0

ایف ڈی اے کی مالی خود کفالت کیلئے کثیر الجہتی بزنس حکمت عملی، ذرائع آمدن میں اضافے کا فیصلہ

(Publish from Houston Texas USA)

(میاں افتخار احمد)

فیصل آباد: ایف ڈی اے انتظامیہ نے شہری ترقی اور عوامی بہبود کے منصوبوں کی مؤثر تکمیل کیلئے مالی وسائل میں اضافہ کے اقدامات تیز کرنے کی غرض سے کثیر الجہتی کاروباری حکمت عملی تیار کر لی ہے، جس کے تحت فنانشیل اور مختلف بزنس ماڈلز پر غور و خوض جاری ہے۔ اس سلسلے میں جائزہ اجلاس ڈائریکٹر جنرل ایف ڈی اے محمد آصف چوہدری کی زیر صدارت کانفرنس روم میں منعقد ہوا، جس میں فنانشیل کنسلٹنٹ شکیل احمد نے آمدن کے ذرائع بڑھانے کیلئے مختلف تجاویز پر تفصیلی بریفنگ دی۔ اجلاس میں چیف انجینئر مہر ایوب، ڈائریکٹرز جنید حسن منج، اسماء محسن، یاسر اعجاز چٹھہ، سہیل مقصود پنوں، ڈپٹی ڈائریکٹرز انجینئرنگ طلحہ تبسم اور ولید خالد، ڈپٹی ڈائریکٹر فنانس افضال انصاری، ڈپٹی ڈائریکٹر اسٹیٹ مینجمنٹ رابعہ مبشرہ، اسسٹنٹ ڈائریکٹر فنانس بلال احمد اور دیگر افسران نے شرکت کی۔ ڈائریکٹر جنرل ایف ڈی اے نے کہا کہ ادارے کو مالی طور پر مستحکم بنانے اور شہری ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت کیلئے ذرائع آمدن میں اضافہ ناگزیر ہے، اس مقصد کیلئے ایف ڈی اے کی ترقیاتی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ کیا جائے گا اور ادارہ فعال و متحرک کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ عوامی مفاد میں ایف ڈی اے کی دستیاب جائیدادوں اور اثاثہ جات کو منافع بخش منصوبوں میں استعمال کیا جا سکتا ہے، جس کیلئے فنانشیل، بزنس اور ٹیکنیکل مینجمنٹ کے ذریعے جامع منصوبہ سازی کا عزم کیا گیا ہے۔ اجلاس کے دوران بزنس پلاننگ کیلئے پلاٹس کی اوپن نیلامی، قرعہ اندازی، مختلف اداروں سے براہ راست معاہدات، جوائنٹ وینچر اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے اصولوں پر تفصیلی غور و خوض کرتے ہوئے مختلف فیصلے کئے گئے تاکہ قابل عمل طریقہ کار کے تحت پائیدار اور دیرپا بزنس ماڈلز متعارف کرائے جا سکیں۔ ڈائریکٹر جنرل ایف ڈی اے نے نادہندگان سے بقایاجات کی وصولی کیلئے زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت سخت اقدامات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ انفورسمنٹ سیل کی ریکوری کے نتائج واضح طور پر نظر آنے چاہئیں۔ انہوں نے غیر قانونی کمرشلائزیشن کی روک تھام، واجب الادا فیسوں کی وصولی اور کمرشل بلڈنگز کے نقشہ جات کی دوبارہ جانچ پر زور دیا اور افسران کو ہدایت کی کہ وہ ریونیو ریکوری مہم کی براہ راست نگرانی کریں کیونکہ فرائض کی ادائیگی میں کسی قسم کی کوتاہی قابل قبول نہیں ہوگی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں