(Publish from Houston Texas USA)
(میاں افتخار احمد)
جدید انسان ایک عجیب اور گہرے تضاد میں زندہ ہے، اس کے پاس تاریخ کی سب سے طاقتور سائنسی ٹیکنالوجی، سب سے دقیق مشاہداتی آلات اور کائنات کو ناپنے تولنے کے جدید ترین پیمانے موجود ہیں، مگر اس کے بنیادی وجودی سوال پہلے سے زیادہ شدید، بے چین اور پیچیدہ ہو چکے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ کائنات تقریباً تیرہ اعشاریہ آٹھ ارب سال قبل بگ بینگ سے وجود میں آئی، یہ بھی جانتے ہیں کہ وہ مسلسل پھیل رہی ہے، یہ بھی تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ ہم جس کائنات کو دیکھتے ہیں وہ مکمل حقیقت نہیں بلکہ صرف وہ حصہ ہے جہاں تک روشنی ہم تک پہنچ سکی ہے، یعنی مشاہداتی کائنات، مگر اس ساری سائنسی ترقی کے باوجود سب سے بنیادی سوال اپنی پوری شدت کے ساتھ موجود ہے کہ کائنات کیوں ہے، نہ کہ صرف یہ کہ وہ کیسے وجود میں آئی۔ جدید الحاد کا دعویٰ ہے کہ سائنس نے خدا کو غیر ضروری بنا دیا ہے، خاص طور پر بگ بینگ کے بعد، کیونکہ اگر وقت خود بگ بینگ سے شروع ہوا تو پھر خالق کا تصور بے معنی ہو جاتا ہے، یہ دعویٰ بظاہر سائنسی معلوم ہوتا ہے مگر حقیقت میں یہ ایک فلسفیانہ چھلانگ ہے جسے سائنس نے نہیں بلکہ الحاد نے خود لگایا ہے، کیونکہ سائنس صرف یہ بتاتی ہے کہ ہمارا قابلِ مشاہدہ وقت کہاں سے شروع ہوتا ہے، یہ دعویٰ نہیں کرتی کہ حقیقت کا مکمل دائرہ یہی ہے۔ ہم جس کائنات کو دیکھتے ہیں وہ مکمل حقیقت نہیں بلکہ ایک محدود دائرہ ہے جس کی سرحد روشنی ہے، اس سرحد کے پار کیا ہے اس پر سائنس خاموش ہے، مگر یہ خاموشی اس بات کا ثبوت نہیں کہ وہاں کچھ نہیں بلکہ اس بات کا اعلان ہے کہ انسانی علم یہاں آ کر رک جاتا ہے، مسئلہ یہ ہے کہ الحاد اس خاموشی کو عدمِ وجود میں بدل دیتا ہے جبکہ سائنسی دیانت داری کا تقاضا یہ ہے کہ جہاں علم ختم ہو وہاں دعویٰ بھی ختم ہو جائے۔ یہی نکتہ الہامی تصور میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے جہاں انسان کو بار بار یاد دلایا جاتا ہے کہ اسے علم بہت تھوڑا دیا گیا ہے اور حقیقت کا بڑا حصہ اس کی رسائی سے باہر ہے، یہاں ایمان اور سائنس ایک دوسرے کے دشمن نہیں بلکہ ایک دوسرے کی حد بندی کرتے ہیں اور یہی حد بندی انسانی غرور کو ٹوٹنے سے بچاتی ہے۔ بگ بینگ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ وقت، مادہ اور توانائی ایک خاص لمحے میں ظاہر ہوئے مگر یہ نہیں بتاتا کہ یہ لمحہ کیوں آیا یا قوانینِ فطرت اس لمحے میں پہلے سے کیوں موجود تھے، الحاد یہاں یہ کہہ کر معاملہ ختم کرنا چاہتا ہے کہ بگ بینگ سے پہلے کا سوال ہی غلط ہے مگر یہ جواب منطقی سے زیادہ دفاعی ہے کیونکہ اگر وقت خود ایک مخلوق ہے تو اس کا سبب لازماً وقت کے اندر نہیں ہو سکتا، سبب کو وقت کے اندر قید کرنا انسانی ذہن کی عادت ہے کائناتی ضرورت نہیں، الہامی تصور اسی نکتے پر زور دیتا ہے کہ خالق وقت کے اندر نہیں بلکہ وقت کا خالق ہے اس لیے بگ بینگ سے پہلے کا سوال خدا پر لاگو ہی نہیں ہوتا بلکہ اصل سوال یہ بن جاتا ہے کہ وقت خود کیوں ہے۔ کوانٹم فزکس نے ایک اور حیران کن انکشاف یہ کیا کہ خلا خالی نہیں بلکہ ورچوئل پارٹیکلز خلا میں پیدا ہوتے اور ختم ہو جاتے ہیں بغیر کسی واضح کلاسیکل سبب کے، اس کا مطلب یہ ہے کہ کچھ نہیں درحقیقت امکانات سے بھرا ہوا میدان ہے، اب سوال یہ نہیں کہ کائنات کیسے وجود میں آئی بلکہ یہ ہے کہ وجود کی اجازت دینے والا فریم کہاں سے آیا، یہ وہ مقام ہے جہاں الحاد خود تضاد کا شکار ہو جاتا ہے کیونکہ ایک طرف وہ کہتا ہے کہ سب کچھ اتفاق ہے اور دوسری طرف وہ انتہائی باریک قوانین، ریاضیاتی توازن اور فائن ٹیوننگ کو مانتا ہے جن کے بغیر کائنات، ایٹم، ستارے اور زندگی ممکن ہی نہیں، اتفاق اس درجے کی ترتیب کی معقول وضاحت نہیں بن سکتا بلکہ یہ محض ایک لفظی پردہ ہے جو لاعلمی کو ڈھانپنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ جدید سائنس یہ مانتی ہے کہ کائنات ریاضیاتی قوانین کے تحت چلتی ہے، پوری کائنات مساواتوں میں سمائی جا سکتی ہے، ستاروں کی گردش، ذرات کی حرکت، وقت کی رفتار اور خلا کی ساخت سب ریاضی کی زبان میں بیان کی جا سکتی ہے، مگر اصل سوال یہ نہیں کہ ریاضی کائنات کو بیان کیوں کر سکتی ہے بلکہ یہ ہے کہ کائنات ریاضی کی زبان سمجھتی کیوں ہے، ریاضی انسانی ایجاد ہے یا دریافت، اگر یہ ایجاد ہے تو کائنات اس کی پابند کیوں ہے اور اگر یہ دریافت ہے تو یہ ریاضیاتی سچائیاں کائنات سے پہلے کہاں موجود تھیں، الحاد یہاں خاموشی اختیار کرتا ہے اور کہتا ہے کہ قوانین بس ہیں، مگر یہی بات جب مذہب کہتا ہے تو اسے غیر سائنسی قرار دے دیا جاتا ہے حالانکہ قوانین خود وضاحت چاہتے ہیں کیونکہ قانون بغیر قانون ساز کے ایک ادھورا تصور ہے، چاہے وہ قانون ساز شخصی مانا جائے یا ماورائی، مگر اس کے بغیر قوانین محض بے جان علامات بن کر رہ جاتے ہیں۔ شعور شاید الحاد کے لیے سب سے زیادہ پریشان کن مسئلہ ہے کیونکہ سائنس دماغ کے افعال، نیورونز کی فائرنگ اور کیمیائی تعاملات تو بیان کر سکتی ہے مگر شعور کی ماہیت، احساسِ خودی، ارادہ، انتخاب اور معنی کی طلب کو مکمل طور پر کیمیائی ردعمل میں تبدیل نہیں کر پاتی، اگر شعور محض وہم ہے تو پھر سچ، جھوٹ، دلیل، سائنس اور حقیقت خود بھی وہم بن جاتی ہے کیونکہ ان سب کا فیصلہ شعور ہی کرتا ہے، اس طرح الحاد اپنی ہی بنیاد کاٹنے لگتا ہے۔ الہامی تصور شعور کو مادے کی پیداوار نہیں بلکہ حقیقت کی ایک بنیادی جہت مانتا ہے، یہی وجہ ہے کہ کائنات قابلِ فہم ہے اور انسان اسے سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہے، ایک بے مقصد اور اندھی کائنات سے بامقصد عقل کا پیدا ہونا ایک ایسا تضاد ہے جسے الحاد آج تک حل نہیں کر سکا۔ الحاد خود کو ایمان سے پاک ظاہر کرتا ہے مگر حقیقت میں وہ کئی غیر تجرباتی مفروضوں پر کھڑا ہے جیسے یہ کہ کائنات قابلِ فہم ہے، انسانی عقل حقیقت تک رسائی رکھتی ہے، فطرت کے قوانین ہمیشہ یکساں رہتے ہیں، اور اخلاقیات محض سماجی ارتقا نہیں بلکہ کسی نہ کسی درجے میں حقیقی ہیں، یہ سب مفروضے سائنس سے پہلے مانے جاتے ہیں تب جا کر سائنس ممکن ہوتی ہے، اس لحاظ سے الحاد بھی ایک وجودی ایمان ہے جو خود کو سائنسی زبان میں پیش کرتا ہے اور اسی لیے وہ اپنے مفروضوں پر کم اور مذہب کے مفروضوں پر زیادہ سوال اٹھاتا ہے۔ اخلاقیات کا مسئلہ اس بحث میں خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ اگر کائنات اندھی قوتوں کا نتیجہ ہے تو اچھا اور برا محض حیاتیاتی ترجیحات اور سماجی معاہدے ہیں، مگر انسان ظلم کو غلط، انصاف کو درست، سچ کو قیمتی اور قربانی کو قابلِ قدر سمجھتا ہے، یہ اخلاقی احساس کسی حادثاتی کائنات کا فطری نتیجہ نہیں لگتا بلکہ کسی بلند تر معیار کی طرف اشارہ کرتا ہے، الہامی تصور اخلاقیات کو ایک ماورائی بنیاد دے کر انہیں محض ذاتی رائے کے بجائے معنی عطا کرتا ہے۔ نتیجتاً جدید کاسمولوجی نے خدا کو غیر ضروری ثابت نہیں کیا بلکہ اس نے سوال کو مزید گہرا اور شدید بنا دیا ہے، جتنا ہم کائنات کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں اتنا ہی یہ واضح ہوتا جاتا ہے کہ سائنس کیسے کا جواب دیتی ہے کیوں کا نہیں، الحاد اس خلا کو اتفاق، نامعلوم مستقبل کی دریافتوں یا لامحدود مفروضوں سے بھرنا چاہتا ہے جبکہ الہامی تصور اسے مقصد، عقل، شعور اور معنی سے جوڑتا ہے، حتمی سوال یہ نہیں کہ سائنس یا مذہب میں سے کون جیتا بلکہ یہ ہے کہ کون سا فریم حقیقت کی زیادہ جامع، مربوط اور انسانی تجربے سے ہم آہنگ وضاحت فراہم کرتا ہے، کیا وہ جو ہر سوال کو اتفاق پر چھوڑ دیتا ہے یا وہ جو کائنات، عقل، اخلاق اور شعور کو ایک بامعنی کل میں جوڑ دیتا ہے، یہ سوال آج بھی اسی شدت سے موجود ہے اور شاید یہی سوال انسان ہونے کی اصل علامت ہے۔
