(Publish from Houston Texas USA)
(میاں افتخار احمد)
سعودی ریفائنری پر حملے اور قطر کی ایل این جی ترسیل کی بندش کے بعد خلیج میں توانائی بحران، تیل کی قیمتیں $200 تک، اور عالمی معیشت پر شدید اثرات
سعودی ریفائنری پر حملے اور قطر کی ایل این جی ترسیل کی بندش کے بعد خلیج میں کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے جس سے عالمی توانائی کی فراہمی شدید متاثر ہو رہی ہے۔ دبئی اور دیگر خلیجی مراکز توانائی کی کمی کا سامنا کر رہے ہیں کیونکہ ایران نے بحری راستوں کو کنٹرول کرتے ہوئے کسی بھی شپ کو گزرنے کی اجازت نہیں دی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کے پاس ابھی کئی ایسے چھپے ہوئے بیلسٹک اور کروز میزائل موجود ہیں جو اب تک استعمال نہیں ہوئے۔ اگر یہ کشیدگی اگلے دو تین دن جاری رہی تو امریکہ، اسرائیل اور خطے کے عرب ممالک کو سخت حکمت عملی کے بغیر کارروائی کرنے میں دشواری ہو گی۔ چین اور روس ہی وہ ممالک ہیں جو سفارتی یا عسکری طور پر اس صورتحال پر اثر ڈال سکتے ہیں، تاہم ان کے اقدامات کی قیمت بہت زیادہ ہوگی اور اس سے عالمی معیشت، توانائی مارکیٹ اور بین الاقوامی تعلقات پر اثرات مرتب ہوں گے۔ بندش اور ترسیل میں رکاوٹ کے باعث تیل کی قیمتیں پہلے ہی $150 سے $200 فی بیرل تک پہنچ سکتی ہیں جبکہ عالمی اسٹاک مارکیٹس میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ سپلائی چین میں رکاوٹ یورپ، ایشیا اور توانائی پر منحصر دیگر معیشتوں کو متاثر کرے گی اور مہنگائی اور مالیاتی لیکویڈیٹی پر دباؤ بڑھے گا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کی موجودہ عسکری اور اسٹریٹجک پوزیشن کے ساتھ خلیجی ممالک کی کمزوری نے خطے میں طاقت کا توازن بدل دیا ہے اور اس بحران کے حل کی ذمہ داری اب بین الاقوامی بڑی طاقتوں، خاص طور پر چین اور روس، کے ہاتھ میں ہے۔ اس صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ محدود خطی تنازع بھی عالمی سطح پر معیشت، سیاست اور سیکیورٹی پر بڑے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
مزید معلومات کے لیے براہ کرم ہماری بین الاقوامی خبریں دیکھیں۔