(Publish from Houston Texas USA)
(میاں افتخار احمد)
مختلف مالی اور انتظامی رعایتوں کے ذریعے پرائیویٹ ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے بااثر مالکان کو تقریباً 23 ارب روپے کا فائدہ پہنچایا
آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی خصوصی آڈٹ رپورٹ نے فیصل آباد ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کے انتظامی اور مالی معاملات میں ایسی سنگین بے ضابطگیوں کو بے نقاب کیا ہے جن کے مطابق پرائیویٹ ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے بااثر مالکان کو تقریباً 23 ارب روپے کا مالی فائدہ پہنچایا گیا، یہ معاملہ صرف ایک عددی انکشاف نہیں بلکہ شہری نظم و نسق، سرکاری وسائل کے تحفظ، اور عوامی اعتماد کے بحران کی علامت بن چکا ہے، آڈٹ کے مطابق یہ فائدہ کسی ایک فیصلے یا ایک اسکیم تک محدود نہیں تھا بلکہ مختلف مراحل پر فیسوں میں نرمی، واجبات کی عدم وصولی، ریگولرائزیشن میں غیر معمولی رعایت، نقشہ منظوری میں لچک، اور ترقیاتی اخراجات کی کمی بیشی کے ذریعے مجموعی طور پر سرکاری خزانے کو نقصان پہنچایا گیا، رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ متعدد ہاؤسنگ سوسائٹیوں سے کنورژن فیس، کمپوزیشن فیس، ڈیویلپمنٹ چارجز، واٹر سپلائی اور سیوریج فیس مکمل وصول نہیں کی گئیں، بعض کیسز میں جرمانے اور سرچارج یا تو معاف کر دیے گئے یا غیر معمولی حد تک کم کر دیے گئے، جبکہ مارکیٹ ویلیو کے مطابق واجبات کا تعین نہیں کیا گیا جس سے سرکاری ریونیو میں بھاری کمی واقع ہوئی، اسی طرح غیر منظور شدہ یا خلاف ضابطہ ہاؤسنگ اسکیموں کو بعد ازاں نرم شرائط پر ریگولرائز کیا گیا جس سے ان اسکیموں کے مالکان کو قانونی تحفظ اور مالی فائدہ حاصل ہوا جبکہ قانون پر عمل کرنے والے ڈویلپرز کو نقصان اٹھانا پڑا، لی آؤٹ پلان میں تبدیلیوں کے ذریعے بعض مقامات پر گرین ایریاز، عوامی سہولیات اور اوپن اسپیس کم کیے گئے اور انہیں قابل فروخت پلاٹس میں تبدیل کیا گیا جس سے نہ صرف شہری ماحول متاثر ہوا بلکہ مالی فائدہ مخصوص حلقوں تک منتقل ہوا، آڈٹ نے نشاندہی کی کہ کئی ترقیاتی منصوبوں میں ٹینڈرنگ کے قواعد کی مکمل پاسداری نہیں کی گئی، اوپن کمپیٹیشن کے بجائے محدود یا مشکوک طریقہ کار اختیار کیا گیا، بعض منصوبوں میں لاگت میں غیر ضروری اضافہ کیا گیا اور بعض صورتوں میں نامکمل منصوبوں کی ادائیگی مکمل ظاہر کی گئی، یہ بھی سامنے آیا کہ بعض کمرشل اور رہائشی پلاٹس ریزرو پرائس سے کم قیمت پر الاٹ کیے گئے، قسطوں کی عدم ادائیگی کے باوجود الاٹمنٹ منسوخ نہیں کی گئی، اور سرکاری زمینوں پر غیر قانونی قبضوں کے خلاف بروقت اور مؤثر کارروائی نہیں کی گئی، نقشہ منظوری کے شعبے میں کمرشل سرگرمیوں کو رہائشی نقشوں کے تحت چلنے کی اجازت دی گئی، بلڈنگ بائی لاز کی خلاف ورزی پر کارروائی سست رہی، اور فیسوں کی مکمل وصولی کا نظام کمزور پایا گیا، واجبات کی عدم وصولی ایک مستقل مسئلہ رہا جہاں کروڑوں بلکہ اربوں روپے کے بقایاجات برسوں سے التواء کا شکار رہے اور ان کی ریکوری کے لیے مؤثر قانونی اقدامات نہیں کیے گئے، مالیاتی نظم و ضبط کے حوالے سے ریکارڈ کی ناقص دیکھ بھال، اندرونی آڈٹ سسٹم کی کمزوری، اور بعض اخراجات کی منظوری کے لیے مکمل دستاویزی شواہد کی عدم دستیابی سامنے آئی، انسانی وسائل کے شعبے میں قواعد کے برعکس تقرریاں، کنٹریکٹ اور ڈیپوٹیشن معاملات میں بے ضابطگیاں، اور تنخواہوں و الاؤنسز کی ادائیگی میں ضابطہ جاتی انحراف بھی رپورٹ کا حصہ ہیں، ماسٹر پلان کے حوالے سے بھی آڈٹ نے تشویش ظاہر کی کہ زمین کے استعمال میں تبدیلیاں منظور کرتے وقت شہری منصوبہ بندی کے اصولوں کو نظر انداز کیا گیا، گرین بیلٹس اور عوامی سہولیات کی جگہ کم کی گئی، اور تیزی سے پھیلتے ہوئے شہر فیصل آباد میں ٹریفک، پانی، سیوریج اور دیگر انفراسٹرکچر کی پیشگی منصوبہ بندی ناکافی رہی، مجموعی طور پر رپورٹ یہ تاثر دیتی ہے کہ فیصلہ سازی کے عمل میں شفافیت کا فقدان تھا، بعض کمیٹیوں کی منظوری کے بغیر اقدامات کیے گئے، اور نگرانی و کنٹرول کا نظام مؤثر نہیں تھا، آڈٹ نے سفارش کی کہ ذمہ دار افسران کا تعین کیا جائے، واجبات کی مکمل ریکوری کی جائے، منظوری کے عمل کو ڈیجیٹل اور شفاف بنایا جائے، اور معاملات کو پارلیمانی نگرانی کے لیے پبلک اکاؤنٹ کمیٹی کے سامنے پیش کیا جائے تاکہ احتساب کا عمل مکمل ہو سکے، یہ معاملہ صرف مالی بے ضابطگی کا نہیں بلکہ شہری مستقبل، سرمایہ کاروں کے اعتماد، اور قانون کی بالادستی کا امتحان بھی ہے کیونکہ اگر سرکاری ادارے قواعد سے انحراف کریں گے تو اس کا براہ راست اثر عام شہری، متوسط خریدار، اور چھوٹے سرمایہ کار پر پڑے گا، آڈیٹر جنرل کی رپورٹ نے ایک ایسا فریم ورک فراہم کیا ہے جس کے ذریعے نہ صرف ماضی کی غلطیوں کا تعین کیا جا سکتا ہے بلکہ مستقبل کے لیے اصلاحات کا راستہ بھی ہموار ہو سکتا ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ اس رپورٹ کو محض دستاویزی کارروائی تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ عملی اقدامات، شفاف تحقیقات، اور ادارہ جاتی اصلاحات کے ذریعے یہ یقینی بنایا جائے کہ سرکاری وسائل عوامی مفاد کے مطابق استعمال ہوں اور شہری ترقی منظم، منصفانہ اور پائیدار بنیادوں پر آگے بڑھے۔
مزید معلومات کے لیے براہ کرم ہماری قومی خبریں دیکھیں۔