0

بھارت میں اقلیتیں، Trump Land عیسائی ریاست کا مطالبہ

(Publish from Houston Texas USA)

(میاں افتخار احمد)
بھارت ایک متنوع ملک ہے جس میں مختلف زبانیں، ثقافتیں اور مذاہب آباد ہیں اس کی آبادی میں ہندو اکثریت ہے جبکہ مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں، بدھ مت کے پیروکاروں، دلتوں اور آدیواسیوں کی اقلیتیں شامل ہیں بھارت کا آئین دنیا کے سب سے بڑے آئینوں میں سے ایک ہے جو ہر شہری کو مذہبی آزادی، مساوات، ثقافتی حقوق اور شخصی آزادی کے اصول دیتا ہے بھارت کو سیکولر ریاست کے طور پر بیان کیا گیا ہے جس کا مطلب ہے کہ ریاست کسی مذہب کو سرکاری طور پر تسلیم نہیں کرتی اور ہر شہری کو اپنے مذہب اختیار کرنے، اس پر عمل کرنے اور اس کے مطابق زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے بھارت میں ہر شہری کو مساوی حقوق کے اصول کے تحت قانونی تحفظ حاصل ہے تاہم عملی زندگی میں تاریخی، سماجی اور سیاسی عوامل نے اقلیتوں کے تجربات کو مختلف اور بعض اوقات پیچیدہ بنایا ہے مسلمانوں نے بھارت کی تاریخ میں اہم کردار ادا کیا ہے لیکن متعدد دہائیوں کے دوران انہیں تعلیمی، معاشی اور سیاسی مواقع میں رکاوٹوں، بعض علاقوں میں تشدد اور نفرت انگیز بیانات کا سامنا کرنا پڑا ہے عیسائی برادری، جو بھارت کی آبادی کا ایک چھوٹا حصہ ہے، مختلف ریاستوں میں حملوں، چرچوں پر حملے، مذہبی اجتماعات میں مداخلت اور کرسمس جیسے تہواروں کے دوران مشکلات کا شکار رہی ہے جس نے اس کمیونٹی میں خوف اور عدم تحفظ پیدا کیا ہے سکھ برادری، بنیادی طور پر پنجاب میں آباد، نے 1980 اور 1990 کی دہائی میں Khalistan تحریک کے دوران مسلح اور سیاسی جدوجہد دیکھی جس کے نتیجے میں مقامی اور وفاقی سطح پر سخت سیکیورٹی اقدامات ہوئے دلت اور آدیواسی کمیونٹیز نے بھی سماجی امتیاز، اقتصادی مشکلات اور تعلیمی مواقع کی کمی کے خلاف جدوجہد کی اور اپنی شناخت اور حقوق کے لیے طویل جدوجہد کی بھارت میں متعدد قانون سازی اور پالیسی اقدامات ہوئے ہیں جو اقلیتوں کے حقوق اور تحفظ سے متعلق ہیں Citizenship Amendment Act نے مخصوص غیر مسلم پناہ گزینوں کو شہریت کے لیے ترجیح دی ہے جس کے نتیجے میں سیاسی بحث، عوامی احتجاج اور بعض تنازعات جنم لیں National Register of Citizens یا NRC نے شہریوں کی رجسٹریشن کے عمل کو متعارف کروایا جس کا مقصد غیر قانونی تارکین وطن کی شناخت کرنا ہے NRC کے نتیجے میں لاکھوں افراد اپنی شہریت ثابت کرنے میں مشکلات کا شکار ہوئے اور متعدد مسلمان اس عمل سے خارج ہوئے جبکہ CAA کے تحت غیر مسلم افراد کو شہریت کے لیے سہولت حاصل ہوئی اس طرح NRC اور CAA کی موجودگی نے مسلمانوں میں بے یقینی اور خوف کے عناصر پیدا کیے اسی طرح Anti Conversion Laws نے مذہب تبدیل کرنے کے عمل کو قانون کے دائرے میں لانے کے لیے اقدامات کیے مگر ان قوانین کے بعض نکات نے مذہبی آزادی کے اصول پر اثر انداز ہونے کے خدشات پیدا کیے بھارت میں اقلیتوں کے خلاف تشدد اور نفرت انگیزی کے واقعات مختلف اوقات اور علاقوں میں سامنے آئے ہیں عیسائی برادری نے کئی ریاستوں میں چرچوں پر حملے، مذہبی اجتماعات میں مداخلت اور کرسمس جیسے تہواروں کے دوران مشکلات کی اطلاعات دی ہیں مسلمانوں کے خلاف بھی متعدد واقعات رپورٹ ہوئے ہیں جس میں املاک کو نقصان، نفرت انگیز تقریریں اور مقامی سماجی دباؤ شامل ہیں سکھ برادری نے Khalistan تحریک کے دوران مسلح جدوجہد، وفاقی ردعمل اور سخت سیکیورٹی اقدامات کا تجربہ کیا دلت اور آدیواسی کمیونٹیز کو بھی سماجی امتیاز اور محدود معاشرتی مواقع کا سامنا رہا ہے ان واقعات نے عالمی انسانی حقوق تنظیموں، غیر سرکاری تنظیموں اور مقامی سماجی کارکنوں کو تشویش میں مبتلا کیا ہے بھارت کا آئینی نظام ہر شہری کو مساوی حقوق دیتا ہے مگر عملی سطح پر مذہبی اور سماجی رویے، مقامی قوانین اور بعض سیاسی بیانات نے اقلیتوں کے تجربات کو پیچیدہ بنایا ہے اس کے نتیجے میں مقامی اور ریاستی سطح پر احتجاج، بحث و مباحثہ اور سماجی آوازیں بلند ہوتی رہتی ہیں Trump Land مطالبہ Sikhs for Justice کی جانب سے شمال مشرقی بھارتی ریاستوں میں ایک محفوظ علاقہ کے لیے کیا گیا ہے تاکہ عیسائی اکثریت کے افراد مذہبی آزادی اور تحفظ حاصل کر سکیں یہ مطالبہ بنیادی طور پر نظریاتی اور بین الاقوامی اپیل ہے جس میں امریکی صدر اور عالمی برادری سے مداخلت کی درخواست کی گئی ہے Trump Land کے مطالبے کی حقیقت یہ ہے کہ بھارت میں آئینی، قانونی اور سیاسی ڈھانچے کے تحت کسی بھی نئی ریاست کے قیام کے لیے عوامی رضامندی، ریاستی اسمبلیوں، وفاقی پارلیمنٹ کی منظوری اور عدالتی جائزہ ضروری ہے بغیر ان تمام مراحل کے کسی نئے ریاست کا قیام عملی طور پر ممکن نہیں ہے خالصتان تحریک کا آغاز 1980 اور 1990 کی دہائی میں ہوا تھا جس نے مقامی عوامی حمایت، سیاسی جماعتوں کی شمولیت اور بعض اوقات مسلح جدوجہد کے ذریعے سکھ برادری میں علیحدگی کے مطالبے کو مضبوط کیا Trump Land کے مطالبے اور Khalistan میں بنیادی فرق یہ ہے کہ Khalistan نے مقامی سطح پر عوامی حمایت حاصل کی جبکہ Trump Land بنیادی طور پر بین الاقوامی سطح پر نظریاتی اپیل ہے مقامی عوامی حمایت محدود ہے اور بھارت کی وفاقی حکومت سخت ردعمل اختیار کرے گی قانونی طور پر بھارت کی وفاقی سالمیت مضبوط ہے اور کسی بھی ریاست کی حدود میں تبدیلی کے لیے عدالتی، قانونی اور آئینی مراحل مکمل کرنا ضروری ہیں اس لیے Trump Land کی اپیل عملی طور پر کسی علیحدہ ریاست کے قیام میں تبدیل نہیں ہوئی اگر Trump Land کی آواز بین الاقوامی توجہ حاصل کرے تو دیگر اقلیتیں بھی اپنے مخصوص مطالبات کے لیے آواز بلند کر سکتی ہیں دلت، آدیواسی، بدھ مت اور سکھ کمیونٹیاں اپنے حقوق، تحفظ اور ثقافتی شناخت کے تحفظ کے لیے مطالبات کر سکتی ہیں تاہم عملی طور پر کسی بھی نئے ریاست یا علیحدہ انتظامی علاقے کے قیام کے لیے مقامی عوامی حمایت، ریاستی اور وفاقی حکومت کی منظوری، قانونی جائزہ اور عدالتی قواعد کی ضرورت ہوگی بھارت کی مرکزی حکومت، ریاستی حکومتیں اور سماجی ڈھانچے کسی بھی علیحدگی کی کوشش کو سختی سے چیلنج کریں گے مسلمان اقلیت بھارت میں سب سے بڑی مذہبی اقلیت ہے اور ان کے خلاف تاریخی، اقتصادی، تعلیمی اور سیاسی رکاوٹیں رہی ہیں عیسائی، سکھ، دلت اور آدیواسی کمیونٹیز بھی سماجی، اقتصادی اور سیاسی مواقع کے لیے محدود حقوق کے لیے آواز بلند کرتی رہتی ہیں Trump Land جیسی اپیلیں ایک علامتی یا نظریاتی احتجاج کی شکل اختیار کرتی ہیں جو مقامی عوامی تحریک میں تبدیل نہیں ہوتی مستقبل میں Trump Land کی کامیابی کا انحصار مقامی عوامی حمایت، وفاقی حکومت کے قانونی اور سیکیورٹی اقدامات، اور بین الاقوامی دباؤ پر ہے مقامی حمایت محدود ہے وفاقی حکومت سخت ردعمل کرے گی اور عالمی دباؤ محدود اثر ڈالے گا اس لیے عملی طور پر Trump Land کی ریاست قائم ہونے کے امکانات بہت کم ہیں بھارت کے مختلف ریاستوں میں اقلیتوں کے خلاف واقعات اور مظالم کی تاریخ کئی دہائیوں پر محیط ہے متعدد رپورٹ شدہ واقعات نے نہ صرف مقامی بلکہ بین الاقوامی سطح پر تشویش پیدا کی ہے مثال کے طور پر کیرالہ، اوڈیشہ، چھتیس گڑھ، مہاراشٹر، اتر پردیش، مدھیہ پردیش، پنجاب اور شمال مشرقی ریاستوں میں عیسائیوں، مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف متعدد تشدد، ہراسانی اور مذہبی اجتماعات میں مداخلت کی رپورٹس آئیں ہیں یہ واقعات مختلف اوقات میں رونما ہوئے اور ان کے محرکات مقامی سیاسی، سماجی، مذہبی اور اقتصادی تنازعات پر مبنی رہے ہیں کئی بار مذہبی تقریبات، عبادت گاہوں، مدارس، چرچوں اور مساجد کو نشانہ بنایا گیا جس سے اقلیتوں میں خوف اور عدم تحفظ پیدا ہوا اوڈیشہ میں 2007 اور 2008 کے دوران عیسائی کمیونٹی پر تشدد کے متعدد واقعات ہوئے چرچ جلائے گئے اور مذہبی اجتماعات میں مداخلت ہوئی اس دوران مقامی انتظامیہ کی جانب سے تحفظ فراہم کرنے میں ناکامی نے کمیونٹی میں خوف پیدا کیا اتر پردیش میں مسلمانوں کے خلاف واقعات کی تاریخ طویل ہے 2013 کے دہلی فسادات کے اثرات یہاں بھی محسوس کیے گئے جہاں مسلم آبادی نے تعلیمی، اقتصادی اور سیاسی دباؤ کے ساتھ ساتھ مقامی تشدد اور نفرت انگیز تقاریر کا سامنا کیا مہاراشٹر میں عیسائی اور دلت کمیونٹیز نے اکثر مذہبی اجتماعات اور تعلیمی تقریبات میں مداخلت کی شکایات درج کیں متعدد واقعات میں چرچوں اور اسکولوں پر حملے ہوئے جس نے مذہبی آزادی کے اصول پر اثر ڈالا پنجاب میں Khalistan تحریک کے دوران سکھ برادری نے مسلح جدوجہد کی جس کے نتیجے میں سینکڑوں شہری ہلاک ہوئے اور ہزاروں گرفتار ہوئے اس نے ریاست میں سکھ کمیونٹی اور دیگر مذہبی گروہوں کے تعلقات پر طویل مدتی اثرات مرتب کیے شمال مشرقی بھارت میں عیسائی اقلیت پر تشدد اور مذہبی تنظیموں کے خلاف مظالم رپورٹ ہوئے کئی علاقوں میں مقامی حکومت اور ریاستی پولیس کے اقدامات ناکافی رہے جس نے Trump Land مطالبے کے پس منظر میں عدم تحفظ کے عناصر کو مضبوط کیا Citizenship Amendment Act کے نفاذ کے بعد شمال مشرقی بھارت میں غیر مسلم پناہ گزینوں کو شہریت کے لیے ترجیح دی گئی جس سے مسلمانوں میں خوف اور بے یقینی پیدا ہوئی National Register of Citizens کے نفاذ نے لاکھوں شہریوں کو اپنی شہریت ثابت کرنے کی کوشش میں مشکلات میں ڈال دیا اس سے نہ صرف معاشرتی دباؤ بڑھا بلکہ اقلیتوں میں احساس محرومی اور سیاسی عدم تحفظ بھی پیدا ہوا Anti-Conversion قوانین نے مذہب تبدیل کرنے کے معاملات کو ریاستی سطح پر محدود کرنے کی کوشش کی ان قوانین کے تحت مذہب تبدیل کرنے کے لیے سرکاری اجازت ضروری قرار دی گئی اور مذہبی کارکنان اور افراد پر قانونی کارروائی کا امکان پیدا کیا گیا یہ قوانین بنیادی طور پر مذہبی آزادی کے اصولوں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں جس نے اقلیتوں میں خوف اور غیر یقینی صورتحال پیدا کی بھارت میں اقلیتوں کی صورتحال پر کئی بین الاقوامی انسانی حقوق تنظیموں نے تشویش ظاہر کی ہے متعدد رپورٹس میں کہا گیا کہ مسلمانوں، عیسائیوں اور دیگر اقلیتوں کو معاشرتی امتیاز، تشدد، اور محدود اقتصادی و تعلیمی مواقع کا سامنا ہے عالمی انسانی حقوق تنظیمیں بھارت میں مذہبی آزادی، مساوی شہری حقوق، اقلیتوں کے تحفظ اور عدم امتیاز کے لیے حکومت پر زور دیتی رہی ہیں بھارت کی انسانی حقوق کمیشن نے بھی کئی بار کہا کہ اقلیتوں کو مساوی مواقع، تحفظ اور آزادی فراہم کرنا لازمی ہے اگر Trump Land کی آواز بڑھتی ہے تو دیگر اقلیتیں بھی اپنے مخصوص مطالبات کے لیے آواز بلند کر سکتی ہیں دلت، آدیواسی، سکھ اور بدھ مت کمیونٹیاں اپنے ثقافتی، سماجی اور سیاسی حقوق کے تحفظ کے لیے آگے آ سکتی ہیں تاہم عملی طور پر کسی نئی ریاست کے قیام کے امکانات بھارت کے آئینی اور سیاسی ڈھانچے کے تحت بہت محدود ہیں مقامی عوامی حمایت، ریاستی اور وفاقی منظوری، عدالتی جائزہ اور قانونی مراحل کے بغیر کسی علیحدگی یا نئی ریاست کا قیام ممکن نہیں ہے بھارت کی مرکزی حکومت، ریاستی حکومتیں اور سیکیورٹی ادارے کسی بھی علیحدگی کی کوشش کو سختی سے چیلنج کریں گے اور مقامی سیاسی و سماجی ردعمل کو قابو میں رکھنے کی کوشش کریں گے اس لیے Trump Land کی عملی کامیابی کے امکانات بہت کم ہیں لیکن یہ مطالبہ علامتی طور پر بین الاقوامی سطح پر بھارت میں اقلیتوں کے مسائل اور تحفظ کی توجہ مبذول کرانے میں کامیاب ہو سکتا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں