عالمی معیشت بحران کی دہانے پر، جنگ کی مسلسل کشیدگی سے شدید مالیاتی دھچکے 0

عالمی معیشت بحران کی دہانے پر، جنگ کی مسلسل کشیدگی سے شدید مالیاتی دھچکے

(Publish from Houston Texas USA)

(میاں افتخار احمد)

ایران-اسرائیل-امریکہ کشیدگی تیل میں اضافے، مارکیٹ کریش، اور سپلائی چین میں خلل کے خطرے کے باعث عالمی معیشت کنارے پر ہے

فیصل آباد: اگر ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی اتوار کی رات تک ختم نہ ہوئی تو صبح عالمی مالیاتی منڈیاں کھلنے سے پہلے دنیا بھر کی معیشت تاریخی بحران کا سامنا کرے گی، ابتدائی گھنٹوں میں تیل کی قیمت پہلے ہی 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر جا چکی ہوگی اور چند دنوں میں 150 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے کا امکان ہے، پاکستان اسٹاک ایکسچینج PSX لمٹ ڈاؤن پر کھلے گی جو تقریباً 18 ہزار پوائنٹس کی کمی کے برابر ہو گی، امریکی اسٹاک مارکیٹس فیوچر ٹریڈنگ کے حساب سے ابتدائی چند گھنٹوں میں کھربوں ڈالر کا نقصان برداشت کریں گی، سعودی عرب، قطر، کویت اور متحدہ عرب امارات سمیت خطے کے دیگر ممالک کسی نہ کسی شکل میں اس صورتحال میں الجھ جائیں گے، سونے کی قیمتیں تیزی سے بڑھ کر 5600 سے 6000 ڈالر فی اونس تک پہنچ جائیں گی کیونکہ سرمایہ کار غیر یقینی صورتحال میں محفوظ سرمایہ کاری کی طرف رخ کریں گے، یورپی اسٹاک ایکسچینجز جیسے FTSE اور DAX کھلتے ہی 10 سے 15 فیصد تک گر جائیں گی جس سے پورے براعظم میں سرکٹ بریکرز فعال ہو جائیں گے، عالمی سپلائی چین رک جائے گی، خاص طور پر آبنائے ہرمز کے ذریعے شپنگ متاثر ہو گی جس سے اشیاء کی فوری قلت پیدا ہوگی، کرپٹو کرنسی مارکیٹ شدید گراؤ کا شکار ہوگی اور بٹ کوائن 50 ہزار ڈالر سے نیچے گر جائے گا کیونکہ سرمایہ کار خطرے سے بچنے کی کوشش کریں گے، ابھرتی ہوئی معیشتیں جیسے بھارت اور ترکی چند دنوں میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں اپنی کرنسی کی قدر میں 20 فیصد یا اس سے زیادہ کمی دیکھیں گی، دنیا بھر کے مرکزی بینک ہنگامی اجلاسوں میں شرح سود کم کریں گے لیکن پھر بھی گھبراہٹ میں فروخت اور لیکویڈیٹی کے بحران کو روکنے میں ناکام رہیں گے، فضائی اور تجارتی راستوں کی بندش سے عالمی سپلائی چین مزید متاثر ہوگی، بین الاقوامی کارگو اور شپنگ لاجسٹک شدید تاخیر کا شکار ہو جائیں گے، سرمایہ کاری کے تمام شعبے غیر یقینی صورتحال کی لپیٹ میں آئیں گے، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار بندش اور مالی نقصان کا سامنا کریں گے، عالمی توانائی کی قیمتیں اور خوراک کے ذخائر متاثر ہوں گے، سرمایہ کار سونے، تیل اور دیگر محفوظ اثاثوں میں رُخ کریں گے، اس کے نتیجے میں عالمی معیشت میں تاریخی مالیاتی اور تجارتی بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے جو ایک ہفتے یا اس سے زیادہ عرصے تک جاری رہ سکتا ہے۔

مزید معلومات کے لیے براہ کرم ہماری قومی خبریں دیکھیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں