writer 0

ایلون مسک کی وارننگ اور امریکا کے قومی قرض کا بحران

(میاں افتخار احمد)
ایلون مسک نے امریکا کے بڑھتے ہوئے قومی قرض کے بارے میں سخت وارننگ جاری کی ہے۔ ملک اس وقت اپنی تاریخ کے بلند ترین قومی قرض کا سامنا کر رہا ہے۔ وفاقی قرضہ بے تحاشا بڑھ رہا ہے۔ سودی ادائیگیاں دفاعی اخراجات کے برابر پہنچ رہی ہیں۔ بجٹ خسارہ مسلسل وسیع ہو رہا ہے۔ سیاسی قیادت قرض کی حد بڑھانے پر بار بار منقسم دکھائی دیتی ہے۔ ایسے ماحول میں ایلون مسک کی وارننگ محض ایک ٹیکنالوجی کے سی ای او کی رائے نہیں بلکہ ایک صنعت کار کی تشویش کی عکاسی ہے جو معیشت کو مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے تناظر میں دیکھ رہا ہے۔ پوڈکاسٹر دوارکیش پٹیل کے ساتھ ایک تفصیلی انٹرویو میں، جس میں جان کولیسن بھی شریک تھے، مسک نے واضح کیا کہ اگر اے آئی اور روبوٹکس غیر معمولی پیداواری اضافہ فراہم کرنے میں ناکام رہیں تو امریکا کو شدید مالی مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔ مسک کے مطابق قومی قرض کی رفتار اتنی تیز ہے کہ روایتی معاشی نمو اسے قابو میں نہیں رکھ سکتی۔
انٹرویو کے دوران مسک سے پوچھا گیا کہ اگر وہ سمجھتے ہیں کہ ٹیکنالوجی بالآخر جی ڈی پی میں خاطر خواہ اضافہ کرے گی تو پھر انہوں نے ڈیپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفیشنسی کی قیادت کے دوران سخت اخراجات میں کمی پر کیوں زور دیا۔ مسک نے وضاحت کی کہ ان کی توجہ فضول خرچی اور دھوکہ دہی کم کرنے پر تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومتی وسائل غیر مؤثر انداز میں استعمال ہوں تو ٹیکنالوجی کے ممکنہ فوائد بھی ضائع ہو جائیں گے۔ مسک نے خبردار کیا کہ بغیر اے آئی اور روبوٹکس کے امریکا مکمل طور پر پھنس سکتا ہے۔ قومی قرض بے تحاشا بڑھ رہا ہے۔ یہ بیان مسک کے وسیع تر نقطہ نظر کی عکاسی کرتا ہے جس میں وہ مصنوعی ذہانت کو اگلے صنعتی انقلاب کا بنیادی انجن سمجھتے ہیں۔
اقتصادی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو قرض اس وقت خطرناک ہو جاتا ہے جب شرح سود معاشی نمو سے زیادہ ہو جائے۔ امریکا میں گزشتہ برسوں کے دوران شرح سود میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ نتیجتاً قرض کی ادائیگی کا حجم بڑھ گیا ہے۔ اگر جی ڈی پی کی شرح نمو سست رہے اور قرض تیز رفتاری سے بڑھے تو قرض کا جی ڈی پی سے تناسب بڑھتا رہے گا۔ مسک کا کہنا ہے کہ اے آئی سے چلنے والی خودکار نظام، روبوٹکس، جدید مینوفیکچرنگ، خودکار ڈرائیونگ اور ڈیجیٹل سروسز ایسی پیداواری چھلانگ لا سکتی ہیں جو روایتی صنعتی ترقی سے کہیں زیادہ ہوں۔ اگر فی کس پیداوار اور مجموعی قومی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہو تو قرض کا تناسب نسبتاً کم محسوس ہوگا۔ اس کے علاوہ، حکومت کے پاس ٹیکس آمدن بڑھانے کے زیادہ مواقع ہوں گے بغیر شہریوں پر اضافی بوجھ ڈالے۔
تاہم اس نقطہ نظر پر چند اہم سوالات اٹھتے ہیں۔ ایک مسئلہ یہ ہے کہ کیا اے آئی سے پیدا ہونے والی دولت وسیع پیمانے پر معیشت میں پھیلے گی یا چند بڑی ٹیک کمپنیوں تک محدود رہے گی۔ اگر زیادہ تر فائدہ سرمایہ کاروں اور بڑی کارپوریشنوں کے پاس جائے تو حکومتی ریونیو متناسب طور پر نہیں بڑھے گا۔ ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ خودکاری ملازمتوں کے ڈھانچے کو بدل سکتی ہے۔ اگر بڑے پیمانے پر ملازمتیں ختم ہوں اور متوسط طبقہ دباؤ میں آئے تو ٹیکس بیس متاثر ہو سکتی ہے۔ مسک کا بنیادی زور پیداواری اضافہ پر ہے۔ تاہم معاشرتی اور اقتصادی انصاف کو بھی یقینی بنانا ضروری ہے۔
مسک نے ڈیپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفیشنسی میں عملے کی کٹوتیوں پر بھی روشنی ڈالی۔ رپورٹس کے مطابق کچھ اداروں میں بڑے پیمانے پر عملے کی کمی کی گئی۔ اس کے نتیجے میں کچھ اہم ملازمین فارغ ہوئے اور بعد میں دوبارہ بھرتی کرنا پڑا۔ اس سے سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اصلاحات متوازن تھیں یا غیر متوازن۔ مسک نے زور دیا کہ فضول خرچی کو ختم کرنا ضروری ہے۔ مالی نظم و ضبط کے بغیر صرف مستقبل کی ٹیکنالوجی پر انحصار کافی نہیں ہے۔ مالی ذمہ داری اور ٹیکنالوجی کی ترقی دونوں طویل مدتی استحکام کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔
مسک کی وارننگ اس بڑے فکری مباحثے کو اجاگر کرتی ہے کہ کیا جدید معیشتیں مالی مسائل کو صرف ٹیکنالوجی سے حل کر سکتی ہیں یا اخراجات، ٹیکس اصلاحات اور سماجی پالیسیوں میں بنیادی تبدیلیاں بھی ضروری ہیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ صنعتی انقلاب، بجلی، انٹرنیٹ اور ڈیجیٹلائزیشن نے معیشتوں کو نئی جہت دی مگر نئے عدم توازن بھی پیدا کیے۔ اے آئی بھی ممکنہ طور پر اسی طرح دو دھاری تلوار ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر پالیسی ساز یہ یقینی بنائیں کہ ٹیکنالوجی سے حاصل ہونے والی دولت وسیع معیشت میں منتقل ہو تو قرض کا دباؤ کم ہو سکتا ہے۔ اگر عدم مساوات بڑھی تو مالی استحکام مزید پیچیدہ ہو سکتا ہے۔
ایلون مسک کے بیانات اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ امریکا جیسے بڑے ملک کے لیے روایتی معاشی اقدامات اب کافی نہیں ہیں۔ بڑھتا ہوا قومی قرض، بلند سودی ادائیگیاں، دفاعی اور سماجی اخراجات کا پھیلاؤ اور سیاسی تقسیم ایک پیچیدہ منظرنامہ تشکیل دے رہے ہیں۔ اے آئی اور روبوٹکس کو معاشی نجات دہندہ کے طور پر پیش کرنا جرات مندانہ مگر خطرناک ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ٹیکنالوجی کی ترقی قومی مالی استحکام میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ اگر ہو گئی تو مسک کی پیش گوئی درست ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر نہیں ہوئی تو امریکا کی معیشت قرض کے دباؤ کا سامنا کرتی رہے گی۔

اے آئی اور روبوٹکس کا پیداواری صلاحیت پر اثر

مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کو معیشت میں نمو کے لیے لازمی اوزار سمجھا جاتا ہے۔ مسک کا ماننا ہے کہ اگر ان ٹیکنالوجیز کو بروقت اپنایا نہ گیا تو امریکا کو طویل مدتی مالی بحران کا سامنا ہو سکتا ہے۔ اے آئی دہرانے والے کام خودکار کر سکتی ہے، فیصلہ سازی کو بہتر بنا سکتی ہے اور سپلائی چین کو مؤثر کر سکتی ہے۔ روبوٹکس مینوفیکچرنگ کی کارکردگی بڑھا سکتی ہے اور پیداواری لاگت کم کر سکتی ہے۔ یہ دونوں مل کر کل پیداوار میں اضافہ کر سکتی ہیں، جو قرض اور جی ڈی پی کے تناسب کو کم کرنے کے لیے ضروری ہے۔ زیادہ پیداواری صلاحیت کے ذریعے زیادہ پیداوار حاصل کی جا سکتی ہے بغیر مزدور یا سرمایہ میں متناسب اضافہ کیے۔ مسک کا استدلال ہے کہ صرف اس طرح کے پیداواری فوائد سے بڑھتے ہوئے قومی قرض کو مؤثر طریقے سے قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔
اے آئی سے چلنے والی خودکاری نئی صنعتیں اور کاروباری ماڈل پیدا کر سکتی ہے۔ جدید الگورتھمز بڑی مقدار میں ڈیٹا کا تجزیہ کر کے صحت، لاجسٹکس، توانائی اور مالیات جیسے شعبوں میں کارکردگی بڑھا سکتے ہیں۔ روبوٹکس خطرناک یا انتہائی درست کام سنبھال سکتی ہے، انسانی غلطی کم کرتی ہے اور رفتار بڑھاتی ہے۔ اگر درست طریقے سے نافذ ہو تو یہ ٹیکنالوجیز معیشتی ترقی میں گناونی اثر ڈال سکتی ہیں۔ پیداواری اضافہ فی کس آمدن اور حکومتی ریونیو بڑھا سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں قرض کو مؤثر طریقے سے منظم کرنے اور اہم عوامی خدمات کو برقرار رکھنے کے وسائل فراہم ہو سکتے ہیں۔
تاہم، ٹیکنالوجی پر مبنی معیشت میں منتقلی بغیر چیلنجز کے نہیں۔ ایک بڑا مسئلہ روزگار کا اثر ہے۔ خودکاری روایتی ملازمتوں کو ختم کر سکتی ہے، خصوصاً مینوفیکچرنگ، ریٹیل اور دفتری شعبوں میں۔ اگر مزدور کو دوبارہ تربیت یا مہارت نہیں دی گئی تو بے روزگاری بڑھ سکتی ہے۔ مسک زور دیتے ہیں کہ جبکہ اے آئی نئے مواقع پیدا کرتی ہے، پالیسی سازوں کو بے روزگار ہونے والے کارکنوں کے سماجی اور اقتصادی اثرات پر بھی توجہ دینی چاہیے۔ بصورت دیگر پیداواری فوائد چند ہاتھوں تک محدود رہ سکتے ہیں، جس سے معاشی عدم مساوات بڑھے گی۔
ایک اور چیلنج اپنانے کی رفتار ہے۔ بڑے پیمانے پر اے آئی اور روبوٹکس کو شامل کرنے کے لیے بنیادی ڈھانچے، تعلیم اور ڈیجیٹل صلاحیتوں میں سرمایہ کاری ضروری ہے۔ اگر پالیسی اور نجی شعبے میں تعاون نہ ہو تو منتقلی سست یا غیر متوازن ہو سکتی ہے۔ مسک خبردار کرتے ہیں کہ اپنانے میں تاخیر قرض کے مسائل کو حل کرنے کے بجائے مزید بڑھا سکتی ہے۔ پیداواری فوائد اتنی تیزی سے ظاہر ہونے چاہئیں کہ بڑھتی ہوئی قرض کی ادائیگی کے اخراجات کو پورا کر سکیں۔
مالی پالیسی بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ چاہے اے آئی اور روبوٹکس پیداوار بڑھائیں، مؤثر ٹیکس نظام اور عوامی اخراجات ضروری ہیں تاکہ یہ فوائد قرض کی کمی میں بدل سکیں۔ نئی ٹیکنالوجیز سے پیدا ہونے والی دولت کا کچھ حصہ حکومت کو جمع کرنا چاہیے تاکہ سماجی پروگراموں کی مالی معاونت اور مالی خسارہ کم ہو سکے۔ مسک بار بار کہتے ہیں کہ صرف ٹیکنالوجی کافی نہیں، مالی نظم و ضبط ضروری ہے۔ حکومتی فضول خرچی اور دھوکہ دہی کو کم کرنا اے آئی اور روبوٹکس سے پیدا ہونے والے فوائد کو بڑھاتا ہے۔
عالمی منظرنامہ بھی قومی قرض پر اثر انداز ہوتا ہے۔ مقابلہ کرنے والی معیشتیں اے آئی اور روبوٹکس میں بھاری سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔ وہ ممالک جو یہ ٹیکنالوجیز نہیں اپناتے، پیداوار اور مسابقت میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔ مسک کے مطابق امریکا کو معاشی قیادت برقرار رکھنے کے لیے ٹیکنالوجی کو اپنانا اب اختیار نہیں بلکہ لازمی ہے۔ اگر دیگر ممالک امریکا سے تیز رفتاری سے خودکار نظام نافذ کریں تو مارکیٹیں ضائع ہو سکتی ہیں، نمو سست ہو سکتی ہے اور قرض بڑھ سکتا ہے۔
مختصراً، مسک اے آئی اور روبوٹکس کو بڑھتے ہوئے قومی قرض کے چیلنج کا بنیادی حل سمجھتے ہیں۔ یہ ٹیکنالوجیز پیداوار بڑھا سکتی ہیں، نئی صنعتیں پیدا کر سکتی ہیں اور حکومتی ریونیو بڑھا سکتی ہیں۔ تاہم، فوائد کا دارومدار تیز اپنانے، دولت کی مساوی تقسیم، ورک فورس کی تربیت اور مؤثر مالی پالیسیوں پر ہے۔ بغیر ان اقدامات کے، پیداواری اضافہ خود بخود معیشت کو مستحکم نہیں کر سکتا۔ مسک کی وارننگ اس بات پر زور دیتی ہے کہ ٹیکنالوجی اور مالی نظم و ضبط کو یکجا کرنا فوری ضرورت ہے تاکہ ممکنہ مالی بحران سے بچا جا سکے۔

پالیسی سفارشات اور مستقبل کے منظرنامے

ایلون مسک کی امریکا کے قومی قرض کے حوالے سے وارننگز اس بات پر زور دیتی ہیں کہ اس معاملے کے لیے اسٹریٹجک پالیسی پلاننگ ناگزیر ہے۔ اے آئی اور روبوٹکس صرف اس وقت طویل مدتی معاشی استحکام میں معاون ہو سکتی ہیں جب انہیں سوچ سمجھ کر مالی پالیسیوں کے ساتھ مربوط کیا جائے۔ پالیسی سازوں کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ ٹیکنالوجی سے حاصل ہونے والے فوائد وسیع عوام تک پہنچیں نہ کہ چند کارپوریشنوں تک محدود رہیں۔ اس کے لیے مؤثر ٹیکس نظام، سماجی تحفظ کے جال اور ورک فورس کی تربیت میں سرمایہ کاری ضروری ہے۔ ٹیکنالوجی سے پیدا شدہ پیداواری صلاحیت اور مساوی اقتصادی پالیسیوں کو یکجا کر کے امریکا اپنے قرض کو بہتر انداز میں قابو میں رکھ سکتا ہے۔
ورک فورس کی ترقی مسک کے نقطہ نظر کا مرکزی پہلو ہے۔ خودکاری اور اے آئی کچھ ملازمتوں کو ختم کر سکتی ہیں مگر وہ نئے شعبوں میں مواقع بھی پیدا کرتی ہیں۔ حکومتوں کو شہریوں کو مستقبل کے کیریئر کے لیے تیار کرنے کے لیے تعلیمی اور پیشہ ورانہ پروگرام نافذ کرنے چاہئیں۔ اپ اسکلنگ اور ری اسکلنگ پروگرامز بے روزگاری کے خطرات کم کر سکتے ہیں اور پیداواری فوائد کو وسیع پیمانے پر تقسیم کر سکتے ہیں۔ بغیر ان اقدامات کے ٹیکنالوجی پر مبنی معیشت میں منتقلی عدم مساوات اور سماجی کشیدگی کو بڑھا سکتی ہے۔
