(Publish from Houston Texas USA)
لاہور (محمد منصور ممتاز سے)
طبِ یونانی اور ہومیوپیتھی کے تعلیمی نصاب میں ریگولیٹری فریم ورک شامل کرنے اور شواہد پر مبنی علاج کو فروغ دینے پر اتفاق
پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن (پی ایچ سی) نے روایتی نظامِ طب کے ضابطہ کار کا جائزہ لینے اور علاج معالجے کے معیار اور مریضوں کی حفاظت کو بہتر بنانے کے لیے نیشنل کونسل فار طب (NCT) اور نیشنل کونسل فار ہومیوپیتھی (NCH) کی قیادت کے ساتھ ایک اعلیٰ سطحی مشاورتی اجلاس منعقد کیا۔ اجلاس کی صدارت چیف ایگزیکٹو آفیسر پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن ڈاکٹر محمد ثاقب عزیز نے کی۔
اجلاس میں صدر نیشنل کونسل فار طب حکیم محمد احمد سلیمی، صدر نیشنل کونسل فار ہومیوپیتھی ہومیوپیتھک ڈاکٹر راؤ غلام مرتضیٰ، ڈائریکٹر کلینیکل گورننس PHC ڈاکٹر مشتاق احمد سلاریا، ڈائریکٹر انسپیکشنز PHC ڈاکٹر شفقت اعجاز اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔
اجلاس کے شرکاء کا خیرمقدم کرتے ہوئے ڈاکٹر محمد ثاقب عزیز نے کہا کہ طبِ یونانی اور ہومیوپیتھی معاشرے کے ایک بڑے طبقے کو صحت کی سہولیات فراہم کر رہے ہیں، تاہم ان شعبوں میں خدمات فراہم کرنے والوں اور مریضوں کے استعمال سے متعلق اعداد و شمار قومی صحت کے ریکارڈ میں مناسب طور پر شامل نہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مؤثر ضابطہ کار، مستند ڈیٹا اور جدید معیارِ علاج و مریضوں کی حفاظت کے تقاضوں کے مطابق نظام کو ہم آہنگ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
ڈائریکٹر کلینیکل گورننس ڈاکٹر مشتاق احمد سلاریا نے اجلاس کے مقاصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ طریقۂ کار کا جائزہ لینا، شواہد پر مبنی علاجی مداخلتوں کو شامل کرنا اور متبادل نظامِ طب کو عالمی بہترین طریقوں کے مطابق ہم آہنگ کرنا ضروری ہے تاکہ مقامی صحت کی ضروریات کو مؤثر انداز میں پورا کیا جا سکے۔ انہوں نے زور دیا کہ ڈگری ہولڈرز (BEMS/BHMS) اور ڈپلومہ ہولڈرز (FTJ/DHMS) کی کلینیکل صلاحیتوں اور دائرۂ کار کو واضح طور پر متعین کیا جائے تاکہ خدمات قانونی تقاضوں اور پیشہ ورانہ معیار کے مطابق فراہم کی جا سکیں۔
صدر نیشنل کونسل فار طب حکیم محمد احمد سلیمی نے شرکاء کو کونسل کی جانب سے حالیہ نصاب میں کی جانے والی اصلاحات کے بارے میں آگاہ کیا، جن میں مؤثر اور ثابت شدہ علاجی طریقوں کو شامل کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ رجسٹرڈ طبّی معالجین کا تازہ ڈیٹا، موجودہ نصاب اور ضابطۂ اخلاق کونسل کی ویب سائٹ پر دستیاب ہے۔ کونسلوں نے اس امر پر اتفاق کیا کہ روایتی اور تکمیلی طب کے میدان میں ہونے والی پیش رفت کے مطابق تعلیمی نظام کو مسلسل اپ ڈیٹ کرنا ضروری ہے۔
صدر نیشنل کونسل فار ہومیوپیتھی ڈاکٹر راؤ غلام مرتضیٰ نے حالیہ اقدامات پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ DHMS پروگرام میں داخلے کے لیے ایف ایس سی کو لازمی شرط قرار دیا گیا ہے جبکہ BHMS ڈگری پروگرام کو متعارف اور وسعت دی جا رہی ہے۔
تفصیلی غور و خوض کے بعد شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ تعلیمی نصاب میں ہیلتھ کیئر ریگولیٹری فریم ورک سے متعلق خصوصی ماڈیول شامل کیا جائے گا اور کلینیکل پریکٹس کو پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کے کم از کم سروس ڈیلیوری معیارات (MSDS) کے مطابق ہم آہنگ کیا جائے گا۔ اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ شواہد پر مبنی طبی عمل خدمات کے معیار میں بہتری، مریضوں کے تحفظ اور بہتر طبی نتائج کے حصول کے لیے نہایت اہم ہے۔
اجلاس کے اختتام پر پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن اور دونوں کونسلوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ روایتی نظامِ طب کو جدید ضابطہ کار اور ابھرتی ہوئی طبی ضروریات کے مطابق فروغ دیا جائے گا جبکہ مریضوں کے مفادات کا تحفظ اولین ترجیح ہوگا۔
اختتامی کلمات میں ڈاکٹر محمد ثاقب عزیز نے کہا کہ روایتی نظامِ طب کی ساکھ مؤثر دستاویز سازی اور مستند ڈیٹا جمع کرنے سے وابستہ ہے۔ انہوں نے نیشنل کونسل فار طب اور نیشنل کونسل فار ہومیوپیتھی کو ترغیب دی کہ متبادل نظامِ طب کے معالجین کو قومی ڈیٹا بیس میں شامل کروانے کے لیے کردار ادا کریں تاکہ شواہد پر مبنی پالیسی سازی اور پاکستان کے صحت کے نظام کی پائیدار ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔
مزید معلومات کے لیے براہ کرم ہماری قومی خبریں دیکھیں۔