writer 0

جینیاتی ارتقاء، روحانی کیمیاگری اور نسلِ انسانی کی ری-پروگرامنگ کیا انسان اپنی اگلی نسل کو ڈیزائن کرنے کا اختیار رکھتا ہے؟

(Publish from Houston Texas USA)

(میاں افتخار احمد)

جینیاتی انجینئرنگ، روحانی شعور اور سائنسی ترقی کے سنگم پر ایک اہم سوال—کیا انسان کو اپنی آئندہ نسل کی ساخت اور خصوصیات متعین کرنے کا حق حاصل ہے؟

انسانی تاریخ کا سب سے بڑا، سب سے گہرا اور سب سے خاموش المیہ یہ نہیں ہے کہ انسان نے ایٹم بم بنا کر اپنی تباہی کا سامان کر لیا ہے یا یہ کہ اس نے صنعتی ترقی کے نام پر ماحولیات کا گلا گھونٹ دیا ہے انسانی تاریخ کا اصل المیہ یہ ہے کہ انسان نے اپنی افزائشِ نسل Procreation کے عمل کو جو کائنات کا سب سے مقدس اور تخلیقی فعل تھا محض ایک حیاتیاتی مجبوری اور جانوروں جیسی جبلت کی سطح پر لا کھڑا کیا ہے آج کا انسان ایک مکان بنانے کے لیے تو مہینوں نقشہ بناتا ہے زمین کا انتخاب کرتا ہے اور میٹیریل کی جانچ پڑتال کرتا ہے مگر ایک نئی زندگی کو وجود میں لانے کے لیے اس کے پاس کوئی منصوبہ، کوئی تیاری اور کوئی وژن نہیں ہوتا دنیا شادی کرتی ہے ایک سماجی رواج کے تحت تعلق قائم ہوتا ہے اور بچے حادثاتی طور پر پیدا ہو جاتے ہیں یہ عمل تخلیق Creation نہیں رہا یہ پیداوار Production بن چکا ہے لیکن یہاں ایک سوال انسانی شعور کے دروازے پر دستک دیتا ہے کیا قدرت نے انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ صرف اس لیے دیا تھا کہ وہ اپنے جیسے گوشت پوست کے مزید پتلے، مزید صارفین Consumers اور مزید پیٹ دنیا میں پھیلاتا رہے یا اس کا مقصد یہ تھا کہ انسان اپنے وجود کی بھٹی میں تپ کر اپنی روح کو کندن بنا کر اور اپنے شعور کو بلندیوں پر لے جا کر ایک ایسی نسل کو جنم دے جو اس سے بہتر، برتر اور ارتقاء یافتہ ہو کیا انسان کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ اپنی آنے والی نسل کی روحانی اور ذہنی صلاحیتوں کا تعین پیدائش سے پہلے کر سکے جدید سائنس، جو آج ایپی جینیٹکس Epigenetics کے نام سے جانی جاتی ہے، اور قدیم روحانیت، جسے طہارتِ نسل یا نقلِ نور کہا جاتا ہے، اس بات پر متفق ہیں کہ یہ ممکن ہے اگر کوئی انسان بچہ پیدا کرنے سے قبل ایک خاص مدت دو سے سات سال تک مسلسل ریاضت، عبادت، گہرے مطالعے اور فکری طہارت کے عمل سے گزرے تو وہ اپنے ڈی این اے DNA کی کوڈنگ کو تبدیل کر سکتا ہے یہ محض فلم لوسی Lucy کا فکشن نہیں بلکہ خلیات Cells کی وہ زبان ہے جسے پڑھنا آج کا غافل انسان بھول چکا ہے صدیوں تک حیاتیات کی دنیا میں یہ فرسودہ نظریہ قائم رہا کہ ڈی این اے پتھر پر لکیر ہے یہ مانا جاتا رہا کہ جینیاتی وراثت ایک جبریت Determinism ہے جو جینز Genes والدین سے مل گئے انسان ان کا قیدی ہے اگر باپ کو غصہ آتا تھا تو بیٹے کو آئے گا اگر ماں کو شوگر تھی تو بیٹی کو ہوگی اگر خاندان میں ذہانت کم تھی تو اگلی نسل بھی کند ذہن ہوگی لیکن اکیسویں صدی میں ایپی جینیٹکس کے دھماکے نے اس جبریت کو پاش پاش کر دیا سادہ الفاظ میں سمجھا جائے تو ڈی این اے انسانی جسم کا ہارڈ ویئر ہے اور ایپی جینیٹکس اس کا سافٹ ویئر انسان ہارڈ ویئر آنکھوں کا رنگ قد کاٹھ بالوں کی ساخت تو شاید نہیں بدل سکتا لیکن وہ سافٹ ویئر جینز کا اظہار یا Gene Expression بدلنے پر مکمل قادر ہے سائنس نے دریافت کیا ہے کہ ڈی این اے کے اوپر کیمیکل مارکرز Methyl Groups کا ایک غلاف چڑھا ہوتا ہے جو سوئچ بورڈ کا کام کرتا ہے ماحول، سوچ، خوراک، اور سب سے بڑھ کر عبادت، ذہنی کیفیت اور نیت، ان کیمیکل سگنلز کے ذریعے ڈی این اے کو حکم دیتی ہے کہ کون سا جین آن کرنا ہے اور کون سا آف یعنی جینز خود فیصلہ نہیں کرتے بلکہ انسان کا طرزِ زندگی جینز کو کنٹرول کرتا ہے سائنس نے ثابت کیا ہے کہ صدمہ Trauma ڈی این اے میں منتقل ہوتا ہے ہالینڈ میں 1944 کے قحط Dutch Hunger Winter کے دوران جو خواتین حاملہ ہوئیں، ان کی نسلوں میں موٹاپے، ذہنی دباؤ اور بیماریوں کے جینز ایکٹیویٹ ہو گئے حالانکہ ان نسلوں نے کبھی قحط نہیں دیکھا تھا یہ خلیات کی یادداشت Cellular Memory ہے اب یہاں ایک منطقی نکتہ ابھرتا ہے اگر خوف، بھوک اور صدمہ ڈی این اے میں ریکارڈ ہو کر اگلی نسل میں جا سکتے ہیں اور ان کی شخصیت کو منفی رخ دے سکتے ہیں تو یہ کیسے ممکن ہے کہ ذکر، سکون، علم، نور اور عبادت ریکارڈ نہ ہوں جب کوئی انسان دو سے سات سال تک مسلسل عبادت اور ریاضت کرتا ہے تو وہ دراصل اپنے جسم کو ایک کیمیکل غسل دے رہا ہوتا ہے وہ اپنے خون سے کورٹیسول Stress Hormone اور ایڈرینالین Fear Hormone کو کم کرتا ہے اور ڈوپامائن، سیروٹونین اور اینڈورفنز Happiness & Peace Hormones کو متوازن کرتا ہے یہ کیمیکل ماحول اس کے خلیات کے مرکز Nucleus میں جا کر ڈی این اے کو ایک نیا پیغام دیتا ہے ہم اب حالتِ جنگ Survival Mode میں نہیں ہیں ہم حالتِ امن اور شعور میں ہیں اپنی بقا کے پرانے، جانوروں والے جینز بند کر دو اور اعلیٰ شعوری جینز Higher Consciousness Genes کو فعال کر دو ہالی وڈ کی مشہور فلم لوسی میں پیش کیا گیا یہ نظریہ کہ زندگی کا واحد مقصد معلومات Information کو اگلی نسل تک پہنچانا ہے، دراصل ایک گہری حیاتیاتی حقیقت ہے جب کائنات کا پہلا خلیہ تقسیم ہوا تو اس نے اپنی یادداشت اور بقا کا تجربہ اگلے خلیے کو دیا ہم سب دراصل اربوں سالوں کی معلومات کے کنٹینرز ہیں مسئلہ یہ ہے کہ آج کا انسان کون سی معلومات منتقل کر رہا ہے ایک عام انسان، جو سارا دن ٹینشن، ہوس، حسد، غیبت اور دنیاوی دوڑ میں مگن ہے، اس کا ڈی این اے ہر لمحہ یہ ریکارڈ کر رہا ہے کہ دنیا ایک خطرناک جگہ ہے، وسائل کم ہیں، لڑنا ضروری ہے، چھیننا ضروری ہے جب یہ انسان بچہ پیدا کرتا ہے تو وہ اپنی اولاد کو وہی عدم تحفظ Insecurity اور جانورانہ جبلت Animalistic Instincts ورثے میں منتقل کرتا ہے وہ بچہ پیدا ہوتے ہی روتا ہے، ڈرتا ہے اور غیر محفوظ محسوس کرتا ہے کیونکہ اس کے جینز میں دنیا کا خوف بھرا ہوا ہے لیکن اس کے برعکس، وہ انسان جو ریاضت کے عمل سے گزرتا ہے، جو سالوں تک علم حاصل کرتا ہے، کائنات کے اسرار پر غور کرتا ہے اور اپنے رب کے ساتھ لو لگاتا ہے، اس کے خلیات یہ معلومات ریکارڈ کرتے ہیں کہ کائنات ایک منظم جگہ ہے، اس کا ایک مہربان خالق ہے، اور میں اس کائنات کے ساتھ ہم آہنگ Align ہوں یہ وہ ڈیٹا ہے جو اگلی نسل کو ایک تیار شدہ زرخیز زمین فراہم کرتا ہے جس میں ذہانت، ولایت اور روحانیت کا بیج فوری طور پر اگ سکتا ہے

قدیم حکماء اور جدید میڈیکل سائنس، دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ انسانی جسم کے تقریباً تمام خلیات 7 سال کے عرصے میں مکمل طور پر تبدیل ہو جاتے ہیں ہڈیاں، خون، جلد، یہاں تک کہ دماغ کے نیورونز کی کنکشنز بھی بدل جاتے ہیں یعنی آج جو انسان موجود ہے، سات سال بعد وہ جسمانی طور پر وہ شخص نہیں ہوگا اس کا ہر خلیہ نیا ہوگا اگر آج توبہ اور ریاضت شروع کی جائے، تو پرانے خلیات جو گناہوں، غفلت اور دنیاوی کثافتوں کی یادداشت رکھتے ہیں مرتے جائیں گے اور ان کی جگہ وہ نئے خلیات لیں گے جو ذکر اور نور کی غذا پر پلے ہیں سات سال بعد، انسان کا پورا بائیولوجیکل سسٹم پاک ہو چکا ہوگا اس وقت جب یہ نیا، پاکیزہ وجود اولاد کی منصوبہ بندی کرے گا تو وہ اولاد ماضی کے گند سے پاک اور حال کے نور سے بنی ہوگی یہ بحث محض سائنس تک محدود نہیں بلکہ یہ وہ حقیقت ہے جسے اسلام نے چودہ سو سال پہلے عبادات اور معاملات کی شکل میں کوڈ Code کر دیا تھا اسلام کے احکامات محض ثواب کے کام نہیں ہیں یہ نسلوں کی بقا، جینز کی طہارت اور انسانیت کے ارتقاء کے بائیولوجیکل پروٹوکولز ہیں جدید سائنس کی شاخ Quantum Biology اور ڈاکٹر مسارو ایموٹو کی تحقیق یہ مانتی ہے کہ پانی اور سیال مادے Fluids الفاظ، آواز اور نیت کی تھر تھراہٹ Vibrations کو جذب کرتے ہیں انسانی مادہ منویہ Sperm بھی ایک سیال ہے اسلام نے حکم دیا کہ میاں بیوی قربت کے وقت یہ دعا پڑھیں بِسْمِ اللَّهِ، اللَّهُمَّ جَنِّبْنَا الشَّيْطَانَ، وَجَنِّبِ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا یہ دعا محض الفاظ نہیں ہیں یہ دراصل ڈیٹا ٹرانسفر Data Transfer سے پہلے ایک فائر وال Firewall انسٹال کرنے کا عمل ہے جب یہ دعا شعوری طور پر پڑھی جاتی ہے تو انسان کا دماغی اور کیمیائی توازن شہوت Lust سے نکل کر عبادت Devotion کی فریکوئنسی پر شفٹ ہو جاتا ہے اس لمحے جسم سے نکلنے والے نیورو ٹرانسمیٹرز میں شیطانی وسوسوں اور منفی توانائی Negative Energy کا راستہ بند ہو جاتا ہے ایپی جینیٹکس کی رو سے یہ جینز کو ایک کمانڈ دی جا رہی ہوتی ہے کہ اس عمل کے دوران پیدا ہونے والی نسل میں میرے گناہوں، میری غفلتوں اور شیطانی اثرات Bad Epigenetic Markers کو ٹرانسفر مت کرو یہ ایک فلٹر ہے جو اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ اگلی نسل تک صرف پاکیزہ کوڈ ہی منتقل ہو حدیث نبویﷺ میں دیندار عورت کو ترجیح دینے کا حکم محض اخلاقیات نہیں بلکہ ایپی جینیٹکس کی بنیاد ہے ماں کا رحم Womb وہ پہلی درسگاہ اور پہلی لیبارٹری ہے جہاں بچے کا ڈی این اے کھلتا ہے Unfold ہوتا ہے ایک دیندار عورت جو صبر والی ہے، شکر گزار ہے، اور اللہ سے جڑی ہوئی ہے، اس کے جسم میں کورٹیسول Stress Hormone کا لیول کم ہوتا ہے اور آکسیٹوسن Love Hormone اور سیروٹونین Serotonin کا لیول متوازن ہوتا ہے اگر ماں خوبصورت ہے مگر بدخلق، ہر وقت ٹینشن زدہ، ناشکری اور غصیلی ہے تو اس کے خون میں موجود زہریلے ہارمونز Toxic Hormones بچے کے جینز پر تباہ کن اثرات مرتب کریں گے وہ بچہ پیدا تو ہوگا مگر وہ ماں کے پیٹ سے ہی بے چینی اور غصہ لے کر آئے گا یہ سوال اکثر اٹھتا ہے کہ اسلام لانے والا یا حج کرنے والا نئے پیدا ہونے والے بچے جیسا کیسے ہو جاتا ہے کیا یہ محض استعارہ Metaphor ہے؟ نہیں یہ ایک بائیولوجیکل حقیقت ہے ہمارے ڈی این اے کے اوپر کیمیکل کے غلاف Methyl Groups چڑھے ہوتے ہیں جو ہمارے گناہوں، بری عادات، ڈپریشن اور غفلت سے گندے ہو جاتے ہیں یہ گندے مارکرز بیماریوں اور بری عادات کو جنم دیتے ہیں توبہ Repentance جب ایک انسان سچے دل سے توبہ کرتا ہے، روتا ہے، اور اپنے رب کی طرف پلٹتا ہے تو اس کے دماغ میں ایک شدید جذباتی زلزلہ Emotional Shift آتا ہے سائنس کہتی ہے کہ شدید جذباتی کیفیات Intense Emotional States پرانے نیورل پاتھ ویز کو توڑ سکتی ہیں اور جینز کے اوپر لگے ہوئے ان گندے مارکرز کو دھو سکتی ہیں سچی توبہ دراصل ڈی این اے کی صفائی Detox ہے حج اور عمرہ: حج کا سفر، میدانِ عرفات کی اجتماعی پکار، اور کعبہ کا طواف یہ سب مل کر انسان کو ایک ایسی روحانی بھٹی سے گزارتے ہیں جہاں اس کا نفس پگھل جاتا ہے ایپی جینیٹکس کی زبان میں، حج ایک Grand Factory Reset ہے یہ خلیات Cells کو دوبارہ فطرتِ اسلام Default Settings پر لے آتا ہے خلیات سے گناہوں کی سیاہی دھل جاتی ہے، اور انسان کا وجود اتنا ہی پاک ہو جاتا ہے جتنا ایک نوزائیدہ بچے کا جس کے جینز پر ابھی ماحول کا کوئی نشان نہیں ہوتا آج کا المیہ یہ ہے کہ انسان شعوری نہیں بلکہ میکانکی زندگی گزار رہا ہے آج کا نوجوان جوڑا کیا ہے؟ فاسٹ فوڈ کیمیکل کھانے والا، موبائل اسکرین نیلی روشنی پر راتیں جاگنے والا، فحش مواد Pornography سے دماغ کو آلودہ کرنے والا، اور ڈپریشن/اینگزائٹی کا شکار جب یہ جوڑا بغیر کسی تیاری کے، بغیر کسی طہارت کے، محض مزے کے لیے ملتا ہے اور بچہ پیدا ہو جاتا ہے تو وہ بچہ کیا لے کر آتا ہے وہ بچہ اپنے والدین کی بے چینی Anxiety، ان کی توجہ کی کمی ADHD، اور ان کی روحانی بھوک ورثے میں لے کر آتا ہے پھر والدین شکوہ کرتے ہیں کہ اولاد نافرمان ہے، اولاد دین سے دور ہے حقیقت یہ ہے کہ والدین نے اس کے سافٹ ویئر میں دین یا نور ڈالا ہی نہیں تھا بلکہ اپنی غفلت کا کوڈ انسٹال کیا تھا انہوں نے ایک گندے برتن میں دودھ ڈالا اور اب شکوہ کر رہے ہیں کہ دودھ پھٹ کیوں گیا حل صرف ایک ہے شعوری افزائشِ نسل Conscious Procreation اگر انسان چاہتا ہے کہ اس کی آنے والی نسلیں ذہنی غلام نہ بنیں اگر وہ چاہتا ہے کہ وہ فلم میں دکھائے کردار لوسی کی طرح اپنی دماغی صلاحیتوں کا 100 فیصد استعمال کریں اگر وہ چاہتا ہے کہ وہ صلاح الدین ایوبی یا محمد بن قاسم جیسی صفات کی حامل ہوں تو اسے اپنی بیڈ روم لائف اور اسپرچوئل لائف کو ملانا ہوگا یہ عمل ایک پروجیکٹ کا متقاضی ہے ٹائم آؤٹ: اولاد کی منصوبہ بندی سے قبل کم از کم 2 سے 5 سال کا وقفہ لیا جائے جسمانی طہارت: حلال اور طیب غذا جو خون اور نطفہ بناتی ہے کا اہتمام کیا جائے ذہنی طہارت: گہرا مطالعہ کیا جائے، کائنات پر غور و فکر کیا جائے تاکہ دماغ کے نیورونز میں علم کا نقشہ بنے روحانی ریاضت: تہجد، ذکر اور توبہ کے ذریعے اپنے ڈی این اے کو نور سے چارج کیا جائے جب اس بھٹی سے گزر کر، کندن بن کر، اللہ سے اولاد مانگی جائے گی تو یقیناً وہ بچہ عام نہیں ہوگا اس کے خلیات میں وہ نور محفوظ ہوگا جو والدین نے سالوں کی محنت سے کمایا ہے اس کی آنکھوں میں وہ چمک ہوگی جو عام بچوں میں نہیں ہوتی وہ پیدائشی ولی بننے کی صلاحیت بلکہ فطرت رکھے گا یہ اداسی یا حادثاتی پیدائش نہیں بلکہ ڈیزائنر نسل کی تخلیق ہوگی جو اقبال کے شاہین کی طرح نگہِ بلند اور جان پرسوز لے کر پیدا ہوگی یہ وہ واحد راستہ ہے جس سے انسان اپنی اگلی نسل کو صرف زندگی نہیں بلکہ معراج عطا کر سکتا ہے نوٹ: آپ یہودیوں کو سٹڈی کریں وہ اس راز سے ہزاروں سال سے واقف ہیں، اور بیشک یہ ایپی جینیٹک تحقیق بھی انہی کی ہے مزید یہ کہ آج بھی ان کی حاملہ ہونے والی خواتین کا حمل اول دن سے سرکاری دیکھ ریکھ میں چلتا ہے جس میں یہ لازم ہے کہ ماں کا زیادہ وقت مطالعہ اور ریاضت میں گزرے انسان کی اگلی نسل کو ڈیزائن کرنے کا اختیار صرف جسمانی طہارت یا غذا تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک جامع عمل ہے جس میں ذہنی ریاضت، روحانی پاکیزگی، اور شعوری اقدامات شامل ہیں اگر انسان چاہتا ہے کہ اس کی نسل اعلیٰ شعور، بصیرت اور روحانی قابلیت کی حامل ہو تو اسے ہر پہلو سے تیار ہونا ہوگا یہ ایک مکمل پروجیکٹ ہے جس میں والدین کی نیت عمل اور ماحول کا اثر اگلی نسل کے جینز پر براہ راست پڑتا ہے سائنس اور روحانیت دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ جینیاتی وراثت صرف ایک حیاتیاتی وراثت نہیں بلکہ ایک شعوری اور فکری وراثت بھی ہے انسان کے افکار، جذبات اور اعمال اس کے ڈی این اے میں ریکارڈ ہو جاتے ہیں اور اگلی نسل کو منتقل ہو جاتے ہیں اس لیے والدین کی ذمہ داری صرف جسمانی نہیں بلکہ اخلاقی، ذہنی اور روحانی بھی ہے جدید تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ والدین کی مثبت سوچ، مطالعہ، عبادت، اور فکری غور و فکر بچوں کے جینز پر مثبت اثر ڈالتی ہے جبکہ منفی جذبات اور بے احتیاطی بچوں میں ذہنی دباؤ، بیماریوں اور برے رویوں کے جینز کو فعال کر سکتے ہیں لہٰذا والدین کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنے اندر توازن پیدا کریں اور اپنی زندگی کے ہر پہلو کو نورانی اور صاف رکھیں یہ نہ صرف ان کے لیے بلکہ ان کی آنے والی نسل کے لیے بھی بقا اور ترقی کی ضمانت ہے ایپی جینیٹکس کے مطابق والدین کے افکار اور اعمال جینز کے اظہار Gene Expression کو کنٹرول کرتے ہیں اگر والدین صبر، شکرگزاری، محبت، اور عبادت میں مشغول ہوں تو یہ جینز بچوں میں صبر، عقل، اور اخلاقیات پیدا کرتے ہیں اگر والدین خوف، غصہ، حسد، اور لالچ میں مبتلا ہوں تو یہ اثرات بھی اگلی نسل میں منتقل ہوتے ہیں اس لیے والدین کی ذاتی زندگی اور اخلاقی معیار اگلی نسل کی ترقی میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے

مزید معلومات کے لیے براہ کرم ہماری قومی خبریں دیکھیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں