(Publish from Houston Texas USA)
(میاں افتخار احمد)
بنگلہ دیش کی نئی حکومت: پاکستان، بھارت اور چین کے ساتھ تعلقات کا توازن
بنگلہ دیش کی نئی حکومت اور پاکستان، بھارت، چین کے ساتھ تعلقات بنگلہ دیش کی سیاسی تاریخ ایک طویل جدوجہد اور پیچیدہ واقعات پر مشتمل ہے۔ 1971 میں آزادی کے بعد بنگلہ دیش نے سیکولر جمہوری اصولوں کی بنیاد پر خود کو ایک ترقی پذیر ریاست کے طور پر مستحکم کیا۔ ماضی میں فوج اور سیاسی جماعتوں کے درمیان تعلقات نے ملک کی خارجہ پالیسی پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ نئی حکومت علاقائی توازن کو مدنظر رکھتے ہوئے تعلقات کو ایک متوازن انداز میں آگے بڑھانے کی کوشش کرے گی۔ بنگلہ دیش میں سیاسی تجربات اور عوامی رجحانات نئی حکومت کو خود مختاری اور توازن قائم رکھنے کی رہنمائی کرتے ہیں۔ پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں تاریخی پیچیدگیاں موجود ہیں۔ 1971 کے بعد دونوں ممالک نے مختلف ادوار میں سفارتی سطح پر تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کی۔ ماضی کے سیاسی اختلافات نے اعتماد کو متاثر کیا۔ تاہم مشترکہ مفادات خصوصاً معاشی تعاون، ثقافتی تبادلوں اور زرعی تعاون نے مثبت راستے پیدا کیے۔ نئی بنگلہ دیشی حکومت پاکستان کے ساتھ تجارت کو فروغ دینے میں دلچسپی رکھتی ہے۔ دفاعی شعبے میں بات چیت کی گنجائش بھی موجود ہے۔ پاکستان اور بنگلہ دیش علاقائی سیکیورٹی فورمز میں مشترکہ مفادات کے لیے تعاون کر سکتے ہیں۔ ماضی کی یادیں عوامی ذہنیت پر اثر انداز ہو سکتی ہیں، اس لیے نئی حکومت تعلقات میں پیش قدمی کرتے ہوئے محتاط توازن برقرار رکھے گی۔ پاکستان کو بھی باہمی تعلقات میں احترام اور مشترکہ مفادات کو اولین ترجیح دینی چاہیے۔ بھارت اور بنگلہ دیش کے تعلقات گزشتہ ایک دہائی سے مستحکم سمت میں رہے ہیں۔ دونوں ممالک نے تجارت، توانائی اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں تعاون بڑھایا ہے۔ بھارت نے بنگلہ دیش میں کئی ترقیاتی منصوبوں میں سرمایہ کاری کی ہے، جس سے معاشی تعلقات مضبوط ہوئے ہیں۔ تاہم بعض اوقات بھارت نے بنگلہ دیش کے داخلی سیاسی عمل پر اثر و رسوخ کے امکانات کی طرف اشارے دیے ہیں، جس نے عوامی رائے میں تحفظات پیدا کیے ہیں۔ نئی حکومت بھارت کے ساتھ تعلقات میں اقتصادی تعاون کو فروغ دے گی، مگر علاقائی خود مختاری کے اصول کو بھی برقرار رکھے گی۔ بھارت کے ساتھ تجارت بڑھانے سے توانائی اور سرحدی امور میں مضبوط تعاون کے دروازے کھل سکتے ہیں۔ اگر بھارت تعلقات میں باہمی احترام اور مساوی مفاد کی پالیسی اپنائے تو اقتصادی شراکت داری مزید مستحکم ہو سکتی ہے۔ اگر بھارت اپنے اثر و رسوخ کو بڑھانے کی کوشش کرے تو عوامی ردعمل سخت ہو سکتا ہے۔ چین اور بنگلہ دیش کے تعلقات گزشتہ برسوں میں مضبوط ہوئے ہیں۔ چین نے بنگلہ دیش میں انفراسٹرکچر کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کی ہے۔ دو طرفہ تجارت بڑھ رہی ہے۔ بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کے تحت کئی پروجیکٹس عملی شکل میں آئے ہیں۔ چین نے دفاعی تعاون میں بھی بنگلہ دیش کے ساتھ مضبوط رابطے قائم کیے ہیں۔ فوجی تربیت اور دفاعی سازوسامان میں تعاون دونوں ملکوں کے تعلقات کو مستحکم کرتا ہے۔ نئی حکومت علاقائی امن اور سلامتی کے تناظر میں چین کے ساتھ تعلقات کو مضبوط رکھے گی اور اپنے معاشی مفادات کو تحفظ فراہم کرے گی۔ علاقائی توازن برقرار رکھنے کے لیے بنگلہ دیش کو چاہیئے کہ وہ چین کے ساتھ تعلقات کو بڑھانے کے ساتھ پاکستان اور بھارت کے ساتھ تعلقات کو بھی مؤثر انداز میں استوار کرے۔ اگر کسی سابق وزیراعظم جو بھارت میں پناہ حاصل کر رہا ہے واپس بنگلہ دیش مانگا گیا تو اس کے اثرات علاقائی سطح پر وسیع ہو سکتے ہیں۔ اس صورت میں دونوں ممالک کو سفارتی اور قانونی دائرہ کار کے تحت مسئلہ حل کرنا چاہیے۔ بنگلہ دیشی عدالت کے فیصلے عوامی اعتماد میں اضافہ کا باعث بن سکتے ہیں۔ بھارت کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ اس معاملے کو سفارتی انداز میں حل کرے تاکہ تعلقات میں کوئی کشیدگی پیدا نہ ہو۔ نئی حکومت علاقائی سیاسی توازن میں احتیاط سے قدم رکھے گی۔ پاکستان کے ساتھ تجارت اور دفاعی تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔ بھارت کے ساتھ معاشی تعلقات بڑھے جائیں گے بشرطیکہ باہمی احترام برقرار رہے۔ چین کے ساتھ انفراسٹرکچر اور دفاعی تعاون مضبوطی سے آگے بڑھایا جائے گا۔ معاشی شعبے میں بنگلہ دیش کو اپنی برآمدات کو متنوع بنانا ہوگا۔ توانائی اور انفراسٹرکچر میں شراکت داری معاشی نمو میں اضافہ کر سکتی ہے۔ علاقائی اقتصادی تعاون سے بنگلہ دیش کو فائدہ ہوگا۔ دفاعی شعبے میں مضبوط اتحاد علاقائی سلامتی کو مستحکم کرے گا۔ نئی حکومت علاقائی تعلقات میں توازن اور خود مختاری کو برقرار رکھے گی۔ پاکستان، بھارت اور چین کے ساتھ تعلقات کو اپنے قومی مفادات کے تحت فروغ دیا جائے گا۔ بھارت بنگلہ دیش پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش نہیں کر سکے گا بشرطیکہ دوطرفہ احترام اور مساوی مفادات کو مقدم رکھا جائے۔ اگر سابق وزیراعظم واپس بلاۓ جائیں تو اسے قانونی اور سفارتی دائرے میں حل کیا جائے گا۔ علاقائی سلامتی اور تعاون کے لیے جامع حکمت عملی ضروری ہے۔ نئی حکومت علاقائی تعلقات کو مضبوط بنانے میں مؤثر کردار ادا کرے گی اور اپنے قومی مفادات کو ترجیح دے گی۔ پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں ثقافتی اور تاریخی تعاون بھی مضبوط ہو سکتا ہے۔ عوامی تبادلوں اور تعلیم کے شعبے میں تعاون کو فروغ دینا چاہیے۔ علاقائی تجارت کے امکانات بڑھانے سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ توانائی کے شعبے میں تعاون سے توانائی کے متبادل ذرائع پر توجہ دی جا سکتی ہے۔ علاقائی امن کے لیے سفارتی مذاکرات کو مضبوط اور باہمی مفادات کو سامنے رکھ کر حل تلاش کیا جا سکتا ہے۔ بنگلہ دیش کے مستقبل کے لیے ضروری ہے کہ وہ علاقائی معاہدوں اور اقتصادی شراکت داری کے ذریعے اپنی معاشی ترقی کو فروغ دے تاکہ عوام کو بہتر مواقع فراہم ہوں۔ معیشت مضبوط ہو اور دفاعی استحکام قائم ہو۔ علاقائی ممالک کے ساتھ باہمی احترام اور تعاون کے اصول پر عمل پیرا ہو کر بنگلہ دیش ایک مستحکم اور خوشحال ملک بن سکتا ہے۔
نئی حکومت بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کے تحت مزید پروجیکٹس شروع کرے گی، جس سے ملک میں روزگار کے مواقع بڑھیں گے
بنگلہ دیش کی نئی حکومت کی اقتصادی پالیسی میں معاشی استحکام کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے۔ گزشتہ برسوں میں بنگلہ دیش کی جی ڈی پی نمو اوسطاً 6 سے 7 فیصد رہی ہے، مگر انفراسٹرکچر اور توانائی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی کمی نے صنعتی ترقی کو محدود کیا۔ نئی حکومت نے 2026 کے بجٹ میں بنیادی شعبوں جیسے توانائی، پانی، زرعی ترقی اور برآمدی صنعت کے لیے اضافی فنڈ مختص کیا ہے۔ اس کے علاوہ انفراسٹرکچر پروجیکٹس خصوصاً بیلٹ اینڈ روڈ کے تحت ٹرانسپورٹ اور بندرگاہوں میں سرمایہ کاری بڑھانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق اگر یہ منصوبے بروقت مکمل ہوں تو بنگلہ دیش کی برآمدات میں 15 سے 20 فیصد اضافہ ممکن ہے، اور ملک کی غیر ملکی زرمبادلہ کی آمدنی مضبوط ہو سکتی ہے۔ ملک میں برآمدی صنعت خصوصاً ٹیکسٹائل اور لباس کے شعبے میں روزگار کے مواقع بڑھائے جا سکتے ہیں، جس سے بے روزگاری میں کمی آئے گی۔ توانائی کے شعبے میں نئی حکومت نے شمسی توانائی، ہوا اور چھوٹے ہائیڈرو پروجیکٹس پر توجہ دینے کا فیصلہ کیا ہے، تاکہ ملک کی توانائی کی طلب کو جزوی طور پر پورا کیا جا سکے۔پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تجارت میں سالانہ حجم تقریباً 1.2 ارب ڈالر کے قریب ہے، جس میں ٹیکسٹائل، زرعی مصنوعات اور مشینری شامل ہیں۔ نئی حکومت چاہتی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم 2 ارب ڈالر تک پہنچ جائے، اس کے لیے باہمی تجارتی معاہدوں اور سرحدی سہولیات کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ دفاعی شعبے میں دونوں ممالک کے درمیان تربیتی مشقیں، بحری نگرانی اور سرحدی سیکیورٹی کے شعبے میں تعاون بڑھایا جا سکتا ہے۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق اگر دفاعی تعاون مضبوط ہوا تو دونوں ممالک کے درمیان اعتماد بڑھ جائے گا اور علاقائی استحکام قائم ہوگا۔بھارت کے ساتھ تعلقات میں اقتصادی اور دفاعی توازن برقرار رکھنا بنگلہ دیش کے لیے ایک چیلنج ہے۔ بھارت نے گزشتہ پانچ سالوں میں بنگلہ دیش میں تقریباً 4 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی، جس میں انفراسٹرکچر اور توانائی کے شعبے شامل ہیں۔ اگر بھارت اپنے اثر و رسوخ کو بڑھانے کی کوشش کرے تو عوامی ردعمل سخت ہو سکتا ہے، اس لیے نئی حکومت احتیاط سے اقدامات کرے گی۔ بھارت کے ساتھ تجارتی حجم تقریباً 10 ارب ڈالر سالانہ ہے، جس میں ادویات، ٹیکسٹائل، توانائی اور زراعت کی مصنوعات شامل ہیں۔ دفاعی شعبے میں بھارت بنگلہ دیش میں براہِ راست مداخلت نہیں کر سکتا، لیکن تکنیکی تعاون اور تربیتی پروگراموں میں شراکت داری ممکن ہے۔ نئی حکومت علاقائی خودمختاری کو مدنظر رکھتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان باہمی اعتماد اور شفافیت کی بنیاد پر تعلقات آگے بڑھائے گی۔
چین کے ساتھ دفاعی اور اقتصادی تعلقات گزشتہ دس سال میں مستحکم ہوئے ہیں۔ چین نے بنگلہ دیش میں تقریباً 6 ارب ڈالر کے انفراسٹرکچر منصوبے مکمل کیے ہیں، جس میں بندرگاہیں، شاہراہیں اور پل شامل ہیں۔ دفاعی شعبے میں چین نے فوجی تربیت، ہتھیاروں کی فراہمی اور سمندری نگرانی کے شعبے میں تعاون بڑھایا ہے۔ نئی حکومت بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کے تحت مزید پروجیکٹس شروع کرے گی، جس سے ملک میں روزگار کے مواقع بڑھیں گے اور توانائی کے شعبے میں خود کفالت میں اضافہ ہوگا۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ منصوبے وقت پر مکمل ہو جائیں تو جی ڈی پی میں مزید 1.5 سے 2 فیصد کا اضافہ ممکن ہے، اور ملکی برآمدات کی مسابقت میں بھی بہتری آئے گی۔سابق وزیراعظم جو بھارت میں پناہ حاصل کر رہا ہے اگر واپس لایا گیا تو اس کے اثرات قانونی، سیاسی اور سفارتی سطح پر بہت اہم ہوں گے۔ نئی حکومت کو چاہئے کہ وہ اس معاملے کو قانونی دائرے میں حل کرے اور علاقائی تعلقات میں کشیدگی پیدا نہ ہونے دے۔ بھارت کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ اس معاملے کو سفارتی اور قانونی طور پر حل کرے، تاکہ تعلقات میں استحکام برقرار رہے۔ معاشی اور دفاعی شعبوں میں شراکت داری کے ذریعے علاقائی توازن قائم کیا جا سکتا ہے، جس سے بنگلہ دیش کی معیشت اور سلامتی دونوں مضبوط ہوں گے۔
بنگلہ دیش کی دفاعی پالیسی جدیدیت اور استعداد کو ترجیح، ۔ پاکستان کے ساتھ دفاعی تعاون میں باہمی تربیتی مشقیں شامل ہیں
بنگلہ دیش کی دفاعی پالیسی میں جدیدیت اور استعداد کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ فوجی بجٹ گزشتہ سال 5.1 ارب ڈالر رہا، جس میں فوجی تربیت، ہتھیاروں کی جدید کاری اور سرحدی نگرانی کے منصوبے شامل ہیں۔ نئی حکومت نے فوجی بجٹ میں 7 فیصد اضافہ کرنے کا اعلان کیا ہے، جس سے سرحدی سیکیورٹی اور بحری نگرانی میں بہتری آئے گی۔ پاکستان کے ساتھ دفاعی تعاون میں باہمی تربیتی مشقیں، اسلحہ کے نظام میں تجرباتی تبادلے اور سرحدی نگرانی کے مشترکہ منصوبے شامل ہو سکتے ہیں۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق اگر یہ منصوبے کامیابی سے مکمل ہوں تو دونوں ممالک کے درمیان اعتماد اور سیکیورٹی توازن میں اضافہ ہوگا۔پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تجارتی حجم میں اضافہ کے لیے نئے معاہدے طے پا رہے ہیں، جس میں زرعی مصنوعات، ٹیکسٹائل، ادویات اور مشینری شامل ہیں۔ اگر دونوں ممالک تجارتی حجم 2 ارب ڈالر تک بڑھا لیں تو روزگار کے مواقع بڑھیں گے اور غیر ملکی زرمبادلہ کی آمدنی میں اضافہ ہوگا۔ دونوں ممالک توانائی کے شعبے میں تعاون بڑھا سکتے ہیں، جس میں شمسی توانائی، چھوٹے ہائیڈرو اور متبادل توانائی کے منصوبے شامل ہیں۔ دفاعی تعاون میں سرحدی نگرانی، مشترکہ تربیتی پروگرام اور سمندری نگرانی کے منصوبے شامل ہوں گے، جس سے علاقائی سلامتی مضبوط ہوگی۔
بھارت کے ساتھ تعلقات میں معاشی اور دفاعی توازن برقرار رکھنا بنگلہ دیش کے لیے ایک چیلنج ہے۔ بھارت نے گزشتہ پانچ سال میں بنگلہ دیش میں تقریباً 4 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے، جس میں انفراسٹرکچر، توانائی اور مواصلات کے منصوبے شامل ہیں۔ نئی حکومت احتیاط کے ساتھ بھارت کے ساتھ اقتصادی اور دفاعی تعلقات کو آگے بڑھائے گی، تاکہ علاقائی خودمختاری برقرار رہے۔ بھارت کے ساتھ تجارتی حجم 10 ارب ڈالر سالانہ ہے، جس میں ادویات، ٹیکسٹائل، توانائی اور زرعی مصنوعات شامل ہیں۔ دفاعی شعبے میں بھارت براہِ راست مداخلت نہیں کر سکتا، لیکن تکنیکی تعاون اور تربیتی پروگراموں میں شراکت داری ممکن ہے۔ نئی حکومت دونوں ممالک کے درمیان باہمی اعتماد اور شفافیت کی بنیاد پر تعلقات آگے بڑھائے گی۔
چین کے ساتھ تعلقات میں دفاعی اور اقتصادی تعاون مزید مستحکم ہو رہا ہے۔ چین نے بنگلہ دیش میں بندرگاہوں، شاہراہوں اور پلوں پر تقریباً 6 ارب ڈالر کے منصوبے مکمل کیے ہیں۔ دفاعی شعبے میں فوجی تربیت، ہتھیاروں کی فراہمی اور سمندری نگرانی کے منصوبے جاری ہیں۔ نئی حکومت بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کے تحت مزید منصوبے شروع کرے گی، جس سے روزگار کے مواقع بڑھیں گے اور توانائی کے شعبے میں خود کفالت میں اضافہ ہوگا۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ منصوبے وقت پر مکمل ہو جائیں تو جی ڈی پی میں 1.5 سے 2 فیصد اضافہ ممکن ہے، اور برآمدات کی مسابقت میں بہتری آئے گی۔
سابق وزیراعظم جو بھارت میں پناہ حاصل کر رہا ہے اگر واپس بلا لیا گیا تو اس کے اثرات قانونی، سیاسی اور سفارتی سطح پر بہت اہم ہوں گے۔ نئی حکومت کو چاہیے کہ اس معاملے کو قانونی دائرے میں حل کرے اور علاقائی تعلقات میں کشیدگی پیدا نہ ہونے دے۔ بھارت کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ معاملے کو سفارتی اور قانونی طور پر حل کرے، تاکہ تعلقات میں استحکام برقرار رہے۔ علاقائی اقتصادی اور دفاعی تعاون کے ذریعے توازن قائم کیا جا سکتا ہے، جس سے بنگلہ دیش کی معیشت اور سلامتی دونوں مضبوط ہوں گے۔معاشی شعبے میں نئی حکومت نے برآمدات کی متنوع سازی، توانائی کے شعبے میں شراکت داری، اور انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کو ترجیح دی ہے۔ یہ اقدامات روزگار کے مواقع بڑھائیں گے، توانائی کی خود کفالت میں اضافہ کریں گے، اور ملکی معیشت مضبوط بنائیں گے۔ دفاعی شعبے میں مضبوط اتحاد علاقائی سلامتی کو مستحکم کرے گا۔ علاقائی ممالک کے ساتھ باہمی احترام اور تعاون کے اصول پر عمل پیرا ہو کر بنگلہ دیش ایک مستحکم اور خوشحال ملک بن سکتا ہے۔ پاکستان، بھارت اور چین کے ساتھ تعلقات قومی مفادات کے تحت فروغ پائیں گے، اور علاقائی سلامتی و اقتصادی ترقی کے لیے جامع حکمت عملی اختیار کی جائے گی۔
پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں دفاعی اور اقتصادی تعاون، زرعی مصنوعات، ٹیکسٹائل، ادویات اور مشینری شامل ہیں
نئی حکومت کے دور میں پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں دفاعی اور اقتصادی تعاون کو مزید مستحکم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم میں اضافہ کے لیے نئے معاہدے طے پا رہے ہیں، جس میں زرعی مصنوعات، ٹیکسٹائل، ادویات اور مشینری شامل ہیں۔ پاکستان اور بنگلہ دیش توانائی کے شعبے میں تعاون بڑھا سکتے ہیں، جس میں شمسی توانائی، چھوٹے ہائیڈرو اور متبادل توانائی کے منصوبے شامل ہیں۔ دفاعی تعاون میں سرحدی نگرانی، مشترکہ تربیتی پروگرام اور سمندری نگرانی کے منصوبے شامل ہوں گے، جس سے علاقائی سلامتی مضبوط ہوگی۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق اگر یہ منصوبے کامیابی سے مکمل ہوں تو دونوں ممالک کے درمیان اعتماد اور سیکیورٹی توازن میں اضافہ ہوگا۔بھارت کے ساتھ تعلقات میں معاشی اور دفاعی توازن برقرار رکھنا بنگلہ دیش کے لیے ایک چیلنج ہے۔ بھارت نے گزشتہ پانچ سال میں بنگلہ دیش میں تقریباً 4 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے، جس میں انفراسٹرکچر، توانائی اور مواصلات کے منصوبے شامل ہیں۔ نئی حکومت احتیاط کے ساتھ بھارت کے ساتھ اقتصادی اور دفاعی تعلقات کو آگے بڑھائے گی، تاکہ علاقائی خودمختاری برقرار رہے۔ بھارت کے ساتھ تجارتی حجم 10 ارب ڈالر سالانہ ہے، جس میں ادویات، ٹیکسٹائل، توانائی اور زرعی مصنوعات شامل ہیں۔ دفاعی شعبے میں بھارت براہِ راست مداخلت نہیں کر سکتا، لیکن تکنیکی تعاون اور تربیتی پروگراموں میں شراکت داری ممکن ہے۔ نئی حکومت دونوں ممالک کے درمیان باہمی اعتماد اور شفافیت کی بنیاد پر تعلقات آگے بڑھائے گی۔
دفاعی شعبے میں پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان منصوبے شامل ہیں: مشترکہ تربیتی مشقیں، سرحدی نگرانی کے جدید نظام، سمندری سیکیورٹی کے مشترکہ اقدامات اور فوجی سازوسامان کی تجرباتی تبادلے۔ اگر یہ منصوبے کامیابی سے مکمل ہوں تو علاقائی سلامتی میں اضافہ ہوگا اور دونوں ممالک کے درمیان اعتماد بڑھے گا۔ ماہرین کے مطابق یہ اقدامات بھارت کی علاقائی مداخلت کے امکانات کو کم کر دیں گے اور خطے میں استحکام قائم کریں گے۔
اقتصادی شعبے میں نئی حکومت نے برآمدات کی متنوع سازی، توانائی کے شعبے میں شراکت داری اور انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کو ترجیح دی ہے۔ یہ اقدامات روزگار کے مواقع بڑھائیں گے، توانائی کی خود کفالت میں اضافہ کریں گے اور ملکی معیشت مضبوط بنائیں گے۔ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان باہمی تجارتی حجم بڑھانے سے زرعی مصنوعات، ٹیکسٹائل، ادویات اور مشینری میں اضافہ ممکن ہے۔ توانائی کے شعبے میں مشترکہ منصوبے سے متبادل ذرائع سے توانائی پیدا کرنے کی صلاحیت بڑھے گی اور صنعتی ترقی میں سہولت پیدا ہوگی۔چین کے ساتھ تعلقات میں دفاعی اور اقتصادی تعاون مزید مستحکم ہو رہا ہے۔ چین نے بنگلہ دیش میں بندرگاہوں، شاہراہوں اور پلوں پر تقریباً 6 ارب ڈالر کے منصوبے مکمل کیے ہیں۔ دفاعی شعبے میں فوجی تربیت، ہتھیاروں کی فراہمی اور سمندری نگرانی کے منصوبے جاری ہیں۔ نئی حکومت بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کے تحت مزید منصوبے شروع کرے گی، جس سے روزگار کے مواقع بڑھیں گے اور توانائی کے شعبے میں خود کفالت میں اضافہ ہوگا۔
سابق وزیراعظم جو بھارت میں پناہ حاصل کر رہا ہے اگر واپس بلا لیا گیا تو اس کے اثرات قانونی، سیاسی اور سفارتی سطح پر بہت اہم ہوں گے۔ نئی حکومت کو چاہیے کہ اس معاملے کو قانونی دائرے میں حل کرے اور علاقائی تعلقات میں کشیدگی پیدا نہ ہونے دے۔ بھارت کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ معاملے کو سفارتی اور قانونی طور پر حل کرے، تاکہ تعلقات میں استحکام برقرار رہے۔مستقبل کے ممکنہ حالات میں اگر نئی حکومت نے اقتصادی اور دفاعی منصوبے بروقت مکمل کر لیے تو بنگلہ دیش کی معیشت مضبوط ہوگی۔ برآمدات میں اضافہ، روزگار کے مواقع، توانائی کی خود کفالت اور انفراسٹرکچر میں ترقی ممکن ہوگی۔ علاقائی ممالک کے ساتھ تعلقات میں توازن اور احترام برقرار رکھنے سے خطے میں استحکام آئے گا۔ دفاعی تعاون اور اقتصادی شراکت داری دونوں مضبوط ہوں گے اور بھارت، پاکستان اور چین کے ساتھ تعلقات قومی مفادات کے تحت فروغ پائیں گے۔ علاقائی امن اور تعاون کے اصول پر عمل کرتے ہوئے بنگلہ دیش ایک مستحکم اور خوشحال ملک بن سکتا ہے۔
مزید پڑھنے کے لیے براہ کرم ہمارے مضامین دیکھیں۔