عالمی مالیاتی و توانائی بحران کی پیشن گوئی 0

عالمی مالیاتی و توانائی بحران کی پیشن گوئی: مشرق وسطیٰ کی کشیدگی سے ممکنہ اقتصادی تباہی۔

(Publish from Houston Texas USA)

(میاں افتخار احمد)

مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال سے عالمی مالیاتی و توانائی بحران کا خدشہ

مشرق وسطیٰ میں ایران اور دیگر خلیجی ممالک کے درمیان جاری کشیدگی نے عالمی مالیاتی منڈیوں اور توانائی کی قیمتوں پر شدید اثر ڈالنے کا خدشہ پیدا کر دیا ہے معاملے ہفتوں میں نہیں بلکہ دنوں میں بدل رہے ہیں ایران کی جوابی کارروائی کے نتیجے میں دبئی ابوظہبی قطر اور سعودی عرب کے ہدف بن سکتے ہیں اس کے بعد مشرق وسطیٰ کی تمام پروازیں عارضی طور پر بند ہو سکتی ہیں اگر آبنائے ہرمز پر ایران کا کنٹرول قائم ہو جاتا ہے تو عالمی تیل کی سپلائی متاثر ہوگی اور تیل کی قیمتیں $150 سے اوپر جا سکتی ہیں اس صورتحال میں عالمی مہنگائی 2 فیصد سے بڑھ کر 8 فیصد تک جا سکتی ہے مرکزی بینک ہنگامی بنیادوں پر شرح سود میں اضافہ کر سکتے ہیں مارکیٹ میں پیسے کی روانی کم ہو سکتی ہے اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے شیئرز شدید کمی کا شکار ہو سکتے ہیں شدید وولٹیلیٹی کے سبب تمام ایکسچینجز میں مارجن کالز آ سکتی ہیں اور اسٹاک مارکیٹس میں وسیع پیمانے پر کریش کا امکان پیدا ہو سکتا ہے تاریخی مشاہدات سے معلوم ہوتا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں اضافہ مہنگائی اور اسٹاک مارکیٹس پر سب سے زیادہ اثر ڈال سکتا ہے جبکہ تمام مارکیٹ لیکویڈیٹی ختم ہونا یا مکمل مارکیٹ کریش ہونے کا امکان کم ہے عالمی معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے منظرنامے کے لیے عالمی بینکنگ سسٹمز اور سرمایہ کاری کے شعبے کو فوری تیاری کرنی ہوگی توانائی کی قیمتوں میں تیزی کے اثرات بین الاقوامی تجارتی توازن اور بنیادی اجناس کی فراہمی پر بھی مرتب ہوں گے اقتصادی اور جغرافیائی عوامل کے پیش نظر سرمایہ کاروں اور حکومتی اداروں کو ہنگامی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ عالمی مالیاتی منڈیوں میں ممکنہ بحران کو کم سے کم کیا جا سکے

مزید معلومات کے لیے براہ کرم ہماری بین الاقوامی خبریں دیکھیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں