0

عالمِ اسلام پر الحاد و دہریت کے سائے منڈلا رہے ہیں اس فتنہ سے بچنے کے لئے ہرمسلمان ذمہ داری کا احساس کریں ۔مولانا مفتی کفایت

(Publish from Houston Texas USA)

(سید سردار محمد خوندئی بیوروچیف چمن)

دینی مدارس کی کردار برصغیر کے آزادی اور علمی میدان میں کسی سے پوشیدہ نہیں۔ مولانا حافظ محمد یوسف
جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاون بائی پاس روڈ چمن میں تاریخ ساز وفقیدالمثال سینکڑوں علماء کرام ومفتیان کی 57 ویں سالانہ جلسہ دستاربندی وکانفرنس بیاد علامہ عبدالغنی سے ملک بھر کے جید علماء کرام، دانشوورں، وکلاء، قبائلی مشران ،اور سماجی رہنماوں نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ
آج کا دور فتن و آزمائش کا دور ہے، مغربی فلسفہ، لادین تہذیب اور سوشل میڈیا کے زہریلے اثرات نے دنیا کے بیشتر مسلم معاشروں کو ذہنی طور پر کمزور کر دیا ہے۔
وحدت ادیاں (ابراھیمی معاھدہ)اور فتنہ قادیانیت کی طرح
بالخصوص نوجوان نسل الحاد اور دہریت جیسے نظریات کی زد میں ہے، جو انہیں ایمان، قرآن اور شریعت سے دور کر رہے ہیں۔
قرآن کریم نے ان جیسے فتنوں سے انسان کو صرف اپنی ذات کا نہیں بلکہ اپنے اہل و عیال اور ماتحتوں کا بھی ذمہ داری سونپا دیا گیا ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاؤ
یہ آیت صاف بتاتی ہے کہ ایک مرد یا عورت صرف اپنے اعمال کا ہی نہیں، بلکہ اپنے زیرِ کفالت افراد کے عقائد، عبادات اور دینی ماحول کا بھی ذمہ دار ہے۔
مقررین خطاب کرتے ہوئے فرمایاکہ وحدت ادیاں (ابراھیمی معاھدہ)اور فتنہ قادیانیت کی طرح الحادودھریت صرف یہ نہیں کہ کوئی کھلے لفظوں میں خدا کا انکار کریں، بلکہ عملاً خدا سے غفلت، دین سے بےرغبتی، اور آخرت سے بےفکری بھی عملی الحاد ہے۔
لھذا اسے بچنے کے لیے قران ،سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور دینی مدارس کا جڑ کر سھارا لینا چاھئے
مقررین نے کہا کہ چمن بارڈر باب دوستی پچھلے تین سالوں بند ہے چسے نہ صرف لاکھوں لوگ بیروزگار ہوچکے ہیں بلکہ رشتے ناطے نبھانے میں بھی رکاوٹیں درپیش آئے ہیں جسے علاقے کے باسی سخت اڈیت میں مبتلاء ہوچکے ہیں
مقررین نے کہا مائینز اینڈ منرل پر سب سے پہلے علاقے کے عوام کا حق ہے ۔
معلوم ایسا ہورہا ہے کہ اس قدرتی روزگار اور سرمایہ سے بھی لوگوں کومحرو م کیا جارہاہے
جسے علاقے بد آمنی ، بے چینی ،چوری ڈکیٹی کے وارداتوں ،اور نئ نسل کو منشیات کی طرف جانے کاخطرہ بڑھا رہے ہیں
پالیسی ساز ادارے اپنی روش پر نظر ثانی کریں
انھوں نے کہا کہ دینی مدارس ملک کی سلامتی ،امن وامان کی بحالی اور عوام میں دین اسلام کی مبنی بر حقیقت اسلامی اور قرانی تعلیمات کو اجاگرکر نے
اور عالمی سطح پردینی تعلیمات کی رینکنگ کے لحاظ سے پاکستان کو نمبر ون پر رکھنے میں بڑاکردار ہے اج دینی مدارس کو دباو اورزیر عتاب رکھے جارہے ہیں جسکو ہم خالصتا مغرب کا ایجنڈہ گردانتے ہیں اس حوالے سے مقتدر قوتوں کو اپنی روش بدلنا ہوگا
انھوں کہا کہ جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاون چمن پچلھے ستاون سالوں دینی تعلیمات کی فروغ میں اھم کردار اداء کررہی ہے جسکی بدولت اج جامعہ کا شمار ملک گیر سطح پر صف اول کے جامعات ومدارس میں ہوتے ہیں
انھوں علامہ عبدالغنی کے دینی ،علاقائی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ علامہ عبدالغنی کی زندگی ھمارے لئے مشعل راہ ہے
پاکستان سمیت دنیا بھر کے مختلف ممالک میں پھیلے ہوئے انکے ہزاروں شاگرد انکا مشن اور خدمات سرانجام دے رہے ہیں جوکہ قابل فخر ہے
انھوں نے جامعہ کے منتظیمین کوخراج تحسین پیش کرتے ہوئے فرمایاکہ انکی شبانہ روز محنت سے
علم و عمل کی روشن روایت کے برقرار رکھتے ہوئے، اج یہ عظیم الشان منعقد کیا
جو صرف ایک تقریب نہیں، بلکہ علم، قربانی اور استقامت کی روشن داستان ہے۔
یاد رہے حسب سابق گزشتہ روز جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاون میں سینکڑوں علماء کرام ،مفتیان عظام کی دستار بندی کی گئ ،
دستاربندی کے اس پروقار اجتماع کے مہمانی خصوصی کے طور جانشین مولانا غلام غوث ہزاروی رہبر ختم نبوت اور جمعیت علماء اسلام پاکستان کے مرکزی راہنما مولانا مفتی کفایت اللہ نے مانسہرہ کے پی کے
شیخ الحدیث مولانا پیر سیف الرحمن نے لورالائی اور مرشد العلماء پیر طریقت مولانا عبدالصمد آغا نے کوئٹہ کچلاک سے بطور خاص شریک ہوئے تھے
اجتماع کے اخرمیں مولانا حافظ محمدیوسف نے تمام شرکاء مہمانوں اور خاص کر علاقے کے معتبرین مشائخ و علماء کرام
وکلاء سماجی کارکنان مولانا محمد ایوب کی سربراہی میں قائم جامعہ کے منتظمہ کمیٹی اور صحافی برادری کا شکریہ اداء کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں