تازہ سپرم بہتر نتائج مردانہ زرخیزی تحقیق 0

تازہ سپرم بہتر نتائج: نئی تحقیق نے مردانہ زرخیزی کے اصول بدل دیے

(Publish from Houston Texas USA)

(از عاصم صدیقی، واشنگٹن ڈی سی)

تازہ سپرم بہتر نتائج، نئی تحقیق نے مردانہ زرخیزی کے اصول بدل دیے

حالیہ سائنسی تحقیق نے مردانہ زرخیزی کے حوالے سے کئی روایتی تصورات کو چیلنج کر دیا ہے، اور اب ماہرین اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ تازہ سپرم بہتر نتائج فراہم کرتے ہیں۔ خاص طور پر University of Oxford کی تحقیق نے یہ واضح کیا ہے کہ سپرم کا معیار اس بات پر منحصر ہوتا ہے کہ وہ کتنے عرصے تک جسم میں ذخیرہ رہتا ہے۔

ماضی میں یہ سمجھا جاتا تھا کہ مردوں کی زرخیزی وقت کے ساتھ زیادہ متاثر نہیں ہوتی، لیکن اب تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ تازہ سپرم بہتر نتائج دیتے ہیں اور پرانے سپرم کی کارکردگی کم ہو جاتی ہے۔ خواتین کے برعکس، مردوں میں سپرم مسلسل بنتے رہتے ہیں، لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ان کا معیار ہمیشہ ایک جیسا رہتا ہے۔

تقریباً 115 بین الاقوامی مطالعات، جن میں 55 ہزار کے قریب مرد شامل تھے، کے تجزیے سے معلوم ہوا کہ زیادہ عرصے تک ذخیرہ کیے گئے سپرم کا معیار کم ہو جاتا ہے۔ اگرچہ طویل پرہیز سے سپرم کی تعداد بڑھتی ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ ان کی حرکت (موٹیلٹی)، زندگی (ویابیلیٹی) اور ڈی این اے کی مضبوطی متاثر ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین اب اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ تازہ سپرم بہتر نتائج کے لیے زیادہ مؤثر ہیں۔

ماہرین کے مطابق اس کمی کی دو بنیادی وجوہات ہیں۔ پہلی آکسیڈیٹو اسٹریس ہے، جو سپرم کو نقصان پہنچاتا ہے اور وقت کے ساتھ اس کی ساخت کو خراب کر دیتا ہے۔ دوسری وجہ توانائی کی کمی ہے، کیونکہ سپرم محدود توانائی کے ساتھ کام کرتے ہیں اور زیادہ دیر ذخیرہ رہنے کی صورت میں کمزور ہو جاتے ہیں۔ یہی سائنسی عوامل اس بات کی وضاحت کرتے ہیں کہ کیوں تازہ سپرم بہتر نتائج فراہم کرتے ہیں۔

World Health Organization کی موجودہ ہدایات کے مطابق زرخیزی کے ٹیسٹ یا IVF سے پہلے 2 سے 7 دن تک پرہیز کا مشورہ دیا جاتا ہے، تاہم نئی تحقیق اس تصور کو چیلنج کر رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کم وقفہ—خاص طور پر 24 سے 48 گھنٹوں کے اندر انزال—زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ اس سے تازہ سپرم بہتر نتائج دینے کے قابل ہوتے ہیں۔

یہ نئی تحقیق ارتقائی حیاتیات کے نظریات سے بھی مطابقت رکھتی ہے۔ تحقیق کے مطابق بار بار انزال، بشمول خود لذتی، پرانے اور کمزور سپرم کو خارج کر دیتا ہے اور نئے، صحت مند سپرم کو جگہ دیتا ہے۔ اس قدرتی عمل کے باعث بھی تازہ سپرم بہتر نتائج سامنے آتے ہیں۔

آج کے دور میں جہاں تاخیر سے والدین بننے کا رجحان بڑھ رہا ہے اور طرزِ زندگی میں تبدیلیاں آ رہی ہیں، یہ تحقیق نہایت اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ عالمی سطح پر زرخیزی کے مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے، اور ایسے میں تازہ سپرم بہتر نتائج کا اصول ایک سادہ مگر مؤثر حل کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ زرخیزی کو متاثر کرنے والے بہت سے عوامل جیسے جینیات، ماحولیاتی آلودگی اور ذہنی دباؤ ہمارے مکمل کنٹرول میں نہیں ہوتے۔ تاہم سپرم کے ذخیرہ ہونے کا دورانیہ ایک ایسا عنصر ہے جسے آسانی سے بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ تازہ سپرم بہتر نتائج حاصل کرنے کے لیے طرزِ زندگی میں چھوٹی مگر اہم تبدیلیاں لانا ضروری ہیں۔

یہ تحقیق اس بات کی بھی نشاندہی کرتی ہے کہ مردانہ زرخیزی کے بارے میں شعور بڑھانے کی ضرورت ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم صرف خواتین کی زرخیزی پر توجہ دینے کے بجائے مردوں کے کردار کو بھی سنجیدگی سے سمجھیں، کیونکہ کامیاب تولید میں دونوں کا کردار یکساں اہم ہے۔

آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ تازہ سپرم بہتر نتائج صرف ایک سائنسی اصطلاح نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے جو مردانہ زرخیزی کے مستقبل کو بدل سکتی ہے۔ اگر اس اصول کو اپنایا جائے تو نہ صرف IVF جیسے علاج کے نتائج بہتر ہو سکتے ہیں بلکہ قدرتی طور پر حاملہ ہونے کے امکانات بھی بڑھ سکتے ہیں۔

مزید پڑھنے کے لیے براہ کرم ہمارے مضامین دیکھیں۔


عاصم صدیقی، واشنگٹن ڈی سی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں