عالمی سیاست میں بڑی تبدیلی: 16 مارچ 2026 اور امریکی صدی کا خاتمہ 0

سولہ مارچ 2026: امریکی صدی کا خاتمہ — جب دنیا نے “نہیں” کہہ دیا

(Publish from Houston Texas USA)

(میاں افتخار احمد)

جب “نہیں” نے عالمی سیاست کا رخ بدل دیا

سولہ مارچ دو ہزار چھبیس کا دن تاریخ کی کتاب میں سنہرے حروف سے لکھا جائے گا۔ آج وہ دن ہے جب امریکی صدی کا جنازہ خاموشی سے نکلا۔ نہ کوئی معاہدہ ٹوٹا اور نہ کوئی اعلان جنگ ہوا۔ بس ایک ایک کر کے سب نے کہا نہیں۔ امریکی صدر نے ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ چین فرانس جاپان جنوبی کوریا برطانیہ اور دیگر ممالک آبنائے ہرمز کھلا رکھنے کے لیے بحری جہاز بھیجیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بہت سے ممالک بحری جہاز بھیج رہے ہیں۔ کسی نے نہیں بھیجے۔ برطانیہ نے کہا نہیں۔ فرانس نے کہا نہیں۔ جرمنی نے کہا نہیں۔ جنوبی کوریا نے کہا نہیں۔ یونان نے کہا نہیں۔ اٹلی نے کہا نہیں۔ ہالینڈ نے کہا نہیں۔ اسپین نے کہا نہیں۔ پرتگال نے کہا نہیں۔ پولینڈ نے کہا نہیں۔ فن لینڈ نے کہا نہیں۔ بیلجیم نے کہا نہیں۔ کینیڈا نے کہا نہیں۔ آسٹریلیا نے کہا نہیں۔ اور چین نے فون ہی نہیں اٹھایا۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ تمام فریقین فوری طور پر فوجی کارروائیاں بند کریں۔ گویا ان کا پیغام تھا کہ اے ٹرمپ یہ تمہاری جنگ ہے خود نمٹو۔ ایک ایک کر کے سب نے منہ موڑ لیا اور دنیا بدل گئی۔
برطانیہ کے وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے ڈاؤننگ سٹریٹ میں پریس کانفرنس کی۔ صاف الفاظ میں کہا کہ برطانیہ وسیع تر جنگ میں نہیں گھسے گا۔ پھر ایک جملہ بولا جو سیدھا ٹرمپ کے منہ پر مارا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم اپنی افواج کو خطرے میں ڈال رہے ہیں تو ان کا کم از کم حق ہے کہ انہیں معلوم ہو کہ قانونی بنیاد ہے اور ایک واضح منصوبہ ہے۔ پھر مزید تیز کر دیا کہ کچھ لوگ بغیر پوری تصویر دیکھے جنگ میں کود پڑتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ قیادت نہیں ہے یہ گھسیٹا جانا ہے۔ یہ جملے سن کر پوری دنیا حیران رہ گئی۔ برطانیہ کا وزیراعظم امریکی صدر سے کہہ رہا تھا کہ تمہیں قیادت نہیں آتی۔ تم گھسیٹے گئے ہو اور ہم تمہارے ساتھ نہیں گھسیٹے جائیں گے۔
جرمنی کے وزیر دفاع بورس پسٹوریس نے اس سے بھی سخت لہجہ اختیار کیا۔ انہوں نے صاف الفاظ میں کہا کہ یہ ہماری جنگ نہیں ہے۔ ہم نے اسے شروع نہیں کیا۔ جرمن چانسلر فریدریش مرز نے بھی فوجی کردار سے انکار کر دیا۔ فرانس کے صدر ایمانوئل ماکرون کا موقف اور بھی واضح تھا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ فرانس موجودہ صورت حال میں آبنائے ہرمز کو کھولنے کے آپریشنز میں کبھی حصہ نہیں لے گا۔ اطالیہ کی وزیراعظم جارجیا میلونی نے امریکی اسرائیلی حملوں کو بین الاقوامی قانون کے دائرے سے باہر قرار دیا۔ ان کے وزیرخارجہ انتونیو تاجانی نے کہا کہ موجودہ یورپی مشن کو ہرمز تک نہیں بڑھایا جا سکتا۔ اسپین کی وزیر دفاع مارگاریتا روبلیس نے تو اس جنگ کو غیر قانونی قرار دے دیا۔ انہوں نے کسی بھی فوجی مشن میں حصہ لینے سے صاف انکار کر دیا۔
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی سربراہ کاجا کالس کا بیان تو تاریخ کے صفحات میں سنہرے حروف سے لکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی آبنائے ہرمز میں اپنے لوگوں کو خطرے میں نہیں ڈالنا چاہتا۔ انہوں نے صاف الفاظ میں کہا کہ یہ یورپ کی جنگ نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اراکین ممالک میں ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں فعال طور پر حصہ لینے کی کوئی خواہش نہیں۔ یہ بیان پورے یورپ کے متفقہ مؤقف کی عکاسی کرتا ہے۔ جاپان کے وزیراعظم سانایے ٹاکاچی نے کہا کہ انہوں نے بحری جہاز بھیجنے کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ ٹوکیو قانونی اور آئینی پابندیوں کا جائزہ لے رہا ہے۔ آسٹریلیا کی وزیر کیتھرین کنگ نے تو انتہائی مختصر اور واضح جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ آسٹریلیا بحری جہاز نہیں بھیجے گا۔ کینیڈا کی وزیرخارجہ انیتا آنند نے بھی اس کارروائی میں حصہ لینے کا کوئی ارادہ نہیں ظاہر کیا۔ انہوں نے اس بات پر بھی اعتراض کیا کہ ان سے پہلے کوئی مشاورت نہیں کی گئی۔ پولینڈ کے وزیراعظم ڈونلڈ ٹسک نے کہا کہ پولینڈ ایران میں فوج نہیں بھیجے گا کیونکہ یہ تنازع براہ راست ان کی سلامتی کو متاثر نہیں کرتا۔ یونان کے وزیرخارجہ جارج گیراپیٹریٹس نے محدود معاہدوں کی بجائے مستقل اور دیرپا حل پر زور دیا۔ نیدرلینڈز کے وزیراعظم روب جیٹن نے کسی بھی مشن کے لیے پہلے علاقائی کشیدگی میں کمی کو ضروری قرار دیا۔ بیلجیم کے وزیراعظم بارٹ ڈی ویور نے پارلیمنٹ میں تصدیق کی کہ بیلجیم امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ کسی جارحانہ کارروائی میں شامل نہیں ہوگا۔
امریکی صدر نے اسٹارمر کے بیان کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اسٹارمر کوئی چرچل نہیں ہے۔ انہوں نے ایئر فورس ون پر بیٹھ کر صحافیوں سے کہا کہ ہمیں ان کی یوکرین میں مدد کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ یوکرین ہم سے ہزاروں میل دور ہے۔ لیکن ہم نے مدد کی۔ اب دیکھیں گے وہ ہماری مدد کرتے ہیں یا نہیں۔ پھر دھمکی دی کہ مدد ملے یا نہ ملے ایک بات کہہ سکتا ہوں کہ ہم یاد رکھیں گے۔ یہ جملہ سن کر دنیا کو اندازہ ہو گیا کہ امریکہ اپنے اتحادیوں کو دھمکیاں دے رہا ہے۔ یاد رکھیں گے کا مطلب تھا کہ جو آج ہمارا ساتھ نہیں دے گا اسے کل معافی نہیں ملے گی۔ لیکن دنیا نے اس دھمکی کا جواب خاموشی سے دیا۔ اور تاریخ گواہ ہے کہ سب سے طاقتور جواب خاموشی ہوتی ہے۔
فرانس کے وزیر دفاع نے کہا کہ فرانس اپنی دفاعی اور حفاظتی پوزیشن برقرار رکھے گا۔ یعنی ہم دیکھیں گے لیکن تمہاری جنگ نہیں لڑیں گے۔ جرمنی کے وزیر خارجہ جوہان واڈیفل نے اے آر ڈی ٹیلی ویژن پر کہا کہ کیا ہم جلد اس تنازعے کا فعال حصہ بن جائیں گے؟ انہوں نے خود ہی جواب دیا کہ میں شکوک کا شکار ہوں۔ ہالینڈ کے وزیر خارجہ نے خبردار کیا کہ نیٹو کے بحری جہاز بھیجنا مسئلہ راتوں رات حل نہیں کرے گا اور خطرناک بڑھوتری کا سبب بن سکتا ہے۔ یورپی یونین انسٹی ٹیوٹ فار سکیورٹی اسٹڈیز کے تجزیے میں صورتحال کو بہت واضح کیا گیا۔ یورپ کو اس جنگ میں شامل نہیں کیا گیا۔ یورپ براہ راست فوجی کارروائیوں میں حصہ نہیں لے رہا۔ یہ افغانستان یا عراق سے بالکل مختلف جنگ ہے کیونکہ اس بار یورپی ممالک شامل نہیں ہیں۔ یورپ اس جنگ کو دور سے اور گہری تحفظات کے ساتھ دیکھ رہا ہے۔
کونسل آن فارن ریلیشنز کے ایڈورڈ فشمین نے سی این بی سی کو بتایا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ایران پر فوجی کارروائی سے پہلے یورپ یا ایشیا کے کسی بھی اتحادی سے مشاورت نہیں کی۔ وہی اتحادی جو خلیجی تیل کی درآمدات پر امریکہ سے کہیں زیادہ انحصار کرتے ہیں۔ پوچھے بغیر جنگ شروع کی اور اب قیمت بانٹنے کو کہہ رہے ہیں۔ جرمن وزیر دفاع بورس پسٹوریس کا سوال تو تاریخ میں امر رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی بحریہ جو خود نہیں کر سکتی وہ یورپ کی چند کشتیاں مل کر کیا کر لیں گی؟ یہ سوال اس پورے تنازع کی نااہلی اور اتحادیوں کی بیزاری کو بہت خوبصورتی سے بیان کرتا ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سی بی ایس کو انٹرویو دیا۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز ہماری نظر میں کھلی ہے۔ بند صرف ان دشمنوں کے لیے ہے جنہوں نے ہمارے ملک پر ناجائز جارحیت کی ہے اور ان کے اتحادیوں کے لیے۔ ایران کے نائب وزیر خارجہ نے اسٹارمر کو براہ راست پیغام بھیجا کہ ہم برطانیہ سے جنگ میں نہیں ہیں۔ لیکن اس جنگ میں کوئی بھی شرکت امریکی اسرائیلی جارحیت میں شرکت سمجھی جائے گی۔ یہ پیغام بہت واضح تھا کہ ایران برطانیہ کو دشمن نہیں سمجھتا لیکن اگر برطانیہ امریکہ کا ساتھ دے گا تو پھر صورتحال بدل جائے گی۔

ایران کا سفارتی ہتھیار اور ہندوستان کا راستہ, انسانی المیہ اور وسیع تر جنگ

ایران نے آبنائے ہرمز کو جنگی ہتھیار سے بدل کر سفارتی ہتھیار بنا لیا۔ عراقچی نے کہا کہ کئی ممالک نے محفوظ گزرگاہ کے لیے رابطہ کیا ہے۔ ایران فیصلہ کر رہا ہے کہ کسے گزرنے دینا ہے اور کسے نہیں۔ ہندوستان کے ٹینکر گزر گئے۔ وزیر خارجہ جے شنکر نے فائنینشل ٹائمز کو بتایا کہ نئی دہلی اور تہران کے درمیان مذاکرات کے نتیجے میں دو بھارتی گیس ٹینکر ہفتے کو آبنائے ہرمز سے گزرے۔ بغیر کسی بحری جہاز کے۔ بغیر کسی فوجی قافلے کے۔ بات کر کے۔ یعنی ہندوستان نے بات کر کے نکال لیا۔ امریکہ بم گرا کر نہیں نکال سکا۔چین کا تیل بذریعہ زمین روس سے آ رہا ہے۔ اسے ہرمز کی ضرورت ہی نہیں۔ چین نے بھی سفارتی حل پر زور دیا اور فوری طور پر بحری جہاز بھیجنے کا کوئی عوامی وعدہ نہیں کیا۔ روس تو پہلے ہی ایران کے ساتھ کھڑا ہے۔ اس طرح ایران نے آبنائے ہرمز کو ایک ایسا ہتھیار بنا لیا جو صرف دشمنوں کے لیے بند ہے اور دوستوں کے لیے کھلا ہے۔ یہ امریکہ کے لیے بڑا ذلت آمیز لمحہ تھا۔ دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت نے اکیلے بغیر کسی سے پوچھے بغیر کسی منصوبے کے ایک خودمختار ملک پر حملہ کیا۔ اس ملک نے دنیا کا سب سے اہم تیل کا راستہ بند کر دیا۔ تیل سو ڈالر فی بیرل سے اوپر ہے۔ امریکی بحریہ جو دنیا کی سب سے طاقتور بحریہ ہے شپنگ انڈسٹری کی تقریباً روزانہ درخواستوں کے باوجود تجارتی جہازوں کو محفوظ قافلے میں لے جانے سے قاصر ہے۔ دس سے زائد تیل کے ٹینکروں پر حملے ہو چکے ہیں۔ اور اب امریکی صدر دنیا سے بھیک مانگ رہا ہے کہ آؤ مدد کرو۔
دنیا کی سب سے طاقتور بحریہ ایک تنگ سی آبی گزرگاہ میں تجارتی جہاز نہیں گزار سکتی۔ یہ جملہ امریکی یک قطبی دنیا کا مرثیہ ہے۔ انیس سو پینتالیس میں امریکہ نے دنیا کو نظام دیا۔ قواعد بنائے۔ ادارے بنائے۔ اتحاد بنائے۔ اور اتحادیوں کو بتایا کہ تم ہمارے قواعد مانو ہم تمہاری حفاظت کریں گے۔ انیس سو نوے ایک میں سوویت یونین ٹوٹا تو امریکہ واحد سپر پاور بن کر ابھرا۔ پینتیس سال تک یہ سودا چلتا رہا۔ ٹرمپ نے سودا توڑ دیا۔ قواعد خود توڑے۔ ادارے خود کمزور کیے۔ اتحادی خود ذلیل کیے۔ اور اب جب حفاظت کی ضرورت پڑی تو اتحادیوں نے کہا کہ سودا ختم ہو چکا ہے۔
امریکہ اور اسرائیل نے اٹھائیس فروری دو ہزار چھبیس کو ایران کے خلاف مربوط فوجی حملے شروع کیے۔ یہ کوئی معمولی جھڑپ نہیں تھی بلکہ ایک وسیع پیمانے پر جنگ تھی۔ دونوں ممالک نے مل کر ایران کے خلاف ہزاروں فضائی حملے کیے۔ پینٹاگون کے مطابق پچاس ہزار سے زائد امریکی فوجی اس کارروائی میں ملوث ہیں۔ ایرانی حکام کے مطابق امریکی اسرائیلی حملوں میں کم از کم چودہ سو چوالیس افراد ہلاک اور اٹھارہ ہزار پانچ سو اکیاون زخمی ہوئے ہیں۔ ان میں سینکڑوں خواتین اور بچے شامل ہیں۔ ایک اور رپورٹ کے مطابق بارہ سو سے زائد شہری ہلاک ہوئے جن میں دو سو خواتین اور دو سو بارہ سال سے کم عمر کے بچے شامل ہیں۔ امریکی میزائل حملوں میں ایران میں ایک ایلیمنٹری سکول پر بم گرا۔ اس سکول میں اڑسٹھ بچے ہلاک ہوئے۔ یہ منظر دیکھ کر پوری دنیا کی آنکھیں نم ہو گئیں۔پینٹاگون نے تصدیق کی کہ اس جنگ میں تیرہ امریکی فوجی ہلاک اور دو سو سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ اسرائیلی حملوں میں لبنان میں نو سو شہری ہلاک اور دس لاکھ سے زائد بے گھر ہوئے۔ ایرانی جوابی حملوں میں خلیجی ممالک میں کم از کم ستائیس افراد ہلاک ہوئے۔ ایران میں ایک سو ترپن صحت کی سہولیات اور تینتالیس ہزار گھر تباہ یا شدید نقصان پہنچا۔ یہ تنازع اب ایران تک محدود نہیں رہا بلکہ لبنان عراق شام اور خلیجی ممالک تک پھیل چکا ہے۔ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی سربراہ کاجا کالس کا بیان کہ کوئی بھی اس جنگ میں فعال طور پر جانا نہیں چاہتا پورے یورپ کے متفقہ مؤقف کی عکاسی کرتا ہے۔
اسٹارمر نے پچاس ملین پاؤنڈ کا ایمرجنسی پیکج دیا اپنے شہریوں کو توانائی بحران سے بچانے کے لیے۔ انہوں نے صاف کہا کہ جنگ بندی ہی مہنگائی کے بحران کا سب سے تیز حل ہے۔ یعنی برطانیہ کا وزیراعظم کہہ رہا ہے کہ اصل مسئلہ ہرمز نہیں اصل مسئلہ ٹرمپ کی جنگ ہے۔ جنگ بند کرو تو ہرمز خود کھل جائے گی۔ اور یہ بالکل سچ ہے۔ ایران نے ہرمز اس لیے بند کی کیونکہ اس پر بم گرائے گئے۔ بمباری بند ہو تو ہرمز کھلے۔ لیکن ٹرمپ بمباری بند نہیں کرنا چاہتا۔ انہوں نے فاکس نیوز پر کہا کہ ایران سودا کرنا چاہتا ہے اور میں نہیں چاہتا کیونکہ شرائط ابھی کافی اچھی نہیں ہیں۔ ایران نے فوری تردید کی کہ اس نے کوئی سودے کی درخواست نہیں کی۔

نئی دنیا کا آغاز

یہ نہیں صرف بحری جہازوں کے بارے میں نہیں ہے۔ یہ نہیں امریکی یک قطبی دنیا کے خاتمے کا اعلان ہے۔ انیس سو پینتالیس سے دو ہزار چھبیس تک اکیاسی سال امریکہ نے دنیا چلائی۔ ڈالر عالمی کرنسی تھا۔ امریکی بحریہ سمندروں کی ضامن تھی۔ نیٹو مغرب کی ڈھال تھا۔ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک امریکی مفادات کے آلات تھے۔ اقوام متحدہ میں امریکی ویٹو حتمی فیصلہ تھا۔ اور جب بھی امریکہ نے کہا چلو تو سب چلے۔ خلیجی جنگ میں چلے۔ افغانستان میں چلے۔ عراق میں چلے۔ اب نہیں چلتے۔ کیونکہ ٹرمپ نے وہ کام کیا جو تاریخ کا کوئی طاقتور حکمران نہیں کرتا۔ اتحادیوں کو ذلیل کیا اور پھر مدد مانگی۔ تین سال نیٹو کا مذاق اڑایا۔ یورپ پر ٹیرف لگائے۔ جرمنی کو دھمکایا۔ فرانس کو نظرانداز کیا۔ برطانیہ کو کہا چرچل نہیں ہے۔ جاپان اور جنوبی کوریا پر ٹیرف لگائے۔ چین کو تہذیب کا دشمن کہا۔ گرین لینڈ خریدنے کی دھمکی دی۔ اور اب انہی سب سے کہہ رہا ہے کہ بحری جہاز بھیجو ہرمز کھولو میری جنگ میں شامل ہو جاؤ۔ اسٹارمر نے ٹھیک کہا کہ یہ قیادت نہیں ہے یہ گھسیٹا جانا ہے۔

ٹرمپ نے ایران پر حملہ اس طرح کیا جیسے کوئی سانڈ دکان میں گھس جائے۔ نہ مشاورت کی۔ نہ منصوبہ بنایا۔ نہ اخراج کی حکمت عملی بنائی۔ نیتن یاہو نے اکسایا اور ٹرمپ بغیر سوچے کود پڑا۔ خامنہ ای مارا۔ تہران پر بم گرائے۔ آپریشن ایپک فیوری کا نام رکھا۔ سوچا کہ چند دنوں میں ختم ہو جائے گا۔ اٹھارہ دن ہو گئے۔ ختم ہونے کا نام نہیں۔ ایران لڑ رہا ہے۔ ہرمز بند ہے۔ تیل آسمان پر ہے۔ اور اتحادی بھاگ رہے ہیں۔یہ دو ہزار تین کا عراق نہیں ہے۔ عراق میں بھی جھوٹ بولے گئے تھے لیکن کم از کم ایک اتحاد بنایا گیا تھا۔ برطانیہ نے بلیئر کی قیادت میں ساتھ دیا تھا۔ آسٹریلیا شامل ہوا تھا۔ اقوام متحدہ میں پاول نے جھوٹی بریفنگ دی تھی لیکن وہاں بیٹھ کر بات تو کی تھی۔ اس بار کچھ نہیں ہوا۔ نہ مشاورت۔ نہ اتحاد۔ نہ اقوام متحدہ کی منظوری۔ نہ قانونی بنیاد۔ صرف ایک اسّی سالہ بوڑھے کا فیصلہ جو ایک چھہتّر سالہ جنگجو نے اکسایا۔ اور اب جب آگ لگ چکی ہے تو ٹرمپ دنیا سے کہہ رہا ہے کہ آؤ بجھاؤ۔ اور دنیا کہہ رہی ہے کہ تم نے لگائی تم بجھاؤ۔ٹرمپ نے دھمکی دی کہ ہم یاد رکھیں گے۔ یورپ نے خاموشی سے جواب دیا کہ ہم بھی یاد رکھیں گے۔ یوکرین یاد ہے۔ ٹیرف یاد ہیں۔ نیٹو کی تذلیل یاد ہے۔ گرین لینڈ کی دھمکی یاد ہے۔ سب یاد ہے۔ یہ نئی دنیا ہے۔ اس دنیا میں امریکہ اب بھی سب سے طاقتور ہے لیکن اکیلا ہے۔ طاقت اور تنہائی ایک ساتھ ہوں تو طاقت بے معنی ہو جاتی ہے۔ کیونکہ طاقت کا مطلب صرف بم گرانے کی صلاحیت نہیں ہوتا۔ طاقت کا مطلب ہوتا ہے کہ جب آپ بلائیں تو لوگ آئیں۔ آج ٹرمپ نے بلایا۔ کوئی نہیں آیا۔
یک قطبی دنیا اس وقت ختم نہیں ہوتی جب کوئی نئی طاقت ابھرتی ہے۔ یک قطبی دنیا اس وقت ختم ہوتی ہے جب پرانی طاقت کو لوگ ماننا بند کر دیں۔ آج سولہ مارچ دو ہزار چھبیس ہے اور دنیا نے ماننا بند کر دیا ہے۔ ٹرمپ نے ایران میں سانڈ کی طرح گھس کر دکان توڑی۔ اب ٹوٹے ہوئے برتنوں کا ڈھیر لگا ہے اور سانڈ دنیا سے کہہ رہا ہے کہ آؤ صفائی کرو۔ دنیا نے جھاڑو رکھ دیا ہے اور کہا ہے کہ تمہاری دکان تمہارا سانڈ تمہارا ملبہ۔ ہم نے نہیں توڑا ہم نہیں اٹھائیں گے۔ اور یہ نہیں دنیا کی نئی زبان ہے۔ امریکہ کو یہ زبان سمجھنی پڑے گی۔ کیونکہ اب تک امریکہ نے صرف ایک زبان سنی ہے کہ جی ہاں۔ آج سے نہیں کا دور شروع ہوا ہے۔ اور نہیں کا دور جب شروع ہوتا ہے تو سلطنتیں بدلتی ہیں۔ ہمیشہ بدلی ہیں۔

مزید پڑھنے کے لیے براہ کرم ہمارے مضامین دیکھیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں