(Publish from Houston Texas USA)
(میاں افتخار احمد)
واشنگٹن میں پاکستان کی حالیہ سفارتی کامیابی محض ایک وقتی پیش رفت نہیں بلکہ ایک طویل، صبر آزما اور باریک بینی سے ترتیب دی گئی سفارتی حکمتِ عملی کا نتیجہ ہے جس نے عالمی طاقتوں کے مراکز میں پاکستان کی ساکھ کو ازسرِنو متعین کیا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب جنوبی ایشیا شدید جیوپولیٹیکل کشیدگی، عالمی طاقتوں کی صف بندی اور اقتصادی غیر یقینی کیفیت سے گزر رہا ہے، پاکستان نے خود کو ایک ذمہ دار، ناگزیر اور قابلِ اعتماد شراکت دار کے طور پر منوا کر یہ ثابت کردیا ہے کہ فعال سفارتکاری کس طرح علاقائی تنازعات کو عالمی سفارتی فائدے میں تبدیل کر سکتی ہے۔بین الاقوامی جریدہ دی ڈپلومیٹ کی حالیہ رپورٹ دراصل اسی بدلتی ہوئی عالمی سوچ کی عکاس ہے جس میں پاکستان کو محض ایک علاقائی ریاست نہیں بلکہ ایک اسٹریٹیجک پلیر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ دی ڈپلومیٹ جیسے معتبر جریدے کی جانب سے پاکستان کی تعریف اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلام آباد نے واشنگٹن میں اپنی بات نہ صرف سنی بلکہ منوائی بھی ہے۔ یہ کامیابی اس وقت مزید نمایاں ہو جاتی ہے جب اس کا تقابل بھارت کی موجودہ سفارتی تنہائی اور امریکا کے ساتھ بگڑتے تعلقات سے کیا جائے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان نے ایک علاقائی تنازع کو عالمی سفارتی فائدے میں بدلنے کی غیر معمولی صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔ جنوبی ایشیا میں کشیدگی، خاص طور پر پاکستان اور بھارت کے درمیان دیرینہ تنازع، عموماً پاکستان کے لیے سفارتی دباؤ کا سبب بنتا رہا ہے، مگر اس بار منظرنامہ یکسر مختلف دکھائی دیتا ہے۔ پاکستان نے نہ صرف اپنا مؤقف مؤثر انداز میں پیش کیا بلکہ یہ بھی واضح کیا کہ خطے میں پائیدار امن کے بغیر عالمی سلامتی اور معاشی استحکام ممکن نہیں۔ اسی نکتے نے واشنگٹن میں پالیسی سازوں کو یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ پاکستان کو نظرانداز کرنا خود امریکی مفادات کے خلاف ہو سکتا ہے۔
دی ڈپلومیٹ نے واضح طور پر نشاندہی کی ہے کہ بھارت اس وقت پچاس فیصد امریکی ٹیرف اور صدارتی دورے سے محرومی کا شکار ہے۔ یہ صورتحال محض تجارتی یا سفارتی اختلاف کا نتیجہ نہیں بلکہ اس گہری منجمد کیفیت کی علامت ہے جس میں امریکا اور بھارت کے تعلقات داخل ہو چکے ہیں۔ بھارت کی جانب سے پاکستان کے ساتھ تنازع پر امریکی ثالثی کی پیشکش کو مسترد کرنا بظاہر ایک خود اعتمادی پر مبنی فیصلہ دکھائی دیتا ہے، مگر درحقیقت اسی فیصلے نے واشنگٹن اور نئی دہلی کے درمیان فاصلے کو مزید بڑھا دیا ہے۔ امریکی قیادت اب یہ محسوس کر رہی ہے کہ بھارت نہ تو خطے میں استحکام کے لیے لچک دکھا رہا ہے اور نہ ہی امریکی سفارتی کاوشوں کو سنجیدگی سے لے رہا ہے۔
اس کے برعکس پاکستان نے معاملہ فہمی، حقیقت پسندی اور سفارتی بلوغت کا مظاہرہ کیا۔ یہی وجہ ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پاکستانی آرمی چیف کو وائٹ ہاؤس میں مدعو کرنا ایک غیر معمولی سفارتی اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔ اس دعوت نے یہ پیغام دیا کہ امریکا پاکستان کی عسکری اور سیکیورٹی قیادت کو خطے میں امن و استحکام کے لیے کلیدی حیثیت دیتا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا وائٹ ہاؤس کا دورہ محض رسمی ملاقات نہیں تھا بلکہ اس کے پیچھے ایک وسیع تر اسٹریٹیجک ایجنڈا کارفرما تھا۔
ٹرمپ اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے درمیان ہونے والی گفتگو محض سلامتی یا عسکری تعاون تک محدود نہیں رہی بلکہ اس کا دائرہ تجارت اور سرمایہ کاری تک پھیل گیا۔ یہ وہ نکتہ ہے جو پاکستان کی سفارتی کامیابی کو ایک نئے درجے پر لے جاتا ہے۔ پاکستان نے واشنگٹن میں یہ واضح کیا کہ وہ صرف سیکیورٹی شراکت دار نہیں بلکہ ایک معاشی موقع بھی ہے۔ خطے میں ابھرتی ہوئی مارکیٹس، نوجوان آبادی اور جغرافیائی محلِ وقوع پاکستان کو سرمایہ کاری کے لیے ایک پرکشش ملک بناتے ہیں، اور یہی پیغام امریکی قیادت تک مؤثر انداز میں پہنچایا گیا۔
دی ڈپلومیٹ کے مطابق پاک امریکا انسداد دہشت گردی تعاون کی بحالی بھی اسی سفارتی پیش رفت کا نتیجہ ہے۔ ماضی میں اس تعاون میں اتار چڑھاؤ آتا رہا، الزامات اور بداعتمادی نے دونوں ممالک کے تعلقات کو متاثر کیا، مگر حالیہ ملاقاتوں اور بات چیت نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کا کردار ناگزیر ہے۔ امریکا اب اس حقیقت کو تسلیم کر رہا ہے کہ خطے میں کسی بھی قسم کی شدت پسندی سے نمٹنے کے لیے پاکستان کے بغیر کوئی حکمتِ عملی مؤثر نہیں ہو سکتی۔
رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان ٹیرف میں کمی کا ایک اہم تجارتی معاہدہ طے پایا ہے۔ یہ پیش رفت نہ صرف دو طرفہ تجارت کے فروغ میں معاون ثابت ہو گی بلکہ پاکستانی معیشت کے لیے بھی ایک مثبت پیغام ہے۔ ایسے وقت میں جب پاکستان معاشی دباؤ، قرضوں اور مالیاتی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، امریکی منڈیوں تک بہتر رسائی اور تجارتی سہولتیں ایک نئی امید کی کرن بن سکتی ہیں۔
اسی تناظر میں ایف سولہ طیاروں کی اپ گریڈیشن کے لیے امریکی منظوری کا حصول بھی ایک اہم سنگِ میل ہے۔ یہ منظوری اس بات کی علامت ہے کہ امریکا پاکستان کی دفاعی ضروریات کو نہ صرف سمجھ رہا ہے بلکہ ان میں تعاون کے لیے بھی تیار ہے۔ دفاعی ٹیکنالوجی میں یہ تعاون خطے میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے میں پاکستان کے لیے مددگار ثابت ہو سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب بھارت اپنی عسکری صلاحیتوں میں تیزی سے اضافہ کر رہا ہے۔
دی ڈپلومیٹ کی رپورٹ کا ایک اور اہم پہلو امریکا کی جانب سے بی ایل اے اور مجید بریگیڈ کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرنا ہے۔ یہ اقدام پاکستان کے دیرینہ مؤقف کی تائید کرتا ہے کہ یہ گروہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے خطرہ ہیں۔ عالمی سطح پر ان تنظیموں کو دہشت گرد قرار دینا پاکستان کے لیے ایک بڑی سفارتی کامیابی ہے کیونکہ اس سے پاکستان کے سیکیورٹی خدشات کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔
ان تمام پیش رفتوں کو یکجا کیا جائے تو یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ پاکستان نے واشنگٹن میں خود کو ایک ایسے شراکت دار کے طور پر پیش کیا ہے جس کے بغیر نہ تو خطے میں امن ممکن ہے اور نہ ہی عالمی طاقتوں کے مفادات کا تحفظ۔ پاکستان کی سفارتکاری نے یہ واضح پیغام دیا ہے کہ دباؤ، تنہائی یا یک طرفہ الزامات کا دور ختم ہو چکا ہے، اب بات باہمی احترام، مشترکہ مفادات اور حقیقت پسندانہ پالیسیوں کی ہو گی۔
دی ڈپلومیٹ جیسے بین الاقوامی جریدے کی جانب سے اس سفارتی کامیابی کا اعتراف دراصل عالمی رائے عامہ میں تبدیلی کا اشارہ ہے۔ یہ تبدیلی پاکستان کے لیے ایک موقع بھی ہے اور ایک امتحان بھی۔ موقع اس لیے کہ پاکستان اس نئی ساکھ کو معاشی استحکام، علاقائی امن اور عالمی شراکت داری میں تبدیل کر سکتا ہے، اور امتحان اس لیے کہ اس اعتماد کو برقرار رکھنے کے لیے مستقل، متوازن اور دانشمندانہ پالیسیوں کی ضرورت ہو گی۔
واشنگٹن میں ہونے والی یہ سفارتی پیش رفت اس بات کی یاد دہانی ہے کہ عالمی سیاست میں کوئی خلا مستقل نہیں رہتا۔ جو ریاستیں بروقت فیصلے کرتی ہیں، بدلتے حالات کو سمجھتی ہیں اور اپنی سفارتکاری کو محض ردِعمل کے بجائے حکمتِ عملی کے طور پر استعمال کرتی ہیں، وہی عالمی بساط پر مؤثر کردار ادا کرتی ہیں۔ پاکستان نے حالیہ مہینوں میں یہی ثابت کیا ہے، اور دی ڈپلومیٹ کی رپورٹ اس حقیقت پر ایک بین الاقوامی مہر ثبت کرتی ہے۔
آخرکار یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان کی مضبوط سفارتکاری نے امریکا کے ساتھ تعلقات کو ایک نئی سمت دی ہے۔ یہ سمت صرف ماضی کے زخموں یا شکوک و شبہات پر مبنی نہیں بلکہ مستقبل کے امکانات، مشترکہ مفادات اور عالمی استحکام کے وژن پر استوار ہے۔ اگر پاکستان اس رفتار اور سمت کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہا تو واشنگٹن میں حاصل ہونے والی یہ کامیابی محض ایک خبر نہیں بلکہ آنے والے برسوں کی پالیسی کا سنگِ بنیاد ثابت ہو سکتی ہے۔
