(Publish from Houston Texas USA)
مقتل گاہ کے سر جلاد: مشرقِ وسطیٰ کی جنگ، خلیجی ممالک کی صورتحال اور عالمی طاقتوں کی پالیسیوں پر ایک تجزیاتی نظر۔
بارہویں رمضان المبارک کو میرے ایک کالم ( میں نہیں مانتا )پر پیارا بھائی اور دوست ارشد ندیم نے تنقیدی جائزہ لیا تھا بالکل دلیل کے ساتھ تنقیدی و تعریف ہر ایک کا حق ہے مگر بے جا تنقید اور بے سروپا باتوں سے قارئین بور ہوجاتے ہیں میں اپنا کالم اپنی مرضی اور سوچ سے لکھتا ہوں کسی کو اچھا لگے یا مفت میں ٹیشن لے اس میں میرا قصور نہیں انکو علاج کی ضرورت ہے بعض لوگ فطری جھلسی حسدی ہوتے ہیں یہ بیچارے الہی عذاب سے دوچار ہوتے ہیں کیونکہ یہ سب کچھ کرنے والے رب العزت کی ذات ہوتی ہے بانو قدسیہ والد سے پوچھتی ہے کہ ابو جان بغض عناد حسد جھلسی آسان الفاظ میں سمجھائے تو جواب ملا کہ رب العالمین کی تقسیم پر اعتراض کو کہتے ہیں اصل موضوع سے دوسری جانب پر معذرت بات یہ ہے کہ ہرمز کے راستے 20 فیصد تیل سپلائی ہوتی ہے مگر اتنی واویلا کیوں ایران سے پچھلے گلے شکوے نہ سہی اس موجودہ جنگ میں خلیجی ممالک مسلسل زیر اعتاب اور وہاں موجود امریکی اڈوں کے ساتھ ممالک کے بعض اہم علاقوں کو نشانہ بنانا بھی کچھ گلے مزید آگے لے جاتے ہیں
مقتل گاہ: ایران جنگ، عالمی سازشوں اور مسلم دنیا کو درپیش چیلنجز پر ایک تجزیہ۔
اب تو یہاں تک بھی خبریں مل رہی ہیں کہ میڈلسٹ اور بعض خلیجی ریاستوں سے تاجر اور سرمایہ کاروں نے خفیہ طور پر سرمایہ یورپی یا دیگر ممالک کو شفٹ کرنا شروع کر دیا ہے اور اگر نہیں تو پھر اس پر سوچ ضرور کریں گے اب سوال یہ ہے کہ اس کا فائدہ کس کو ہوا سیانے لوگ سمجھ گئے ہونگے کہ یہ اسرائیل اور امریکہ خاص کر صہیونیوں کا منصوبہ لگتا ہے کہ حملہ کرکے مسلمانوں کو آپس میں لڑائے اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہم یہاں پر موجود سب سے خطرناک ملک کی طرف بڑھے مجھے تو لگتا ہے کہ ایران میں اب جنگ نے بھی مذہبی رخ اختیار کر چکا ہے اور یہاں پر امریکہ اسرائیل کا جارحیت بربریت کا کسی صورت جواز نہیں بنتا ہے کہ وہ مست ہاتھی کی طرح حملہ کرکے قبضہ کریں یہ بھی اس واحد ملک کی وجہ سے ممکن نہیں لیکن انکا منصوبہ بندی یہ تھا کہ ایک تیر دو نشان اب تو خفیہ مذاکرات کی بھی خبریں گردش کر رہی ہے یہ بھی نہ سہی لیکن اس میں شک نہیں کہ پاکستان سے آپ اختلاف کرسکتے ہیں انکی آفیسر شاہی کے رویہ نظام میں سستی غربت سمیت دیگر سینکڑوں مسائل ہونگے لیکن یہ ایک دن ماننا پڑے گا کہ یہ ریاست عالمی سامراجی قوتوں انکے بربریت غلیظ منصوبوں سے کس طرح نبرد آزما ہوکر انکے ناپاک عزائم خاک میں ملا رہے گزشتہ بیس سال سے ہزاروں تجربات ناکام بنا کر زمین بوس کردیا بعض چیزیں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ آشکار ہونا شروع ہوتا ہے کہ کیسے ایک آدم کش اور انسانی خون کی ہولی کھیل کر سرمایہ بنانے اور اسلحہ کی فیکٹریاں چلا رہے ہیں
مقتل گاہ: ایران جنگ، خلیجی ریاستیں اور عالمی طاقتوں کا خطرناک کھیل۔
انسانیت کے خون اور وحشی درندوں کی طرح انسانیت کی تمام حدود و قیود عبور کرتے ہیں اور اس میں سرمایہ ڈھونڈنے میں مصروف عمل ہے آج بھی یہی ایک سوچ پرواں چڑھ رہا ہے کہ خلیجی ممالک کو ڈریا کر اسکے بعد جدید اسلحہ کا نیا بازار لگاکر اربوں ڈالر کما لیں گے کیوں کیونکہ دنیا کے اسلحہ ساز دوا ساز کمپنیوں کی مکمل دارومدار اسی میں ہے پاکستان کو طعنے دینے والے کچھ ماضی کی جھرکوں میں بھی جھانک کر دیکھ لیں۔ایک ضروری بات جو ہمیشہ میں اپنے کالمز میں مسلسل ذکر کرتا چلا آرہا ہوں کہ بارڈر کی بندش سے پاک افغان سرحد کے قریب موجود دونوں جانب کے عوام سخت مشکلات کا شکار ہیں اور اب ہزاروں پاکستانی جس کے پاس تمام دستاویزات موجود ہیں انکو اپنے ملک کو آنے دیا جائے یہ رمضان المبارک کا مہینہ ہے اور عیدالفطر بھی قریب ہے ان ہزاروں افراد کے رشتہ داروں کی تمام دن رات آنکھیں دروازے کی طرف ہے۔ سعودی اور پاکستان کی دفاعی معاہدے پر اگلے کالم میں لکھ چکا ہوں کہ اس آگ برسانے کی حالات میں کیسے معاہدہ طے پایا ؟ میرا کالم جمعرات سموار اور منگل کے دن ہمارے X اکاؤنٹ اور www.asiannews.com.pk پر دیکھ سکتے ہیں ۔ اگلے کالم میں خلیجی ریاستوں کی مستقبل پر کچھ ذکر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مزید پڑھنے کے لیے براہ کرم ہمارے مضامین دیکھیں۔