(Publish from Houston Texas USA)
(محمد منصور ممتاز)
لیڈی ولنگڈن ہسپتال عطائیت اور نظامی غفلت کی سنگین مثال بن گیا
یہ محض دو خبریں نہیں تھیں، بلکہ ایک ایسا آئینہ تھیں جس میں لیڈی ولنگڈن ہسپتال عطائیت اور نظامِ صحت کی اصل تصویر واضح ہو گئی۔ لاہور کے Lady Willingdon Hospital میں پیش آنے والے حالیہ واقعات نے عوامی اعتماد کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔
پہلا واقعہ آپریشن تھیٹر میں پیش آیا، جہاں سی سیکشن کے دوران ویڈیو بنائی گئی اور بعد ازاں سوشل میڈیا پر وائرل کر دی گئی۔ ایک ایسا مقام جہاں زندگی اور موت کے درمیان فیصلہ ہوتا ہے، وہاں اس مقدس عمل کو تماشہ بنا دینا صرف غیر ذمہ داری نہیں بلکہ انسانی وقار کی کھلی توہین ہے۔ یہ واقعہ لیڈی ولنگڈن ہسپتال عطائیت کے بڑھتے ہوئے رجحان کی واضح مثال ہے۔
ابھی اس صدمے سے سنبھلنے کا موقع بھی نہ ملا تھا کہ دوسرا واقعہ سامنے آ گیا، جہاں ایک سیکیورٹی گارڈ مریض کو اینستھیزیا دے رہا تھا۔ یہ محض ایک غلطی نہیں بلکہ نظامی ناکامی کا واضح ثبوت ہے۔ اینستھیزیا جیسے حساس عمل کو ایک غیر تربیت یافتہ فرد کے سپرد کرنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ لیڈی ولنگڈن ہسپتال عطائیت محض ایک مسئلہ نہیں بلکہ ایک خطرناک رجحان بن چکا ہے۔
محکمہ صحت کی جانب سے فوری کارروائی کرتے ہوئے متعلقہ عملے کو معطل کیا گیا اور سیکیورٹی کمپنی کا معاہدہ ختم کیا گیا۔ یہ اقدامات اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن یہ صرف وقتی حل ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ لیڈی ولنگڈن ہسپتال عطائیت جیسے مسائل صرف کارروائیوں سے ختم نہیں ہوتے بلکہ ان کے لیے نظامی اصلاحات ناگزیر ہیں۔
ہم اکثر عطائیت کو چھوٹے کلینکس تک محدود سمجھتے ہیں، مگر اب یہ ہسپتالوں کے اندر بھی جڑیں جما چکی ہے۔ یہ وہ عطائیت ہے جو سفید کوٹ کے پیچھے چھپ جاتی ہے، جہاں غیر مستند افراد کو خاموشی سے اختیارات دے دیے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ لیڈی ولنگڈن ہسپتال عطائیت اب ایک فرد نہیں بلکہ پورے نظام کا مسئلہ بن چکی ہے۔
اصل مسئلہ نگرانی اور احتساب کا فقدان ہے۔ اگر ایک غیر متعلقہ شخص آپریشن تھیٹر تک رسائی حاصل کر سکتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ نظام کے دروازے پہلے ہی کھلے ہوئے تھے۔ اگر ویڈیو بن سکتی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ ذمہ داری ختم ہو چکی تھی۔
اب وقت آ گیا ہے کہ محض وقتی ردعمل سے آگے بڑھ کر مستقل حل تلاش کیے جائیں۔ آپریشن تھیٹر تک رسائی کو سختی سے محدود کیا جائے، ہر فرد کی ذمہ داری واضح کی جائے، اور نگرانی کا مؤثر نظام نافذ کیا جائے۔ طبی اخلاقیات کو عملی شکل دی جائے اور سوشل میڈیا کے استعمال کے لیے سخت ضابطے بنائے جائیں۔
یہ واقعات ایک واضح انتباہ ہیں۔ اگر آج لیڈی ولنگڈن ہسپتال عطائیت کے اس ناسور کو ختم نہ کیا گیا تو کل یہ ہر ہسپتال، ہر وارڈ اور ہر مریض تک پھیل جائے گا۔
کیونکہ جب شفا کے مراکز میں غیر اہل افراد داخل ہو جائیں تو بیماری صرف جسم تک محدود نہیں رہتی، بلکہ پورے نظام کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ اور جب نظام بیمار ہو جائے تو مریض علاج سے بھی خوفزدہ ہو جاتا ہے
مزید پڑھنے کے لیے براہ کرم ہمارے مضامین دیکھیں۔