(Publish from Houston Texas USA)
لاہور (محمد منصور ممتاز سے)
ابتدائی 30 منٹ میں درست اقدامات اُکھڑے ہوئے دانت کو دوبارہ محفوظ بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں
ڈاکٹر فریحہ ارشد (ڈینٹل سرجن) نے کہا ہے کہ کھیلوں، حادثات یا گرنے کے واقعات میں بعض اوقات مستقل دانت اپنی جگہ سے مکمل طور پر نکل جاتا ہے جسے طبّی اصطلاح میں ٹوتھ اویلژن (Tooth Avulsion) کہا جاتا ہے۔ اگر ایسے موقع پر فوری اور درست اقدامات کیے جائیں تو اُکھڑا ہوا دانت اکثر دوبارہ محفوظ کیا جا سکتا ہے۔
ڈاکٹر فریحہ ارشد نے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ چوٹ لگنے کے بعد ابتدائی 30 منٹ انتہائی اہم ہوتے ہیں۔ اس دوران درست اقدامات کرنے سے قدرتی دانت کو بچانے کے امکانات نمایاں طور پر بڑھ جاتے ہیں، اس لیے متاثرہ شخص کو گھبرانے کے بجائے فوری طور پر مناسب اقدامات کرنے چاہئیں۔
ڈکٹر فریحہ ارشد نے کہا کہ اگر اُکھڑا ہوا دانت مل جائے تو اسے صرف اوپر کے سفید حصے یعنی کراؤن سے پکڑنا چاہیے جبکہ دانت کی جڑ کو ہاتھ لگانے سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ جڑ پر موجود نازک خلیات دانت کو دوبارہ لگانے کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر فریحہ ارشد کے مطابق اگر دانت مٹی یا گرد سے آلودہ ہو تو اسے چند سیکنڈ کے لیے صاف بہتے پانی سے ہلکے انداز میں دھو لیا جائے، تاہم دانت کو رگڑنے، برش کرنے یا صابن اور کیمیکل استعمال کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے کیونکہ اس سے دانت کی جڑ کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
ڈاکٹر فریحہ ارشد نے مزید بتایا کہ اگر ممکن ہو تو دانت کو احتیاط کے ساتھ دوبارہ اس کی اصل جگہ یعنی مسوڑھے میں لگا کر صاف کپڑے یا گاز کو ہلکے سے دانتوں کے درمیان دبا لیا جائے تاکہ دانت اپنی جگہ برقرار رہے اور مریض فوری طور پر ڈینٹسٹ کے پاس پہنچ سکے۔
ڈاکٹر فریحہ ارشد کا کہنا تھا کہ اگر دانت کو واپس لگانا ممکن نہ ہو تو اسے خشک ہونے سے بچانا انتہائی ضروری ہے۔ اس مقصد کے لیے دانت کو دودھ، سیلائن سلوشن میں رکھا جا سکتا ہے یا عارضی طور پر منہ کے اندر گال اور مسوڑھے کے درمیان رکھا جا سکتا ہے۔ دانت کو خشک حالت میں رکھنے یا ٹشو میں لپیٹنے سے گریز کیا جائے۔
ڈاکٹر فریحہ ارشد نے کہا کہ مریض کو جلد از جلد ڈینٹسٹ کے پاس پہنچنا چاہیے جہاں ڈاکٹر دانت کو دوبارہ اپنی جگہ پر لگا کر عارضی اسپلنٹ کے ذریعے اسے مستحکم کر دیتے ہیں تاکہ وہ ٹھیک طرح جڑ سکے۔
ڈاکٹر فریحہ ارشد نے مزید وضاحت کی کہ کئی صورتوں میں بعد ازاں روٹ کینال ٹریٹمنٹ (RCT) اور دانت کو مضبوط بنانے کے لیے ڈینٹل کراؤن لگانے کی ضرورت بھی پیش آ سکتی ہے۔
ڈاکٹر فریحہ ارشد کا کہنا تھا کہ دانتوں کی ہنگامی صورتحال کے حوالے سے عوامی آگاہی انتہائی ضروری ہے کیونکہ بروقت اور درست ابتدائی طبی امداد سے قدرتی دانت کو ضائع ہونے سے بچایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ درست معلومات اور فوری اقدامات ایک قدرتی مسکراہٹ کو محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
مزید معلومات کے لیے براہ کرم ہماری قومی خبریں دیکھیں۔