عرب کاروباری رہنما خلف الحبتور کا امریکہ اور خلیجی جنگ سے متعلق سخت بیان 0

عرب دنیا کا امریکہ کو وارننگ، ہم تمہاری حفاظت کے طلبگار نہیں، ہاتھ ہم سے دور رکھو

(Publish from Houston Texas USA)

(میاں افتخار احمد)

عرب رہنما خلف الحبتور کا امریکی سینیٹر لنڈزی گراہم کے بیان پر سخت ردعمل، جنگ کو تیل اور مفادات کی لڑائی قرار دے دیا

امریکی سینیٹر لنڈزی گراہم نے خلیجی ممالک کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان پر حملہ ہو رہا ہے اور انہیں امریکہ کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف جنگ لڑنی چاہیے، انہوں نے سعودی عرب پر خاص طور پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکی مفادات کو نقصان پہنچ رہا ہے اور خلیجی ممالک خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ سینیٹر گراہم نے ایک امریکی ٹی وی انٹرویو میں کہا تھا کہ ایران اور وینزویلا کے پاس دنیا کا اکتیس فیصد تیل کے ذخائر ہیں اور اگر امریکہ ان ذخائر پر کنٹرول حاصل کر لے تو چین کے لیے یہ خوابوں کی تعبیر بن جائے گا اور امریکہ کو بے پناہ دولت ملے گی، انہوں نے کہا کہ یہ وقت ہے کہ امریکہ اپنی طاقت کا بھرپور استعمال کرے اور خلیجی ممالک کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ متحدہ عرب امارات کے معروف تاجر اور ارب پتی شخصیت خلف احمد الحبتور نے سینیٹر گراہم کے اس بیان پر سخت نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ ہم بخوبی جانتے ہیں کہ ہم پر حملہ کیوں ہو رہا ہے اور ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ اس پورے خطے کو اس خطرناک جنگ میں کس نے گھسیٹا، انہوں نے کہا کہ تم نے بغیر ہم سے مشورہ لیے جنگ چھیڑ دی اور اب تم چاہتے ہو کہ ہم تمہارے لیے میدان میں اتریں اور اپنے بیٹوں کو موت کے گھاٹ اتار دیں۔ الحبتور نے کہا کہ سینیٹر گراہم نے خود تیل کا معاملہ کھول کر رکھ دیا ہے اب تصویر بالکل صاف ہے کہ یہ جنگ نہ آزادی کی ہے نہ سلامتی کی بلکہ خالصتاً تیل اور ڈالروں کی جنگ ہے، انہوں نے کہا کہ یہ اعتراف خود امریکی سینیٹر کی زبان سے نکلا ہے کہ انہیں ایران اور وینزویلا کے تیل سے کیا مطلب ہے۔ اماراتی تاجر نے کہا کہ ہمیں تمہاری حفاظت کی کوئی ضرورت نہیں ہم نے اپنی سلامتی پر اربوں ڈالر خرچ کیے ہیں ہم نے تم سے ہتھیار خریدے ہیں یہ تمہارا کاروبار ہے کوئی خیرات نہیں، انہوں نے کہا کہ ہتھیاروں کی یہ پوری انڈسٹری جنگوں سے چلتی ہے اور ہم اس کا حصہ بن کر اپنے عوام کو کیوں قربان کریں۔ انہوں نے سینیٹر گراہم پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ تم امریکی سینیٹ کے رکن ہو سکتے ہو لیکن تمہاری زبان سے اسرائیلی کنیسٹ کا ممبر بول رہا ہے تم اسرائیل کے مفادات کے لیے امریکی عوام سے زیادہ بولتے ہو، انہوں نے کہا کہ تمہارے بیانات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ تمہیں امریکی عوام کی پرواہ نہیں بلکہ صرف اسرائیل کی سلامتی اور توسیع پسندی کی فکر ہے۔ الحبتور نے کہا کہ ہم دوسروں کے مفادات کے لیے یہ جنگ نہیں لڑیں گے اور نہ اپنے بیٹوں کو قربان کریں گے، انہوں نے کہا کہ ہم ایک ایسی لڑائی میں کیوں مریں جو سفارت کاری سے ٹل سکتی تھی اور جس کی بنیاد ہی جھوٹ پر رکھی گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں امن اور استحکام چاہیے ہم جنگ کے راستے پر زبردستی نہیں چلیں گے اور نہ کسی کی لڑائی کا ایندھن بنیں گے، انہوں نے کہا کہ خلیجی ممالک نے ترقی کی راہ اختیار کی ہے اور وہ اپنے عوام کے مستقبل کو جنگ کی بھینٹ نہیں چڑھا سکتے۔ ادھر متحدہ عرب امارات میں عام زندگی معمول کے مطابق جاری ہے اور ہوائی اڈے کھلے ہیں بندرگاہیں چل رہی ہیں انفراسٹرکچر بالکل ٹھیک ہے، امارات اپنے رہائشیوں اور سیاحوں کو یکساں تحفظ فراہم کر رہا ہے اور عرب اسرائیلی یورپی امریکی ایشیائی سب یہاں محفوظ ہیں، امارات جانتا ہے کہ میڈیا اسے جنگ میں گھسیٹنا چاہتا ہے مگر وہ اس جال میں نہیں پھنس رہا اور اپنی خارجہ پالیسی خود طے کر رہا ہے۔ اس واقعے نے امریکہ اور خلیجی ممالک کے تعلقات میں بڑھتی ہوئی دوری کو واضح کر دیا ہے اور عرب دنیا نے واضح پیغام دے دیا ہے کہ وہ کسی کی پراکسی جنگ کا حصہ بننے کو تیار نہیں۔

مزید معلومات کے لیے براہ کرم ہماری بین الاقوامی خبریں دیکھیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں