(Publish from Houston Texas USA)
(میاں افتخار احمد)
ایران-امریکہ-اسرائیل تنازعہ: اضافہ، عالمی خطرات، اور وسیع جنگ کا امکان
امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کوئی نیا واقعہ نہیں بلکہ اس کی جڑیں کئی عشروں پر محیط ہیں جو انیس سو اناسی کے ایرانی انقلاب تک پہنچتی ہیں جب شاہ ایران کی حکومت کا زوال ہوا اور اسلامی جمہوریہ ایران معرض وجود میں آئی جس نے مغرب مخالف پالیسی اختیار کی جس سے امریکہ کے ساتھ تعلقات بگڑ گئے۔ ایران کی علاقائی سیاست میں لبنان کے حزب اللہ، عراق اور شام میں شیعہ گروہوں کو حمایت دینے کی حکمت عملی سے امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے اسے خطے میں خطرہ تصور کرنا شروع کیا۔ دو ہزار پندرہ میں ایران اور عالمی طاقتوں کے مابین ایک جوہری معاہدہ طے پایا جس میں ایران نے اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے اور عالمی نگرانی قبول کرنے کا وعدہ کیا اور عوض میں پابندیاں نرم ہوئیں مگر دو ہزار اٹھارہ میں امریکہ نے یہ معاہدہ یکطرفہ طور پر چھوڑ دیا اور ایران پر دوبارہ سخت پابندیاں عائد کیں جس سے کشیدگی میں اضافہ ہوا۔ گزشتہ برسوں میں تیل بردار جہازوں پر حملوں، عراق میں امریکی تنصیبات پر راکٹ حملوں اور 2025 میں امریکی ڈرون حملے میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت نے کشیدگی کو خطرناک سطح تک پہنچایا جس کے جواب میں ایران نے امریکہ کے خلاف میزائل حملے کی تھی لیکن صورت حال بڑے تصادم میں نہیں بدلی۔ تاہم دو ہزار چوبیس اور پچیس میں ایران کے جوہری پروگرام کی رفتار، یورینیم کی افزودگی، خلیجی ریاستوں میں پراکسی گروہوں کی سرگرمیاں، اسرائیل کے ساتھ سایہ جنگ، مشرق وسطیٰ میں توانائی کی ترسیل کے راستوں پر حملے اور معاشی پابندیاں کشیدگی کے عوامل میں شامل رہے، آخری مرحلہ اس وقت شروع ہوا جب امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری 2026 کو ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر عسکری کارروائی شروع کی جسے بعض ذرائع نے “Operation Lion’s Roar” اور بعض نے دیگر ناموں سے پکارتے ہوئے بیان کیا جس میں ایران کی دفاعی اور فوجی تنصیبات، جوہری اور میزائل پروگرام کے مقامات کو نشانہ بنایا گیا جبکہ ایران نے اپنے دفاع اور جوابی حکمت عملی کے طور پر جواب دینے کا اعلان کیا۔ ایران نے اپنی بیلسٹک اور ہائپرسونک میزائل صلاحیت کو استعمال کرتے ہوئے متعدد مقامات سے خلیج فارس میں موجود امریکی فوجی اڈوں، قطر کے العدید ایئر بیس، کویت کے علی السالم ایئر بیس، متحدہ عرب امارات کے الظفرہ ایئر بیس اور بحرین میں امریکی نیوی کے پانچویں بیڑے کے ہیڈکوارٹر کو نشانہ بناتے ہوئے حملے کئے اور اسی کے ساتھ اسرائیل کے شمالی علاقوں پر بھی میزائل داغے جس کی وجہ سے سائرنز بج اٹھے اور شہری علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں، ایران کی جوابی کارروائی “Operation Truthful Promise 4” کے نام سے جاری ہے جو اس جنگ کو صرف دو ملکوں کا تنازعہ نہیں بلکہ خطے بھر میں پھیلنے والا ایک وسیع تنازعہ قرار دیتی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل نے ان حملوں کے جواب میں اپنے دفاعی نظاموں کو فعال کیا جن میں Iron Dome، David’s Sling اور Arrow سسٹمز شامل ہیں تاہم متعدد بیک وقت میزائل حملوں نے دفاعی نیٹ ورکس پر دباؤ بڑھا دیا ہے اور متعدد کو انٹرسیپشن کے باوجود شہری علاقوں کے قریب گرتے ہوئے دیکھا گیا ہے جس سے جنگی کشیدگی مزید بڑھ رہی ہے۔ ایران نے اعلان کیا ہے کہ وہ “فتحِ خیبر” جیسے آپریشنوں کو جاری رکھے گا جب تک دشمنوں کو مکمل شکست نہیں دی جاتی اور ایران کے حکام کا مؤقف ہے کہ ایران کی بقاء کے لیے اب وہ آخری حد تک جائے گا کیونکہ اس بار دشمن بھی حتمی وار کے ارادے سے آیا ہے۔ اس دوران خطے کی متعدد خلیجی ریاستوں نے فضائی حدود عارضی طور پر بند کیں، دفاعی الرٹس جاری کئے گئے اور شہریوں کو محفوظ مقامات تک منتقل ہونے کے احکامات دیئے گئے جبکہ عالمی طاقتیں، خاص طور پر چین اور روس، نے اس بحران پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ عالمی توانائی سپلائی اور معاشی توازن کو متاثر کرنے والے کسی بھی فیصلے کی مخالفت کریں گے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان موجودہ کشیدگی کی حالت میں دنیا بھر کے سیاسی، اقتصادی اور عسکری حلقے جنگ کو کسی بڑے عالمی تنازع میں تبدیل ہونے کے امکانات کی نشاندہی کر رہے ہیں کیونکہ ایک طاقتور ملک کے طیارہ بردار بحری جہاز پر براہِ راست حملہ یا عالمی طاقتوں کے درمیان کشیدگی بڑھنے سے وابستہ خطرات بہت زیادہ ہیں اور موجودہ صورتحال میں کسی بھی غلط فہمی یا حادثاتی واقعے سے کشیدگی مزید گھمبیر ہو سکتی ہے۔
حملوں کی ٹائم لائن ، نقصانات اور دفاعی سسٹمز کی کارکردگی
ایران اور امریکہاسرائیل کے درمیان جاری تصادم میں اب تک جو عسکری کارروائیاں ہو چکی ہیں ان کا جائزہ ایک منظم ٹائم لائن، حملوں کی نوعیت، اہداف، دفاعی ردعمل، اور مستقل نقصانات کے تناظر میں ضروری ہے کیونکہ حالات تیزی سے تبدیل ہو رہی ہیں۔ ٢٨ فروری ٢٠٢٦ کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر مشترکہ فوجی کارروائی شروع کی جس میں ایران کے دفاعی اور جوہری پروگرام کے مقامات، راڈار یونٹس، میزائل اسٹیشنز اور دیگر فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ اس کارروائی کا مقصد ایران کی بیلسٹک اور سپرسونک میزائل صلاحیتوں اور ممکنہ جوہری ہتھیاروں کی ترقی کو محدود کرنا بتایا گیا، اس حملے میں متعدد ڈرون اور میزائل استعمال کئے گئے اور فضائی قوتیں میدان میں تھیں۔ ایران نے ابتدائی حملوں کے فوراً بعد اپنے دفاعی نظام کو فعال کیا اور کئی بیلسٹک میزائل اور ممکنہ ہدف پر نشانہ لگانے کے لئے کروز طرز کے میزائل داغے۔ ایران کی جوابی کاروائی کو آپریشن “Truthful Promise 4” کا نام دیا گیا جس کا مقصد امریکی اور اسرائیلی فوجی اہداف اور اتحادی مقامات کو نشانہ بنانا تھا۔ ایران کی جوابی کارروائی میں خاص طور پر بحرین میں امریکی نیوی کے پانچویں بیڑے (Fifth Fleet) کے ہیڈکوارٹر کے قریب میزائل فائر کئے گئے اور بعض اطلاعات میں کہا گیا کہ ایک دو میزائل دفاعی نظام سے بچ کر سمندر میں گرے۔ اسی طرح قطر میں قائم امریکی ایئربیس العدید، کویت کے علی السالم ائربیس، متحدہ عرب امارات کے الظفرہ ایئر بیس اور دیگر مقامات بھی میزائل حملوں کی زد میں آئے، جن پر متعدد ملکوں نے اپنے فضائی دفاعی سسٹمز کو فعال کیا اور فضائی حدود عارضی طور پر بند کر دیں۔ بعض خلیجی ریاستوں کے میڈیا نے سائرنز، دھماکوں اور میزائل انٹرسیپشن کی ویڈیوز جاری کیں۔ ابھی تک دستیاب معلومات کے مطابق حملوں کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر سرکاری اطلاعات یا آزاد ذرائع کی تصدیق سے ثابت شدہ جانی نقصان یا بڑے فوجی اڈوں کی تباہی کی کانفرنس جاری نہیں ہوئی تاہم متعدد مقامات پر دفاعی سسٹموں نے دھوئیں، متاثرہ علاقوں اور انٹرسیپشنوں کی تصاویر منظر عام پر لائی ہیں۔ دونوں اطراف کی عسکری کارروائیوں کا تسلسل اور اہم مقامات کو نشانہ بنانے کے حوالے سے جدول درج ذیل ہے:
١ ٢٨ فروری ٢٠٢٦ صبح امریکہاسرائیل نے ایران پر بڑے فضائی اور میزائل حملے کئے وہ مقامات جو نشانہ بنائے گئے ایران کے اندر تہران، اصفہان، قم، تبریز اور کرج جیسے شہروں میں دفاعی تنصیبات، میزائل اسٹیشنز، راڈار یونٹس اور جوہری پروگرام سے متعلق علاقوں پر فضائی بمباری اور میزائل داغے گئے جس سے مقام پر دھماکے سنے گئے اور ایران نے فضائی دفاعی الرٹس جاری کئے۔
٢ ٢٨ فروری ٢٠٢٦ سہ پہر ایران نے جوابی بیلسٹک میزائل حملے شروع کئے جن میں بحرین کے قریب امریکی نیوی کے Fifth Fleet ہیڈکوارٹر، قطر کا العدید ایئربیس، کویت کا علی السالم ایئر بیس، متحدہ عرب امارات کا الظفرہ ایئر بیس اور دیگر خلیجی مقامات شامل تھے۔
٣ دوپہر ایران نے اسرائیل کی جانب بھی متعدد بیلسٹک یا کروز طرز کے میزائل داغے جس کے جواب میں اسرائیل میں سائرنز بج اٹھے اور دفاعی نظام فعال کیا گیا۔
٤ بعد از دوپہر متعدد خلیجی ریاستوں نے ملک کی فضائی حدود بند کر دیں اور تجارتی پروازیں معطل ہو گئیں جبکہ دفاعی سسٹمز کو مکمل الرٹ پر رکھا گیا۔
٥ شام ایران کی جانب سے ایک دوسری لہر کے طور پر مزید میزائل لانچ کئے گئے جن کی اطلاعات پر متعدد ممالک نے اپنے دفاعی نیٹ ورکس اور انٹرسیپشن سسٹمز کو متحرک کیا۔
حملوں کی نوعیت کی تفصیل میں سب سے اہم یہ ہے کہ دونوں اطراف نے ہدف بنائے گئے اہداف کو عسکری اہمیت کے مطابق نشانہ بنایا۔ امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے جوہری پروگرام اور دفاعی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جبکہ ایران نے امریکی فوجی اڈوں اور اتحادی مقامات کو اپنے جوابی حملوں کا نشانہ بنایا۔ اگرچہ کئی اطلاعات سوشل میڈیا اور شہری ذرائع سے موصول ہوئیں جن میں دھماکوں، سائرنز اور میزائل انٹرسیپشن کی ویڈیوز شامل تھیں تاہم معتبر خبر رساں اداروں نے ابھی تک کئی مقامات پر بڑے انفراسٹرکچر نقصان اور بڑے جانی نقصان کی آزاد تصدیق نہیں کی ہے بلکہ ابتدائی رپورٹس میں متعدد دفاعی سسٹمز کی کارکردگی، متاثرہ مقامات پر دھواں، انٹرسیپشن کے مناظر اور شہری الرٹس کی تصدیق شامل ہے۔ ایران کے جوابی حملوں میں دفاعی سسٹموں نے متعدد میزائل انٹرسیپٹ کئے جبکہ کچھ میزائل انٹرسیپشن سسٹم کے قریب سمندر یا زمین پر گرے جس کی وجہ سے مختلف مقامات پر دھواں دیکھا گیا۔ اسرائیل کے دفاعی نظام نے Iron Dome، David’s Sling اور Arrow سسٹمز کے ذریعے متعدد میزائلوں کو روکنے کی کوشش کی مگر متعدد بیک وقت ہونے والے میزائل لانچ نے دفاعی نیٹ ورکس پر دباؤ بڑھایا اور بعض مقامات پر میزائلوں کے قریب گرتے مناظر بھی سامنے آئے جن کی ویڈیوز و تصاویر منتشر ہوئیں۔ ایران کی جانب سے سپرسونک اور بیلسٹک میزائلوں کے استعمال نے دفاعی نظاموں کو پیچیدہ انتخابوں کا سامنا دیا کیونکہ ہائپرسونک میزائلوں کو روایتی انٹرسیپٹرز کے ذریعے روکنا ہر موقع پر ممکن نہیں ہوتا اور عالمی سطح پر بہت سی طاقتیں اس قسم کی میزائل ٹیکنالوجی کے خلاف موثر دفاعی نظام تیار کرنے کی کوشش میں ہیں مگر مکمل جامہ پہنانا کسی بھی ملک کے پاس موجودہ صورت حال میں نہیں ہے۔ دونوں طرف کی عسکری کارروائیوں نے خطے کی سلامتی، توانائی سپلائی، عالمی معیشت اور سفارتی توازن پر شدید خدشات پیدا کر دیے ہیں۔ ایران کے حملوں کے بعد بھاری دفاعی الرٹس، فضائی حدود کی مختصر بندشیں، خطرناک سائرنز اور شہری حفاظتی اقدامات نے یہ واضع کیا کہ جنگ کی شدت بڑھ رہی ہے جبکہ امریکہ اور اسرائیل نے بھی اپنے فوجیوں کو محفوظ کرنے اور دفاعی سرحدوں کو مزید مضبوط کرنے کے لئے اضافی امداد، انٹیلیجنس اور اسٹریٹجک پوزیشننگ کا اعلان کیا ہے۔ ایران نے اپنے مؤقف میں بتایا ہے کہ وہ دشمن کے خلاف آخری حد تک جائے گا کیونکہ دشمن بھی حتمی وار کے ارادے سے آیا ہے، جبکہ امریکہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایران کی عسکری صلاحیتوں کو کمزور کرنے کے لئے مسلسل کارروائیاں جاری رکھے گا اور اپنے اتحادیوں کو تحفظ فراہم کرے گا۔
نقصانات، اقتصادی اثرات، توانائی بازار اور خطے میں انسانی بحران
ایران اور امریکہاسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی اور عسکری کارروائیوں کے نتیجے میں نہ صرف فوجی اور شہری ہلاکتوں کا خدشہ پیدا ہوا بلکہ اقتصادی اور انسانی شعبوں میں بھی سنگین اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ اب تک کی معتبر رپورٹس کے مطابق ایران کی جانب سے اسرائیل، امریکہ اور خلیج فارس میں امریکی اڈوں پر میزائل حملے کئے گئے اور امریکہ و اسرائیل نے ایران کے دفاعی ڈھانچے اور جوہری پروگرام پر فضائی بمباری کی۔ ایران کے حملوں میں قطر کے العدید ایئر بیس، کویت کے علی السالم ایئر بیس، متحدہ عرب امارات کے الظفرہ ایئر بیس اور بحرین میں امریکی نیوی کے پانچویں بیڑے کے ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا گیا۔ اس کے علاوہ ایران نے اسرائیل کے شمالی شہروں پر بیلسٹک میزائل داغے جس سے تل ابیب اور دیگر شہری علاقوں میں سائرنز بج اٹھیں اور شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔ ابتدائی اطلاعات میں اسرائیل میں کچھ مقامی زخمیوں کی تصدیق ہوئی اور اسرائیلی دفاعی نظام Iron Dome، David’s Sling اور Arrow سسٹمز نے متعدد میزائل انٹرسیپٹ کئے جبکہ چند بیلسٹک میزائل انٹرسیپشن سے بچ کر گر گئے۔ ایران میں بھی فضائی حملوں کے نتیجے میں تہران، اصفہان، تبریز اور قم میں دفاعی تنصیبات اور فوجی اہداف متاثر ہوئے جس کی وجہ سے دھواں، آگ اور انفراسٹرکچر کی تباہی کی ابتدائی اطلاعات ملی ہیں۔
اقتصادی اثرات کی صورت حال بھی خطرناک ہے کیونکہ ایران کی جانب سے خلیج فارس میں حملے اور آبنائے ہرمز کی غیر مستحکم صورتحال کے باعث عالمی تیل کی ترسیل متاثر ہوئی ہے۔ ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والی دنیا کی سب سے بڑی تیل کی ترسیل کی راہ کو خطرے میں ڈال سکتا ہے جس سے تیل کی قیمتیں عالمی منڈی میں آسمان کو چھونے لگیں۔ اس سے ترقی پذیر ممالک، خاص طور پر پاکستان جیسے ملک جو پہلے ہی معاشی دباؤ اور درآمدی ضروریات میں کمی کے شکار ہیں، کو شدید اقتصادی نقصان ہو سکتا ہے۔ چین اور روس نے اعلان کیا ہے کہ اگر امریکہ یا اسرائیل نے ایران پر براہِ راست حملہ کیا تو وہ نایاب معدنیات اور ریئر میٹلز کی برآمدات کو محدود کر دیں گے۔ چین دنیا میں ہائی ٹیک ہتھیاروں، میزائل، طیارے اور الیکٹرانک سسٹمز کے لئے اہم نایاب معدنیات کا سب سے بڑا پروڈیوسر اور پروسیسر ہے اور اس کا سپلائی چین پر بڑا کنٹرول ہے۔ اگر چین نے سخت پابندیاں عائد کر دیں تو امریکی دفاعی پیداوار سست ہو سکتی ہے، قیمتیں بڑھ سکتی ہیں اور عالمی مارکیٹ میں ہلچل پیدا ہو سکتی ہے۔
اس کشیدگی کی وجہ سے خطے میں انسانی بحران کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے۔ خلیج کے ممالک، خاص طور پر بحرین، قطر، متحدہ عرب امارات اور کویت میں امریکی اڈوں کے قریب رہنے والے شہریوں کو حفاظتی اقدامات اور الرٹس جاری کئے گئے۔ ایران میں شہری علاقوں میں دھماکوں، فضائی حملوں اور دفاعی کارروائیوں کے دوران متاثرہ مقامات پر بنیادی ڈھانچہ متاثر ہوا جس سے بنیادی خدمات جیسے پانی، بجلی اور صحت کے مراکز متاثر ہو سکتے ہیں۔ اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے ادارے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کر چکے ہیں اور مہاجرین کی نئی لہر کے خدشات ظاہر کئے ہیں۔ اگر یہ کشیدگی طویل مدت تک جاری رہی تو پاکستان سمیت دیگر پڑوسی ممالک پر مہاجرین کے دباؤ، اقتصادی نقصان اور معاشرتی مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔
دفاعی نظاموں کی کارکردگی کی تفصیل میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اسرائیل کے Iron Dome، David’s Sling اور Arrow سسٹمز نے متعدد میزائل انٹرسیپٹ کئے مگر بیک وقت کئی میزائل لانچ کی صورت میں دفاعی نیٹ ورک پر دباؤ بڑھ گیا۔ ایران نے بیلسٹک اور سپرسونک میزائل دونوں کا استعمال کیا جس سے روایتی انٹرسیپٹر سسٹمز کے لئے چیلنج پیدا ہوا۔ ایران نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنی بقاء کے لئے آخری حد تک جائے گا اور دشمن کے حملے کا سخت جواب دے گا۔ امریکہ اور اسرائیل بھی دفاعی طور پر متحرک ہیں اور اپنے فوجی اڈوں، طیارہ بردار بحری جہازوں اور فضائی تنصیبات کی حفاظت کر رہے ہیں۔ اس دوران خطے کی دیگر طاقتیں، خاص طور پر سعودی عرب اور ترکی، مشاہدے کی پوزیشن میں ہیں اور اپنی فوجی اور سیاسی حکمت عملی مرتب کر رہی ہیں۔
مجموعی طور پر اب تک کے حملوں اور جوابی کارروائیوں کے بعد دونوں اطراف کو محدود نقصانات ہوئے ہیں تاہم مکمل جانی نقصان اور مالی نقصان کی حتمی تصدیق ابھی باقی ہے۔ ایران نے امریکہ اور اسرائیل کو واضح پیغام دے دیا ہے کہ اس کی فوجی صلاحیتیں اور دفاعی نظام جوابی کارروائی کے لئے تیار ہیں اور خطے میں کسی بھی غیر قانونی حملے کا جواب دینے سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ اقتصادی طور پر بھی خلیج میں تیل کی ترسیل اور توانائی کی سپلائی متاثر ہونے کی وجہ سے عالمی منڈی میں ہلچل پیدا ہوئی ہے اور قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔
اگر ایران یا امریکہ/اسرائیل مزید کارروائیاں کرتے ہیں تو خطے میں وسیع پیمانے پر انسانی، اقتصادی اور سیاسی اثرات پیدا ہو سکتے ہیں اور یہ کشیدگی کسی بھی وقت عالمی تنازع میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ خطے کے دیگر ممالک، خصوصاً پاکستان، عرب ریاستیں اور ترکی، اپنے موقف اور سیاسی پوزیشن واضح کرنے پر مجبور ہوں گے۔ عالمی طاقتیں، خاص طور پر چین اور روس، اس کشیدگی پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور انہیں خطرہ ہے کہ اگر یہ تنازعہ بڑھا تو عالمی توانائی مارکیٹ، اقتصادی توازن اور عسکری سپلائی چین متاثر ہو سکتی ہے۔
پاکستان، عرب ریاستیں، چین، روس اور عالمی طاقتوں کے موقف اور سفارتی حل کی کوششیں
ایران اور امریکہاسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی نہ صرف خطے میں بلکہ عالمی سطح پر سیاسی اور اقتصادی توازن کو متاثر کر رہی ہے۔ اس صورت حال میں پاکستان، سعودی عرب، ترکی، چین اور روس سمیت دیگر عالمی طاقتیں اپنا موقف واضح کر رہی ہیں اور کشیدگی کو بڑھنے سے روکنے کے لیے سفارتی اور اقتصادی اقدامات کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں۔ پاکستان کی پوزیشن حساس ہے کیونکہ وہ خطے میں امن و استحکام کے لیے روایتی کردار ادا کرتا رہا ہے اور امریکہ کے ساتھ تاریخی تعلقات رکھتا ہے جبکہ ایران کے ساتھ جغرافیائی اور تجارتی تعلقات بھی قائم ہیں۔ موجودہ صورت حال میں پاکستان کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ کسی بھی جارحانہ کارروائی میں حصہ نہیں لے گا اور امن قائم رکھنے کے لیے کشیدگی میں کمی کے راستے تلاش کرے گا۔ پاکستانی میڈیا کے مطابق وزارت خارجہ نے تمام سفارتکاروں کو موجودہ تنازعہ پر نظر رکھنے اور ضرورت پڑنے پر فوری اقدامات کے لیے تیار رہنے کا حکم دیا ہے۔
سعودی عرب اور دیگر خلیجی ریاستیں، جو پہلے امریکہ کی پالیسیوں کی مکمل حمایت کرتی تھیں، اس وقت محتاط پوزیشن اختیار کر رہی ہیں۔ ایران کی جوابی کارروائیوں اور امریکی اڈوں پر حملوں کے بعد خلیجی ریاستیں اپنی فضائی حدود، تیل کی ترسیل اور شہری تحفظ کے لیے احتیاطی اقدامات کر رہی ہیں۔ قطر، بحرین، متحدہ عرب امارات اور کویت نے فوری طور پر فضائی الرٹس جاری کیے، اہم مقامات کے ارد گرد فوجی اور حفاظتی تدابیر کو بڑھایا اور شہریوں کو محفوظ مقامات تک منتقل کرنے کے احکامات دیے۔ عرب میڈیا اور سوشل میڈیا رپورٹس کے مطابق متعدد شہری اور تجارتی پروازیں معطل ہو گئی ہیں اور بندرگاہوں پر حفاظتی اقدامات سخت کر دیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ عرب ممالک نے اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں سے فوری ثالثی اور کشیدگی کم کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ خطے میں مزید جنگ کے خطرات کو روکا جا سکے۔
چین اور روس نے واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ وہ ایران پر امریکی یا اسرائیلی حملوں کی صورت میں سخت اقتصادی اور سیاسی اقدامات کریں گے۔ چین نے خاص طور پر نایاب معدنیات اور ریئر میٹلز کی برآمدات کو روکنے کی دھمکی دی ہے جو جدید ہتھیار، میزائل، طیارے اور الیکٹرانک سسٹمز کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہیں۔ اگر چین نے یہ اقدامات عملی طور پر نافذ کر دیے تو امریکی دفاعی پیداوار متاثر ہو سکتی ہے، عالمی مارکیٹ میں ہلچل پیدا ہو سکتی ہے اور قیمتیں بڑھ سکتی ہیں۔ روس نے بھی ایران کے خلاف کسی بھی یکطرفہ حملے کی شدید مخالفت کی اور اس بات کا عندیہ دیا کہ وہ ایران کے ساتھ فوجی یا اقتصادی تعاون کو بڑھانے کے لیے تیار ہے تاکہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو کسی بھی جارحانہ کارروائی میں توازن برقرار رکھنا پڑے۔
اقوام متحدہ اور عالمی سفارتی ادارے کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری ثالثی کی کوششیں کر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے تمام فریقین سے پرہیز اور مذاکرات کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کی اپیل کی ہے اور انسانی حقوق، مہاجرین کی حفاظت اور بنیادی ڈھانچے کے نقصان کو کم سے کم رکھنے کے لیے امدادی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق چین اور روس بھی امریکہ پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ وہ ایران پر مکمل جارحانہ کارروائی سے گریز کرے اور خطے میں کشیدگی میں کمی آئے۔ اس دوران یورپی ممالک نے بھی امریکہ اور ایران دونوں سے اعتدال پسند پوزیشن اختیار کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے پر زور دیا ہے۔
پاکستان نے واضح کیا ہے کہ وہ خطے میں امن قائم رکھنے کے لیے کشیدگی میں کمی کی حمایت کرے گا اور کسی بھی فریق کے ساتھ براہِ راست عسکری مداخلت سے گریز کرے گا۔ پاکستانی میڈیا کے مطابق وزارت دفاع اور وزارت خارجہ نے ملکی فضائی حدود، سرحدی علاقوں اور حساس تنصیبات کی حفاظت کے لیے الرٹ جاری کر دیا ہے اور ضرورت پڑنے پر شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ تجزیاتی حلقے کہتے ہیں کہ پاکستان اس موقع پر امریکہ اور ایران دونوں کے ساتھ متوازن تعلقات قائم رکھنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ خطے میں امن قائم رہے اور کسی بڑے انسانی اور اقتصادی بحران سے بچا جا سکے۔
خطے میں انسانی بحران کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔ ایران کے اندر دھماکوں، دفاعی کارروائیوں اور فضائی حملوں سے شہری علاقوں میں بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا، بجلی، پانی اور صحت کے مراکز متاثر ہوئے۔ خلیج میں بھی امریکی اڈوں کے قریب شہریوں کو حفاظتی اقدامات کے تحت محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔ اگر یہ کشیدگی جاری رہی تو پاکستان اور دیگر پڑوسی ممالک مہاجرین کے دباؤ، اقتصادی نقصان اور معاشرتی مشکلات کا سامنا کر سکتے ہیں۔
اقتصادی اثرات بھی سنگین ہیں۔ ایران کی جانب سے خلیج فارس میں حملے اور آبنائے ہرمز کی غیر مستحکم صورتحال نے عالمی توانائی مارکیٹ میں ہلچل پیدا کی اور تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں۔ ترقی پذیر ممالک، خصوصاً پاکستان، جو پہلے ہی اقتصادی دباؤ کا شکار ہیں، اس کشیدگی سے شدید متاثر ہو سکتے ہیں۔ ایران اور امریکہاسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی سے توانائی کی ترسیل، عالمی تجارتی راستے، اور معیشت پر دباؤ بڑھا ہے جبکہ چین اور روس کی ممکنہ اقتصادی پابندیاں عالمی مارکیٹ میں مزید عدم استحکام پیدا کر سکتی ہیں۔
اس طرح موجودہ صورت حال میں پاکستان، عرب ممالک، چین اور روس سمیت دیگر عالمی طاقتیں کشیدگی کم کرنے کے لیے فعال ہو چکی ہیں۔ تمام فریقین پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ عسکری کارروائیوں سے گریز کریں، مذاکرات اور ثالثی کے ذریعے مسئلہ حل کریں اور خطے میں انسانی بحران، مہاجرین اور بنیادی ڈھانچے کے نقصان کو کم سے کم رکھیں۔ اگر یہ کشیدگی طویل مدت تک جاری رہی تو عالمی توانائی، اقتصادی توازن، انسانی تحفظ اور سیاسی استحکام متاثر ہو سکتا ہے اور کسی بھی غلط فہمی یا حادثاتی واقعے سے جنگ عالمی سطح پر پھیل سکتی ہے۔
آئندہ ممکنہ نتائج، امریکی سیاسی اثرات، ایران کی پوزیشن اور تیسری عالمی جنگ کے خطرات
ایران اور امریکہاسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے آئندہ ممکنہ نتائج خطے اور عالمی سطح پر اہم اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ موجودہ صورتحال میں ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنی بقاء کے لیے آخری حد تک جائے گا اور کسی بھی جارحانہ کارروائی کا سخت جواب دے گا۔ ایران کے بیلسٹک اور سپرسونک میزائلوں کی صلاحیت، جو خلیج فارس، اسرائیل اور خلیجی ریاستوں میں امریکی اڈوں تک دیکھی گئی ہے، دفاعی نظاموں کے لیے چیلنج کا باعث بنی ہے۔ اسرائیل نے Iron Dome، David’s Sling اور Arrow سسٹمز کو فعال کیا مگر متعدد میزائلوں کو روکا نہیں جا سکا جس سے دفاعی نیٹ ورک پر دباؤ بڑھ گیا اور شہری علاقوں میں الرٹس اور دھماکوں کے مناظر دیکھنے میں آئے۔ ایران نے “فتحِ خیبر” جیسے آپریشن کے تحت امریکہ اور اسرائیل کے اہم مقامات کو نشانہ بنایا اور متعدد خلیجی ریاستوں کے فوجی اڈوں پر حملے کیے، جس سے خطے میں کشیدگی کے پھیلنے کے امکانات بڑھ گئے۔
امریکی سیاسی منظرنامے پر بھی اس تنازعہ کا گہرا اثر ہے۔ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور موجودہ انتظامیہ کے لیے یہ ایک ناقابلِ جیت جنگ ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ اس کے خطرات پورے مشرقِ وسطیٰ میں پھیل گئے ہیں۔ امریکہ کے ناقابلِ تسخیر ہونے کا بھرم ٹوٹ چکا ہے اور عرب ممالک جو پہلے امریکہ کو اپنا حامی اور رہنما سمجھتے تھے، اب اپنی آنکھوں کے سامنے امریکی شکست دیکھ رہے ہیں۔ اسرائیل بھی اس کشیدگی کے نتیجے میں کھلے میدان میں مکمل طور پر لڑنے کے قابل نہیں رہا اور شمالی اسرائیلی شہر دھماکوں اور سائرنز سے متاثر ہوئے۔ عرب ریاستیں اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنے پر مجبور ہیں اور امریکہ کے دفاعی وعدوں پر اعتماد متاثر ہوا ہے۔ پاکستان جیسے ملک کے لیے یہ کشیدگی یہ موقع فراہم کرتی ہے کہ وہ امریکی دباؤ اور تعلقات کے علاوہ اپنے قومی مفادات کی بنیاد پر آزادانہ فیصلے کرے اور خطے میں توازن قائم رکھنے میں کردار ادا کرے۔
چین اور روس کی عالمی سطح پر اہمیت اس تنازعے میں واضح ہو گئی ہے۔ چین نے اعلان کیا ہے کہ اگر امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تو وہ ریئر میٹلز اور نایاب معدنیات کی برآمدات روک دے گا جو جدید ہتھیار، میزائل اور طیارے تیار کرنے کے لیے ضروری ہیں۔ روس نے بھی ایران کے ساتھ تعاون بڑھانے اور امریکہ کے خلاف توازن قائم رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔ اگر یہ اقدامات عملی شکل اختیار کریں تو امریکی دفاعی پیداوار سست ہو سکتی ہے، عالمی مارکیٹ میں ہلچل پیدا ہو سکتی ہے اور توانائی و ٹیکنالوجی کے شعبوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔
انسانی اور اقتصادی شعبوں میں خطرات بھی بڑھ گئے ہیں۔ ایران اور خلیج میں حملوں سے توانائی کی ترسیل متاثر ہوئی اور تیل کی قیمتیں عالمی منڈی میں بڑھ گئی ہیں۔ ترقی پذیر ممالک، خاص طور پر پاکستان، پہلے ہی معاشی دباؤ کا شکار ہیں اور اس کشیدگی سے مزید نقصان اٹھانے کے امکانات ہیں۔ ایران اور امریکہاسرائیل کے درمیان جاری جنگ کی وجہ سے بنیادی ڈھانچے، فضائی اور سمندری راستے متاثر ہوئے ہیں۔ خطے میں انسانی بحران کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں، مہاجرین کی نئی لہر اور شہری تحفظ کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
تسلسل کے ساتھ یہ بھی واضح ہے کہ اگر ایران نے طیارہ بردار بحری جہاز ڈبو دیا یا بڑی جوہری یا سپرسونک صلاحیت استعمال کی تو یہ خطے کے تنازع کو عالمی جنگ میں بدلنے کا سبب بن سکتا ہے۔ ہائپرسونک میزائلوں کے خلاف کوئی مکمل دفاع موجود نہیں اور ایران نے اس صلاحیت کو عملی طور پر دکھایا ہے۔ سابق CIA افسر جان کریاکو نے بھی اس کی نشاندہی کی کہ اگر ایران نے بڑے بحری یا فضائی اہداف کو نشانہ بنایا تو تیسری عالمی جنگ کے خطرات شدت اختیار کر جائیں گے۔
ایران کے اندر اسرائیل کے معاون افغان عناصر کی سرگرمیاں اور پاکستان میں طالبان کی ممکنہ مداخلت نے بھی صورتحال کو پیچیدہ بنایا ہے۔ افغانستان اور پاکستان کی سرحدی صورت حال ایران کے لیے اضافی خطرہ پیدا کر رہی ہے کیونکہ ایک اسلامی ملک جو ایران کی مدد کر سکتا تھا، اب مختلف تنازعات میں الجھ چکا ہے۔ یہ خارجی فتنہ ہمیشہ سے مسلم ریاستوں کو کمزور کرنے اور خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے۔
مجموعی طور پر کشیدگی کے یہ امکانات موجود ہیں کہ امریکہ، اسرائیل، ایران اور خلیجی ریاستیں، پاکستان، چین اور روس کے کردار کی بنیاد پر یہ تنازع علاقائی جنگ سے عالمی جنگ کی طرف بڑھ سکتا ہے۔ عالمی توانائی مارکیٹ، اقتصادی توازن، انسانی بحران اور سیاسی استحکام اس جنگ کے براہِ راست متاثر ہونے والے شعبے ہیں۔ اس لیے دانشمندی اسی میں ہے کہ طاقت کے استعمال کے بجائے سفارت کاری، مذاکرات اور کشیدگی میں کمی کے راستے تلاش کیے جائیں کیونکہ جنگ کا آغاز آسان مگر اس کا انجام کسی کے اختیار میں نہیں ہوتا۔
خطے اور عالمی طاقتوں کے لیے یہ پیغام واضح ہے کہ ایران کی عسکری صلاحیتیں اور دفاعی نظام طاقتور ہیں اور امریکہ یا اسرائیل کے محدود حملے بھی بڑے نتائج پیدا کر سکتے ہیں۔ اس بحران کی مکمل روک تھام اور حل کے لیے تمام فریقین کو مذاکرات، ثالثی اور بین الاقوامی ڈپلومیسی کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے تاکہ خطے میں مزید انسانی، اقتصادی اور سیاسی تباہی سے بچا جا سکے۔
مزید پڑھنے کے لیے براہ کرم ہمارے مضامین دیکھیں۔