0

غیرقانونی ہاؤسنگ سکیموں کے خلاف ایف ڈی اے کی بڑی کارروائیاں

(Publish from Houston Texas USA)

(میاں افتخار احمد)

203 آپریشنز، دفاتر سیل، 49 استغاثے اور 397 سکیموں میں رجسٹری و انتقالات پر پابندی

فیصل آباد: ایف ڈی اے کے شعبہ ٹاؤن پلاننگ نے سال 2005 کے دوران غیرقانونی ہاؤسنگ سکیموں کے خلاف بھرپور کارروائیاں کرتے ہوئے 203 آپریشنز کے ذریعے غیر قانونی تعمیراتی ڈھانچوں کو مسمار کیا اور متعلقہ دفاتر کو سربمہر کر دیا۔ سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث ڈویلپرز کے خلاف مقدمات کے اندراج کے لیے مختلف تھانوں میں 49 استغاثے بھی جمع کرائے گئے۔

یہ بات ڈائریکٹر جنرل ایف ڈی اے محمد آصف چوہدری کی زیر صدارت منعقدہ اجلاس میں بتائی گئی، جس میں شعبہ ٹاؤن پلاننگ کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں ڈائریکٹر ٹاؤن پلاننگ اسماء محسن، ڈائریکٹر آئی ٹی یاسر اعجاز چٹھہ، ڈپٹی ڈائریکٹرز راحیل ظفر، احمد ابراہیم، اقرا مرتضیٰ، فاران صدیقی اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ گزشتہ سال غیرقانونی ڈویلپمنٹ میں ملوث مختلف ہاؤسنگ سکیموں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 86 چالان سپیشل جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں جمع کرائے گئے۔ اس کے علاوہ غیر منظور شدہ ہاؤسنگ سکیموں میں یوٹیلیٹی سروسز کی فراہمی پر پابندی عائد کرنے کے لیے متعلقہ محکموں کو تحریری طور پر آگاہ کیا گیا جبکہ 397 ہاؤسنگ سکیموں میں پلاٹس کی رجسٹری اور انتقالات پر پابندی لگانے کی کارروائی بھی کی گئی۔

ڈائریکٹر ٹاؤن پلاننگ اسماء محسن نے بتایا کہ غیرقانونی ہاؤسنگ سکیموں سے متعلق عوامی آگاہی کے لیے سوشل میڈیا سمیت مختلف ذرائع ابلاغ کے ذریعے آگاہی مہم بھی مسلسل جاری ہے۔

ڈائریکٹر جنرل ایف ڈی اے محمد آصف چوہدری نے ہدایت کی کہ غیرقانونی ہاؤسنگ سکیموں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عملدرآمد کیا جائے اور اس سلسلے میں انفورسمنٹ ٹیموں کو بھرپور انداز میں متحرک رکھا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ رواں سال بھی شعبہ ٹاؤن پلاننگ کی کارکردگی میں کسی قسم کی نرمی یا کمی برداشت نہیں کی جائے گی۔

انہوں نے قانون کی عملداری کو یقینی بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اربن ڈویلپمنٹ اور منظم ٹاؤن پلاننگ کے لیے مؤثر اور جامع حکمت عملی کو عملی اور نتیجہ خیز بنایا جائے۔ تیز رفتار سروس ڈیلیوری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ٹاؤن پلاننگ رپورٹس، تکمیلی سرٹیفکیٹس اور قبضہ سلپس کے ریئل ٹائم اجرا کے لیے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی پر مبنی جدید اصلاحات پر عملدرآمد میں کسی قسم کی رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں