0

ضمنی الیکشن 2025: پسِ منظر، اسباب، سیاسی حرکیات اور نتائج کا جامع تجزیہ

(Publish from Houston Texas USA)

(از: میاں افتخار احمد)

ضمنی الیکشن 2025 پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم موڑ کی حیثیت اختیار کر چکا ہے کیونکہ یہ انتخابات محض چند نشستوں کی تکمیل کا عمل نہیں تھے بلکہ ملکی سیاست، عوامی رجحانات، حکومتی کارکردگی، اپوزیشن کی پوزیشن، اتحادی جماعتوں کے اندرونی توازن اور آنے والے عام انتخابات کی اجتماعی سمت کا ایک واضح اشارہ بھی تھے، ان انتخابات کا پس منظر کئی پیچیدگیوں سے بھرا تھا، کہیں عدالتی فیصلوں کے بعد نشستیں خالی ہوئیں، کہیں استعفے سامنے آئے، بعض حلقوں میں اراکین کے انتقال کے باعث انتخابات ناگزیر ہو گئے جبکہ کچھ حلقوں میں الیکشن کمیشن کی تکنیکی کارروائیوں نے سیاسی نقشے کو بدل کر رکھ دیا، یوں ملک کے مختلف صوبوں اور اضلاع میں ضمنی انتخابات کا یہ سلسلہ ایک ایسے وقت میں نمودار ہوا جب مہنگائی، بے روزگاری، معاشی دباؤ، حکومتی اصلاحات، اتحادی حکمت عملی، عدالتی معاملات اور داخلی انتشار پہلے ہی عوامی بحث کا حصہ بن چکے تھے۔ ان ضمنی انتخابات کا سب سے اہم پہلو یہ تھا کہ عوام نے انہیں محض ایک رسمی انتخاب کے طور پر نہیں بلکہ حکومت اور اپوزیشن دونوں کے لیے ایک امتحان سمجھ کر دیکھا، یہی وجہ ہے کہ انتخابی مہم میں غیر معمولی گرمجوشی دیکھی گئی، سیاسی جلسے، کارنر میٹنگز، ووٹر رابطہ مہمات اور سوشل میڈیا مہمات میں وہ شدت نظر آئی جو عموماً عام انتخابات میں دیکھنے کو ملتی ہے، مقامی مسائل جیسے گیس، بجلی، پینے کے پانی، تعلیم، سڑکوں کی تعمیر، صفائی، بہبود و نگہداشت، صنعتی اور زرعی ترقی کے سوالات ہر امیدوار کے سامنے رکھے گئے جبکہ قومی سطح پر معاشی بحالی، آئی ایم ایف پروگرام، پٹرولیم قیمتیں، برآمدات، امن و امان، ادارہ جاتی اصلاحات اور سفارتی تعلقات جیسے موضوعات پر بھی سیاسی جماعتوں نے اپنی اپنی پالیسیوں کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا۔ ضمنی انتخابات ہونے کی بنیادی وجوہات کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ سیاسی عدم استحکام نے اس عمل کو تیز کیا، کسی جگہ حکومتی اتحادی اختلافات کے باعث استعفے آئے، کسی حلقے میں عدالتوں نے نااہلی کے فیصلے سنائے، کہیں نشستیں اراکین کے انتقال کی وجہ سے خالی ہوئیں، یہ سب ایسے عوامل ہیں جنہوں نے انتخابات کے وقت پر غیر مستقیم اثرات چھوڑے اور سیاسی ماحول کو مزید حساس بنا دیا، اس کے ساتھ ساتھ بعض حلقوں میں انتخابی مہم کے دوران سیاسی تقسیم اپنی انتہا تک پہنچ گئی جہاں ہر جماعت یہ سمجھتی تھی کہ یہاں ہونے والی کامیابی آنے والے عام انتخابات میں اس کے لیے ایک اخلاقی فتح ہوگی۔ سیاسی فائدہ اور نقصان کا اگر جامع تجزیہ کیا جائے تو یہ امر کھل کر سامنے آتا ہے کہ ان ضمنی انتخابات نے تمام جماعتوں کے لیے ایک ملا جلا نتیجہ پیدا کیا، حکومتی اتحاد کو ایسے کچھ حلقوں میں کامیابی ملی جہاں ان کی پوزیشن کمزور سمجھی جا رہی تھی، اس سے ظاہر ہوا کہ حکومتی بیانیہ مکمل طور پر متاثر نہیں ہوا بلکہ بعض جگہ عوام نے تسلسل کو ترجیح دی ہے، تاہم کچھ حلقوں میں حکومتی اتحاد کو سخت جھٹکا بھی لگا جہاں عوامی ردعمل توقع سے زیادہ شدید ثابت ہوا، ان شکستوں نے حکومت کو یہ احساس دلایا کہ عوامی سطح پر گورننس، مہنگائی اور معاشی مشکلات جیسے مسائل اب بھی ووٹر کے طرزِ عمل کو براہ راست متاثر کر رہے ہیں۔ دوسری طرف اپوزیشن جماعتوں نے ان ضمنی انتخابات کو اپنی سیاسی زندگی کا ایک اہم موقع سمجھا، انہیں کچھ حلقوں میں حیران کن کامیابیاں بھی ملیں جنہوں نے ان کے بیانیے کو تقویت دی، خاص طور پر ان جگہوں پر جہاں حکومتی امیدواروں کا مضبوط سیاسی اثر و رسوخ تھا، اپوزیشن کی انتخابی کامیابی نے یہ ثابت کیا کہ عوام اب روایتی سیاست کے تابع نہیں رہے، وہ کارکردگی، مسائل کے حل اور امید پر مبنی سیاست کو ترجیح دیتے ہیں، تاہم اپوزیشن کو بھی ایسے حلقوں میں ناکامی کا سامنا رہا جہاں انہیں توقعات کے مطابق نتائج نہیں ملے، اس سے یہ تاثر بھی ملا کہ ووٹر اب صرف حکومت مخالف بیانیہ سن کر ووٹ ڈالنے کو تیار نہیں بلکہ وہ علاقائی مسائل کو مقدم رکھ کر فیصلہ کرتے ہیں۔ ان انتخابات کے مجموعی ماحول نے یہ بھی واضح کر دیا کہ پاکستانی ووٹر سیاسی لحاظ سے بالغ ہو چکا ہے، وہ ایک ہی جماعت یا خاندان کا ووٹ بینک ثابت نہیں بلکہ ہر نشست کا فیصلہ بدلتے ہوئے حالات اور عملی مسائل کے مطابق کرتا ہے، اس کے ساتھ ساتھ یہ حقیقت بھی اہم ہے کہ اس الیکشن نے سیاسی جماعتوں کو اپنی حکمت عملی ازسرنو ترتیب دینے پر مجبور کر دیا ہے کیونکہ ہر جماعت نے کسی نہ کسی سطح پر اس انتخاب سے نئی سیاسی حقیقتوں کا سامنا کیا ہے۔ ان ضمنی انتخابات کا ایک بڑا اثر یہ بھی ہے کہ آنے والے عام انتخابات کے لیے سیاسی درجہ حرارت بڑھ گیا ہے، ہر جماعت اب جان چکی ہے کہ عام انتخابات میں مقابلہ انتہائی سخت ہوگا، عوامی توقعات زیادہ ہوں گی اور کامیاب وہی جماعت ہوگی جو واضح منصوبہ بندی، عملی اقدامات، شفاف حکمت عملی اور مضبوط تنظیمی ڈھانچے کے ساتھ میدان میں اترے گی، ان ضمنی انتخابات نے حکومت کو اس بات کا احساس دلایا کہ اگلے چند ماہ اس کی کارکردگی کے لیے فیصلہ کن حیثیت رکھتے ہیں، اگر عوام کو معاشی ریلیف، ترقیاتی کاموں کی تیزی اور اصلاحاتی سمت میں عملی پیش رفت نظر نہ آئی تو عام انتخابات میں مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے، اسی طرح اپوزیشن کے لیے بھی یہ پیغام ہے کہ صرف حکومت مخالف بیانیہ کافی نہیں ہوگا بلکہ انہیں مثبت اور قابلِ عمل متبادل پیش کرنا ہوگا۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ضمنی الیکشن 2025 صرف چند حلقوں کی انتخابی سرگرمی نہیں تھی بلکہ پاکستان کی سیاسی سمت کا ایک اہم اشاریہ تھا، اس میں عوام نے اپنے ووٹ کے ذریعے یہ واضح پیغام دیا کہ وہ بدلتی ہوا کا رخ پہچاننے کی صلاحیت رکھتے ہیں، وہ سیاسی نعروں سے زیادہ حقیقت پسندانہ فیصلے کرتے ہیں، وہ کارکردگی کو ترجیح دیتے ہیں اور وہ ہر اس جماعت سے فاصلے پر رہتے ہیں جو ان کے مسائل کو حل کرنے میں ناکام ہو، یوں ان انتخابات نے پاکستان کی سیاست میں نئے بیانیے، نئی امید اور نئے چیلنجز کو جنم دیا ہے اور یہ حقیقت واضح کر دی ہے کہ آنے والا سیاسی دور غیر معمولی ہوگا، جہاں ہر فیصلہ، ہر پالیسی، ہر قدم اور ہر انتخاب ملک کے مستقبل کی سمت پر گہرا اثر ڈالے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں