(Publish from Houston Texas USA)
(میاں افتخار احمد)
مستقبل کی جنگیں عالمی طاقتوں کی کشمکش کے تناظر میں معلومات، مہارت اور داخلی استحکام کی بنیاد پر لڑی جائیں گی
اکیسویں صدی کی عالمی سیاست میں جذباتی نعروں اور سوشل میڈیا کے سنسنی خیز دعوؤں سے ہٹ کر طاقت کے حقیقی توازن، ٹیکنالوجی کی دوڑ، جاسوسی کے بدلتے ہوئے طریقوں اور خطے میں صف بندی کے عمل کو سمجھنا ضروری ہے کیونکہ آج کی دنیا میں جنگ صرف سرحدوں پر نہیں بلکہ معیشت، سائبر اسپیس، میڈیا، بیانیے اور انسانی ذہنوں کے اندر بھی لڑی جا رہی ہے اور یہی وہ پس منظر ہے جس میں امریکہ، چین، بھارت، روس، ایران اور پاکستان کے باہمی تعلقات کا تجزیہ کرنا ناگزیر ہے۔ موجودہ عالمی منظرنامہ دراصل ایک نئی سرد جنگ کی شکل اختیار کر چکا ہے جس میں براہِ راست عالمی جنگ کے بجائے ٹیکنالوجی، معاشی پابندیوں، دفاعی اتحادوں اور خفیہ سرگرمیوں کے ذریعے مقابلہ جاری ہے۔ سب سے پہلے امریکہ اور چین کی رقابت کو سمجھنا ضروری ہے کیونکہ امریکہ گزشتہ سات دہائیوں سے عالمی نظام کا مرکزی ستون رہا ہے جبکہ چین تیزی سے ابھرتی ہوئی معاشی اور عسکری طاقت کے طور پر اس نظام میں اپنا اثر بڑھا رہا ہے، یہی وجہ ہے کہ بحرالکاہل، تائیوان اور انڈو پیسفک کی حکمت عملی عالمی سیاست کا مرکزی موضوع بن چکی ہے۔ امریکہ نے اس خطے میں بھارت کو ایک توازن ساز قوت کے طور پر ابھارا ہے اور بھارت کے دفاعی تعلقات امریکہ کے ساتھ گزشتہ دہائی میں نمایاں طور پر مضبوط ہوئے ہیں جبکہ اسرائیل بھی بھارت کا اہم دفاعی شراکت دار بن چکا ہے اور جدید میزائل نظام، ڈرون ٹیکنالوجی اور نگرانی کے آلات کی فراہمی میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ بھارت امریکی کیمپ کے قریب ہے تاہم بھارت اپنی خارجہ پالیسی میں مکمل انحصار سے گریز کرتے ہوئے روس کے ساتھ بھی دفاعی اور توانائی کے روابط برقرار رکھے ہوئے ہے، یوں بھارت ایک ایسے نقطے پر کھڑا ہے جہاں وہ امریکہ اور چین کے درمیان توازن قائم رکھتا ہے مگر مکمل طور پر کسی ایک بلاک میں محدود نہیں۔ دوسری جانب چین اور پاکستان کا تعلق صرف سفارتی سطح تک محدود نہیں بلکہ دفاعی، اقتصادی اور اسٹریٹیجک بنیادوں پر قائم ہے کیونکہ چین کے لیے پاکستان بحر ہند تک رسائی، توانائی کے راستے اور تجارتی راہداری حاصل ہے، اسی لیے امریکہ اور اس کے اتحادی پاکستان پر دباؤ ڈال کر خطے میں چین کے اثرورسوخ کو محدود کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ روس کا کردار بھی اسی تناظر میں اہم ہے کیونکہ روس اور یوکرائن جنگ نے عالمی توازن کو متاثر کیا ہے اور روس کو معاشی پابندیوں اور عسکری دباؤ کا سامنا ہے، تاہم یہ کہنا کہ روس مکمل طور پر غیر مؤثر ہو چکا ہے درست نہیں کیونکہ اس نے توانائی کی برآمدات ایشیائی منڈیوں کی طرف موڑ دی ہیں اور چین کے ساتھ اپنے تعلقات مضبوط کیے ہیں، اسی لیے چین کی اسٹریٹیجک طاقت روس پر مکمل انحصار نہیں کرتی بلکہ اپنی معاشی اور صنعتی بنیادوں پر قائم ہے۔ ایران کا معاملہ بھی اسی بحث میں شامل ہوتا ہے کیونکہ ایران اس وقت امریکہ مخالف بیانیہ رکھتا ہے اور خطے میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کی کوشش کر رہا ہے، بعض حلقے یہ مفروضہ پیش کرتے ہیں کہ اگر ایران میں حکومت کی تبدیلی ہوئی تو وہ امریکی کیمپ میں شامل ہو سکتا ہے اور پاکستان کے خلاف صف بندی کا حصہ بن سکتا ہے، افغانستان کا پہلو بھی قابل ذکر ہے کیونکہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی اور سیکیورٹی مسائل موجود ہیں مگر یہ کہنا کہ افغانستان باضابطہ طور پر امریکہ کے ساتھ پاکستان مخالف عسکری اتحاد میں شامل ہونے جا رہا ہے فی الحال قیاس آرائی ہے۔ خطے کی سیاست میں داخلی مسائل، دہشت گردی، معاشی کمزوری اور سیاسی عدم استحکام بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں اور پاکستان کو درپیش داخلی چیلنجز جیسے سیاسی کشیدگی، معاشی دباؤ اور دہشت گردی کو مکمل طور پر بیرونی سازش قرار دینا تحقیق کے بغیر درست نہیں، اگرچہ عالمی طاقتیں کمزور ریاستوں میں اثر انداز ہونے کی کوشش ضرور کرتی ہیں لیکن ہر داخلی بحران کو عالمی ماسٹر پلان کا حصہ سمجھ لینا سادہ کاری ہو گی۔ اسی پس منظر میں تیسری عالمی جنگ کے بیانیے کو بھی پرکھنا ضروری ہے کیونکہ اکثر یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ابتدائی جھڑپیں شروع ہو چکی ہیں اور ایران پر ممکنہ امریکی حملہ باقاعدہ عالمی جنگ کا آغاز ہو گا، مگر تاریخی طور پر دیکھا جائے تو عالمی جنگ اس وقت پھیلی جب بڑی طاقتیں براہِ راست عسکری تصادم میں داخل ہوئیں، موجودہ دور میں ایٹمی ہتھیار، عالمی معیشت کا باہمی انحصار اور سفارتی دباؤ بڑی طاقتوں کو مکمل جنگ سے روکے رکھتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ مقابلہ زیادہ تر پراکسی جنگوں، معاشی پابندیوں اور ٹیکنالوجی کی دوڑ تک محدود رہتا ہے
جاسوسی اور مہارت کی عالمی منڈی
دو ہزار کے بعد دنیا نے واضح کیا کہ خفیہ معلومات کا اخراج کسی بھی روایتی حملے سے زیادہ خطرناک ہو سکتا ہے کیونکہ طاقت کا اصل مرکز اب صرف سرحدیں نہیں بلکہ معلومات اور مہارت بن چکی ہیں، اسی پس منظر میں رابرٹ ہینسن کا کیس سامنے آیا جو ایف بی آئی میں کاؤنٹر انٹیلی جنس افسر تھا اور اس نے برسوں تک روس کو حساس معلومات فراہم کیں، اس کی گرفتاری نے یہ ثابت کیا کہ سب سے بڑا خطرہ باہر سے نہیں بلکہ اندر سے پیدا ہوتا ہے، اسی طرح چیلسی میننگ نے عراق اور افغانستان جنگ سے متعلق خفیہ فوجی دستاویزات لیک کیں جس سے امریکی سفارتی اور عسکری حکمت عملی دنیا کے سامنے آ گئی اور یہ بحث چھیڑ دی گئی کہ قومی سلامتی اور شہری آزادی کے درمیان توازن کہاں قائم ہو گا، ایڈورڈ سنوڈن نے نیشنل سیکیورٹی ایجنسی کے عالمی نگرانی پروگرامز کو بے نقاب کیا اور عالمی سطح پر یہ سوچنے کی ضرورت پیدا ہو گئی کہ معلومات کی حفاظت کس طرح ممکن ہے اور کس طرح داخلی افسران کی مہارت دشمن طاقتوں کے ہاتھوں میں جا سکتی ہے۔ ریئلٹی ونر اور جیک ٹیکسیرا جیسے افراد نے حساس اطلاعات اور پینٹاگون کی بریفنگز لیک کر کے یہ واضح کیا کہ جدید جنگ میں سب سے زیادہ خطرناک ہتھیار دشمن کے ہاتھوں میں ہمارے راز ہیں اور کسی بھی حکومت کے لیے یہ چیلنج ہے کہ وہ اپنے داخلی وسائل کو کس حد تک محفوظ رکھتی ہے۔ چین کے حوالے سے بھی کئی کیس سامنے آئے جن میں سو بن نامی چینی شہری نے امریکی دفاعی کمپنیوں کے کمپیوٹر نیٹ ورک ہیک کر کے حساس فوجی ڈیٹا حاصل کیا، اس واقعہ نے یہ واضح کیا کہ سائبر جاسوسی جدید دور کا مرکزی ہتھیار بن چکی ہے اور ریاستیں براہِ راست تصادم کے بغیر بھی حریف کی صلاحیتوں تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہیں، اس کے علاوہ سابق امریکی پائلٹ جیرالڈ براؤن پر الزام ہے کہ اس نے ایف تھری فائیو پائلٹ کے اسرار اور حربے چینی پائلٹس کو سکھائے تاکہ وہ امریکی طیاروں کے خلاف استعمال کر سکیں، یہ کیس عالمی سطح پر مہارت کی مارکیٹ کی حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے جہاں تجربہ کار فوجی افسران اپنی ذاتی مہارت کے بدلے غیر ملکی قوتوں کے لیے کام کر سکتے ہیں، اس سوال کو بھی جنم ملتا ہے کہ ایک سابق فوجی افسر کی مہارت کس کی ملکیت ہے اور اس پر قانونی اور اخلاقی ذمہ داری کہاں تک لاگو ہوتی ہے۔ ڈینیل ڈوگن، ایک سابق امریکی میرین پائلٹ، بھی اسی طرح کے الزامات کا سامنا کر رہا ہے کہ اس نے آسٹریلیا میں چینی تربیت پروگراموں میں حصہ لیا، اس کے ساتھ ساتھ امریکہ، برطانیہ، کینیڈا اور نیوزی لینڈ نے اپنے سابق فوجیوں کو تنبیہ کی ہے کہ وہ غیر ملکی دفاعی تربیتی پروگراموں میں شامل ہونے سے پہلے ریاستی اجازت حاصل کریں کیونکہ چین مغربی ممالک کے سابق پائلٹس کو بھاری معاوضے پر بھرتی کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ اپنی فضائی اور عسکری حکمت عملی کو جدید بنا سکے، یہ حقیقت بتاتی ہے کہ جاسوسی اور مہارت کی عالمی منڈی اتنی طاقتور ہو گئی ہے کہ اقتصادی اور عسکری قوت کے ساتھ ساتھ مہارت اور تربیت بھی حریف کو کمزور کرنے کا سب سے مؤثر ہتھیار بن چکی ہے۔ ٹیکنالوجی کی ترقی، جدید ڈرون نظام، نگرانی کے آلات اور جدید ہتھیاروں کی تربیت نے یہ حقیقت واضح کر دی ہے کہ جنگ اب براہِ راست تصادم تک محدود نہیں بلکہ معلومات، مہارت، تربیت اور حکمت عملی میں بھی لڑی جاتی ہے، اسی لیے امریکہ اور چین کے درمیان کشمکش میں سابق فوجی افسران کی مہارت ایک قیمتی اثاثہ بن گئی ہے، اور یہ بات واضح ہے کہ ہر فوجی یا پائلٹ کے لیے اپنی پیشہ ورانہ مہارت کی ذمہ داری نہ صرف قانونی بلکہ اخلاقی سطح پر بھی اہمیت رکھتی ہے۔ موجودہ عالمی منظرنامہ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ کسی بھی ملک کی داخلی سلامتی پر سب سے بڑا خطرہ اندرونی وسائل کے غلط استعمال اور معلومات کے اخراج سے پیدا ہوتا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ جاسوسی اور مہارت کی عالمی منڈی میں ہر قدم انتہائی نازک اور حساس ہے، ہر سابق فوجی افسر، پائلٹ یا مہارت کار کو یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ان کی تربیت اور مہارت عالمی طاقتوں کے توازن کو بدل سکتی ہے، یہ سب کچھ ظاہر کرتا ہے کہ عالمی طاقتیں اب صرف فوجی قوت پر انحصار نہیں کرتیں بلکہ معلومات، مہارت اور تربیت کی مارکیٹ میں اثرورسوخ حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔
خطے کی کشمکش: پاکستان، بھارت اور ایران
پاکستان اور چین کا تعلق صرف سفارتی سطح تک محدود نہیں بلکہ دفاعی، اقتصادی اور اسٹریٹیجک بنیادوں پر قائم ہے کیونکہ چین کے لیے پاکستان بحر ہند تک رسائی، توانائی کے راستے اور تجارتی راہداری حاصل ہے، اسی لیے امریکہ اور اس کے اتحادی پاکستان پر دباؤ ڈال کر خطے میں چین کے اثرورسوخ کو محدود کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اس پس منظر میں پاکستان کے اندرونی مسائل جیسے سیاسی کشیدگی، تحریک انصاف کی سرگرمیاں، بلوچ علیحدگی پسند تحریک اور خارجی دہشت گردی کا مسئلہ عالمی طاقتوں کے لیے ایک موقع کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ اس سے خطے میں غیر مستحکم صورتحال پیدا ہوتی ہے جو دشمن قوتوں کے لیے فائدہ مند ہے، اسی دوران بھارت اپنی فضائی اور بحری طاقت کو امریکی اور اسرائیلی تعلقات کے ذریعے بڑھا رہا ہے اور بھارتی وزیراعظم کا دورہ اسرائیل اسی حکمت عملی کا حصہ ہے تاکہ خطے میں امریکی مفادات مستحکم رہیں، بھارت نے روس کے ساتھ بھی تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہیں تاکہ دفاعی اور توانائی کے ذرائع کو متوازن رکھا جا سکے، یوں بھارت ایک ایسے نقطے پر کھڑا ہے جہاں وہ عالمی طاقتوں کے درمیان توازن قائم رکھ سکتا ہے مگر مکمل طور پر کسی ایک بلاک میں محدود نہیں، ایران کا معاملہ بھی پیچیدہ ہے کیونکہ وہ اس وقت امریکہ مخالف بیانیہ رکھتا ہے اور خطے میں اپنی طاقت بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے، بعض تجزیہ نگار یہ مفروضہ پیش کرتے ہیں کہ اگر ایران میں حکومت کی تبدیلی ہوئی تو وہ امریکی کیمپ میں شامل ہو سکتا ہے اور پاکستان کے خلاف صف بندی کا حصہ بن سکتا ہے، تاہم موجودہ زمینی حقائق اور ایران کی داخلی پالیسی اس امکان کو فوری طور پر ممکن نہیں بناتی، افغانستان کی صورتحال بھی نہایت نازک ہے کیونکہ یہاں سیاسی عدم استحکام، داخلی دھڑے بندی اور دہشت گردی پاکستان کے لیے مسلسل چیلنج ہیں، تاہم افغانستان کا براہِ راست پاکستان مخالف اتحاد میں شامل ہونا ابھی قیاس آرائی ہے، خطے کی موجودہ کشیدگی زیادہ تر پراکسی نوعیت کی ہے، جھڑپیں اور سازشیں اطلاعات، معاشی پابندیوں، خفیہ آپریشنز اور عسکری تربیت کے ذریعے ہوتی ہیں، اسی دوران پاکستان کی داخلی سیاسی کشیدگی، تحریک انصاف کی سرگرمیاں، بلوچ علیحدگی پسند تحریک اور دیگر دہشت گردانہ سرگرمیاں خطے میں چین کے اثرورسوخ کو کمزور کرنے کے لیے غیر براہِ راست فائدہ مند ثابت ہو رہی ہیں، اس کے علاوہ امریکہ نے بھارت کو ایک توازن ساز قوت کے طور پر استعمال کیا ہے تاکہ چین کے خطے میں اثرورسوخ کو محدود کیا جا سکے، بھارت کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات، جدید ڈرون، میزائل اور نگرانی کی ٹیکنالوجی کی فراہمی بھی اسی امریکی حکمت عملی کا حصہ ہے، روس اور یوکرائن جنگ نے بھی خطے میں عالمی طاقتوں کی حکمت عملی پر اثر ڈالا ہے کیونکہ روس کی معیشت کمزور ہونے کی وجہ سے وہ اب پاکستان یا بھارت کے معاملے میں فعال طور پر مداخلت کرنے سے قاصر ہے، یہی وجہ ہے کہ خطے میں عالمی طاقتوں کی کشمکش زیادہ تر غیر مستقیم حربوں، پراکسی جنگوں اور اقتصادی و ٹیکنالوجی کے ہتھیاروں کے ذریعے چل رہی ہے، ایران کے داخلی اور خارجی پالیسی فیصلے، افغانستان میں سیاسی کشیدگی اور پاکستان کی داخلی غیر مستحکم صورتحال سب ایک ساتھ مل کر خطے میں طاقت کے نئے توازن کو تشکیل دے رہی ہیں، یہاں یہ واضح ہو جاتا ہے کہ کسی بھی بڑی عالمی طاقت کا اثر مکمل نہیں ہوتا بلکہ وہ مقامی حالات، اتحادیوں کی حمایت اور داخلی سیاسی مسائل کے ساتھ مل کر خطے کی سیاست کو شکل دیتا ہے، اس پس منظر میں خطے کے ممالک کو اپنی داخلی سلامتی، دفاعی تیاری اور سیاسی استحکام پر خصوصی توجہ دینی ہوگی کیونکہ عالمی طاقتیں ان کمزوریوں کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کر سکتی ہیں، خطے میں موجودہ کشیدگی اور پراکسی جنگیں، خارجی دباؤ اور داخلی مسائل کا مجموعہ ایک ایسا منظرنامہ تخلیق کر رہا ہے جہاں عالمی طاقتوں کے اثرات مقامی سیاست، اقتصادی ترقی اور دفاعی صلاحیتوں کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں، یہی وجہ ہے کہ پاکستان، بھارت، ایران اور افغانستان جیسے ممالک کی ہر داخلی یا خارجی پالیسی عالمی توازن کے لیے اہمیت رکھتی ہے، اس طرح خطے میں طاقت کے نئے توازن، پراکسی جنگوں، اقتصادی اور دفاعی دباؤ، خفیہ آپریشنز اور داخلی مسائل کے امتزاج سے تشکیل پا رہا ہے، اور یہ واضح ہے کہ کسی بھی ملک کی داخلی کمزوری عالمی طاقتوں کے مفادات کے لیے مواقع پیدا کر سکتی ہے، لہذا خطے کے ممالک کو داخلی استحکام، دفاعی تیاری اور سٹریٹیجک حکمت عملی میں بہتری لانے کی ضرورت ہے تاکہ وہ عالمی طاقتوں کے دباؤ کے باوجود اپنی خودمختاری اور اثرورسوخ برقرار رکھ سکیں،
ٹیکنالوجی، مہارت اور داخلی استحکام
عالمی سرد جنگ کے موجودہ دور میں ٹیکنالوجی، مہارت، جاسوسی اور داخلی استحکام کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے کیونکہ اب جنگ صرف سرحدوں یا براہِ راست تصادم تک محدود نہیں رہی بلکہ معلومات، مہارت، تربیت اور سٹریٹیجک فیصلہ سازی کے ذریعے بھی لڑی جا رہی ہے، موجودہ عالمی منظرنامے میں چین اور امریکہ کے درمیان جاری کشمکش میں سابق فوجی افسران اور پائلٹس کی مہارت ایک قیمتی اثاثہ بن چکی ہے اور ان کی تربیت دشمن طاقتوں کے ہاتھوں میں منتقل ہونے سے عالمی طاقتوں کے توازن میں نمایاں فرق آ سکتا ہے، اسی پس منظر میں سابق امریکی پائلٹ جیرالڈ براؤن پر الزام ہے کہ اس نے ایف تھری فائیو پائلٹس کے اسرار اور حربے چینی پائلٹس کو سکھائے تاکہ وہ امریکی طیاروں کے خلاف استعمال کر سکیں، یہ معاملہ عالمی سطح پر مہارت کی مارکیٹ کی حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے جہاں تجربہ کار فوجی افسران اپنی ذاتی مہارت کے بدلے غیر ملکی طاقتوں کے لیے کام کر سکتے ہیں، اس سوال کو بھی جنم ملتا ہے کہ ایک سابق فوجی افسر کی مہارت کس کی ملکیت ہے اور اس پر قانونی اور اخلاقی ذمہ داری کہاں تک لاگو ہوتی ہے، اسی طرح ڈینیل ڈوگن، ایک سابق امریکی میرین پائلٹ، پر الزام ہے کہ اس نے آسٹریلیا میں چینی تربیتی پروگراموں میں حصہ لیا، امریکہ، برطانیہ، کینیڈا اور نیوزی لینڈ نے اپنے سابق فوجیوں کو باقاعدہ تنبیہ کی ہے کہ وہ غیر ملکی دفاعی تربیتی پروگراموں میں شامل ہونے سے پہلے ریاستی اجازت حاصل کریں کیونکہ چین مغربی ممالک کے سابق پائلٹس کو بھاری معاوضے پر بھرتی کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ اپنی فضائی اور عسکری حکمت عملی کو جدید بنایا جا سکے، یہ حقیقت بتاتی ہے کہ جاسوسی اور مہارت کی عالمی منڈی اتنی طاقتور ہو گئی ہے کہ اقتصادی اور عسکری قوت کے ساتھ ساتھ مہارت اور تربیت بھی حریف کو کمزور کرنے کا سب سے مؤثر ہتھیار بن چکی ہے، ٹیکنالوجی کی ترقی، جدید ڈرون سسٹمز، نگرانی کے آلات اور جدید ہتھیاروں کی تربیت نے یہ حقیقت واضح کر دی ہے کہ جنگ اب براہِ راست تصادم تک محدود نہیں بلکہ معلومات، مہارت، تربیت اور حکمت عملی میں بھی لڑی جاتی ہے، اسی لیے امریکہ اور چین کے درمیان کشمکش میں سابق فوجی افسران کی مہارت ایک قیمتی اثاثہ بن گئی ہے، اور یہ بات واضح ہے کہ ہر فوجی یا پائلٹ کے لیے اپنی پیشہ ورانہ مہارت کی ذمہ داری نہ صرف قانونی بلکہ اخلاقی سطح پر بھی اہمیت رکھتی ہے، موجودہ عالمی منظرنامہ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ کسی بھی ملک کی داخلی سلامتی پر سب سے بڑا خطرہ اندرونی وسائل کے غلط استعمال اور معلومات کے اخراج سے پیدا ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ جاسوسی اور مہارت کی عالمی منڈی میں ہر قدم انتہائی نازک اور حساس ہے، ہر سابق فوجی افسر، پائلٹ یا مہارت کار کو یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ان کی تربیت اور مہارت عالمی طاقتوں کے توازن کو بدل سکتی ہے، یہ سب کچھ ظاہر کرتا ہے کہ عالمی طاقتیں اب صرف فوجی قوت پر انحصار نہیں کرتیں بلکہ معلومات، مہارت اور تربیت کی مارکیٹ میں اثرورسوخ حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہیں، اسی پس منظر میں داخلی استحکام کی اہمیت بھی نمایاں ہو گئی ہے کیونکہ پاکستان، بھارت اور دیگر خطے کے ممالک کے داخلی سیاسی اور عسکری مسائل براہِ راست یا غیر مستقیم طور پر عالمی طاقتوں کے مفادات کے لیے مواقع پیدا کر سکتے ہیں، خطے کے ممالک کو داخلی استحکام، دفاعی تیاری اور سیاسی حکمت عملی میں بہتری لانے کی ضرورت ہے تاکہ وہ عالمی طاقتوں کے دباؤ کے باوجود اپنی خودمختاری اور اثرورسوخ برقرار رکھ سکیں، اس دوران داخلی سیکیورٹی کے مسائل، دہشت گردی، اقتصادی کمزوری اور سیاسی عدم استحکام کسی بھی ملک کو کمزور کر سکتے ہیں اور دشمن قوتیں اس سے فائدہ اٹھا سکتی ہیں، اسی لیے داخلی استحکام، ٹیکنالوجی کی حفاظت، تربیت کی نگرانی اور جاسوسی کے خطرات سے نمٹنے کی حکمت عملی ہر ملک کی ترجیح ہونی چاہیے، اسی پس منظر میں عالمی سرد جنگ، ٹیکنالوجی مقابلہ، جاسوسی اور مہارت کی عالمی منڈی مستقبل کی جنگ کے نئے قواعد مرتب کر رہی ہے، جہاں براہِ راست تصادم کے بجائے معلومات، تربیت اور مہارت سب سے قیمتی ہتھیار ہیں اور فتح اسی کو ملے گی جو اپنی داخلی سلامتی، ٹیکنالوجی، قانونی اور اخلاقی فریم ورک کو مضبوط رکھ سکے، یہی وہ میدان ہے جس میں آنے والے برسوں میں عالمی طاقتوں کی اصلی جنگ لڑی جائے گی، ایک ایسی جنگ جس میں گولی اور توپ کی بجائے علم، مہارت اور معلومات سب سے قیمتی اثاثے ہوں گے، اور جس میں خطے اور عالمی طاقتوں کی حکمت عملی کا اصلی امتحان ہوگا، اسی لیے ٹیکنالوجی، مہارت اور داخلی استحکام آج عالمی سیاست اور خطے کی کشیدگی کے مرکزی ستون بن چکے ہیں، یہ واضح کرتا ہے کہ مستقبل کی عالمی اور خطائی جنگیں زیادہ تر معلومات، مہارت اور داخلی استحکام کی بنیاد پر لڑی جائیں گی نہ کہ براہِ راست فوجی تصادم پر، اور اسی تناظر میں پاکستان، بھارت، ایران اور چین جیسے ممالک اپنی داخلی اور دفاعی پالیسی کو بہتر بنانے میں مصروف ہیں تاکہ عالمی دباؤ کے باوجود اپنی خودمختاری اور اثرورسوخ برقرار رکھ سکیں۔
مزید پڑھنے کے لیے براہ کرم ہمارے مضامین دیکھیں۔