مسک فضول خرچی اور غیر مؤثر حکومتی اخراجات کو کم کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیتے ہیں۔ مالی نظم و ضبط ٹیکنالوجی کی ترقی کو مکمل کرتا ہے۔ غیر ضروری اخراجات ختم کرنے اور دھوکہ دہی کو کم کرنے سے وسائل آزاد ہو سکتے ہیں تاکہ اے آئی، روبوٹکس اور دیگر پیداواری بہتری والے اقدامات میں سرمایہ کاری کی جا سکے۔ اگر مالی نظم و ضبط اور ٹیکنالوجی کو یکجا کر کے نافذ کیا جائے تو ممکنہ مالی بحران سے بچنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
ایک اور اہم پہلو ٹیکنالوجی کے اپنانے کی رفتار اور دائرہ ہے۔ مسک خبردار کرتے ہیں کہ نفاذ میں تاخیر قومی قرض کے مسائل کو مزید بڑھا سکتی ہے۔ مینوفیکچرنگ، لاجسٹکس، صحت اور دیگر اہم شعبوں میں اے آئی اور روبوٹکس کی فوری اور بڑے پیمانے پر تنصیب ضروری ہے تاکہ حقیقی پیداواری اضافہ حاصل ہو سکے۔ پالیسی سازوں اور نجی شعبے کے رہنماؤں کو بنیادی ڈھانچے اور سرمایہ کاری کے رکاوٹوں پر تعاون کرنا ہوگا۔ بروقت اپنانا امریکا کو عالمی معیشت میں مسابقتی برتری فراہم کر سکتا ہے۔
عالمی تناظر کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ دیگر ممالک پیداواری صلاحیت اور اقتصادی ترقی کے لیے اے آئی اور روبوٹکس میں بھاری سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ اگر امریکا ٹیکنالوجی کے اپنانے میں پیچھے رہ گیا تو عالمی مارکیٹ کا حصہ کھو سکتا ہے۔ حریفوں کی نسبت سست نمو قرض کے بوجھ میں اضافہ اور اضافی مالی دباؤ پیدا کر سکتی ہے۔ مسک زور دیتے ہیں کہ معاشی خوشحالی اور مالی استحکام دونوں کے لیے ٹیکنالوجی کی قیادت برقرار رکھنا لازمی ہے۔
آخر میں، ایلون مسک کی وارننگ ایک عملی اقدام کے لیے کال ہے۔ امریکا ایک پیچیدہ صورتحال کا سامنا کر رہا ہے جس میں بڑھتا ہوا قومی قرض، بلند سودی ادائیگیاں اور سیاسی تقسیم شامل ہیں۔ اے آئی اور روبوٹکس ایک ممکنہ حل پیش کرتی ہیں مگر فوائد خودکار نہیں ہیں۔ پیداواری اضافہ کے ساتھ مالی نظم و ضبط، دولت کی مساوی تقسیم، ورک فورس کی تربیت اور فوری اپنانا بھی ضروری ہے۔ صرف مربوط حکمت عملی کے ذریعے ٹیکنالوجی کی ترقی طویل مدتی معاشی استحکام میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ اگر پالیسی ساز کامیاب ہوئے تو مسک کا وژن حقیقت بن سکتا ہے۔ اگر ناکام ہوئے تو ملک قرض کے دباؤ اور ممکنہ مالی بحران کا سامنا کرتا رہے گا۔ اس صورتحال کی فوری نوعیت ٹیکنالوجی، پالیسی اور اقتصادی انتظام کو مستقبل کے لیے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت پر زور دیتی ہے۔

مزید پڑھنے کے لیے براہ کرم ہمارے مضامین دیکھیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں