(Publish from Houston Texas USA)
(میاں افتخار احمد)
منشیات کے خلاف کارروائی قابلِ ستائش، مگر مسیحی آبادیوں کے خلاف نفرت انگیز مہم ناقابلِ قبول
فیصل آباد: فیصل آباد مائنارٹی رائٹس موومنٹ (MRM) کے سربراہ لالا رابن ڈینیئل اور مسیحی برادری کے رہنماؤں بشپ شمس پرویز، پرویز اقبال بھٹی، راجہ تھامس، ملک سہیل سردار اور شوکت کھوکھر نے پیر کے روز پریس کلب فیصل آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں منشیات کے خلاف جاری مہم قابلِ ستائش ہے اور ہم اس کی حمایت کرتے ہیں لیکن گزشتہ دو ماہ سے مسیحی آبادیوں کو منظم انداز میں منشیات کے اڈوں کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے جو سراسر ناانصافی اور آئین کے منافی ہے، انہوں نے کہا کہ ہیروئن، چرس، آئس اور دیگر مہلک منشیات نہ تو مسیحی آبادیوں کی پیداوار ہیں اور نہ ہی ان کا اجتماعی طور پر ان آبادیوں سے کوئی تعلق ہے، سوشل میڈیا اور بعض حلقوں کے ذریعے ایک منفی اور نفرت انگیز مہم چلائی جا رہی ہے اور جھوٹے اور بے بنیاد 9-C کے مقدمات قائم کیے جا رہے ہیں تاکہ یہ تاثر دیا جا سکے کہ منشیات کا تعلق مسیحی برادری سے ہے،
انہوں نے ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ اس یکطرفہ میڈیا اور سوشل میڈیا مہم کے خلاف فوری کارروائی کی جائے کیونکہ اگر اکثریتی آبادی اس پروپیگنڈے کا شکار ہو کر مسیحی آبادیوں پر حملہ آور ہوئی تو اس کے نتائج نہایت خطرناک اور تباہ کن ہوں گے، انہوں نے کہا کہ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 37/H کے تحت شراب مسیحیوں کے لیے مذہبی رسومات اور عقائد کا حصہ تسلیم کی گئی ہے لہٰذا اگر کوئی ریاستی ادارہ بشمول پولیس اسے منشیات قرار دے کر نفرت انگیز انداز میں پیش کرتا ہے تو یہ آئینِ پاکستان کی صریح خلاف ورزی ہے اور شراب کے پرمٹس کے مندرجات بھی عوام کے سامنے لائے جائیں، رہنماؤں نے بتایا کہ حال ہی میں ایک شرپسند کی جھوٹی اطلاع پر تھانہ گلبرگ کی حدود میں واقع کرسچن ٹاؤن کے دو گھروں کی تلاشی لی گئی لیکن کچھ برآمد نہ ہونے پر پولیس اہلکاروں نے معذرت کر لی جبکہ جھوٹی اطلاع دینے والا شخص سامنے نہ آ سکا، انہوں نے الزام لگایا کہ اس کے باوجود سیاسی دباؤ، ذاتی دشمنیوں اور نمبر پورا کرنے کی غرض سے تھانہ گلبرگ اور تھانہ بٹالہ کالونی میں 9-C کے جعلی مقدمات درج کیے جا رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ مری بریوری کی شراب فیکٹری کا مالک مخصوص نشست پر رکنِ قومی اسمبلی ہے اور اس کے پاس شراب برآمد کرنے کا لائسنس بھی موجود ہے مگر کوئی اسے منشیات فروش نہیں کہتا، اسی طرح ہومیوپیتھک ڈاکٹروں کو بھی الکوحل کے لائسنس جاری کیے جاتے ہیں اور ان میں سے بڑی مقدار شراب کے طور پر استعمال ہوتی ہے لیکن وہاں بھی کسی کو منشیات فروش قرار نہیں دیا جاتا، انہوں نے کہا کہ آئینِ پاکستان رنگ، نسل، مذہب اور جنس کی بنیاد پر تفریق کے بغیر مکمل انصاف کی ضمانت دیتا ہے اور مسیحی برادری کو اس بنیادی حق سے محروم نہ کیا جائے، رہنماؤں کا کہنا تھا کہ جب ایس ایچ اوز سے جعلی مقدمات کی وجوہات پوچھی جاتی ہیں تو وہ اعلیٰ افسران کے دباؤ کا حوالہ دیتے ہیں، انہوں نے انٹیلی جنس اداروں کی رپورٹس کو بھی جانبدار اور یکطرفہ قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ رپورٹنگ کے عمل کو شفاف بنایا جائے اور اعلان کیا کہ اگر پانچ دن کے اندر جعلی مقدمات واپس نہ لیے گئے اور جھوٹے کیسز کی یہ مہم بند نہ کی گئی تو مسیحی برادری پنجاب اسمبلی کے سامنے احتجاجی دھرنا دے گی
مزید معلومات کے لیے براہ کرم ہماری قومی خبریں دیکھیں۔
