writer 0

نپاہ وائرس، عالمی ردِعمل اور بھارت کی اقتصادی آزمائش ، کیا بھارت کی معیشت ایک اور COVIDلمحے کے دہانے پر ہے؟

(Publish from Houston Texas USA)

(میاں افتخار احمد)
بھارت کی معیشت کے گرد ایک بار پھر سوالیہ نشان اس وقت ابھر کر سامنے آیا جب مغربی بنگال میں نِپاہ وائرس کے چند کیسز رپورٹ ہوئے اور ایشیا کے مختلف ممالک میں ہیلتھ الرٹس، اسکریننگ اور احتیاطی اقدامات کی خبریں آنے لگیں، یہ سوال فطری ہے کہ کیا دنیا کی پانچویں بڑی معیشت ایک بار پھر کسی ایسے لمحے کی طرف بڑھ رہی ہے جو COVID-19 کے دوران دیکھا گیا تھا، کیا لاک ڈاؤن، سپلائی چین کا تعطل، برآمدات میں کمی، سرمایہ کاروں کی بے چینی اور عالمی منڈیوں میں عدم اعتماد دوبارہ جنم لے سکتا ہے، یا یہ محض ایک صحت کا مسئلہ ہے جسے غیر ضروری خوف نے معاشی خطرے میں بدل دیا ہے، اس مضمون میں انہی تمام سوالات کا جامع، تسلسل کے ساتھ اور بغیر کسی جذباتی مبالغے کے تجزیہ کیا جا رہا ہے تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ بھارت واقعی کسی نئے COVID-لمحے کے دہانے پر کھڑا ہے یا نہیں، سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ COVID-لمحہ دراصل تھا کیا، یہ محض ایک وائرس کا پھیلاؤ نہیں تھا بلکہ ایک ایسا نکتہ تھا جہاں صحت کا بحران، ریاستی فیصلے اور عالمی ردعمل ایک ساتھ ٹکرا گئے تھے، COVID نے بیک وقت تیز انسانی منتقلی، بغیر علامات کے پھیلاؤ، عالمی لاک ڈاؤن، سرحدی بندشوں، فیکٹریوں کی بندش، افرادی قوت کے رک جانے اور سپلائی چین کے ٹوٹنے کو جنم دیا تھا، اس کے نتیجے میں نہ صرف بھارت بلکہ پوری دنیا کی معیشتیں ساکت ہو کر رہ گئیں، اس کے مقابلے میں نِپاہ وائرس کی نوعیت بالکل مختلف ہے، نِپاہ ایک خطرناک مگر سست رفتار وائرس ہے جو قریبی رابطے سے پھیلتا ہے، اس کا انفیکشن ریٹ محدود ہے، یہ ہوا کے ذریعے تیزی سے نہیں پھیلتا اور سب سے اہم بات یہ کہ اب تک یہ صرف چند مقامی کیسز تک محدود ہے، یہی وہ بنیادی فرق ہے جو نِپاہ کو COVID سے الگ کرتا ہے، اگر وبا تیزی سے نہ پھیلے تو معیشت خود بخود بند نہیں ہوتی بلکہ اسے بند کیا جاتا ہے، اس لیے اصل خطرہ وائرس سے زیادہ اس خوف میں پوشیدہ ہوتا ہے جو پالیسی سازوں، منڈیوں اور عوام کے رویے کو متاثر کرتا ہے، بھارت کے معاملے میں بھی یہی نکتہ مرکزی حیثیت رکھتا ہے، بھارت کی موجودہ معاشی ساخت کو دیکھا جائے تو وہ COVID کے دور سے کئی حوالوں سے مختلف اور مضبوط ہے، بھارت نے پچھلے چند برسوں میں ڈیجیٹل ادائیگیوں، آئی ٹی سروسز، ریموٹ ورک، ای کامرس اور داخلی کنزمپشن میں نمایاں اضافہ کیا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ معیشت کا بڑا حصہ اب ایسی سرگرمیوں پر مشتمل ہے جو مکمل لاک ڈاؤن کے بغیر بھی جاری رہ سکتی ہیں، اس کے برعکس COVID کے وقت بھارت کی معیشت بڑی حد تک فزیکل موومنٹ، لیبر انٹینسو صنعت اور روایتی سپلائی چین پر انحصار کرتی تھی، یہی وجہ تھی کہ ذرا سی بندش نے پورے نظام کو جام کر دیا تھا، آج صورتحال یہ ہے کہ اگر کسی ایک ریاست یا شہر میں صحت کی ایمرجنسی بھی پیدا ہوتی ہے تو حکومت کے پاس ٹارگٹڈ کنٹینمنٹ، مائیکرو لاک ڈاؤن اور ڈیجیٹل ٹریکنگ جیسے اوزار موجود ہیں، جن کے ذریعے پورے ملک کو بند کیے بغیر مسئلے کو محدود رکھا جا سکتا ہے، اس کے باوجود یہ حقیقت نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ نِپاہ کے نام سے جڑا خوف کچھ مخصوص معاشی شعبوں پر فوری اثر ڈال سکتا ہے، سب سے پہلے ایوی ایشن اور ٹریول سیکٹر اس کا شکار ہوتا ہے، جیسے ہی ہیلتھ الرٹس جاری ہوتے ہیں مسافروں کی تعداد کم ہو جاتی ہے، بزنس ٹریول ملتوی ہونے لگتا ہے اور ہوٹلنگ انڈسٹری دباؤ میں آ جاتی ہے، یہ اثر فوری ہوتا ہے مگر عموماً عارضی ثابت ہوتا ہے، اسی طرح لاجسٹکس اور ایکسپورٹ کلیئرنس میں اضافی اسکریننگ کی وجہ سے تاخیر پیدا ہو سکتی ہے، بھارتی برآمدات خصوصاً ٹیکسٹائل، انجینئرنگ گڈز اور بعض فارما مصنوعات کو بندرگاہوں پر اضافی جانچ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، مگر یہ تاخیر سپلائی کے مکمل تعطل میں تبدیل نہیں ہوتی جب تک حکومتیں تجارتی پابندیوں کی طرف نہ جائیں، اس مرحلے پر ایسا کوئی اشارہ موجود نہیں کہ یورپی یونین، جاپان یا خلیجی ممالک بھارتی مصنوعات پر کسی قسم کی باضابطہ پابندی عائد کرنے جا رہے ہوں، البتہ اگر وائرس ایک سے زیادہ بھارتی ریاستوں میں پھیلتا ہے اور انسانی منتقلی کے شواہد مضبوط ہوتے ہیں تو نان ٹیرف بیریئرز، اضافی ہیلتھ سرٹیفکیٹس اور سخت کلیئرنس جیسے اقدامات سامنے آ سکتے ہیں، یہ وہ مقام ہو گا جہاں معاشی دباؤ واقعی بڑھ سکتا ہے، مگر یہاں بھی COVID جیسی ہمہ گیر تباہی کا منظرنامہ بنتا دکھائی نہیں دیتا، سرمایہ کاروں کے رویے کو دیکھا جائے تو وہ اس وقت خاصے محتاط مگر پُرسکون ہیں، اسٹاک مارکیٹس میں کسی بڑے پیمانے پر فروخت یا کیپٹل فلائٹ کے آثار نظر نہیں آ رہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ سرمایہ کار وبا کی خبروں سے زیادہ ریاستی ردعمل کو دیکھتے ہیں، نہ بھارت نے نیشنل لاک ڈاؤن کا اعلان کیا ہے، نہ سرحدیں بند کی گئی ہیں، نہ ہی برآمدات پر پابندی لگائی گئی ہے، جب تک یہ تینوں چیزیں موجود نہیں ہوتیں، مارکیٹ میں گھبراہٹ محدود رہتی ہے، ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ بھارت اس وقت انتخابی سیاست، عالمی سرمایہ کاری اور جیو اکنامک مقابلے کے دباؤ میں ہے، ایسے میں حکومت کے لیے یہ سیاسی اور معاشی طور پر ممکن نہیں کہ وہ COVID جیسا سخت اور ہمہ گیر لاک ڈاؤن نافذ کرے، یہی وجہ ہے کہ حکمت عملی کا محور ٹارگٹڈ کنٹرول اور احتیاطی نگرانی پر رکھا گیا ہے، اگر ہم عالمی تناظر میں دیکھیں تو نِپاہ وائرس کا ردعمل زیادہ تر ایشیائی ممالک تک محدود ہے، یورپ اور امریکہ میں فی الحال صرف ایڈوائزریز اور نگرانی کی سطح پر اقدامات کیے گئے ہیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ عالمی سپلائی چین کو یکدم جھٹکا لگنے کا امکان کم ہے، البتہ بھارت کی علاقائی تجارت، خاص طور پر جنوبی ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیا کے ساتھ، وقتی دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے، اس صورت حال میں ایک دلچسپ پہلو یہ بھی سامنے آتا ہے کہ اگر بھارتی سپلائی میں معمولی سی بھی سست روی آتی ہے تو پاکستان، بنگلہ دیش اور ویتنام جیسے ممالک کے لیے یہ ایک محدود مگر حقیقی موقع بن سکتا ہے، COVID کے دوران بھی یہی ہوا تھا کہ عالمی خریداروں نے متبادل سپلائرز کی تلاش کی، اگرچہ اس بار حالات اتنے شدید نہیں مگر جیو اکنامک مقابلے میں چھوٹے مواقع بھی بڑی اہمیت رکھتے ہیں، اس پورے منظرنامے میں اصل خطرہ وائرس سے زیادہ اس بیانیے میں ہے جو میڈیا، سوشل نیٹ ورکس اور سیاسی مباحث کے ذریعے تشکیل پاتا ہے، اگر نِپاہ کو بلاوجہ COVID کے متبادل کے طور پر پیش کیا گیا تو خوف خود ایک معاشی عنصر بن جائے گا، تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ معیشتیں صرف بیماری سے نہیں گرتیں بلکہ غیر یقینی، خوف اور غلط فیصلوں سے گرتی ہیں، بھارت کے پاس اس وقت وہ تمام تجربہ، ڈیٹا اور ادارہ جاتی صلاحیت موجود ہے جو COVID کے وقت میسر نہیں تھی، یہی وجہ ہے کہ موجودہ حالات کو ایک اور COVID-لمحہ کہنا نہ صرف قبل از وقت بلکہ تجزیاتی طور پر کمزور موقف ہے، اس کے باوجود یہ کہنا بھی درست نہیں کہ کوئی خطرہ موجود ہی نہیں، خطرہ ضرور ہے مگر وہ محدود، کنٹرول ایبل اور زیادہ تر نفسیاتی نوعیت کا ہے، اگر حکومتیں اور مارکیٹس اس خطرے کو حقیقت کے تناسب سے دیکھتی رہیں تو یہ ایک صحت کا واقعہ رہے گا، اگر خوف نے پالیسی پر غلبہ پا لیا تو یہی خوف معاشی مسئلہ بن سکتا ہے، اس لیے اس پورے سوال کا خلاصہ یہی ہے کہ بھارت اس وقت نِپاہ وائرس کی وجہ سے کسی نئے COVID-لمحے کے دہانے پر نہیں کھڑا، بلکہ وہ ایک ایسے موڑ پر ہے جہاں درست فیصلے، متوازن بیانیہ اور محتاط نگرانی اسے کسی بڑے معاشی جھٹکے سے بچا سکتی ہے، نِپاہ بھارت کی معیشت کے لیے ایک امتحان ضرور ہے مگر فیصلہ کن بحران نہیں، اصل امتحان یہ ہے کہ بھارت خوف کے اس امتحان میں خود کو کس حد تک متوازن رکھ پاتا ہے، اور فی الحال تمام شواہد یہی بتاتے ہیں کہ یہ خطرہ قابو میں ہے اور اگر حالات اسی طرح محدود رہے تو بھارت کی معیشت اس بار COVID جیسی تاریخ دہرانے سے بچی رہے گی

مزید پڑھنے کے لیے براہ کرم ہمارے مضامین دیکھیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں