شہرت-کی-دوڑ-میں-سکون 0

شہرت کی دوڑ میں… سکون کو روند رہے ہیں

(Publish from Houston Texas USA)

(محمد منصور ممتاز)

آج کا انسان ایک عجیب اور بے سمت دوڑ میں شامل ہو چکا ہے—ایسی دوڑ جس کا نہ کوئی اختتام ہے، نہ کوئی حد، اور نہ ہی کوئی واضح مقصد۔ یہ دوڑ ہے شہرت کی، وہ شہرت جس کے پیچھے بھاگتے بھاگتے ہم اپنی پہچان، اپنے رشتے، اور سب سے بڑھ کر اپنا سکون کھو بیٹھے ہیں۔ سچ یہی ہے کہ شہرت کی دوڑ میں ہم سکون کو روند رہے ہیں۔

ہم اس چمک دمک کے پیچھے بھاگ رہے ہیں جو باہر سے روشن مگر اندر سے کھوکھلی ہے۔ لائکس، ویوز اور فالوورز کی دنیا نے ہمیں اس قدر جکڑ لیا ہے کہ اب ہمیں اپنے ہی گھر کے لوگ اجنبی محسوس ہونے لگے ہیں۔ شہرت کی چاہ میں ہم سکون کھو رہے ہیں، شہرت کے پیچھے بھاگتے ہوئے رشتے ٹوٹ رہے ہیں، شہرت کے نشے میں ہم اپنوں کو نظر انداز کر رہے ہیں، اور شہرت کے فریب میں ہم سچی خوشی بھول چکے ہیں۔ یہ کیسی کامیابی ہے کہ انسان دنیا کی نظروں میں تو بڑا ہو جائے مگر اپنے گھر میں چھوٹا ہو جائے؟

آج سوشل میڈیا نے ایک ایسی دنیا بنا دی ہے جہاں سب کچھ فوری ہے—شہرت بھی، تعریف بھی، اور بدنامی بھی۔ ایک لمحے کی ویڈیو کسی کو آسمان پر پہنچا دیتی ہے اور ایک غلطی اسے زمین پر گرا دیتی ہے۔ مگر اس ساری دوڑ میں جو سب سے زیادہ نظر انداز ہو رہا ہے وہ ہے سکون۔ ہم بھول چکے ہیں کہ اصل خوشی شور میں نہیں بلکہ خاموشی میں ہے، اور اصل کامیابی ہجوم میں نہیں بلکہ دل کے اطمینان میں ہے۔ افسوس یہ ہے کہ ہم نے وقتی داد کے لیے دائمی سکون قربان کر دیا ہے۔

کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جو باہر سے خوش دکھائی دیتے ہیں مگر اندر سے ٹوٹے ہوئے ہوتے ہیں۔ اسکرین پر جگمگاتے چہرے حقیقت میں آنسوؤں سے بھرے ہوتے ہیں۔ شہرت کی روشنی دل کے اندھیروں کو ختم نہیں کرتی بلکہ صرف انہیں چھپا دیتی ہے۔

کبھی کبھی یہ کہانی ایک ہولناک انجام اختیار کر لیتی ہے۔ حال ہی میں ایک ٹک ٹاکر، جس کے لاکھوں فالوورز تھے، اپنی ہی شہرت کے دباؤ میں ایسا الجھی کہ اس کا گھر ٹوٹ گیا۔ جھگڑے، بداعتمادی اور ذہنی دباؤ اس حد تک بڑھ گئے کہ اس کے اپنے شوہر نے اسے قتل کر دیا اور پھر خود بھی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔ یہ صرف ایک خبر نہیں بلکہ ایک چیخ ہے، ایک سبق ہے، ایک آئینہ ہے جس میں ہم سب اپنا عکس دیکھ سکتے ہیں۔

یہ انجام اس بات کا ثبوت ہے کہ جب شہرت رشتوں پر حاوی ہو جائے تو صرف گھر نہیں اجڑتے بلکہ زندگیاں ختم ہو جاتی ہیں۔ اگر سکون چلا جائے تو شہرت کسی کام کی نہیں رہتی، اور اگر گھر اجڑ جائے تو دنیا کی داد بھی بے معنی ہو جاتی ہے۔

اب وقت آ گیا ہے کہ ہم خود سے سوال کریں کہ کیا واقعی ہمیں وہی چاہیے جس کے لیے ہم سب کچھ قربان کر رہے ہیں، یا ہم ایک ایسے سراب کے پیچھے بھاگ رہے ہیں جو کبھی حقیقت نہیں بنے گا؟

اصل کامیابی یہ نہیں کہ لوگ ہمیں جانتے ہوں بلکہ یہ ہے کہ ہم خود کو جانتے ہوں، اپنے رشتوں کو سنبھال سکیں اور سکون کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔ ہمیں رکنے، سوچنے اور خود کو سنبھالنے کی ضرورت ہے۔ سوشل میڈیا کا استعمال محدود کریں، اپنوں کے ساتھ وقت گزاریں، اپنی ذہنی صحت کو ترجیح دیں اور اپنی کامیابی کا معیار بدلیں۔

شہرت وقتی ہے مگر سکون ہمیشہ قائم رہتا ہے۔ آئیں فیصلہ کریں کہ ہم شور نہیں بلکہ سکون کا راستہ چنیں گے، ہم دکھاوے نہیں بلکہ حقیقت کو ترجیح دیں گے، اور ہم شہرت کے پیچھے بھاگنے کے بجائے زندگی کو سکون سے جینا سیکھیں گے۔ کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ سکون ہی اصل کامیابی ہے۔

مزید پڑھنے کے لیے براہ کرم ہمارے مضامین دیکھیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں