(Publish from Houston Texas USA)
(طیب حبیب خان بیورو چیف ساہیوال ڈویژن)
ساہیوال کے گاؤں 130/9-L میں کپاس کی اگیتی کاشت کے موضوع پر ایک میگا اجتماع منعقد کیا گیا۔ پروگرام میں گرد و نواح کے علاقوں کے ترقی پسند کاشتکاروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور جدید کپاس کی پیداواری ٹیکنالوجی میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔ اس موقع پر ڈائریکٹر ایگریکلچر ایکسٹینشن (آئی پی ایم) پنجاب ڈاکٹر محمد زاہد نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ اسسٹنٹ ڈائریکٹر زراعت ڈاکٹر محمد اسلم نے شرکاء کو خوش آمدید کہا اور میگا اجتماع کے انعقاد کے اغراض و مقاصد سے آگاہ کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کپاس کی اگیتی کاشت کے ساتھ ساتھ انٹیگریٹڈ پیسٹ مینجمنٹ (IPM) طریقوں کو اپنانا زیادہ پیداوار کے حصول اور لاگت میں کمی کے لیے نہایت اہم ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس قسم کے آگاہی پروگراموں سے بھرپور استفادہ کے لیے کسانوں کی مکمل توجہ اور فعال شرکت ضروری ہے۔ ایگریکلچر آفیسر ایکسٹینشن کمیر عبدالقیوم نے کپاس کی پیداواری ٹیکنالوجی پر ایک جامع اور تکنیکی لیکچر دیا۔ ان کے لیکچر میں زمین کی تیاری، سفارش کردہ اقسام، بیج کی مقدار، کاشت کا موزوں وقت، متوازن کھادوں کا استعمال، آبپاشی کا نظام الاوقات اور کیڑوں کے تدارک کی حکمتِ عملیوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی، جبکہ اگیتی کاشت کے فوائد پر خصوصی زور دیا گیا۔ ایگریکلچر آفیسر بایولوجیکل کنٹرول لیبارٹری ساہیوال محترمہ ماریہ تحسین نے پائیدار زرعی نظام میں مفید کیڑوں کے کردار کے بارے میں شرکاء کو آگاہ کیا۔ انہوں نے بایولوجیکل کنٹرول لیبارٹری میں مفید کیڑوں کی افزائش کے عمل کی وضاحت کی اور بتایا کہ مفید کیڑوں کے انڈوں پر مشتمل بایو کارڈز لیبارٹری سے بلامعاوضہ دستیاب ہیں۔ انہوں نے کسانوں کو کیمیائی زرعی زہروں کے بے جا استعمال میں کمی کے لیے حیاتیاتی طریقۂ تدارک اپنانے کی تلقین کی۔ ڈائریکٹر ایگریکلچر ایکسٹینشن ڈاکٹر محمد زاہد نے شرکاء کو مختلف مفید کیڑوں کا عملی مظاہرہ کروایا۔ انہوں نے کسانوں کو ہدایت کی کہ وہ کپاس کی فصل میں آئی پی ایم کے تحت بایو کارڈز کا استعمال یقینی بنائیں تاکہ کیڑوں پر مؤثر اور ماحول دوست طریقے سے قابو پایا جا سکے۔
