہبی ہم آہنگی کے فروغ میں فعال کردار ادا کرتا رہے گا۔
تقریب کے اختتام پر سفیر نے شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے مستقبل میں بھی بین المذاہب مکالمے کو جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔
مزید معلومات کے لیے براہ کرم ہماری بین الاقوامی خبریں دیکھیں۔