0

حرفِ دعا — لفظ سے نور تک کا سفر

(Publish from Houston Texas USA)

(میاں افتخار احمد)


اصغر علی تبسم کی کتاب حرف دعا محض ایک شعری مجموعہ نہیں بلکہ ایک عمر بھر کے روحانی تجربوں، شکستگیوں، امیدوں، ندامتوں اور جلالِ الوہیت کے سامنے جھکے ہوئے دل کی گواہی ہے، اس کتاب میں جو سانسیں چلتی ہیں وہ فقط شعری سانسیں نہیں بلکہ بندگی کی وہ لرزشیں ہیں جو انسان کے اندر کے تہہ در تہہ اندھیروں کو بھی روشنی میں بدل دیتی ہیں، یہی وجہ ہے کہ حرف دعا کو پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ ہر لفظ سے سجدہ پھوٹ رہا ہے، ہر مصرعہ تہجد کی خاموشی رکھتا ہے اور ہر دعا میں وہ تڑپ ہے جو دل اور رب کے درمیان قائم ازلی رشتہ ہے۔ شاعر اپنی طویل زندگی کے بھاری بوجھ اور روحانی سچائیوں کو جس طرح لفظوں میں ڈھالتا ہے وہ ایک عام شاعر کا انداز نہیں بلکہ ایک صاحبِ معرفت انسان کی کیفیت ہے، وہ کیفیت جو اس شعر میں بھی جھلکتی ہے کہ “ایک معجزہ ہوا کہ جو حرف دعا کا تھا, ہر لمحہ مجھ کو آسرا میرے خدا کا تھا, سارے جہاں کی لذتیں سب مانند پڑ گئیں اک رت جگے میں کیا مزا یاد خدا کا تھا” یہ شعر دراصل شاعر کے اس اندرونی سفر کی جھلک ہے جہاں دنیا کی چمک ماند اور عبادت کی روشنی غالب آ جاتی ہے، اور یہی وہ روحانی حقیقت ہے جو اس پوری کتاب کی اساس ہے۔ اصغر علی تبسم کی شخصیت میں جو سادگی، انسان دوستی، نرمی، ہمدردی اور دردِ دل موجود ہے وہ ان کی شاعری میں بھی اسی طرح لہکتی ہوئی محسوس ہوتی ہے، وہ زندگی بھر غریبوں، مزدوروں اور کمزور طبقات کے ساتھ کھڑے رہے اور وہی درد ان کے الفاظ میں رنگ کی صورت دکھائی دیتا ہے، مگر حرف دعا میں شاعر جس روحانی بلندی پر کھڑا ہے وہ ان کی شاعرانہ زندگی کا عروج ہے، اسی لیے اس مجموعے کو ان کے70 برس سے زیادہ کے ادبی سفر میں ایک معجزہ بھی کہا جا سکتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں تو لفظ دعا بن جاتا ہے، وہ جھکتے ہیں تو شعر عبادت بن جاتا ہے، اور وہ روتے ہیں تو نعت کا جذبہ چشمِ تر سے پھوٹ کر دلوں میں اترتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اس میں شامل حمد و نعت محض صنفی روایت نہیں بلکہ ایک زندہ اور چلتی ہوئی روح کی آواز ہے۔ وہ اپنی کمزوریوں کا اعتراف کرتے ہیں، خطاؤں کی معافی مانگتے ہیں، رب کے فضل کے طلبگار رہتے ہیں اور اس ندامت میں بھی ایک عجیب سی روشنی پائی جاتی ہے، وہ روشنی جو سچی توبہ کے گود سے جنم لیتی ہے، اسی کیفیت میں وہ کہتے ہیں کہ “میں تیرے فضل و کرم کا ہوں منتظر ، بس بات ساری تجھ سے میرے رابطوں کی ہے ، میرے خدایا میرا کشکول کر بڑا، برسات چاروں سمت تیری نعمتوں کی ہے” یہ شعر صرف دعا نہیں بلکہ اس بندے کا اعتراف ہے جو اپنی زندگی کے ہر موڑ پر رحمت کے سائے میں پلتا رہا اور جس نے اس رحمت کی نہ ختم ہونے والی بارش کو اپنی شاعری کے ہر لفظ میں محسوس کیا۔ حرف دعا میں اصغر علی تبسم کی نعتیں بھی ایک خاص وجدانی کیفیت رکھتی ہیں، ان میں عشقِ رسول ﷺ کا وہ نور ہے جو لفظوں کو بھی معطر کر دیتا ہے، ایک ایسی نرمی اور نیازمندی ہے جو صرف سچے عاشقین کے حصے میں آتی ہے، وہ جب رسول کریم ﷺ کی مدح کرتے ہیں تو ان کی آواز میں ایک ایسی لرزش ہوتی ہے جو انسان کو جھنجھوڑ دیتی ہے، قاری کو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ ان کے ساتھ کھڑا ہے، جیسے وہی دعا اس کے دل سے بھی نکل رہی ہے، جیسے وہی عرضداشت اس کی زبان پر بھی آ رہی ہے۔ اصغر علی تبسم اپنی زندگی، تجربات اور سفر کا نچوڑ پیش کرتے ہوئے نظر آتے ہیں، ان کی خودنوشت ’’مسافتیں کیا کیا‘‘ اور پھر ’’ایک اور مسافتیں کیا کیا‘‘ ان کی گہرائیوں کا ثبوت ہیں، فیصل آباد کی تاریخ پر طویل ترین سوانح لکھ کر انہوں نے اپنے شہر سے محبت کا قرض بھی ادا کیا ہے، اسی محبت کی روشنی ” حرف دعا “میں بھی دکھائی دیتی ہے، مگر یہاں محبت شہر سے نہیں بلکہ کائنات کے پروردگار اور اس کے محبوب ﷺ سے ہے، یہ محبت ان کی روح کا مرکز ہے اور ان کی شاعری کا بھی۔ ان کی تیرہ مطبوعہ کتابیں، جیسے آتش احساس، جاگتی آنکھوں کے خواب، احساس کی خوشبو، بندہ بشر، مسافتیں کیا کیا، آندھیوں میں چراغ، اک پھل موتیے دا، اب میں بولوں کہ نہ بولوں، یہ دیس میرا جمہوری ہے، اور اب حرف دعا، سب مل کر ایک ایسی ادبی شخصیت کی تعمیر کرتی ہیں جو فکری طور پر مضبوط، جذباتی طور پر حساس، درد مند، اور اپنے رب سے تعلق میں سراپا عاجزی ہے۔ یہ بھی کم اعزاز نہیں کہ صد سالہ جشن فیصل آباد کے موقع پر انہیں ’’لیجنڈ آف فیصل آباد‘‘ کا اعزاز دیا گیا، جو ان کی نصف صدی سے زیادہ کی ادبی، شعری اور صحافتی خدمات کا اعتراف ہے۔ عمر کے چوراسی پچاسی برس میں کسی شاعر کا لفظ اتنا تازہ، اتنا روشن اور اتنا زندہ ہو جائے تو یہ اس شاعر کی روحانی بالیدگی کی سب سے بڑی دلیل ہے، حرف دعا پڑھ کر محسوس ہوتا ہے کہ یہ صرف شاعری نہیں بلکہ عمر بھر کے تجربات کا نچوڑ، عبادتوں کی خوشبو، آنکھوں کے آنسو، دلوں کی دھڑکن اور روح کی دھلائی ہے، یہی وجہ ہے کہ کتاب کا ہر ورق دعا کی طرح کھلتا ہے، دعا کی طرح پھیلتا ہے، دعا کی طرح اثر رکھتا ہے، اور دعا کی طرح دل پر نقش چھوڑ جاتا ہے۔ اصغر علی تبسم کا فن وقت کے ساتھ کم نہیں ہوا بلکہ زیادہ نکھرا، زیادہ پختہ، زیادہ سچا اور زیادہ نورانی ہوا ہے، یہی حرف دعا کی اصل طاقت ہے کہ یہ کتاب پڑھنے والے کو بھی دعا میں شامل کر لیتی ہے اور اسے اپنے رب کے قریب تر کر دیتی ہے، یہی فن کا کمال ہے اور یہی ان کی روحانی کامیابی ہے۔”حرف دعا” اصغر علی تبسم کی زندگی بھر کی کمائی ہے، ان کے باطن کی روشنی ہے، ان کے ایمان کی تازگی ہے اور ان کے لفظوں کا سجدہ ہے، اللہ تعالیٰ ان کی دعاؤں کو قبول فرمائے، ان کی عمر میں برکت دے اور ان کی روشن سوچ کو سلامت رکھے، آمین۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں